Category Archives: روز و شب

جج صاحبان کا حال ۔ احتجاج ۔ گرفتاریاں ۔ صورتِ حال

اعلٰی عدالتوں کے محترم جج صاحبا ں گھروں میں اس طرح بند ہیں کہ جیسے دُشمن کے قیدی ہوں ۔ ایک جج صاحب کی بہو جو کہ حاملہ ہیں ہسپتال گئیں ۔ واپسی پر ان کو گھر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ کافی کوششوں کے بعد جج صاحب کے بیٹے کو ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی ۔ وہ اب واپس گھر آ سکیں گے یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا جا سکتا ۔ ایک جج صاحب کی بیٹی اپنے والد کے متعلق بہت پریشان ہیں کیونکہ اس کے والد جج صاحب بیمار تھے اور پچھلے 4 دنوں سے کوئی رابطہ نہیں ۔ جج صاحبان کے ٹیلیفون تو پہلے دن ہی بند کر دئیے گئے تھے چند ایک کے پاس ان کے بچوں کے موبائل فون تھے جن سے انہوں نے اپنے قید بنائے گئے گھروں سے باہر رابطہ کیا لیکن اب موبائل ٹیلیفون کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر ان کے سب ٹیلیفون بند کرا دئیے گئے ہیں ۔ کل ڈیڑھ بجے دوپہر جب چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری صاحب نے کچھ وکلاء موبائل کے ذریعہ کلام کیا تو اسلام آباد میں سارے موبائل فون جیم کر دئیے گئے جو آدھے گھنٹے سے زیادہ بند رہے ۔

اب تک سب سے شدید احتجاج لاہور میں وکلاء کا اتوار اور پیر کا احتجاج ہے ۔ گرفتاریاں لاہور میں دو ہزار کے لگ بھگ ہو چکی ہیں ۔ کراچی میں 400 لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ سُنا ہے شام کے قریب پاکستان سیکرٹیریٹ کے سامنے پیپلز پارٹی نے مظاہرہ کیا ہے ۔

تمام نجی ٹی پاکستان میں بند ہونے کی وجہ سے جو لوگوں نے ڈش اینٹنے خریدنا شروع کر دئیے تھے لیکن پولیس نے چھاپے مار کر دکانیں سِیل کر دیں اور سامان ضبط کر لیا اور دکانداروں کو بغیر کسی قصور کے گرفتار کر لیا ۔ ایسی کاروائیوں کے نتیجہ میں پاکستانیوں نے مجبور ہو کر کچھ بندوبست کیا ہے

مزید رابطے

http://news.independent.co.uk/world/asia/article3132476.ece
http://www.teeth.com.pk/blog/wp-content/uploads/2007/11/house-arrest-order.JPG

جیو ٹی وی کیلئے
http://www.pakistanvision.com/playLive.php?pid=1
http://www.pakistanvision.com/playLive.php?pid=6
http://geo.pakfiles.net/geo

اے آر وائی ون
http://ary.pakfiles.net/ary

آج ٹی وی
http://www.jumptv.com/en/channel/aajtv

اپنے خیالات پہچانے کیلئے جیو ٹی وی کا ای میل پتہ یہ ہے
gzks@geo.tv

کیا ہماری اکثریت بے حِس و بے غیرت ہے ؟

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
تیری ذات [ہر نقص سے] پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی [سب کچھ] جاننے والا حکمت والا ہے

یا رَحْمَنِ یا رَحِيمِ ۔ اھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
اے نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے ۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا

ایک مکالمہ کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی تھی تو کچھ محبِ وطن لوگوں نے اس وقت برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر ونسٹن چرچل کے پاس جا کے اپنی پریشانی ظاہر کی ۔ سر ونسٹن چرچل نے پوچھا “ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں ؟” جواب ملا “ہاں”۔ پوچھا “لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟” جواب ملا “ہاں”۔ سر ونسٹن چرچل نے کہا “پھر کوئی فکر کی بات نہیں”۔ صرف دس برس بعد برطانیہ پھر عروج پر تھا ۔

