Category Archives: روز و شب

نُقطہ اور نُکتہ

کچھ تو اُردودانوں نے ہی الفاظ کے استعمال میں احتیاط نہ برتی ۔ مثال کے طور پر لفظ “دقیانوسی” اس کی ایک مثال ہے ۔ دقیانوسی بنا ہے دقیانوس سے جو پرانے زمانہ میں بہت ظالم و جابر اور پتھر دل بادشاہ تھا ۔ دقیانوس ہر شخص کو اپنا مکمل تابع رکھتا ۔ ایسا نہ کرنے والے انسان کو وہ اذیتیں دے دے کر مارتا تھا ۔ کچھ نیک لوگوں [اصحابِ کَہْف] کو اسی کے ظُلم سے بچانے کیلئے اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے ایک صدی سے زائد ایک غار میں سُلا کر چھُپا دیا تھا ۔ دقیانوسی کا مطلب پُرانا یا پُرانے زمانے کا لینا کہاں تک درست ہے ؟

مگر ہماری قوم نے تو کسی بھی قومی چیز کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔ اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو کسی سڑک ۔ گلی ۔ محلہ ۔ باغ یا عوامی عمارت میں چلے جائیے اور وہاں فرزندانِ قوم کی کارستانیاں ملاحظہ فرمائیے ۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کارستانیاں اَن پڑھ یا غریب لوگ کرتے ہوں گے لیکن تجربہ نے بتایا کہ یہ کارنامے کرنے والوں کی اکثریت پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے لوگوں پر مشتمل ہے اور ان میں صرف مرد اور لڑکے ہی نہیں صنفِ نازک بھی برابر کی شریک ہے ۔ سب اپنی اپنی حسرتیں اس مُلک کی بگاڑ پر نکالتے ہیں ۔ کوئی پودا ۔ کوئی درخت ۔ کوئی کھمبا ۔ کوئی دیوار ۔ کوئی خالی پلاٹ حتٰی کہ کوئی چیز یا جگہ محفوظ نہیں ۔ معاف کیجئے گا ۔ شاید بوڑھا ہو گیا ہوں اسلئے بھولنے لگا ہوں ۔ کوئی شریف لڑکی لڑکا عورت یا مرد بھی محفوظ نہیں رہا ۔ 

قومی زبان پر بھی ہماری قوم کی اکثریت نے زور آزمائی کی ہے اور متواتر پچھلے ساٹھ سال سے کی ہے ۔ معلوم نہیں سندھی اور پشتو کا کیا حال ہے البتہ اب صحیح پنجابی بولنے والے بھی خال خال ہی ملتے ہیں ۔ یہ تو ایک طویل مضمون ہے فی الحال بات صرف نُقطہ اور نُکتہ کی جو اُردو کے اُن الفاظ میں سے ہیں جن کا استعمال آجکل عام طور پر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا اور سمجھا جاتا ہے کہ ایک غلط ہے یا دوسرا ۔

عدم توجہی کی وجہ سے اُردو لغت بجائے افزائش کے انحطاط کا شکار ہو چکی ہے ۔ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص اخبارات اور رسائل صرف اُردو ہی نہیں انگریزی بھی غلط لکھتے ہیں ۔ اس کا مجموعی اثر عام آدمی پر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں زبان بارے علم محدود ہو گیا ہے اور لوگ الفاظ کے صحیح استعمال سے بیگانہ ہو گئے ہیں ۔

میں ان دو لفظوں میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ نقطہ وہ چیز ہے جسے انگریزی میں پوائنٹ [point] کہتے ہیں ۔ اُردو کی طرف سے لاپرواہی کے نتیجہ میں آج سے چار یا پانچ دہائیاں قبل مرتب ہونے والی فیروزاللغات سے بہتر کوئی اُردو کی قاموس [dictionary] نہیں ہے اور فیروزاللغات بھی ایک پہلی کوشش سے زیادہ نہیں ۔ بہر حال فیروزاللغات نقطہ کی تشریح یوں کرتی ہے ۔

