Category Archives: روز و شب

باسٹھواں یوم آزادی

 آؤ بچو ۔ سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد

آج آنے والی رات کو 11 بج کر 57 منٹ پر سلطنتِ خداداد پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے پورے 61 سال ہو جائیں گے ۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ میں آزادی کی سالگرہ مبارک تو ہر سال ہی لکھتا ہوں اور اب یہ الفاظ ہی حالات نے پھیکے پھیکے کر دئیے ہیں ۔ آزادی کے 61 سال بعد بھی ہم پسماندگی اور پریشانی کا شکار کیوں ہیں ؟ اس پر غور کر کے ہمیں اپنی خامیاں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جتنی جلد یہ خامیاں دور ہوں گی اتنی ہی تیز رفتاری سے ہمارا ملک ترقی کرے گا ۔ الحمدللہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمارے مُلک کو ہر قسم کی نعمت سے مالامال کیا ہے لیکن ہموطنوں کی ناسمجھی کی وجہ سے قوم تنزل کا شکار ہے ۔

اندرونِ وطن

سب حقوق کا راگ الاپتے ہیں اور حقوق کے نام پر لمبی لمبی تقاریر اور مباحث بھی کرتے ہیں لیکن دوسروں کا حق غصب کرنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ سڑک پر اپنی گاڑی میں نکلیں تو دوسری گاڑیوں میں سے اکثریت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح آپ سے آگے نکل جائیں یا آپ سے پہلے مُڑ جائیں ۔ چوراہے پر بتی ابھی سبز ہو نہیں پاتی کہ لوگ گاڑیاں بھگانے لگتے ہیں ۔ سڑک کے کنارے کھڑے کو کوئی سڑک پار کرنے نہیں دیتا

ہموطنوں کی اکثریت کو ہر چیز غیرملکی پسند ہے ۔ اپنے وطن کی بنی عمدہ چیز کو وہ حقیر جانتے ہیں اور دساور کی بنی گھٹیا چیز کو عمدہ سمجھ کر خریدتے ہیں ۔ کئی بار میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ کوئی صاحب دساور کی بنی چیز زیادہ دام دے کر خرید لائے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے اور کم قیمت پر ملتی ہے ۔ مقامی دکاندار جب گاہکوں کی نفسیات تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مال پر فرانس ۔ جرمنی ۔ جاپان یا چین کا بنا ہوا لکھوانا شروع کر دیا ۔ میں اور دفتر کا ساتھی بازار کچھ خرید کرنے گئے وہاں ایک چیز پر چینی یا جاپانی زبان میں کچھ لکھا تھا ۔ اتفاق سے قریبی دکان سے دو جاپانی کچھ خرید رہے تھے ۔ میرا ساتھی وہ چیز لے کر ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا یہ جاپان کا بنا ہوا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ لکھا ہے پاکستان کا بنا ہوا

ملبہ یا کُوڑا کرکٹ بنائی گئی جگہ کی بجائے اپنے گھر کے قریب جہاں بھی خالی پلاٹ یا جگہ ہو وہاں انبار لگا دینا اپنی خُوبی سمجھا جاتا ہے ۔ قومی یا دوسروں کی املاک کو نقصان پہنچانا شاید بہادری سمجھا جاتا ہے اور بجلی کی چوری کئی ہموطنوں کی فطرت ہے اور وہ اسے اپنی عقلمندی یا چابکدستی سمجھتے ہیں ۔ دکاندار مال کا عیب گاہک کی نظروں سے اوجھل کر کے عیب دار مال بیچتے ہیں

میرے ہموطن ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں پاکستان میں کیا رکھا ہے ؟ یا کہہ دیں گے یہ بھی کوئی ملک ہے ۔ اپنے ہموطنوں کے متعلق کہیں گے کہ سب چور ہیں ۔ اس وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپکو بھی چور کہہ رہے ہیں

بیرونِ وطن

بیرونِ وطن ہموطنوں کی اکثریت بھی پاکستان اور پاکستانیوں کو نیچا دِکھانے پر تُلے رہتے ہیں ۔ گو اپنا یہ حال کہ عمر برطانیہ میں گذاری مگر صحیح انگریزی بولنا اور لکھنا نہ سیکھا ۔ سعودی عرب میں بیس پچیس سال رہے اور قرآن شریف صحیح طور پڑھنا نہیں آتا ۔

