Category Archives: روز و شب

کیسی دنیا

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
تیری دنیا میں ایسا کیوں ہے ؟
پیسے والے ہیں سارے عقلمند
میرے جیسے بیوقوف کیوں ہیں ؟

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
امیروں کا ایسا خیال کیوں ہے ؟
کہ وہ سب تو ہیں پڑھے لکھے
ہر میرے جیسا اَن پڑھ کیوں ہے ؟

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
یہاں ایسی باتیں کیوں ہوتی ہیں ؟
میں نہ بنوا سکا ایک بھی مکان
ساتھیوں کی ہے ہر شہر میں کوٹھی

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
دنیا میں یہ کیسی جمہوریت ہے ؟
ملک کے لئے غریب جانیں گنوائیں
امیروں کبیروں کو کرسی سے اُلفت ہے

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
جمہور پر ٹیکس سے خزانہ بھرتے ہیں
پر جمہور کیلئے بس محنت کی  سوکھی روٹی
وزیروں مشیروں کے لئے ہر شے مُفت ہے

نوکری ۔ جنگلی پودا جب درخت بن جائے

نوکری ۔ چاکری یا ملازمت ۔ کچھ کہہ لیجئے ۔ ویسے آجکل رواج جاب [job] کہنے کا ہے ۔ ملازمت نجی ادارے کی ہو یا سرکاری محکمہ کی اس کے کچھ اصول و قوانین ہوتے ہیں جن کی پاسداری ہر ملازم کا فرض ہوتا ہے ۔ دورِ حاضر میں ہماری قوم کی خواری کی بنیادی وجہ ادارے کے قوانین کی بجائے حاکم کی ذاتی خواہشات کی تابعداری ہے جس کی پنیری 1973ء میں لگائی گئی تھی اور اب یہ جنگلی پودا تناور درخت بن چُکا ہے

میں نے جب 1962ء میں ملازمت اختیار کی تو سرکاری ملازمین پر 1955ء میں شائع کئے گئے اصول و ضوابطِ ملازمت کا اطلاق ہوتا تھا ۔ اس میں قائداعظم کی 25 مارچ 1948ء کو اعلٰی سرکاری عہدیداروں کو دی گئی ہدایات پر مبنی اہم اصول یا قوانین مندرجہ ذیل تھے

(الف) ۔ ہر عہدیدار قوم کا حاکم نہیں بلکہ خادم ہے ۔ حکومت کا وفادار رہے گا اور اس سلسلہ میں دوسرے عہدیداران سے تعاون کرے گا
(ب) ۔ تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوسرے عہدیدار کے ہر عمل میں تعاون کرےگا یا اپنے اعلٰی عہدیدار کے ہر حُکم کو مانے گا بلکہ اگر دوسرا عہدیدار کوئی کام مروجہ قانون کے خلاف کرے یا اعلٰی عہدیدار کوئی ایسا حُکم دے جو قانون کے مطابق نہ ہو تو ان سے عدمِ تعاون وفاداری اور تعاون ہو گا
(ج) ۔ اوسط کارکردگی ہی مطلوب ہے ۔ اس سے اُوپر اور نیچے معدودے چند ہوتے ہیں جن کی طلب نہیں ہے
(د) ۔ ترقی کیلئے کارکردگی کی سالانہ رپورٹ (Annual Confidential Report)کے تمام حصوں کو برابر التفات (consideration/ weightage) دی جائے
(قارئین کی سہولت کیلئے قائداعظم کے متذکرہ خطاب کا متن اس تحریر کے آخر میں بھی نقل کیا گیا ہے

زمیندار ۔کاشتکار ۔ باغبان اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے باغیچے بنا رکھے ہیں جانتے ہیں کہ اگر ایک جنگلی پودہ اُگ جائے اور اسے نکالا نہ جائے اور وہ بڑھتے بڑھتے درخت بن جائے تو پھر اسے تلف کرنا اگر ناممکن نہیں تو نہائت مُشکل ضرور ہو جاتا ہے ۔ اگر اس درخت کو کاٹ دیا جائے تو زیرِزمین اس کی جڑیں پھیلی ہونے کی وجہ سے کئی جگہ سے وہ پھوٹ پڑتا ہے اور ایک کے کئی درخت بن جاتے ہیں ۔ ہمارے مُلک میں اب یہی حالت ہو چکی ہے

ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے 1973ء میں وضع کردہ انتظامی اصلاحات [Administrative Reforms] کے نفاذسے 1955ء کے سرکاری ملازمت کے قوانین کلعدم ہو گئے ۔ گو نئے قوانین کی روح بھی وہی ہے کہ سرکاری عہدیدار قوانین کے مطابق کام کرے گا لیکن اس کی تشریح اُس طرح نہیں کی گئی جس طرح 1955ء کے قوانین میں موجود تھی ۔ بالخصوص ترقی کیلئے جو اصول اُوپر (ج) کے تحت درج ہے کی بجائے کر دیا گیا
Below everage, Average, above Average, Good, Very Good, Exellant
اور ان کے نمبر رکھ دیئے گئے ۔ ترقی کیلئے جو نمبر رکھے گئے اُن کے مطابق اوسط (Average) رپورٹ پانے والا ترقی نہیں پا سکتا تھا ۔ اور ستم ظریفی یہ کہ متعلقہ افسر کو پرانے قوانین کے مطابق صرف Below Average رپورٹ کی اطلاع دی جاتی تھی چنانچہ افسر کو اپنی نااہلی کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب اُس کے جونیئر ترقی پا جاتے ہیں اور وہ بیٹھا رہ جاتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ ستم بھی کہ بی پی ایس 19 کا افسر اگر 3 اوسط رپورٹیں پا لے تو وہ مستقبل میں گُڈ (Good) رپورٹیں لے کر بھی ترقی نہیں پا سکتا

(د) کے تحت لکھا گیا کی بجائے کر دیا گیا کہ
Grading and recommendation in the Fitness column given by the reporting officer shall be final

سرکاری عہدیداروں کی مُلک کے قوانین کی بجائے بڑے صاحب یا اس وقت کے حُکمران کی خوشنودی حاصل کرنے کا عمل شروع ہونے کی دوسری بڑی وجہ مُلکی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغلی داخلہ (Lateral Entry) کے ذریعہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور دوسرے منظورِ نظر لوگوں کی سینکڑوں کی تعداد میں اعلٰی عہدوں پر بھرتی بھی ہے جو ذولفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں کی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے جیالے وکیل ضلعی اور اعلٰی عدالتوں میں بھی جج بنائے گئے ۔ ان عہدیداروں اور ججوں میں سے کوئی دس فیصد ہوں گے جو متعلقہ عہدوں کے قابل ہو سکتے تھے باقی سب نااہل تھے ۔ ان لوگوں نے حکومتی مشینری اور عدلیہ کو ہر جابر حکمران کے ہاتھ کا کلپرزہ بنا دیا

متذکرہ بغلی داخلہ کے ذریعہ سے وفاقی حکومت میں بھرتی کئے گئے درجنوں ڈپٹی سیکریٹریوں اور جائینٹ سیکریٹریوں سے میرا واسطہ پڑا ۔ ان میں سے صرف ایک ڈپٹی سیکریٹری کو اپنے عہدے کے قابل پایا ۔ ایک ایسے ڈپٹی سیکریٹری سے بھی واسطہ پڑا جس سے ہر شخص نالاں تھا ۔ اُسے نہ بولنے کی تمیز تھی نہ کسی اور اداب کی ۔ ماتحتوں کو گالیاں بھی دیتا تھا ۔ نہ انگریزی درست بول یا لکھ سکتا نہ اُردو ۔ اُس کے پاس بی اے ایل ایل بی کی سند تو تھی لیکن کسی قانون کا اُسے علم نہ تھا ۔ ڈپٹی سیکریٹری بنائے جانے سے پہلے وہ فیصل آباد کے کسی محلہ میں پیپلز پارٹی کا آفس سیکریٹری تھا

میری قوم کب جاگے گی یا رب ۔ میرے مولٰی ۔ جھنجھوڑ دے میری قوم کو کہ وہ جاگ اُٹھے اور اپنی بھلائی کیلئے جدوجہد کرے

DO YOUR DUTY AS SERVANTS ADVICE TO OFFICERS
Address to the Gazetted Officers of Chittagong on 25th March, 1948

I thank you for giving me this opportunity to see you collectively. My time is very limited and so it was not possible for me to see you individually. I have told you two things: I have already said what I had to say to the Gazette Officers at Dhaka. I hope you should read an account of what I said there in the newspapers. If you have not I would request you to take the trouble of reading what I said there. One cannot say something new everyday. I have been making so many speeches and I expect each one of you to know my views by now.