نقطہ کا مطلب ہے ۔ بِندی ۔ صفر ۔
نقطہ اشتعال کا مطلب ہے ۔ گرمی اور کھولاؤ کا وہ نقطہ جس پر آگ بھڑک اُٹھے ۔
نقطہ انتخاب کا مطلب ہے ۔ وہ نقطہ جو کسی کتاب کے حاشیہ پر یا کسی عبارت یا شعر پر پسندیدگی کے طور پر لگایا جائے ۔
نقطہ عروج کا مطلب ہے ۔ کمال ۔ انتہاء ۔ انتہائی بلندی ۔
نقطہ کا فرق نہ ہونا کا مطلب ہے ۔ ذرابھی فرق نہ ہونا ۔
نقطہ گاہ کا مطلب ہے ۔ دائرہ کا مرکز ۔
نقطہ لگانا کا مطلب ہے ۔ عیب لگانا ۔ دھبّہ لگانا ۔
نقطہ نظر کا مطلب ہے ۔ دیکھنے یا سوچنے کا انداز ۔

نقطہ کا ہم عصر انگریزی میں پوآئنٹ [point] ہے جس کی انگریزی کی قاموس میں لمبی تفسیریں ہیں جن میں سے چند موٹی موٹی یہ ہیں

(1) an individual detail (2) a distinguishing detail (3) the most important essential in a discussion or matter (4) a geometric element that has zero dimensions (5) a particular place (6) an exact moment (7) a particular step, stage, or degree in development (8) a definite position in a scale

مندرجہ بالا انگریزی تفسیر کا اُردو ترجمہ حسبِ ذیل ہے
1 ۔ ایک انفرادی تفصیل۔ 2 ۔ ایک منفرد تفصیل ۔ 3 ۔ ایک بحث میں سب سے اہم معاملہ ۔ 4 ۔ علمِ ہندسہ کا ایک جُزو جس کی پیمائش صفر ہو ۔ 5 ۔ ایک خاص جگہ ۔ 6 ۔ ایک خاص وقت ۔ 7 ۔ ایک خاص اقدام ۔ 8 ۔ ایک پیمانے میں ایک خاص مقام ۔

نُکتہ کی فیروزاللغات یوں تشریح کرتی ہے ۔

نکتہ کا مطلب ہے ۔ باریک بات ۔ تہہ کی بات ۔ لطیفہ ۔ چٹکلہ ۔ رخنہ ۔ عیب ۔ چمڑا جو گھوڑے کے منہ پر رہتا ہے ۔
نکتہ بیں کا مطلب ہے ۔ نازک خیال ۔
نکتہ چیں کا مطلب ہے ۔ عیب ڈھونڈنے والا ۔
نکتہ دان کا مطلب ہے ۔ ذہین ۔
نکتہ شناس کا مطلب ہے ۔ جچی تُلی بات کرنے والا ۔ ہوشیار ۔ عقلمند ۔

شاید کہ تیرے دِل میں اُتر جائے میری بات

افراطِ زر ۔ اثاثے اور زرِ مبادلہ

میں بار بار کوشش کرتا ہوں کہ صُلح جُو اور ترقی پسند بن جاؤں لیکن وقفہ وقفہ سے کوئی صاحب یا صاحبہ کوئی ذکر چھیڑ کر مجھے ماضی کے راز افشاء کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ 11 روز قبل محمد شاکر عزیز صاحب نے اپنی بلکہ صرف اپنی نہیں میرے سمیت اپنے جیسے لاکھوں نہیں کروڑوں پاکستانیوں کی بِبتا بیان کی ۔

محمد شاکر عزیز صاحب کی ایک بھولی بھالی ننھی بہن نے کہا ” نوٹ تو ہم خود چھاپتے ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ کیوں نہیں چھاپا جاتا تاکہ سب امیر ہوجائیں؟” ماشاء اللہ کتنا سادہ مگر بہت ہی گہرا سوال ہے ۔ محمد شاکر عزیز صاحب نے جواب دیا ” نوٹ چھاپنے سے پہلے ان کے پیچھے بطور ضمانت سونا رکھا جاتا ہے یا ڈالر یورو رکھے جاتے ہیں”۔ معاشیات کے اصول کے مطابق جواب بالکل درست ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہو رہا ۔ یہاں اثاثوں سے کئی گنا نوٹ گردش میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈالر جو دسمبر 1971ء سے قبل پونے پانچ روپے کا تھا وہ اب 63 روپے کا ہے ۔ یعنی پاکستانی ایک روپے کی اصل قیمت ساڑھے سات پیسے رہ گئی ہے ۔