ایک صاحب جو برطانوی شہری ہیں پاکستان آئے ۔ ایک پتلون مجھے دکھا کر کہنے لگے “یہ میں نے لندن سے خریدی ہے ۔ ایسی اچھی کوئی پاکستان میں بنا سکتا ہے ؟” میں نے پتلون پکڑ کر دیکھی تو خیال آیا کہ یہ کپڑا تو وطنِ عزیز میں ملتا ہے ۔ میں نے پتلون بنانے والی کمپنی کا نام ڈھونڈنا شروع کیا ۔ پتلون کے اندر کی طرف ایک لیبل نظر آیا جس پر انگریزی میں لکھا تھا “پاکستان کی بنی ہوئی”۔

کچھ سالوں سے ایک نیا موضوع مل گیا ۔ “پاکستان خطرناک مُلک ہے ۔ وہاں روزانہ دھماکے ہوتے ہیں ۔ جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے”۔ جس کو دیکھو وہ ہر باعمل مسلمان کو دہشتگرد قرار دے رہا ہے ۔

میں پاکستان سے باہر درجن بھر ملکوں میں گیا ہوں اور آٹھ دس دوسری قوموں سے میرا واسطہ رہا ہے ۔ میں نے کسی کے منہ سے اپنے ملک یا قوم کے خلاف ایک لفظ نہیں سُنا لیکن جس ملک میں بھی میں گیا وہاں کے پاکستانی یا جن کے والدین پاکستانی تھے کو پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف وہاں کے مقامی لوگوں کے سامنے باتیں کرتے سنا ۔

کاش ہموطن ایک قوم بن جائیں اور ہم صحیح طور سے یومِ پاکستان منا سکیں

سُنہرے اصول

1 ۔ کسی سے مت کہئیے ” تُم مجھے پسند نہیں”

2 ۔ جب تک ٹھوس وجہ نہ ہو ۔ کسی کو بُرا نہ سمجھئیے

3 ۔ خواہ کوئی اچھا ہو یا بُرا ۔ ہر ایک سے اچھا سلوک کیجئے لیکن بُرے شخص کے معاملہ میں ہوشیاری اور بُردباری سے کام لیجئے

4 ۔ کوئی بیہودہ گفتگو کرے تو زبان درازی سے نہیں ۔ سرد مہری سے اپنی ناپسندیدگی کا اُسے احساس دلایئے

5۔ جب تک تسلی سے غور نہ کر لیں ۔ کسی کی بات پر یقین نہ کیجئے

6۔ اکیلی لڑکی یا نوجوان عورت اپنے محرم کے علاوہ کسی مرد یا 12 سال سے زائد عمر کے لڑکے کو اپنے اتنا قریب آنے کا موقع نہ دے کہ وہ اُس کے جسم کو ہاتھ لگا سکے

7 ۔ اکیلی لڑکی یا نوجوان عورت اپنے محرم کے علاوہ کسی مرد یا 12 سال سے زائد عمر کے لڑکے کے ساتھ تنہا کمرے میں یا کسی الگ جگہ میں ہونے سے بچے

8 ۔ اکیلا لڑکا غیر محرم اکیلی عورت یا اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی کے ساتھ تنہا کمرے میں یا کسی الگ جگہ میں ہونے سے بچے

کیا دین اس دنیا کے کاروبار سے لاتعلق ہے ؟

مادیت پرستی نے دنیا کو اتنا محسور کر دیا ہے کہ آج کے دور کا انسان حقائق کو تسلیم کرنا تو کُجا حقائق سمجھنے کی بھی کوشس نہیں کرتا اور صرف اپنے تخلیق کردہ مادہ اور اطوار کو ہی حقیقت سمجھتا ہے ۔ انسان کی دین سے دُوری کا بنیادی سبب بھی یہی ہے ۔ ہم لوگ طبعیات ۔ کیمیا ۔ ریاضی ۔ معاشی ۔ معاشرتی ۔ وغیرہ مضامین کی کتابوں کو جس انہماک اور محنت کے ساتھ پڑھتے اور یاد رکھتے ہیں اگر اسی طرح دین کی بنیادی کتاب “قرآن شریف” کو بھی پڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے سمجھ نہ سکیں ۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ دوسرے مضامین کی سینکڑوں سے ہزاروں صفحات پر مشتمل غیر زبان میں لکھی کُتب کے مقابلہ میں اسلامیات کی پچاس صفحوں کی کتاب بھی بوجھل محسوس ہو ایسے افراد سے دین کو سمجھنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔

آمدن برسرَ مطلب ۔ دین ہے کیا ؟
دنیا میں ہر مصنوعی پرزہ کے استعمال کا طریقہ اس کے ساتھ لکھ کر دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر [Procedure; Operation layout or Process chart; Does and don’ts; Warning, etc] ہوتی ہیں ۔ مختلف اداروں میں کام کرنے والوں کو بھی لکھا ہوا یا زبانی طریقہ کار [Job description] مہیا کیا جاتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ۔ اسی طرح ہر اچھے معاشرہ میں زندگی گذارنے کا طریقہ بھی مروّج ہوتا ہے ۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہر کام کے کرنے کے طریقہ کو آج کی ترقی یافتہ دنیا نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اسے آئی ایس او [ISO 2000 to ISO 14000] میں شامل کر لیا ہے اور مشہور ادارے اور کارخانے اس کی سندیں حاصل کرتے پھر رہے ہیں ۔

دین یہ کہتا ہے کہ اچھی زندگی کس طرح گذاری جاتی ہے ۔ اپنے خاندان کے افراد سے ۔ رشتہ داروں سے ۔ محلے والوں سے ۔ ہمسفر سے ۔ مُحتاجوں سے ۔ اپنے افسر سے ۔ اپنے ماتحت سے غرضیکہ ہر انسان سے اچھی طرح پیش آنے کا دین حُکم دیتا ہے اور دین جسم کی صفائی ۔ لباس ۔ کھانا پینا ۔ چلنا پھرنا ۔ لین دین ۔ تجارت ۔ ملازمت ۔ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر فعل کے متعلق خوش اسلوبی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ اور ہر بات تفصیل سے بتاتا ہے ۔

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ چودہ صدیاں قبل قرآن شریف میں جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے احکام آئے آج کے جدید ترین انتظامی قوانین اُنہی سے ماخوذ ہیں مگر عمدگی میں اتنے کامل نہیں ہیں ۔ بات سمجھ سے باہر یہ ہے کہ اگر دین کو دنیا سے الگ ہی رکھنا ہے تو پھر دین کیا چوپایوں اور پرندوں کیلئے ہے ؟

توقعات یا پریشانی ؟

جب بات دسترست سے باہر ہو تو پریشانیوں سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیجئے

دنیا کیسی ہونا چاہیئے ؟ اس کا فیصلہ آپ کے ذمّہ نہیں
دوسروں کے چال چلن اور برتاؤ کے اصول مرتّب کرنا آپ کی ذمّہ داری نہیں

کيونکہ جب دنیا آپ کے بنائے اصولوں پر نہیں چلتی تو آپ کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔

ہم لوگوں کی پریشانی کی وجہ عام طور پر یہی ہوتی ہے ۔ اِس پریشانی سے بچئیے

محنت ؟ ؟ ؟

ہم جب بچے تھے تو ایک مووی فلم بنی تھی جسے لوگ اشتراکیت کا پروپیگنڈہ کہتے تھے ۔ فلم تو میں نے نہیں دیکھی لیکن اس میں ایک گانے کے بول مجھے پسند تھے

محنت کی اِک سوکھی روٹی ۔ ہاں بھئی ہاں ہے
اور مُفت کی دودھ ملائی ۔ نہ بھئی نہ رے

“محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے” ۔ “محنت رائیگاں نہیں جاتی”۔ یہ محاورے نہ صرف وطنِ عزیز کی قومی زبان میں بلکہ تمام علاقائی زبانوں میں بھی مختلف طریقوں سے موجود ہیں ۔ شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جس نے یہ محاورے پڑھے یا سُنے نہ ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے قوم کی اکثریت ان محاوروں کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتی ۔ اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محنت کا راستہ دُشوار گذار لگتا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے محاورے نے زیادہ متاثر کیا ہے جو ہے “گھی سیدھی اُنگلی سے نہیں نکلتا”یعنی گھی نکالنے کیلئے اُنگلی ٹیڑھی کرنا پڑتی ہے ۔ آجکل تو اُنگلی سے گھی کوئی نکالتا ہی نہیں بلکہ اشتہاربازی کے زیرِ اثر زیادہ لوگ گھی کھاتے ہی نہیں ۔ تیل اور وہ بھی جس کے ساتھ کینولا لگا ہو استعمال کرتے ہیں ۔ مجھے اس سے نیولا یاد آتا ہے جو بڑی مہارت سے بڑے سے بڑے سانپ کو مات کر دیتا ہے ۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کی قدر آج کی دنیا میں بہت کم رہ گئی ہے اور محنت کرنے والے کو کئی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن محنت کرنے والا شخص جتنی پُراعتماد اور ذہنی سکون کی زندگی گذارتا ہے محنت کا راستہ اختیار نہ کرنے والا ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