اب تو واضح ہو گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے آئین سے دونوں بار صرف ذاتی حکمرانی کیلئے بغاوت کی ۔ پہلی بار جمہوری طور پر منتخب وزیرِ اعظم نواز شریف شکار ہوا اور دوسری بار عظمٰی اور اعلٰی عدالتوں کے اُن عظیم جج صاحبان کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے عام پاکستانی کو انصاف کی اُمید دلائی تھی اور اس نیک عمل کی پاداش میں اب کَس مپُرسی کی حالت میں اپنے اہلِ خانہ سمیت اپنی رہائش گاہوں میں قید ہیں ۔ میں نے لفظ “رہائش گاہوں” استعمال اسلئے کیا ہے کہ اِن میں سے کئی کا اپنا کوئی گھر ہی نہیں ہے ۔ وہ سوچتے ہوں گے کہ اس قید سے رہائی کے بعد وہ جائیں گے کہاں ؟

ایمرجنسی کا نام دے کر مُلک میں مارشل لاء لگایا گیا ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف کو اختیار نہیں ہے کہ وہ مُلک پر کسی قسم کا کوئی حُکم نافذ کرے ۔ چیف آف آرمی سٹاف صرف فوج کو آئین اور آرمی ایکٹ کے تحت حُکم دے سکتا ہے ۔ ایمرجنسی آئین میں متعلقہ شق کے تحت صدر نافذ کرتا ہے اور اس میں آئین معطل نہیں کیا جاتابلکہ صرف کچھ بنیادی حقوق معطل کئے جاتے ہیں ۔ موجودہ نام نہاد ایمرجنسی اور دراصل مارشل لاء کا حُکم چیف آف آرمی سٹاف نے جاری کیا اور آئین کو معطل یا ختم کر کے عدالتِ عظمٰی اور اعلٰی عدالتوں کے اکثر قابلِ احترام جج صاحبان کو بغیر کسی جواز کے عہدوں سے ہٹا کر قید کر دیا گیا ہے جس کا اختیار نہ چیف آف آرمی سٹاف کو ہے نہ صدر کو ۔ مزید اس پی سی او کے مطابق پرویز مشرف کے کسی حُکم کو چیلینج نہیں کیا جا سکتا ۔ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ ہے اور ایمرجنسی اس کے نتیجہ میں ہے

اول روز سے صرف وکلاء اور صحافی احتجاج کر رہے ہیں اور آمریتی ظُلم کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ راولپنڈی کچہری کی پولیس نے مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔ اس کے باوجود احتجاج اور وکلاء پر تشدد اور گرفتاریاں جاری ہیں ۔ تمام نجی ٹی وی چینلز پورے ملک میں اول روز سے بلاک کر دئیے گئے ہیں ۔ اخبارات میں حکومتی تشدد کی تصاویر چھاپنے پر پہلے دن ہی پابندی لگا دی گئی تھی ۔ اب مزید کوئی حُکمنامہ اخبارات کو شکنجے میں کسنے کیلئے تیار ہو رہا ہے ۔

اسلام آباد میں میرے گھر سے آدھے کلو میٹر کے فاصلہ پر ایف 8 مرکز آج طلباء نے مظاہرہ شروع کیا اور وکلاء ان کے ساتھ شامل ہو گئے ۔ مظاہرین ڈیڑھ دو ہزار پُرجوش ہیں ۔ مظاہرہ جاری ہے ۔ اردگرد تماش بینوں کی تعداد مظاہرین سے زیادہ ہے ۔ ہزارو وکلاء اور سیاسی کارکن گرفتار کئے جا چکے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی ہے اور کچھ ینسانی حقوق کی تحریکوں کے ارکان بھی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ نواز کے کارکن زیادہ گرفتار ہوئے ہیں ۔ ان میں بینظیر کی پیپلز پارٹی اور فضل الرحمٰن کی جُوئی کے لوگ شامل نہیں ہیں ۔ کیوں ؟ یہ پرویز مشرف ۔ بینظیر یا فضل الرحمٰن ہی بتا سکتے ہیں ۔ آج لاہور ہائیکورٹ کے سامنے اچانک ایک ویگن میں مسلم لیگ نواز کے ڈیڑھ دو درجن ارکان پہنچ گئے اور باہر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ۔ پولیس ان سب مظاہرین کو گرفتار کر کے لے گئی ۔