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ 1952ء میں ہمارے ایک اُستاذ کہا کرتے تھے “مسلمانوں کی تاریخ بڑی کمزور ہے”۔ ان کا مطلب تاریخ کا مضمون تھا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا فرمان ہے کہ “مسلمان ایک بِل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا” یعنی مسلمان ایک ہی قسم کا دھوکہ ایک سے زائد بار نہیں کھاتا ۔ ہماری قوم کی اکثریت کو گذرے کل کی بات یاد نہیں رہتی اسی لئے بار بار دھوکہ کھاتے ہیں ۔

میں بھی سرکاری ملازم رہا لیکن کھُلے ذہن کے ساتھ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بڑی کرم نوازی ہے کہ مجھے غلط کاموں سے بچائے رکھا گو اس کیلئے مجھے دنیاوی طور پر کئی مصائب جھیلنا پڑے ۔ جب بھی بات افراطِ زر کی ہو یا قومی اثاثہ کی تو میرے ذہن میں ایک مووی فلم چلنا شروع ہو جاتی ہے کہ ہمارے مُلک کے سربراہوں اور سرکاری اہلکاروں نے اصل صورتِ حال کو عوام سے مخفی رکھنے کیلئے کیا کیا جتن کئے ۔

مجھے معاشیات کے مضمون سے تھوڑا سا شغف اسلئے ہے کہ جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو مکینکل انجنیئرنگ پڑھنے والوں کو معاشیات کا مضمون بھی پڑھنا پڑھتا تھا ۔ اس کے سالانہ امتحان میں ایک سوال مُلک کے اثاثہ جات اور ذمہ داریوں [Assets and Liabilities ] کے متعلق بھی ہوتا تھا ۔ اُس زمانہ میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے ہر ہفتے کے شروع میں ایک اطلاع نامہ [report] شائع کیا جاتا تھا جس میں پاکستان کے کُل اثاثوں اور ذمہ داریوں کا مدوار [heading-wise] میزان اور میزانِ کُل [sub-totals and grand total] دیا ہوتا تھا ۔ مجھے مکمل تو شاید یاد نہیں کیونکہ یہ اطلاع نامہ پچھلے 34 یا 35 سال سے شائع نہیں ہوا مگر اس کی موٹی موٹی مدات مندرجہ ذیل ہوتی تھیں

Statement of Assets and Liabilities

Assets

Reserves
Gold = ———-
Silver = ———
Foreign currency (owned by Government) = ———-
Other = ———

Receivable
Share on partition yet to be paid by India = ———-
Bills = ———-
Loans = ———-
Other = ———-

Total = ———-


Liabilities

Notes in circulation = ———-
Loans = ———-
Payments due = ———-
Other = ———-

Total = ———-

اصول یہ تھا کہ کُل ذمہ داریوں [Total liabilities] کو کُل اثاثہ جات [Total assets] سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ اگر کسی وقت کُل ذمہ داریاں کُل اثاثہ جات سے زیادہ ہو جائیں تو اس کا جواز بھی اس اطلاع نامہ میں لکھنا ضروری تھا ۔ اور یہ بھی لکھنا کہ صورتِ حال کو کس طرح صحیح حدود میں لایا جائے گا ۔