Ladies and Gentlemen, I want you to realize fully the deep implications of the revolutionary change that has taken place. Whatever community, caste or creed you belong to you are now the servants of Pakistan. Servants can only do their duties and discharge their responsibilities by serving. Those days have gone when the country was ruled by the bureaucracy. It is people’s Government, responsible to the people more or less on democratic lines and parliamentary practices. Under these fundamental changes I would put before you two or three points for your consideration:

You have to do your duty as servants; you are not concerned with this political or that political party; that is not your business. It is a business of politicians to fight out their case under the present constitution or the future constitution that may be ultimately framed. You, therefore, have nothing to do with this party or that party. You are civil servants. Whichever gets the majority will form the Government and your duty is to serve that Government for the time being as servants not as politicians. How will you do that? The Government in power for the time being must also realize and understand their responsibilities that you are not to be used for this party or that. I know we are saddled with old legacy, old mentality, old psychology and it haunts our footsteps, but it is up to you now to act as true servants of the people even at the risk of any Minister or Ministry trying to interfere with you in the discharge of your duties as civil servants. I hope it will not be so but even if some of you have to suffer as a victim. I hope it will not happen –I expect you to do so readily. We shall of course see that there is security for you and safeguards to you. If we find that is in anyway prejudicial to your interest we shall find ways and means of giving you that security. Of course you must be loyal to the Government that is in power.

The second point is that of your conduct and dealings with the people in various Departments, in which you may be: wipe off that past reputation; you are not rulers. You do not belong to the ruling class; you belong to the servants. Make the people feel that you are their servants and friends, maintain the highest standard of honor, integrity, justice and fair-play. If you do that, people will have confidence and trust in you and will look upon you as friends and well wishers. I do not want to condemn everything of the past, there were men who did their duties according to their lights in the service in which they were placed. As administrator they did do justice in many cases but they did not feel that justice was done to them because there was an order of superiority and they were held at a distance and they did not feel the warmth but they felt a freezing atmosphere when they had to do anything with the officials. Now that freezing atmosphere must go and you must do your best with all courtesy and kindness and try to understand the people. May be sometimes you will find that it is trying and provoking when a man goes on talking and repeating a thing over and over again, but have patience and show patience and make them feel that justice has been done to them.

Next thing that I would like to impress upon you is this: I keep or getting representations and memorials containing grievances of the people of all sorts of things. May be there is no justification, may be there is no foundation for that, may be that they are under wrong impression and may be they are misled but in all such cases I have followed one practice for many years which is this: Whether I agree with anyone or not, whether I think that he has any imaginary grievances whether I think that he does not understand but I always show patience. If you will also do the same in your dealings with an individual or any association or any organization you will ultimately stand to gain. Let not people leave you with this bearing that you hate, that you are offensive, that you have insulted or that you are rude to them. Not one per cent who comes in contact with you should be left in that state of mind. You may not be able to agree with him but do not let him go with this feeling that you are offensive or that you are discourteous. If you will follow that rule believe me you will win the respect of the people.

With these observations I conclude what I had to say. I thank you very much indeed that you have given me this opportunity to say these few words to you and if you find anything good in it follow, if you do not find anything good in it do not follow.

Thank you very much.

Pakistan Zindabad

ٹیلیفون کس کا؟

کل اسلام آباد میں یہ سوال انتہائی اعلٰی سطح پر پوچھا جا رہا تھا اور قیافہ آرائی کا بازار گرم تھا

“وہ ٹیلیفون کس کا تھا ؟ ”

بدھ 25 فروری کو گورنر راج نافذ کر کے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نہ صرف تالے لگا دیئے گئے تھے بلکہ اس کے اردگرد پولیس اور رینجرز تعینات کر دیئے گئے تھے ۔ کل سہ پہر واشنگٹن سے کسی نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا ۔ اُس کے بعد چند منٹوں کے اندر پنجاب اسمبلی کی عمارت کو کھول دیا گیا اور اور اسمبلی کے اسپیکر جنہوں نے کل بھی اسمبلی کی عمارت سے باہر زمین پر بیٹھ کر اجلاس کیا تھا اُن کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی

کوئی کہتا ہے کہ یہ ٹیلیفون کسی امریکی اہلکار کا تھا لیکن زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیلیفون پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کا تھا جو آج کل امریکہ میں ہیں ۔ اگر کوئی قاری حقیقت سے واقف ہے تو واضاحت کرے