عوام جن کی خاطر عدالتِ عظمٰی کے 14 اور اعلٰی عدالتوں کے 60 محترم جج صاحبان نے بے مثال قربانی دی ہے اور وکلاء اور صحافی روزانہ تشدد برداشت کر رہے ہیں اور گرفتار ہو رہے ہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ نشہ پی کر سوئے ہوئے ہیں ۔ اگر پولیس کے ڈنڈوں یا جیل سے بہت خوف آتا ہے تو کم از کم گھر کے اندر بیٹھ کر تو احتجاج کر سکتے ہیں ۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو خط لکھیں ۔ ٹیلیفون کریں ۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر انہوں نے اب بھی کچھ نہ کیا تو جو کچھ ان کے پاس ہے وہ بھی کسی وقت چھن سکتا ہے اور ان کی شنوائی دنیا کی کسی عدالت میں نہیں ہو سکے گی ۔ مثل مشہور ہے کہ روئے بغیر ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی ۔

پاکستان میں انٹر نیٹ 256K رکھنے والے جیو ٹی وی اور اے آر وائی ٹی وی مندرجہ ذیل ربط دیکھ سکتے ہیں ۔
http://videostream.cronomagic.com/geo

پاکستانیو ۔ ہوش نہ کیا تو نہ ملک رہے گا نہ تم

میں نے انصار عباسی کا یہ مضمون 12 ستمبر کو پوسٹ کیا تھا ۔ اس کی مزید ضرورت ہے

قوم انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکی ہے لوگ سوال کرتے اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہم اب آزاد اور خود مختار ملک رہ گئے ہیں؟ کیا ہم میں اب عزت نفس کی رمق بھی بچی ہے؟ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جبری جلا وطنی نے ہماری روحوں کو زخمی کر دیا ہے ۔ عدم تحفظ نے ہمیں پھر لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا ارباب اقتدار ہم میں سے کسی کے ساتھ کیا کریں گے۔ اگر سابق وزیراعظم کو قانون، آئین اور عدالت عظمیٰ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک بدرکیا جا سکتا ہے تو پھر عام آدمی کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی۔

صدر پرویز نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اعتراف کیا کہ القاعدہ کے 600 سے زائد ارکان کو امریکا کے حوالے کر چکے ہیں مگر ایک پتّہ بھی نہیں ہلا اورکیا کسی کو خیال آیا کہ صدر غیر ملکیوں کو جلا وطن کرسکتا ہے اور وہ بھی صرف اُن کے اپنے ملکوں میں۔ ملک بدری کے قانون کا اطلاق اس ملک [پاکستان] کے بدقسمت شہریوں پر نہیں ہوتا۔ [اپنے] وطن کے کسی شہری کو صرف اس ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے جس کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کیا گیاہو ۔ اس صورتحال میں بھی دو شرائط سامنے آتی ہیں اگر اس پاکستانی شہری نے متعلقہ ملک کے خلاف کوئی جرم کیا ہو اور پھر اسے حوالے کرنے کی درخواست کا مکمل عدالتی عمل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے جس میں اس شخص کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے ۔ اگر انکوائری افسر اسے متعلقہ ملک کے حوالے کرنے کی منظوری دیتا ہے تو ملزم شخص کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا جاتا ہے۔ یوں عدلیہ کی اجازت کے بغیر کسی مجرم کو بھی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت سے صرف ایک سادہ سا سوال پوچھا جا سکتا ہے ۔ آیا القاعدہ کے نام نہاد ارکان اور نواز شریف کو قانون کے مطابق ملک بدر کیا گیا ؟ جو اب بہت بڑی ناں میں ملے گا۔ جن ملکوں کو ہم نے اپنے شہری بکریوں کے ریوڑ کی طرح دیے ہیں کیا ان سے ہم بھی یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے آئین قانون اور لوگوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کر کے ایسا ہی کرینگے؟ لہٰذا ہمارا معاملہ یہ ہے کہ کسی فرد کو بھی کسی بھی ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے ۔ حیرت ہے کہ ہمیں آئین قانون اور پالیسیوں کی ضرورت کیا ہے جب ہمیں ان کا کوئی احترام نہیں؟ عدالتیں بند کر دینی چاہئیں کہ جب حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ تو پھر لوگوں کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ پیر کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اپنے لیڈر کے اکسانے پر سندھ ہائی کورٹ کا ایک لحاظ سے گھیراؤ کر لیا اور اسے 12مئی کے واقعات کے حوالے سے سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بہت خوب الطاف بھائی۔ الفت میں اٹھنے والی راجہ محمد ریاض کی آواز خاموش کر دی گئی جو سندھ ہائیکورٹ بار کے رکن تھے۔ اسلام آباد میں کسی کو دکھ ہوا ؟ کسی نے مذمت کی ؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ حکمرانوں کو تو کوئی پریشانی نہیں مگر اس ملک کی سول سوسائٹی کیوں چپ ہے؟ ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں ؟