ہمیں جو سوال امتحان میں دیا جاتا تھا اس میں اس معاشی اطلاع نامہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے پاکستان کی مجموعی معاشی صورتِ حال پر تبصرہ کر کے بتانا ہوتا تھا کہ پاکستان معاشی لحاظ سے کیسا جا رہا ہے ؟ اور ہم مزید بہتری کیلئے کیا تجویز کرتے ہیں ۔ دسمبر 1971ء سے قبل ہمارے ملک کی معیشت اتنی مضبوط تھی کہ آپ کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں چلے جائیں تو پاکستانی کرنسی نوٹ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا ۔ 1967ء میں میں جرمنی میں تھا تو صرف آزمانے کیلئے میں ڈریسنر بنک گیا اور وہاں پاکستانی ایک روپے کے نوٹ دکھا کر کہا “مجھے اس کے بدلے جرمن مارک مل جائیں گے ؟” آفیسر نے فوراً میرے ہاتھ سے نوٹ لے کر مجھے ایک روپیہ 18 پیسے کے حساب سے جرمن مار دے دیئے ۔ اس سے قبل ہمارے ایک عزیز حج کرنے گئے تو ایک روپے کا سوا ریال ملا تھا ۔ ایک ہندوستانی روپیہ پاکستانی 80 سے 90 پیسے کا رہتا تھا ۔

یہ اطلاع نامہ جو عوام کو مُلک کی معاشی صورتِ حال سے آگاہ رکھتا تھا آج سے 34 یا 35 سال قبل حاکمِ وقت کے حُکم سے نہ صرف شائع کرنا بند کر دیا گیا بلکہ ان معلومات کو خفیہ کا درجہ دے دیا گیا ۔ اس کے بعد مصنوعی [manufactured] اعداد و شمار کے ذریعہ قوم کو بیوقوف بنانے کا عمل شروع ہوا جو موجودہ دور میں انتہائی عروج پر ہے ۔

قوم کو غلط اعداد و شمار دینے والے ان مجرموں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس سلسلہ میں میرے ذاتی تجربات میں سے صرف ایک یہ ہے ۔ یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کے ایک سرکاری کارخانے کا پروڈکشن منیجر لگا دیا گیا ۔ 1970ء میں میرے جنرل منیجر کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ دوسرے صاحب تعینات کر دیئے گئے ۔ سرکاری دفاتر اور کارخانوں میں سیاست گھُس آنے اور اعلٰی سطح کی منیجمنٹ کے غلط اقدامات کی وجہ سے پیداوار کم ہو چکی تھی ۔ پیداوار کی جو رپورٹ اُوپر بھیجی جاتی تھی اس پر میرے دستخط ہوتے تھے ۔ نئے جنرل منیجر صاحب اپنی واہ واہ کروانا چاہتے تھے ۔ اُنہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں پیداوار کی رپورٹ میں اُن پرزوں [components] کو بھی شامل کروں جو ابھی اسیمبل [assemble] ہونا تھے ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ صرف وہ مال گِنا جاتا ہے جسے مکمل اسیمبل ہونے کے بعد حتمی طور پر [finally] آرمی انسپکٹرز [Army Inspectors] نے قبول [pass] کیا ہو ۔ دوسرے آج اگر ہم ان پرزوں کو گِن لیں گے تو کل کیا کریں گے ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے میرا تبادلہ کروا دیا اور میری جگہ ایک جی حضوریہ [yes man] لگوا لیا ۔ پھر پیدا وار کی بڑھا چڑھا کر مصنوئی [manufactured] رپورٹیں بھیجی جاتی رہیں ۔ چھ سات ماہ بعد فوج کے متعلقہ محکمہ سے فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر سے ہوتا ہوا خط پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے چیئرمین کو آیا کہ جتنی پیداوار رپورٹوں میں دکھائی گئی ہے اس سے بہت کم ہمیں موصول ہوئی ہے اسلئے بقایا مال فوری طور پر بھیجا جائے ۔ یہ چٹھی چلتے چلتے میرے انہی جنرل منیجر صاحب کے پاس پہنچ گئی ۔ اُن جنرل منیجر صاحب کو سزا یہ دی گئی کہ اُنہیں ڈیپوٹیشن [deputation] پر سعودی عرب بھیج دیا گیا جہاں سے وہ 9 سال کے بعد کروڑ پتی بن کر لوٹے اور واپس آتے ہی انہیں ایک ترقی دے دی گئی ۔