جذبہ عشق

سُنا تھا
جذبہ عشق ہو باقی تو کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے ۔
یہ صرف لڑکا لڑکی کے درمیان جو وقتی اُبال ہوتا ہے وہ بات نہیں ہے بلکہ انسان کسی بھی کام کو خلوصِ نیّت سے کرنے لگے تو راستے کھُلتے چلے جاتے ہیں ۔
میں نے کل “چور چوری سے جائے” کے تحت ایک سکول کا ذکر کیا تھا ۔ یہ واقعہ میں نے کسی تیسرے شخص سے سُنا تھا ۔ اتفاق سے اس سکول کے متعلقہ ایک شخص سے گذشتہ شام ملاقات ہو گئی ۔ علیک سلیک اور حال احوال کے بعد میں نے پوچھا “وہ سکول کا کیا قصہ ہے ؟” جو اُنہوں نے بتایا اُس کا خلاصہ یہ ہے

“اس سکول کی مالکہ بینظیر بھٹو کی سہیلی تھیں ۔ اس کی درخواست پر بینظیر بھٹو نے ان کے سکول کیلئے متذکرہ گرین بیلٹ میں سے زمین تحفہ کے طور دلوا دی یعنی سرکاری قیمت پر ۔ زرداری نے نئے چیئرمین سی ڈی اے کو ٹارگٹ دیا ہے کہ دو ارب روپیہ مہیا کرے ۔ چنانچہ متذکرہ سکول سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمین کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لگا کر بقایا رقم ادا کریں جو کہ شاید ڈھائی کروڑ روپیہ فی کنال بنتی ہے ۔ اگر زمین 20 کنال ہے تو سکول والوں کو 50 کروڑ روپیہ ادا کرنا ہو گا “

وضاحت

میں نے کل کچھ اُونچی باتیں اور خبریں لکھی تھیں جن کے متعلق استفسار ہوا ۔ ایسی سینہ بسینہ چلنے والی باتوں کا ثبوت دینا مشکل ہوتا ہے ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ بات آگے پہنچانے سے پہلے خبربرداروں کو پرکھ لوں کہ کتنے عام زندگی میں کتنے سچے ہیں ۔ بہرحال ان باتوں کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے

ایک ۔ اب دنیا نیوز ٹی وی چینل پر بھی نشر ہو چکی ہے
دو ۔ تین اور چار ۔ اخبار دی نیوز میں شائع ہو گئی ہیں
پانچ ۔ یہ آئینی صورتِ حال ہے ۔ جو کچھ گورنر اور صدر نے پنجاب کے بارے میں کیا ہے سب غیر آئینی ہے ۔ ایک پرانی مثال ہے کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو سندھ میں حالات خراب ہونے پر گورنر راج نافذ کیا گیا تو صوبائی اسمبلی کے سپیکر مستعفی ہو گئے ۔ مرکزی حکومت نے اسمبلی کا کام جاری رکھنے کیلئے رولز آف بزنس تبدیل کر کے ڈپٹی سپیکر کو اسمبلی چلانے کو کہا ۔ اس کے خلاف رِٹ پیٹیشن دائر کی گئی ۔ عدالتِ عالیہ نے فیصلہ دیا کہ آئین کے مطابق رولز آف بزنس اور دوسرے صوبائی کام صوبائی اسمبلی یا اس کی نمائندہ کابینہ یا وزیر اعلٰی اور اگر یہ نہ ہوں تو پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ مل کر چلا سکتے ہیں ۔ چنانچہ مرکزی حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا ۔
چھ ۔ یہ تو اب تمام ٹی وی چینلز سے نشر ہو چکا ہے اور اخبارات میں چھپ چکا ہے

چورچوری سےجائے

محاورہ ہے ۔ ۔ ۔ چور چوری سے جائے پر ہیراپھیری سے نہ جائے ۔ ۔ ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ چور نہ چوری چھوڑتا ہے اور نہ ہیراپھیری ۔ دو دہائیاں پیچھے ایک چور نے جو کہ توبہ تائب ہو چکا تھا میرے سامنے کچھ اس طرح اعتراف کیا “مجھے بچپن سے چوری کی عادت پڑ گئی ۔ گرفتاری کے بعد جیل میں ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی جس نے مجھے سمجھایا اور میں نے چوری سے توبہ کر لی ۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی مجھے کیا ہو جاتا ہے جب کوئی قیمتی یا خوبصورت چیز مجھے نظر آتی ہے میں اُسے چُرانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کبھی کبھی اُٹھا کر چھُپا بھی لیتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ کیا کر رہا ہوں تو واپس رکھ دیتا ہوں”۔ البتہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی قادر و کریم ہے کسی پتھر دِل میں اپنا خوف ڈال دے تو وہ پانی ہو جائے