لگ بھگ 4 دہائیاں پہلے کی بات ہے میرے محکمہ کے ایک ساتھی میرے دفتر میں آئے اور مجھے کہنے لگے “اجمل ۔ آپ صرف محنت کرتے ہو ۔ آج کی دنیا اشتہاربازی کی ہے ۔ میں تو ایک ہاتھ سے کام کرتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے ڈفلی بجاتا ہوں ۔ یہ افسران مجمع کے لوگ ہیں ۔ ان کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ڈفلی بجا کر مجمع لگانا ضروری ہے”۔

میں علامہ اقبال صاحب کو فلسفی سمجھتا ہوں ۔ اُن کا ایک شعر آٹھویں جماعت سے میرے لئے مشعلِ راہ رہا ہے

تُندیٔ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے

چنانچہ میں نے اپنے محکمہ کے بظاہر کامیاب ساتھی کی بات نہ مانی اور اپنا سفر آہستہ آہستہ جاری رکھا ۔ تُند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے کرتے کبھی کبھی میرا جسم شَل ہو جاتا ۔ ساتھی ڈِپلومیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ۔ میں اُن کی نصیحت کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن جس خُو کو ساتھی ڈپلومیسی کا نام دیتے تھے وہ میرے لئے دوغلاپن یا منافقت تھی ۔ میرے دماغ اور دِل نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمیشہ سُکھ کی نیند سویا ۔ مجھے نان و نُفقہ کی کبھی فکر نہ ہوئی ۔ اگر کبھی فکر ہوئی تو صرف اس کی کہ میرے بچے کامیابی سے اپنے تعلیمی منازل طے کر لیں ۔ میں مالدار آدمی نہ تھا اور نہ ہوں لیکن اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرے ہر آڑے وقت کو کامیابی سے گذار دیا اور ہمیشہ آزادانہ زندگی بسر کی ۔ الحمدللہ رب العالمین کہ

یہ کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

محاورے جو پہلے سمجھ نہ آئے تھے

ہمیں سکول کے زمانہ میں اُردو اور انگریزی میں بہت سے ضرب المثل پڑھائے گئے تھے جن میں کچھ ایسے تھے جو مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آئے تھے ۔ ان میں سے اُردو کے مندرجہ ذیل اکیسویں صدی میں یعنی پچھلے سات آٹھ سالوں میں سمجھ میں آئے ہیں

اُلٹی گنگا
اُلٹے بانس بریلی کو
اُلٹا چور کتوال کو ڈانٹے
سُنیں سب اُسکی جو ڈُگڈُگی بجائے
آنکھ کے اندھے نام نین سُکھ
چور اُچکا چوہدری ۔ لُنڈی رَن پردان
اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی
ناچ نہ جانے ۔ آنگن ٹیڑا
کوّا گیا مور بننے ۔ نہ مور بنا نہ کوا رہا
پڑے گرمی مریں غریب ۔ پڑے پالا مریں غریب
[سخت سردی میں گھاس پر رات کے وقت برف سی جم جاتی ہے اسے پالا کہتے ہیں

مسلمان بخشےجائینگے

دوسرے ممالک کے مُسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میرے ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ

“ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے”

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا

قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی سوائے بیہوشی کی حالت کے کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟

اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔

سُورة 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیۃ 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّہِ أَكْبَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔

ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے

تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔

مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔

سُورۃ ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیۃ ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے

سورۃ ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیۃ 2 ۔ أحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَھمْ لَا يُفْتَنُونَ
ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔

تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟

سورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیۃ 208 ۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے

وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔

حرفِ آخر ۔ میں نے مُسلمان کے فرائض کا احاطہ نہیں کیا وہ پوری زندگی ۔ سلوک اور لین دین کے متعلق ہیں اور قرآن شریف میں واضح طور پر مرقوم ہیں ۔