کیا یہی عُمدہ حکمرانیgood governance ہے ؟

پرویز مشرف جس کو 9 مارچ 2008ء کے میثاقِ مری کے بعد بھی اپنی تا موت حُکمرانی کی قوی اُمید ہے نے پچھلے سوا آٹھ سال میں روشن خیالی کی جو ضخیم کتاب مرتب کی ہے اس کا صرف ایک صفحہ حاضر ہے ۔ ایسے کئی باب ہمارے ملک کے ہر شہر میں لکھے جانا روزانہ کا معمول رہا ہے لیکن آج سے پہلے سرکاری پولیس کو اِسے اُجاگر کرنے کی توفیق نہ ہوئی تھی ۔ البتہ اہالیانِ اسلام آباد کی درخواست پر لال مسجد سے متعلق لوگوں نے پچھلے سال ایک صفحہ کھولنے کی جراءت کی تھی اور اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں ۔

اسلام آباد کے سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اطلاعات مل رہی تھیں کہ مکان نمبر 221 ۔ گلی نمبر 3 ۔ سیکٹر ایف 10/3 میں بااثر لوگ بِلّیاں دی سراں [Cat House] چلا رہے ہیں ۔ پنجابی میں براتھل ہاؤس [Brothel House] کو بِلّیاں دی سراں یعنی بِلّیوں کی سرائے کہا جاتا ہے ۔ ہفتہ 8 مارچ اور اتوار 9 مارچ کی درمیانی شب پولیس نے چھاپہ مار کر وہاں 19 عورتوں اور 34 مردوں کو گرفتار کر لیا جو شراب نوشی اور مخلوط ناچ میں مصروف تھے ۔ عورتوں میں 3 چینی اور 3 روسی تھیں ۔ اس مکان سے شراب کی 66 بوتلیں ۔ بیئر کے 88 ڈبے ۔ ایک 7 ایم ایم کی بندوق ۔ ایک 12 بور کی بندوق ۔ ایک 44 بور کی بندوق ۔ تین 222 بور کی بندوقیں اور گولیوں کی بھاری مقدار بھی برآمد ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ ظفر شاہد نامی ایک بااثر شخص اس گھر کو بلّیاں دی سراں [Brothel House] کے طور پر چلا رہا تھا ۔

امریکہ کی نفسیاتی دہشت گردی

ایک طرف تو امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی تیار کردہ نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑیں اور دوسری طرف خود امریکہ کے اندر ایک بلوچ دہشتگرد گروہ کو سہارا دے کر ایران میں سیستان اور پاکستان میں بلوچستان کا توازن خراب کرنے میں مصروف ہے ۔ اس کے علاوہ افغانستان میں کرزئی حکومت کے کھولے ہوئے بدنامِ زمانہ بی ایل اے جس کا اب نام بلوچستان ریپبلیکن آرمی رکھ دیا گیا ہے کے دفاتر کی طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں باوجودیکہ برطانیہ انہیں دہشتگرد قرار دے چکا ہے ۔

پرویز مشرف کی سربراہی میں ہماری حکومت کا یہ حال ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کے بعد سے امریکہ کے سامنے اتنا جھُک چکی ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے اور صوبہ سندھ میں امریکہ کو اڈے دے رکھے ہیں ۔ اب تو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ امریکہ تربیلہ کے قریب بھی ایک ہوائی اڈا استعمال کر رہا ہے جہاں سے بغیر پائیلٹ کے جہاز [Predator] کی پروازیں بھیجی جاتی ہیں ۔

یہ سب کچھ نچھاور کر دینے کے بعد کہاں ہے امریکہ کی طرف سے پاکستان کی کوئی حمائت ؟ اگر ہم پاکستانیوں میں زرا سی بھی غیرت ہے تو امریکہ کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہمیں فوراً دستبردار ہو جانا چاہیئے ۔

یہ چھوٹا سا اقتباس ہے ڈاکٹر شیریں مزاری کی تحریر سے جو یہاں کلک کر کے مکمل پڑھی جا سکتی ہے ۔

