جب ہم سکول میں پڑھتے تھے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ یو این او [UNO] مخفف ہے یونائٹڈ نیشنز آرگنائزیشن [United Nations Organization] کا جو اسی طرح کے کاموں کیلئے بنائی گئی لیگ آف نیشنز [League of Nations] کی ناکامی کے بعد معرضِ وجود میں لائی گئی تھی ۔ پچھلے 60 سال کے مشاہدہ سے واضح ہوا ہے کہ یو این او دراصل مخفف ہے یونائٹڈ ناسٹی نَیپوٹِزم آرگنائزیشن
United Nasty-nepotism Organization
کا ورنہ اس کے پروردہ دہشتگردوں کے ہاتھوں مسلسل یہ قتل و غارتگری کیوں ہوتی












Category Archives: روز و شب
مسلمانوں کا المیہ
حقائق پر مبنی تحریر جو مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کیلئے ایک تازیانے سے کم نہیں
ممبئی میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد بھارت کی ایما پر امریکہ نے پاکستان کو بغیر کوئی عذر دیئے اپنی کٹھ پتلی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ذریعے جماعت الدعوة اور دو دوسری پاکستانی رفاہی اور دینی تنظیموں کو دہشتگردقرار دے دیا جبکہ ان تنظیموں سے منسلک کچھ افراد کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا ۔ اقوام متحدہ کی اس کارروائی کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ان تنظیموں بالخصوص جماعت الدعوة کے دفاتر کو ملک بھر اور آزادجموں کشمیر میں مقفل کر دیا اور اس کے کئی عہدیداروں اور رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا یا گرفتار کرلیا اور ان کے بنک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے۔
ہمارے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی اہلکار بار ہا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ابھی تک بھارت نے ہمیں ممبئی دہشتگردی کے حوالے سے ایسے شواہد فراہم نہیں کئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ پاکستان کی کوئی تنظیم ان واقعات میں ملوث ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی ایسے شواہد پیش کئے گئے۔ لیکن ہم نے بغیر کوئی ثبوت دیکھے جماعت الدعوة جو پاکستان بھر میں اپنے رفاہی کاموں کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتی ہے اور جس نے خاص طور پر زلزلہ زدہ علاقوں بشمول آزادکشمیر، بالاکوٹ، مانسہرہ اور بلوچستان میں کافی کام کیا ہے اس طرح دھاوا بول دیا جیسے ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ ہمارے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان جماعت الدعوة کے خلاف ایکشن نہ لیتی تو خطرہ تھا کہ پاکستان کو ہی دہشتگرد ملک قرار دے دیا جاتا۔ کیا جناب احمد مختار ضمانت دے سکتے ہیں کہ اب پاکستان کو دہشتگرد ممالک میں فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
بغیر کسی منطق اور جواز کے ہم کتنی آسانی سے ہر بیرونی حُکم کی بجا آواری کرتے جا رہے ہیں۔ 9/11 کے بعد پہلے ہی ہم نے اپنی قومی عزتِ نفس کو تار تار کرتے ہوئے امریکہ بہادر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر ڈالا خواہ وہ قانونی تھا یا غیر قانونی خواہ وہ پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی کے مترادف تھا یا کہ نہیں اور اب ہم ماضی سے کچھ سبق سیکھے بغیر سب کچھ بھارت کے لئے کرنے پر تیار ہیں۔یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ ہم سے آج تک خوش نہیں ہوا جبکہ بھارت نے ابھی سے do more-do more کی رٹ لگا رکھی ہے۔ اگر سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو نجانے ہمارا کل کیسا ہو گا۔ پہلے ہی امریکہ کی نظر میں پاکستان دنیا بھر کے لئے دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔ آج بھارت بھی امریکہ کی زبان بولتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردوں کا مرکز [epicentre] گردانتا ہے۔ بیرونی قوتوں کے کہنے پر اگر ہم آج اپنی تنظیموں اور اپنے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں گے تو کیا اس سے ہم آنے والے خطرات سے جان چھڑا پائیں گے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کا اصل نشانہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے، کیا ہم بھول گئے کہ یہی ممالک ہمارے ملک کی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف انتہائی سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں اور اب بھی لگا رہے ہیں تا کہ ان اداروں کو کمزور کر کے اس ملک میں انتشار کی صورتحال پیدا کی جائے جس سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر بیرونی قبضے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اپنی نااہلی اور بزدلی کی وجہ سے یقیناً ہم اپنے ملک کو دشمن قوتوں کے پھیلائے گئے جال میں آہستہ آستہ پھنسا رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی امریکہ بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی عراق، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شہادت پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ اس ریاستی دہشت گردی پر تو اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ تمام اسلامی ممالک کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ اتحاد و یگانگت سے بیگانہ سب ایک دوسرے کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ کوئی بھارت سے نہیں پوچھتا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود وہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیونکر جمائے ہوئے ہے۔ امریکہ افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کی جانیں لینے کے باوجود ابھی بھی مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔ مگر اب بھی مسلمانوں کی آنکھیں بند ہیں اور ان کی عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔
ہم زبان سے تو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں اور اسی سے ڈرنے کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارے دلوں میں امریکہ کا خوف اور ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ ہم دنیا کو اور حتٰی کہ اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو امریکہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج ہم اپنے مذہب کے متعلق اس حد تک معذرت خواہانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے ہم اپنی مسلمانیت کو اس طرح پیش کرنے کے جتن کر رہے ہیں جس سے امریکہ ہم سے خوش ہو جائے۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی میرے اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کی کتاب قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں تو اپنے رب کے واضح احکامات کے باوجود ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ کافر اور یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست اور خیرخواہ ہو سکتے ہیں۔ ہم جو یہود و نصاریٰ کو راضی کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان بھول گئے جس کا مفہوم ہے یہ [یہودونصاریٰ اور کفار] تم [مسلمانوں] سے اس وقت راضی ہوں گے جب تم اپنے دین پر اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے یعنی کہ دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔ کیا ہم قرآن کی اس بات کو بھول سکتے ہیں کہ ان [یہودونصاریٰ اور کفار] کی زبانوں سے کہیں زیادہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض چھپا ہوا ہے۔
دین اسلام کی نظر میں جو ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جو ہمارے بدترین دشمن ہیں انہی کو ہم نے اپنا آقا تسلیم کر لیا ہے اور ان کے ہر حکم پر اپنا سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو مغضوب [ہمیشہ غضب میں رہنے والی] اور بھٹکے ہوئے کہا ہم آج کے مسلمان ان کی پیروی پر لگے ہوئے ہیں۔ کل افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف جنگ کو جہاد اور اس میں حصہ لینے والوں کو مجاہدین کہنے والوں نے آج افغانستان میں قابض امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف برسرپیکار طالبان کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیا اور ہم مسلمان بھی انہی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ جہاد چاہے وہ افغانستان، کشمیر یا عراق میں ہو اس کو ہم نے دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔ ان حالات میں مسلمان کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
انصار عباسی نے جنگ کیلئے لکھا اور 15 دسمبر 2008ء کو شائع ہوا
واہ بھئی واہ ۔ ۔ ۔
ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم نے چار پانچ روز “تک دنا دن” کر کے وہ حاصل کر لیا جو حاصل کرنا تھا اور بڑی کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ۔ آپریشن ہوا اور سرکاری بیان کے مطابق 28 اور غیر سرکاری بیان کے مطابق 60 افراد جو دہشتگردی میں مطلوب تھے گرفتار کر لئے گئے ۔ چار دن کی مار ڈھاڑ میں مرنے والوں کی اکثریت رکشا ڈرائیور ۔ چوکیدار ۔ کوڑے کباڑ میں سے پلاسٹک کے تھلے اور کاغذ پتر چُن کر روزی کمانے والے پٹھان تھے ۔ آپریشن کس علاقہ میں ہوا ؟ جہاں اِسی قسم کے اور دوسرے غریب پٹھان رہتے ہیں ۔
اسی کو کہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کی پانچوں گھی ۔ شاید سر کڑاہی میں ہونے کی کسر رہ گئی ہے
واہ بھئی واہ ۔ واہ بئی واہ
پڑے پالاتو مریں غیریب
چلے لُو تو مریں غریب
واہ بھئی واہ ۔ کر دیا ٹھاہ
جل کےدل
آدھی صدی سے زائد قبل ایک گانا لکھنے والے کی روح سے معذرت کے ساتھ کچھ حسبِ حال تبدیلیاں شامل کر کے
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
عوام خطاوار ہیں یا اُن کو بہکانے والے ؟
سب کے چہروں پر داغ ہیں کالے کالے
کتنے انتخابات ہوئے کوئی داغ دھویا نہ گیا
جل کے دِل خاک ہوا ۔ آنکھ سے رویا نہ گیا
[بہکانے والے یعنی حُکمران طبقہ]
کراچی کے طول و عرض میں میرے کئی بہت قریبی عزیز رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کراچی کے حالات پر نظر رکھتا ہوں ۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تو میرا چھوٹا بیٹا اور بہو بیٹی بھی کراچی میں موجود تھے ۔ پاکستانی صاحب کی تحریر پڑھ کر جی چاہا تھا کہ میرے علم میں آنے والے واقعات کے متوقع نتائج بیان کروں پھر ٹھٹھک گیا کہ کہیں اس کا منفی اثر نہ ہو جائے ۔ لیکن جو مجھے صاف نظر آ رہا تھا اور اُسے لکھتے ڈر رہا تھا وہ وقوع پذیر ہو گیا ۔
الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں
29 نومبر کی رات ٹی وی اے آر وائی ون ورڈ لگایا تو کراچی میں بلووں کا معلوم ہوا ۔ جیو سمیت باقی سب ٹی وی سٹیشن دیکھے مگر سوائے اے آر وائی اور سماع کے کسی چینل نے یہ خبر نہ دی ۔ کراچی میں پھوپھی زاد بہن کو ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیٹی کے ہمراہ کہیں گئی ہوئی تھیں ۔ واپسی پر راستہ میں پٹھانوں کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے جو ایم کیو ایم کے لگتے تھے فائرنگ کی اُنہوں نے ایک پٹھان کو گرتے دیکھا ۔ رکشا والے نے رکشا بھگایا اور متوقع متنازع علاقوں سے بچتا ہوا نارتھ کراچی پہنچ گیا ۔ اُن کا بیٹا اپنے کام کے سلسلہ میں کراچی میں پھرتا رہتا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کے جوانوں نے دو پٹھانوں کو پِک اَپ سے اُتار کر پولیس والوں کی موجودگی میں زد و کوب کرنا شروع کر دیا ۔ اُس نے اپنی ایف ایکس کار موڑی اور بچتا بچاتا رات گئے گھر پہنچا ۔
تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی
کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟
وہ جو کراچی کی مظلوم مہاجر تنظیم تھی وہ تو مئی 1993ء میں چیئرمین عظیم احمد طارق کے قتل [شہادت] کے ساتھ ہی مر گئی تھی یا الطاف حسین نے مار دی تھی جو اُس محنتی اور صُلح جُو رہنما عظیم احمد طارق کا بھی قاتل ہے ۔ میں دس سال کی عمر میں 1947ء میں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا لیکن میں نے یا میرے خاندان والوں نے اپنے آپ کو کبھی مہاجر نہ سمجھا ۔ میں صرف پاکستانی ہوں ۔ نہ پٹھان ہوں ۔ نہ بلوچی ۔ نہ سندھی ۔ نہ پنجابی ۔ نہ مہاجر
فرح ڈوگر ۔ مصباح مُغل اور اجمل بھوپال
آج ایک خبر پڑھ کر ماضی کے دِل شِکن اور ہِمت توڑ واقعہ کی مووی فلم میرے ذہن کے پردۂ سِیمِیں پر چل گئی کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے ۔ اور یوں محسوس ہوا کہ وطنِ عزیز کے پی سی او چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح کے خیر خواہوں نے صرف جسٹس غلام مصطفٰے مُغل کی بیٹی مصباح ہی کے ساتھ ظُلم نہیں کیا بلکہ وہ اُن ظالموں کے ساتھی ہیں جنہوں نے آدھی صدی قبل افتخار اجمل بھوپال پر ظُلم کیا تھا ۔
میں نے اللہ کے فضل و کرم سے میٹرک میں وظیفہ حاصل کیا اور ایف ایس سی بھی اچھے نمبروں پر پاس کی تو انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخلہ لینے کی خواہش ہوئی ۔ اس زمانہ میں جموں کشمیر کے باشندوں کو پاکستان میں کوئی حقوق حاصل نہ تھے ۔ ان کیلئے پاکستان کے کچھ کالجوں میں ایک سے پانچ تک نشِستیں مختص تھیں جن کے استعمال سے وہ متعلقہ کالج میں داخل ہو سکتے تھے ۔ پاکستان بننے سے قبل بھی جموں کشمیر میں تعلیم عام تھی اور وہاں کا تعلیمی معیار بھی عمدہ تھا ۔ اگست 1947ء کے بعد تمام تر محرومیوں کے باوجود ہجرت کر کے پاکستان آنے والے جموں کشمیر کے خاندانوں کے بچے اس معیار کو برقرار رکھے ہوئے تھے ۔ اسلئے مختص کردہ نشِستیں نہائت قلیل تھیں جن پر داخلہ لینے کیلئے جموں کآشمیر کے طلباء کو ہائی میرِٹ کی ضرورت ہوتی تھی ۔ انجنیئرنگ کالج لاہور میں ہمارے لئے پانچ نشِستیں مختص تھیں جن میں میرا تیسرا نمبر بنتا تھا ۔ درخواستیں آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو دینا ہوتی تھیں جہاں کے محکمہ تعلیم کے افسران ایک خاص بارسوخ گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ نامزدگی کرتے ہوئے میرا نام چھٹے نمبر پر رکھ دیا گیا کہ اگر اوپر والوں سے کوئی رہ جائے تو چھٹے پر توجہ دی جائے ۔ جن تین طلباء کو مجھ سے مقدّم کیا گیا ان کے ایف ایس سی کے نمبر مجھ سے 20 سے 60 نمبر تک کم تھے کم تھے ۔ اس زمانہ میں ایف ایس سی کے کُل نمبر 650 ہوتے تھے ۔
جب والد صاحب کو اس چیز کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے ۔ کچھ بزرگوں نے مشورہ دیا کہ بیٹے کو کہو کہ براہِ راست پنجاب میرٹ کی بنیاد پر درخواست دے دے ۔ اس صورت میں پنجابی ہونے کی سند بھی درخواست کے ساتھ لگانا تھی جو میرے پاس نہیں تھی ۔ ایک بزرگ جو محکمہ تعلیم میں تھے نے کہا “داخلہ کی درخواست جمع کرانے میں صرف تین دن ہیں ۔ اس دوران کچھ نہیں ہو پائے گا ۔ تم داخلہ کی درخواست اور اپنی میٹرک اور ایف ایس سی کی اسناد لے کر لاہور چلے جاؤ اور انجنیئرنگ کے پرنسِپل صاحب کو مل کر سارا ماجرہ بیان کرو”۔ چنانچہ میں اگلے دن فجر کے وقت بس پر سوار ہو کر لاہور پہنچا اور 11 بجے پرنسِپل صاحب کے دفتر میں تھا ۔ ان دنوں ممتاز حسین قریشی صاحب قائم مقام پرنسِپل تھے ۔ اللہ اُنہیں جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے نہائت مُشفق انسان تھے ۔ بڑے انہماک کے ساتھ میری عرض سنی اور میرا تعلیمی ریکارڈ دیکھنے کے بعد بولے “بیٹا ۔ درخواست میں لکھ دو کہ میں پنجابی ہونے کی سند حاصل نہیں کر سکااور ملتے ہی جمع کرا دوں گا”۔ پھر کسی صاحب کو بُلا کر کہا “فلاں صاحب سے کہو کہ اس کی درخواست لے لے ۔ پنجابی ہونے کی سند یہ بعد میں جمع کرا دے گا”۔ وھ شخص مجھے ساتھ لے گیا اور درخواست جمع ہو گئی ۔
اُس زمانہ میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخلہ کیلئے امتحان ہوا کرتا تھا جس میں ایک پرچہ انگریزی ۔ طبیعات اور الجبراء اور دوسرا علمِ ہندسہ کا ہوتا تھا ۔ اگر داخلہ کے امتحان میں کوئی ناکام رہے تو اسے داخلہ نہیں ملتا تھا ۔ اور داخلہ کا میرٹ اس طرح تیار ہوتا کہ اُس امتحان کا وزن 30 ۔ ایف ایس سی کا 50 اور میٹرک کا 20 ۔ پنجاب میرٹ پر کُل 120 طلباء لئے جانے تھے ۔ امتحان کے بعد میرٹ لِسٹ لگی تو میرا نام اللہ کے فضل سے 64 نمبر پر تھا ۔ جو تین طلباء غلط طور پر جموں کشمیر کی فہرست میں شامل کئے گئے تھے وہ تینوں داخلہ کے امتحان میں ناکام رہے چنانچہ کالج نے حکومت آزاد جموں کشمیر سے مزید نامزدگی مانگی ۔ اس موقع پر انجیئرگ کالج کے پرنسپل صاحب نے مجھے بُلا کر ہدائت کی کہ میں پنجاب کی بنیاد پر داخلہ لے لوں تو بہتر ہو گا ۔ میں نے پنجابی ہونے کی سند کا کہا تو اُنہوں نے کہا “فیس جمع کرا دو اور جا کر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر سے راولپنڈی میں رہائش کی سند لے آؤ”۔
سو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی کرم نوازی سے میرا داخلہ ہو گیا اور میں انجنیئر بن گیا ورنہ شاید مونگ پھلی بیچ رہا ہوتا یا منڈی میں ٹوکرا اُٹھا رہا ہوتا ۔
اور تم اللہ کی کو کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
لو بولو کر لو بات