محض ایک پارٹی یا دوسری کو لعن طعن کرنے سے کام نہیں چلتا یہ ڈرائنگ روم کی بحث ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال بہت ہی پیچیدہ ہے جس کے لیے غیر معمولی جدوجہد کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کا ہر فردشریک ہو۔ پاکستان کو بچانے اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اپنا کوئی راستہ اختیار کر لیں مگر کچھ کریں ضرور کچھ عملی اقدام۔ عام لوگوں میں جو حکومتی مشینری کاحصہ ہیں اور کلیدی عہدوں پر بھی بیٹھے ہیں ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی چاکری کرنے کے بچائے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئیے۔ پُرکشش عہدے آؤٹ آف ٹرن ترقی استحقاق یا اتھارٹی یہی ان کی توجہ کے مرکز ہیں مگر یہ سب ملک سے مشروط ہیں سول بیورو کریسی کو صرف یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ حالیہ عرصے میں اگر قانون آئین اور قواعد کے خلاف اتنا کچھ ہوچکا ہے مگر کتنے افسر ہیں جنہوں نے غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کیا ہو ؟ اس سلسلے میں صرف ایک نام یاد آتا ہے جو سندھ کے سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی تھے۔

قابلِ رحم قوم

محسوس ہوتا ہے کہ لبنانی امریکی جبران خلیل جبران [1883 – 1931ء] نے یہ فقرے آج کی پاکستانی قوم کیلئے کہے تھے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کپڑا پہنتی ہے جو اس نے بُنا نہیں ۔ اناج کھاتی ہے جو اس نے اُگایا نہیں
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے افراد کی خوبی ٹانکا لگانے اور نقل کرنے کا فن ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو طیش کو اپنے تخیّل میں بُرا سمجھتی ہو مگر عمل میں اس کی اطاعت کرتی ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے اعتقادات تو بہت ہوں مگر دِل دین سے خالی ہوں ۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو گروہوں میں بٹی ہو اور ہر گروہ اپنے آپ کو قوم سمجھتا ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے سیاستدان یا صاحبِ تدبیر فریبی اور مفّکر مداری ہوں ۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اَینٹھے خان [bully] کو اپنا سورما [hero] سمجھتی ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنی آواز بلند نہیں کرتی سوائے جب جنازہ کے ساتھ چلے ۔ کسی کی تعریف نہیں کرتی سوائے مرنے کے بعد ۔ اور سرکشی اس وقت تک نہیں کرتی جب تک کہ موت سامنے نہ آ جائے
:shock:

فوج کی تباہی کا منصوبہ

اپنے وزراء کی تندوتیز گفتگو سننے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنے لب کھولے اورکہاکہ “میں جانتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو میرے ساتھ وفا نہیں کرے گی لیکن مجھ پر ”عالمی برادری“ کا بہت دباؤ تھا کہ بے نظیر بھٹو کو کچھ سہولتیں دوں”۔

یہ وہی ”عالمی برادری“ ہے جس کی خوشنودی کے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ اس عالمی برادری کو مطمئن کرنے کیلئے کہاجاتا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ یہی وہ بیانات ہیں جس کے سامنے آنے کے بعد ”عالمی برادری“ نے جنرل پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا۔