سوئی کی تلاش

ساٹھ سال قبل جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ایک چھوٹی سی کہانی پڑھی تھی کہ ایک شخص رات کے وقت سڑک پر قُمقَمے کی روشنی میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔ ایک راہگیر نے پوچھا “بھئی کیا ڈھونڈ رہے ہو ؟” اس نے جواب دیا ” سُوئی”۔ راہگیر نے کہا “گِری کہاں پر تھی ؟” وہ شخص کہنے لگا “گھر میں”۔ راہگیر کہنے لگا “عجب آدمی ہو ۔ سوئی کھوئی گھر میں اور ڈھونڈ رہے ہو سڑک پر”۔ وہ شخص بولا ” گھر میں روشنی نہیں ہے”۔

ہمارے صدر صاحب اس کا اُلٹ کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے تو ملک کے باہر ہیں اور صدر صاحب انہیں اپنے مُلک میں تلاش کر رہے ہیں ۔ اس طرح دھماکے کرانے والوں کو کھُلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔

پئے در پئے دھماکوں کے نتیجہ میں صدر صاحب کے معتمدِ خاص اور نگران وزیرِ داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز بھی چند دن قبل ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بول اُٹھے کہ “لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں دھماکے امریکہ ۔ بھارت اور افغانستان کروا رہا ہے”۔ اس پر امریکی سفیر نے غصہ گِلہ کیا ۔ پھر جب نگران وزیرِ داخلہ نے اپنا بیان واپس لینے کی بجائے ایک اور نجی ٹی وی چینل پر کہا “پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں انڈیا تو بہرحال ملوّث ہے اور شاید امریکہ اور افغانستان بھی اس میں شامل ہیں” تو سرکاری ترجمان نے اسے سرکاری بیان ماننے سے انکار کر دیا ۔

ہمارے صدر صاحب کو بُش نے نمعلوم کونسی گولی کھلائی ہوئی ہے کہ ان پر کسی سچائی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا ۔

تبصرہ کا جواب

نینی صاحبہ نے میری تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے چند اہم نقاط اُٹھائے ہیں ۔ تبصرہ کا جواب سرِ ورق پر دے رہا ہوں کہ کوئی اور بھی قاریہ ایسی یا قاری ایسا ہو سکتا ہے جس کے ذہن میں یہی سوال اُبھرے ہوں لیکن لکھنا مناسب خیال نہ کیا ہو ۔

تبصرہ کا جواب

بہت خوب ۔ آپ کی اُردو بہت پسند آئی ۔ کسرِ نفسی دیکھیئے کہ ماشاء اللہ اتنی طویل اور جامع تحریر کے بعد فرمایا ہے “اف اردو لکھنا بہت مشکل ھے”۔ محترمہ اُردو لکھتی رہیئے ۔ اِسے مت چھوڑئیے ۔ یہ آپ کی اپنی بولی ہے ۔

میری تحریر کی تشنگی کی طرف توجہ دلا نے کا شکریہ ۔ مجھے اختلاط کی تعریف پہلے ہی لکھنا چاہیئے تھی ۔ فیروز اللُغات نیا ایڈیشن کے مطابق “اختلاط” کے معنی ہیں ۔ ربط و ضبط ۔ میل جول ۔ پیار ۔ میل ملاپ ۔ محبت کی گرم خوشی ۔ چھڑ چھاڑ ۔ اور “اختلاط کی باتیں” کا مطلب ہے پیار اور محبت کی باتیں ۔

محترمہ ۔ عنوان مناسب ہے کیونکہ بات پوری دنیا کی ہو رہی ہے ۔ یہ بتاتا چلوں کہ دنیا کا کوئی مذہب عورت مرد کے اختلاط کی اجازت نہیں دیتا ۔ مگر جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ بے راہ روی کا نتیجہ ہے ۔ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بعثت کے وقت یہودیوں میں اختلاط کے نتیجہ میں ہونے والی بدکاری کی سزا عورت اور مرد دونوں کو سنگسار کرنا تھی ۔ یہی سزا سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے شادی شُدہ مرد یا عورت کے بدکاری کرنے پر مقرر فرمائی ۔