ملک بھر کے ہزاروں طلبہ کے حقوق کو بڑے پیمانے پر رد کرتے ہوئے وفاقی بورڈ برائے ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ نے ملک کے سب سے بڑے [پی سی او] جج کی صاحبزادی کو غیر قانونی طور پر اضافی نمبر دیکر ان کے امتحانی نتیجے کو بہتر بنا دیا ہے ۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف اِنٹرمِیڈِیئٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحریری احکامات ۔ نامناسب عُجلت میں تمام قواعد کی خلاف ورزی اور ان میں نرمی ۔ یہاں تک کہ اعلٰی عدالت کے کچھ فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرح حمید ڈوگر کے ایف ایس سی کے نتیجے کو اس طرح بہتر بنایا کہ 640 نمبر میں گریڈ ” سی “ کو بڑھا کر اسے ” بی “ گریڈ 661 نمبر میں تبدیل کر دیا اور اس طرح انہیں ملک میں کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست دینے کیلئے اہل بنا دیا ۔ اسلام آباد بورڈ نے فرح حمید ڈوگر کے معاملے میں اپنے معمول سے ہٹ کر دوبارہ چیکنگ ۔ دوبارہ جائزہ لینے اور یہاں تک کہ ان کے امتحان کی جوابی کاپیوں پر ان کو فائدہ پہنچانے کیلئے اور 642 سے 660 کے درمیان نمبر لینے والے ہزاروں طالب علموں سے انہیں آگے کرتے ہوئے دوبارہ نمبر دینے کے پورے عمل کو نہایت تیزی سے مکمل کیا ۔
سپریم کورٹ نے اکتوبر 1995 ء ۔ جنوری1996 اور نومبر 2001 ء میں اپنے فیصلوں میں کسی بھی امیدوار کو خواہ وہ کتنا ہی بااثر یا طاقتور کیوں نہ ہوامتحانی نظام میں اس طرح کی گڑبڑ کی خاص طور پر ممانعت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ امتحا ن کے عمل کو مصلحت کی بنیاد پر قربان کرنے نہیں دیا جا سکتا اور اس عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
امتحانی نظام کے ماہرین کا اصرار ہے کہ قواعد چیئر مین کو یا کسی بھی بااختیار اہلکار کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ حاصل کردہ نمبروں کو بڑھانے کیلئے پہلے سے مارک کردہ پیپرز کا دوبارہ جائزہ لے یا دوبارہ امتحان لے یا ان پر دوبارہ نمبر لگائے ۔ درحقیقت 24 جولائی 2007 کی تاریخ کے ایف بی آئی ایس ای کے جاری کردہ اعلامیہ کے تحت طلبہ کو بتایا گیا تھا کہ گریڈ یا نمبر بہتر بنانے کی سہولت کو امیدواروں کیلئے اس طرح توسیع دی گئی ہے کہ وہ اپنی پسند کے دو مضامین یا پرچوں میں دوبارہ بیٹھ سکتے ہیں اور اسی دوران وہ پالیسی بھی برقرار رہے گی کہ وہ متعلقہ امتحان پاس کرنے کے ایک سال کے اندر پارٹ ون یا پارٹ ٹو یا دونوں پارٹس یا پورے امتحان میں بھی بیٹھ سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فرح حمید ڈوگر جو اسلام آباد کالج برائے خواتین سے ایف ایس سی [پری میڈیکل] کے پرچے دے چکی تھیں ۔ قواعد کے مطابق اپنی بعض امتحانی کاپیاں دوبارہ چیک کرنے کی درخواست دے چکی تھیں ۔ ان کی کاپیاں دوبارہ چیک کرنے پر ان کے نمبروں میں صرف ایک نمبر کے اضافے سے ان کے مجموعی نمبر 640 سے 641 ہوگئے تھے۔ لیکن بعد میں بورڈ کے چیئرمین نے حکم دیا کہ ان کے پرچوں کی دوبارہ پڑتال کی جائے جس کے لئے وہ 4 ممتحن طلب کئے گئے جنہوں نے پہلے انکی کاپیاں چیک کی تھیں اور ان سے کہا گیا کہ وہ دوبارہ نمبر دیں ۔ اس مشق کے نتیجے میں فرح حمید ڈوگر کو مزید 20 زائد نمبر دیئے گئے
ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ پارٹ ٹو سالانہ امتحان برائے 2008ء کے رزلٹ گزیٹ بتاریخ 4 اگست 2008ء کے صفحہ نمبر 350 پر واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ فرح حمید ڈوگر [رول نمبر 545207] بنت عبدالحمید ڈوگر نے 640 نمبر یعنی گریڈ سی حاصل کیا ہے ۔ 20 اگست کو امیدوار نے رسمی طور پر 4 مضامین انگریزی ۔ اردو ۔ مطالعہ پاکستان اور فزکس کی کاپیاں دوبارہ چیک کرانے کی درخواست دی اور اس مقصد کیلئے 300 روپے فی پرچہ کے حساب سے 1200 روپے کی ادائیگی کی ۔ 29 اگست کو انہوں نے فیڈرل بورڈ کو ایک اور درخواست دی جس میں کیمسٹری اور بائیولوجی کی کاپیاں چیک کرنے کیلئے کہا گیا ۔ دوسری درخواست کے ساتھ 600 روپے کی بینک رسید اور رزلٹ کارڈ [مارکس شیٹ] بھی منسلک کی ۔
درخواست فارم کی پشت پر واضح طور پر درج تھا کہ ”کسی بھی امتحان میں اُمیدوار کی جوابی کاپی کی کسی بھی صورت میں دوبارہ پڑتال نہیں کی جائے گی“۔ درخواست فارم پر مزید درج تھا کہ ”کاپیاں دوبارہ چیک کرنے کو ان کی دوبارہ پڑتال ہرگز نہ سمجھا جائے“۔ ان ہدایات سے یہ بھی واضح تھا کہ کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ میں صرف اس بات کا اطمینان کیا جائیگا کہ
1 ۔ جوابی کاپی کے ابتدائی صفحے پر مجموعی نمبروں میں کوئی غلطی نہیں
2۔ سوالات کے مختلف حصوں میں دیئے گئے نمبروں کو صحیح طریقے سے جمع کیا گیا ہے اور انہیں ہر سوال کے آخر میں صحیح طریقے سے لکھا گیا ہے
3 ۔ تمام کل نمبروں کو جوابی کاپی کے ابتدائی صفحے پر صحیح طریقے سے جمع کرکے تحریر کیا گیا ہے
4 ۔ جواب کا کوئی حصہ بغیر نمبروں کے نہیں رہ گیا
5 ۔ جوابی کاپی میں درج نمبر مارک شیٹ سے مطابقت رکھتے ہیں
6 ۔ امیدوار کی ہاتھ کی لکھائی جوابی کاپی جیسی ہی ہے ۔
اگلے ہی روز جب فرح حمید ڈوگر نے فیڈرل بورڈ میں ایک اور درخواست دائر کی تو اس وقت کے چیئرمین ریٹائرڈکموڈور محمد شریف شمشاد نے اپنی ہینڈ رائٹنگ میں فارم پر لکھا کہ ”میں ان کی کاپیاں بذات خود بھی دیکھنا چاہتا ہوں“۔ فائل پر ان کے ریمارکس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ذاتی طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ عام طور پر ری چکینگ کے معاملے جو ہزاروں کی تعداد میں بورڈ میں آتے ہیں ایف بی آئی ایس ای کا متعلقہ خفیہ ونگ نمٹتا ہے ۔
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ملک بھر میں ایک ہی وقت میں 30 انٹر میڈیٹ بورڈز نے ہزاروں طلبہ کا امتحان لیا 21 اضافی نمبروں کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک اقدام سے کم از کم مذکورہ طالبہ کو ایک لاکھ طلبہ پر فوقیت دی گئی لیکن چیف جسٹس کی صاحبزادی کے معاملے میں ان کے 6 پرچے ایف بی آئی ایس ای کے قواعد کے تحت ری چیکنگ کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے جس نے 30 اگست کو صرف ایک نمبر بائیولوجی کے مضمون میں دینے کی سفارش کی کیونکہ نمبر درست طور پر جمع نہیں کئے گئے تھے ۔ بائیولوجی کے ممتحن نے لکھا کہ ”ری چیک کرلیا ہے اور دیئے گئے نمبر سختی کے ساتھ مارکنگ اسکیم کے مطابق ہیں لیکن سوال نمبر چار میں صرف ایک نمبر کا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ نمبروں کو جمع کرنے میں غلطی ہوگئی تھی اور اب حاصل شدہ نمبر 13 میں سے 12 ہیں۔ لہٰذا اب مجموعی نمبر 70 ہیں“۔