صدارتی انتخاب میں کامیابی پر جن شخصیات نے جنرل پرویز مشرف کو مبارکباد دی ان میں اسرائیل کے صدر شمعون پیریز بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی صدر نے جنرل پرویز مشرف کو باقاعدہ خط لکھا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مزید پانچ سال کے لئے صدر بننے پر مسرت کا اظہار کیا۔ جواب میں جنرل پرویزمشرف نے بھی اپنا شکریہ شمعون پیریز کو پہنچا دیا ہے لیکن جنرل مشرف ذرا سوچیں کہ اسرائیل اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیلی صدر انہیں مبارکباد کا خط لکھ رہا ہے اور خط کا متن میڈیاکو بھی جاری کررہا ہے۔ آخر کیوں؟

آج اس جنگ کے نام پر شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں آئے دن بمباری کی جارہی ، اگر پانچ عسکریت پسند مارے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ پچاس بے گناہ عورتیں اور بچے بھی بمباری کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جس ”عالمی برادری“ کی خوشی کو جنرل مشرف ہر وقت مقدم رکھتے ہیں وہ پاکستان میں لگی ہوئی آگ بجھانے کی بجائے یہ آگ پھیلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ اس برادری کی سرخیل عالمی طاقتوں کا اصل نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے جب تک پاکستان کی فوج قائم ہے ایٹمی پروگرام بھی قائم ہے لہٰذا ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے فوج کو تباہ کیا جائے۔اس وقت پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں پر جوکھیل جاری ہے اس کا اصل مقصد پاکستانی فوج اورپاکستان کے ایٹمی پروگرام کو غیرمحفوظ بنانا ہے۔ان خطرات سے نکلنے کا واحد راستہ قبائلی علاقوں کے ناراض نوجوانوں سے مفاہمت ہے، اس مفاہمت کیلئے عالمی برادری“ کی ناراضی کو خاطر میں نہ لایا جائے کیونکہ یہ نام نہاد عالمی برادری پاکستانی قوم اور اس کے اثاثوں کو پاکستانی حکمرانوں کے ذریعے تباہ کرنا چاہتی ہے لہٰذا حکمرانوں کوچاہئے کہ غیروں کی نہیں بلکہ اپنوں کی ناراضی کا خیال کریں۔ عیدالفطر پر شمالی وزیرستان میں بمباری بند کردی جائے۔ قبائلی عمائدین اور علماء کے ذریعے جنگ بندی کی جائے اوربمباری سے تباہ شدہ علاقہ امدادی سرگرمیوں کیلئے کھولا جائے تاکہ شمالی وزیرستان کے باسیوں کو احساس ہو کہ کسی کو ان کی عید کی بھی فکر ہے۔ان کی ناراضی دور نہ کی گئی تو پھر ”امارات اسلامیہ وزیرستان“ کا راستہ ہموار ہوگا اور جب یہ ہوگا تو جنرل پرویز مشرف کی محبوب ”عالمی برادری“ خوشی سے پھولے نہ سمائے گی۔

حامد میر کے قلم کمان سے اقتباس ۔ بشکریہ جنگ

آٹھ اہم عمل

احترام [Respect] ۔ دوسروں سے وہی سلوک کرنا جس کی خود توقع رکھتے ہوں

قدر دانی [Appreciation] ۔ زندگی میں جو بھی اچھی چیز ملے اس کیلئے احسان مند ہونا

مسرت [Happiness] ۔ زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا یعنی بشاش چہرہ

درگذر [Forgiveness] ۔ ہر موقع پر غصہ پر قابو رکھنا

حصہ دار ہونا [Sharing] ۔ دینے کی خوشی بغیر وصولی کی توقع کے

دیانت [Honesty] ۔ ہر وقت سچ بولنا

سالمیت [Integrity] ۔ خواہ کچھ بھی ہو خالص طور پر صحیح عمل کرنا

ہمدردی [Compassion] ۔ دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے اس کی تکلیف کو کم کرنا