محترمہ ۔ میں نے اُس کشش کی بات کی تھی جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے فطرتِ انسان میں رکھی ہے اور جائز ہے ۔ جس کشش کا آپ نے ذکر کیا ہے یعنی ” تاجر کی لئے سود میں کشش اور سرکاری ملازم کے لئے رشوت میں”۔ یہ کشش شیطان نے انسان کو بہکانے کیلئے پیدا کی ہے اور ہر شخص میں نہیں ہوتی ۔ ہاں ۔ جب مرد عورت کی پاکیزا کشش میں شیطان کا عمل داخل ہو جائے تو نتیجہ وہی ہوتا ہے جس کی میں نے دو مثالیں دی ہیں ۔

آپ نے اسلامی حدود و قیود کا ذکر کیا ہے ۔ میں پھر کہوں گا کہ کوئی بھی مذہب اس اختلاط کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے ۔ ہاں اگر ہر انسان اپنے مذہب پر چلے تو پھر کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہی پیدا نہ ہو مگر آج کے دور میں تو اُن سیّدنا عیسی علیہ السلام کے ماننے والے جنہوں نے کہا تھا کہ “اگر ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا گا آگے کر دو” اپنے علاوہ باقی سب کا بلا جواز قتلِ عام کر رہے ہیں ۔

آپ نے درست لکھا کہ ساری بگاڑ کا سبب دین سے دُوری ہے ۔ آپ نے اللہ کے فرمان کا ذکر کیا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا یہ حُکم سورت 2 ۔ الْمَآئِدَة کی آیت 2 کا آخری حصہ ہے ۔ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللہَ إِنَّ اللّہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ترجمہ ۔ اور نیکی اور پرہیزگاری [کے کاموں] میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم [کے کاموں] میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو ۔ بیشک اﷲ [نافرمانی کرنے والوں کو] سخت سزا دینے والا ہے

روشن خیالی؟

میں نے اپنی کل کی تحریر کے آخر میں ایک مشورہ لکھا تھا ۔ اس مشورہ کا ایک پہلو میں نے اُجاگر نہیں کیا تھا جو یہ ہے کہ کسی غیر مرد کے ساتھ اکیلے میں سفر نہیں کرنا چاہیئے ۔ اس سلسلہ میں آج انگریزی اخبار دی نیوز اسلام آباد میں ایک خبر چھپی ہے جو ملاحظہ ہو ۔

ہمارے گھر سے آدھے کلو میٹر کے فاصلہ پر مارگلہ تھانہ ہے ۔ وہاں اسلام آباد کے ایک کالج کی 18 سالہ طالبہ نے پہنچ کر ایس ایچ او کو بتایا کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ۔ 9 میں اپنی سہیلی سے ملنے گئی ۔ سہیلی گھر پر نہ تھی ۔ وہاں اُس کی ملاقات سہیلی کے دوست سے ہوئی جس نے اُسے اپنی کار میں اُس ہوٹل میں پہنچانے کی پیشکش کی جہاں کہ وہ جانا چاہتی تھی ۔ چنانچہ وہ اس لڑکے کے ساتھ چلی گئی مگر بجائے ہوٹل کے وہ اُسے اسلام آباد کے مضافات میں لے گیا اور پستول دکھا کر اُس کی عزت لوٹ لی ۔ میں اس سانحہ کے بعد سیدھی یہاں آئی ہوں ۔ خبر کے مطابق لڑکے کو گذشتہ رات گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

اصل بات تو لڑکا لڑکی کے علاوہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ اس واقعہ کے متعلق مندرجہ ذیل سوال اہم ہیں

لڑکی اس غیر لڑکے کے ساتھ کیوں گئی ؟
لڑکی سہیلی کے گھر سے واپس اپنے گھر جانے کی بجائے ہوٹل کیوں جانا چاہتی تھی ؟
جب لڑکی نے دیکھا کہ لڑکا صحیح راستہ پر نہیں جا رہا تو اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کیوں نہ کی ؟
اسلام آباد کے جس علاقے کی بات ہو رہی ہے اس میں آجکل رات 11 بجے تک بھی رونق ہوتی ہے ۔