مطالعہ پاکستان کے ممتحن نے لکھا کہ ”کاپی دوبارہ چیک کی گئی اور یہ پایا کہ دیئے گئے نمبر بالکل درست اور مارکنگ اسکیم کے مطابق ہیں ۔ مزید نمبر نہیں دیئے جاسکتے“۔ کیمسٹری کے ممتخن نے لکھا کہ ”کاپی دوبارہ چیک کی گئی اور یہ پایا کہ دیئے گئے نمبر بالکل درست اور مارکنگ اسکیم کے مطابق ہیں ۔ مزید نمبر نہیں دیئے جاسکتے“۔ تاہم دستاویزات اس بات کا انکشاف کرتے ہیں کہ 13 ستمبر کو انگلش کے پرچے کی پڑتال ایف جی کالج فار مین ایچ 9 اسلام آباد کے منیر حسین انجم نے کی اور امیدوار کی کاپی میں دیئے گئے نمبروں کو 58 سے بڑھا کر 67 کردیا ۔ اردو کی کاپی کی پڑتال ایف جی سرسید کالج راولپنڈی کے ڈاکٹر آلِ اظہر انیس نے کی اور 62 نمبروں کو 67 کردیا ۔ فزکس کا پرچہ کی پڑتال کرنے والے اعجاز احمد نے 32 نمبروں کو بڑھا کر 38 کردیا ۔ اس غیر معمولی پڑتال کے بعد فائل کو چیئرمین کی منظوری کیلئے ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا گیا ۔ چیئرمین سے سفارش کی گئی تھی کہ ” مذکورہ بالا تبدیلی کے باعث، نمبر بڑھ گئے ہیں اور نتیجے کی صورتحال پہلے کے 640 مجموعی نمبروں کی بجائے 661 نمبر ہوگی ۔ زیر غور نمبروں کا یہ معاملہ منظوری کیلئے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ہدایت کے مطابق موجودہ قواعد [وولیم 2] میں رعایت دیکر نمبر 640 سے بڑھا کر 661 کردیئے گئے ہیں“۔ 15 ستمبر کو چیئرمین نے اس کی منظوری دیدی جس کے بعد چیئرمین کی ہدایت پر اُمیدوار کو اسی دن تبدیل شدہ نمبروں کی مارک شیٹ جاری کردی گئی
اس وقت کے کنٹرولر منظور احمد سے جو ا بھی ایف بی آئی ایس ای میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور چیئرمین شمشاد کے تحت کام کر چکے ہیں نے تصدیق کی کہ چیئرمین نے فرح حمید ڈوگر کے پرچوں کی ازسرنو پڑتال کا حکم دیا تھا ۔ احمد نے یہ تصدیق بھی کی کہ قواعد ایسی کسی از سرنو پڑتال کی اجازت نہیں دیتے لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ مجاز حکام کے احکامات کی پیروی کی گئی ۔ ایک ذریعے کے مطابق قائم مقام ڈائریکٹر جاوید اقبال ڈوگر نے اس معاملے میں سہولت بہم پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ اگرچہ ڈوگر کا دعوی تھا کہ وہ اس معاملے کے متعلق کچھ نہیں جانتے لیکن ایک بہت قابل بھروسہ ذریعے نے بتایا کہ وہ کچھ اعلی عدالتی حکام اور اس وقت کے چیئرمین ایف بی آئی ایس ای کے مابین رابطہ کار رہا ہے اور انہیں اسلام آباد میں کچھ اہم جگہوں پر لے کر گیا ہے ۔ رابطہ کرنے پر بورڈ کے اس وقت کے ڈپٹی کنٹرولر طارق پرویز نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ قواعد میں کاپیوں کی دوبارہ پڑتال کی اجازت نہیں البتہ فرح حمید ڈوگر کے معاملے میں فیڈرل بورڈ کے چیئرمین کے فیصلے کے تحت ایسا کیا گیا تھا۔ فرح ڈوگر کے نمبروں میں اضافہ کرنے والے ممتحنوں میں سے ڈاکٹر آلِ اظہر انیس نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بورڈ کے کہنے پر اردو کے پرچے کی از سرنو پڑتال کی تھی اور اس کیلئے بورڈ کے چیئرمین نے تحریری طور حکم جاری کیا تھا۔
منافق کی پہچان
منافق بڑے پُر اعتماد طریقہ سے جھوٹ بولتا ہے ۔ اس طرح کہ اُسے اچھی طرح نہ جاننے والا اگر سب نہیں تو اُس کی بہت سی باتوں پر یقین کر لیتا ہے ۔
منافق پر جب مکمل بھروسہ کر لیا جائے تو وہ دغا دے جاتا ہے
اگر اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے یا اُسے روپیہ یا کوئی اور چیز مستعار دی جائے تو واپس نہیں کرتا یا واپس کرنے میں بلاجواز لیت و لعل کرتا ہے
لڑائی جھگڑے میں سب آداب بھول جاتا ہے ۔ توہین آمیز رویّہ اختیار کرتا ہے یا شیطانیت پہ اُتر آتا ہے