گیت کیوں ؟

قارئین سوچتے ہوں گے کہ مجھے اس عمر میں گیت گانے کی کیا سوجی ؟  شائد کچھ منچلے یہ بھی سوچ رہے ہوں “ہمیں تو دین اسلام کی باتیں سناتا ہے اور گانے گاتا ہے”۔ میرے حساب سے آدمی کا گانے کو جی اس وقت چاہتا ہے جب وہ دُکھی یا لاچار ہو ۔ کیا آجکل ہماری قوم کے ایک قابلِ قدر حصے کا رونے کو جی نہیں چاہتا ؟  فرق یہ ہے کہ کچھ گالی گلوچ کر کے بھڑاس نکال لیتے ہیں ۔ کچھ آنسو بہا کر دل کی آگ بجھا لیتے ہیں اور کچھ آگ کو بجھانے کی کوشش میں گیت گا کر اور بھڑکا لیتے ہیں ۔

وجہ یہ ہے کہ مُلک میں آئے دن عالِموں کا قتل ایک معمول بن چکا ہے ۔ کبھی عالِمِ دین نشانہ بنتا ہے اور کبھی سائنس یا کسی اور شعبہ کا عالِم ۔ ابھی چند دن قبل جیّد عالِم دین حسن جان صاحب کو ہلاک کیا گیا ۔ کل طِب کے عالِم جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سنٹر کے شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مبشّر صاحب کو ہلاک کر دیا گیا ۔

ہمارے حکمرانوں کو سوائے پرویز مشرف کی اور اپنی کرسیوں کی حفاظت کے اور کوئی کام نہیں ۔ اس کیلئے 10 ستمبر کو نوز شریف کا استقبال روکنے کیلئے پشاور سے لاہور تک شاہراہ شیر شاہ سوری [G T Road] کو ملنے والے تمام راستے 9 اور 10 مارچ کو بلاک کئے گئے اور راولپندي اسلام آباد میں ایئر پورٹ کو جانے والی تمام سڑکیں بلاک کرنے کے علاوہ 10000 سے زائد سیاسی لیڈر اور کارکن 10 مارچ کی صبح تک گرفتار کر لئے گئے تھے ۔

بدھ 26 مارچ کو اسلام آباد کی شاہراہ دستور کنوینشن سینٹر سے خیابانِ اقبال [مارگلہ روڈ] تک 4 دن کیلئے استعمال کیلئے ممنوعہ قرار دے دی گئی ۔ صرف اس سڑک پر واقع دفاتر مین کام کرنے والے اپنا دفتر کا شناختی کارد دکھا کے دفتر جا سکتے ہیں ۔ عدالت عظمٰی بھی اسی سڑک پر ہے ۔ سوائے ان وکلاء اور ان کے مؤکلوں کے جن کے اس دن مقدمے پیش ہوں کسی کو عدالتعظمٰی جانے کی اجازت نہیں ۔

جسٹس وجیہ الدین بھی بدھ 26 مارچ کو اسلام آباد پہنچے ۔ ان کے استقبال کو روکنے کیلئے ایئر پورٹ جانے والے تمام راستے بلاک کر دیئے گئے تھے اور راولپنڈی میں وکلاء پر تشدد کیا گیا ۔

گذشتہ رات راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اسلام آباد جانے والے تمام راستوں کو روکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ اپنے دفتروں یا کاروبار پر نہ پہنچ سکے ۔ صبح مجھے سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی سے ٹیلیفون آیا کہ تمام سڑکوں پر ہر قسم کی ٹریفک رُکی پڑی ہے ۔ سکولوں کو جانے والے چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ٹریفک میں پھنسی ویگنوں میں پریشان ہیں ۔ کئی ایمبولنسیں جن میں شدید بیمار مریض بھی ہیں ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے اقدامات اس لئے اٹھائے گئے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن میں پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت سیاسی کارکنوں کو مظاہر ے اور احتجاج سے بازرکھا جاسکے۔

تازہ ترین

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی اور رکاوٹوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو دن ساڑھے گیارہ بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے
رجسٹرار آفس کے مطابق چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس جسٹس سید جمشید علی کی جانب سے تحریری نوٹ پر لیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے جن افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں چیف کمشنر اسلام آباد۔ آئی جی اسلام آباد، ۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ۔ ڈپٹی کمشنر اولپنڈی ۔ ڈی آئی جی راولپنڈی سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ رجسٹرار آفس کے مطابق ناکہ بندی اور رکاوٹوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کا بیشتر اسٹاف عدالت نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے عدالتی کام متاثر ہوا ہے