Category Archives: روز و شب

راولپنڈی میں بم دھماکے

آج صبح سویرے راولپنڈی میں دو بم دھماکے ہوئے ۔ پہلادھماکہ فیض آباد کے علاقے میں مری روڈ پر آئی ایس آئی کے دفتر کے پاس حسّاس ادارے کی بس پر ہوا ۔ دھماکے کے بعد بس میں آگ لگ گئی اور بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ اس میں مرنے والوں کی تعداد آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے 15 بتائی ہے جو کہ بہت بڑھ سکتی ہے کیونکہ بس میں 50 سے زائد افراد سوار تھے ۔ متعدد زخمی بتائے گئے ہیں ۔ دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے قریب فوجی چیک پوسٹ پر ہوا جس میں ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے ۔ دھماکے اتنے طاقتور تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔

دھماکوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ۔ وقوعہ کی جگہ دونوں طرف قناتیں لگا کر مری روڈ بند کر دی گئی ہے کسی صحافی کو جائے وقوعہ کے قریب نہیں جانے دیا گیا ۔ جی ایچ کیو کے گرد کا علاقہ تو پہلے سے ہی عام آدمی کیلئے ممنوعہ ہے ۔ حملے کی خبر سن کر بڑی تعداد میں صحافی وہاں پہنچ گئے جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا سامان بھی چھینا گیا۔

بس میں ہی میں

یہ دنیا کیا ہے ؟ بس ایک میں ہوں اور ایک تم ہو اور تم بھی کیا ؟ باس میں ہی میں ہوں ۔

جنرل پرویز مشرف نے آج شام ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تین نومبر سے لیکر بیس نومبر تک جاری ہونے والے اپنے تمام احکامات کو تحفظ دیا ہے۔ نئے حکمنامے کے مطابق ان کے ان اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ نئی آئینی ترمیم کو ارٹیکل 270 اے اے اے کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد آئین میں لائی گئی تبدیلیوں اور نئے قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان ترامیم و اقدامات کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر انیسو ننانوے کے ماوارئے آئینی اقدامات کو بھی اسی طرز پر تحفظ فراہم کیا گیا تھا جس کی بعد میں عدالتوں اور پارلیمان نے توثیق کر دی تھی۔ آئین کے مطابق اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسا کرنے والے کی سزا موت قرار دی گئی ہے۔
ترمیم کے مطابق اس مدت کے دوران تمام احکامات اور تعیناتیاں کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ ترمیم کے ذریعے جنوری دو ہزار آٹھ میں متوقع عام انتخابات اور ججوں کے حلف کو بھی یہ آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اس بات کی اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کا یہ اقدام ماورائے آئین تھا۔

پاکستان لائرز فورم کے چیرمین اے کے ڈوگر نے اس ترمیم کی تحریر کو بے معنی الفاظ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ایسا قانون جو آئین کے خلاف ہو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس جوڈیشل پاور ہوتی ہے جس کو کبھی کوئی قانون یا آئین اس کو ختم نہیں کرسکتا۔