بینظیر بھٹو کا دوسرا دور تھا ۔ میں اسلام آباد میں ایک قومی اعلٰی سطح کے اجلاس میں شریک تھا ۔ چائے کے وقفہ میں سندھ سے آئے ہوئے ایک اعلٰی عہدیدار جو خالص سندھی تھے سے میں نے تفصیلی حال احوال پوچھا تو میرے قریب ہو کر جواب دیا “بھائی ۔ ایسی باتیں سرِ عام نہ پوچھا کریں”۔ یہ کہہ کر وہ صاحب اپنی چائے لے کر دور ایک چھوٹی میز پر جا بیٹھے ۔ لمحہ بعد میں نے بھی اپنی چائے کی پیالی اُٹھائی اور اُن کے پاس جا بیٹھا اور پوچھا “ہاں جناب ۔ پھر کیا حال ہے ؟ سُنا ہے کہ آپ نے کراچی جِمخانہ کی زمین بھی لے لی ہے”۔ جواب ملا “بھائی کیا پوچھتے ہو ۔ اب تو کراچی میں شاید کوئی پولٹری فارم بھی نہیں رہا جس میں مردِ اوّل کا حصہ نہ ہو”۔ میں نے کہا “تو ٹَین پرسَینٹ [ten per cent] کو ٹوَینٹی یا تھرٹی پرسَینٹ [twenty or thirty percent] کرنا پڑے گا؟” جواب ملا “یہ کچھ سال رہ گیا تو ڈر ہے کہ ہنڈرڈ پرسَینٹ [hundred per cent] نہ ہو جائے ۔ ہمارا کیا بنے گا؟”۔ میرے ساتھ گفتگو کرنے والے پیپلز پارٹی کے خاص آدمیوں میں شمار ہوتے تھے

یہ تو ہے تاریخ ۔ اب کچھ تازہ بتازہ

عوام آج تک نہیں سمجھ پائے کہ 20 ستمبر 2008ء کو کس نے میریئٹ ہوٹل[Marriat Hotel] اسلام آباد کو تباہ کرنے کی سازش کی اور اتنے ہائی سکیورٹی زون میں تین چیک پوسٹیں عبور کرتا ہوا بارود سے بھرا ٹرک کیسے میریئٹ ہوٹل تک پہنچ گیا ؟ اسلام آباد کے اعلٰی دائرے میں چلیں جائیں تو اس سلسلہ میں سب مطمئن نظر آئیں گے ۔ میں نے چند روز قبل لکھا تھا کہ ہمارے لوگوں کو کل کی بات یاد نہیں رہتی ۔ آصف زرداری کے مُلک میں واپس آ نے کے بعد ایک خبر اخبار میں چھپی تھی کہ میریئٹ ہوٹل اسلام آباد زرداری نے خرید لیا ہے ۔ ہوا یہ تھا کہ زرداری نے صدرالدین ہاشوانی سے ہوٹل مانگا تھا لیکن اُس نے دینے سے انکار کر دیا ۔ جس کی سزا اُسے 20 ستمبر 2008ء کو دی گئی

اسلام آباد کے سیکٹر ایف ۔ 11/3 اور سیکٹر ای ۔ 11 کے درمیان گرین ایریا پر ایک سکول ہے ۔ یہ سکول بنانے کیلئے زمین کا ٹکڑا بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں سکول کے مالکوں کو تحفہ کے طور پر دیا تھا یعنی رعائتی قیمت پر ۔ حال ہی میں مِسٹر ٹَین پرسَینٹ کے آدمی نے سکول کے مالکوں سے کہا کہ اس زمین کی مارکیٹ ویلیو [maket value] اتنی بنتی ہے اسلئے اس حساب سے بقایا جات کی ہمیں ادائیگی کی جائے ۔ کوئی جواب نہ ملنے پر سکول کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور مالکوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں

بزنس بزنس ہوتا ہے [business is business] اور بزنس مین [bsinessman] جہاں بھی بیٹھ جائے بزنس ہی کرتا ہے ۔ اس کی دو مثالیں میاں نواز شریف نے اپنی شیخو پورہ کی تقریر میں پیش کیں ۔ صدر آصف زرداری سے نواز شریف کی آخری ملاقات میں زرداری نے کہا تھا “آپ پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے اقدامات کی توثیق کر دیں تو میں آپ کی بات مان لیتا ہوں “۔ اس کے بعد جب صدر نے وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو کھانے پر بُلایا تھا تو اُسے کہا “میرے ساتھ بزنس ڈِیل کرو ۔ آپ عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آئینی ترمیم میں میری مدد کریں اور میں آپ کے نااہلی کے مقدمات کا فیصلہ آپ کے حق میں کروا دیتا ہوں”

اللہ ہمیں ہر بُرائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے

کچھ اُونچی باتیں اور خبریں

ایک ۔ 24 فروری کو مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر امریکی حکومت کو آگاہ کیا کہ کل یعنی 25 فروری کو نواز شریف اور شہباز شریف کو نااہل قرار دیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ آقا سے آشیرباد ملنے کے بعد یہ قدم اُٹھایا گیا

دو ۔ 25 فروری کی دوپہر جب ابھی شریف برادران کی نااہلی کے فیصلے کا اعلان نہیں ہوا تھا مسلم لیگ ق کی ایک عہدیدار نوشین سعید سفما کے ظہرانے میں شریک تھی کہ اسکے موبائل فون پر پیغام آیا کہ شریف برادران کو نااہل قرار دے کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا جا رہا ۔ اس پر وہ ششدر رہ گئی

تین ۔ 25 فروری کو عدالت سے شریف برادران کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صدر زرداری کے پاس گئے تو اُن کا خیال تھا کہ صدر زرداری مسلم لیگ ن کو پنجاب میں دوبارہ حکومت بنانے کا کہیں گے ۔ اس کے برعکس اُن کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی خبر دی گئی جس سے وہ پریشان ہوئے

چار ۔ 26 فروری کو زرداری کے مشیروں نے ذرائع ابلاغ پر پابندی لگانے کا مشورہ دیا تاکہ وہ ملک میں ہونے والے احتجاج کو نہ ٹی وی پر دکھائیں اور نہ اخباروں میں اس کی تفصیل لکھیں ۔ اس کا جب وزیر اطلاعت شیری رحمان کو علم ہوا تو اُس نے کہا کہ “محترمہ بینظیر بھٹو نے مرنے سے قبل آزاد ذرائع ابلاغ کا وعدہ کیا تھا ۔ اسلئے اگر پابندی لگائی گئی تو میں وزارت سے مستعفی ہو جاؤں گی”

پانچ ۔ گورنر پنجاب نے جو رولز آف بزنس میں تبدیلی کی ہے آئین کے مطابق یہ صوبائی اسمبلی کا کام ہے جو صوبائی کابینہ یا وزیر اعلٰی سرانجام دیتا ہے اور اُن کی عدم موجودگی میں مُلک کی پارلیمنٹ یہ کام کرتی ہے ۔ چنانچہ رولز آف بزنس میں تبدیلی اور جو بے شمار اعلٰی عہدیداروں کو تبدیل کیا گیا ہے یا او ایس ڈی بنایا گیا اور جو نئے عہدیدار تعینات کئے گئے ہیں یہ سب آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے

چھ ۔ آج رائے وِنڈ میں پنجاب مسلم لیگ ن کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس میں مسلم لیگ ن کے علاوہ مسلم لیگ ق کے 33 ارکان پنجاب اسمبلی نے شرکت کی ۔ مسلم لیگ ق کے ایک رکن پنجاب اسمبلی جو اس وقت بلوچستان میں ہیں نے موبائل فون کے ذریعہ مسلم لیگ ن کو اپنی حمائت کا یقین دلایا ۔ مسلم لیگ ق کے ایک رکن پنجاب اسمبلی جو اس وقت ملک سے باہر ہیں ایک دو دن میں واپس پہنچ رہے ہیں ۔ ان کے متعلق بھی کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حمائت کریں گے ۔ مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں 170 ارکان ہیں اور حکومت بنانے کیلئے اُنہیں مزید صرف 16 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ مسلم لیگ ق کے 35 اور دوسرے 7 ارکان اُن کے ساتھ ہیں جو کُل 212 بنتے ہیں ۔ اگر باقی تمام ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل بھی جائیں تو کل 157 بنتے ہیں ۔ چنانچہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ۔ اسلئے ہو سکتا ہے کہ گورنر راج کو غیر آئینی طریقہ سے طول دیا جائے