Category Archives: روز و شب

بقیہ ۔ بنیادی مجرم کون ؟

ہند کے مسلمانوں کی اکثریت کسی کا بھی غلام بننے پر نفسیاتی طور پر تیار ہو چکی تھی کہ مولانا الطاف حسین حالی کو فکر ہوئی اور اُنہوں نے عرضداشت شروع کی ۔ مسلمانوں نے انگڑائی لی مگر جاگ نہ پائے ۔ پھر مولانا شوکت علی نے یہ جھنڈا اُٹھایا جس کے بعد اُن کے چھوٹے بھائی محمد علی جوہر اور فرزندِ سیالکوٹ محمد اقبال نے اپنے خطوط ۔ تقاریر اور کردار سے قوم کو جاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اُن دونوں نے ہند میں کانگرس کی سیاست سے تنگ آ کر برطانیہ واپس گئے ہوئے محمد علی جناح کو قائل کیا کہ آپ کی ہند کے مسلمانوں کو ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور اپنی بے لوث انتھک محنت سے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی

پاکستان بنا تو سب پاکستانی سینہ تان کر چلتے ۔ اپنے مُلک پر فخر کرتے اور اس کی ترقی کیلئے محنت سے کام کرتے تھے ۔ اِن میں مقامی بھی شامل تھے اور وہ بھی جو اپنا گھربار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے ۔ قائداعظم کی وفات کا قوم کو جھٹکا تو لگا مگر محنت اور حُب الوطنی میں فرق نہ آیا ۔ پھر پہلے وزیرِاعظم کے قتل کے بعد قوم ابھی سنبھل نہ پائی تھی کہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی منتخب کردہ اسمبلی غلام محمد نے توڑ دی ۔ غلام محمد اور اس کے بعد سکندر مرزا کے پُتلی تماشہ سے تنگ آ کر 1958ء میں ایک پختون عبدالقیوم خان نے قوم کو پکارا ۔ سوجھ رکھنے والے اہلِ وطن نے لبیک کہا اور عبدالقیوم خان نے پشاور سے لاہور تک 6 میل لمبا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پشاور سے جلوس روانہ ہوا اور جہلم پہنچنے سے پہلے ہی 20 میل سے زائد لمبا ہو گیا ۔ سکندر مرزا گھبراگیا اور مارشل لاء لگا دیا

اس مارشل لاء کے دوران معاشی حالات 1965ء کے آخر تک ٹھیک رہے ۔ لوگوں کو آسانی سے دو وقت کی روٹی ملنے لگی ۔ پیٹ بھر گئے تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جگڑنے لگے ۔ آپریشن جبرالٹر کی غلط معلومات پر مبنی تشہیر نے عوام میں غلط جذبات کو جنم دیا اور ناکامی کے نتیجہ میں لوگ حکومت پر اعتماد کھو بیٹھے اور چینی کی قیمت میں 9 فیصد اضافے کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے ۔ مارشل لاء پھر آ گیا

عوامی دور آیا اور پرچی ایجاد ہوئی اور معاملہ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” تک پہنچ گیا ۔ صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے اور وہاں حُکمران جماعت کے کارکنوں کی بھرتی کے نتیجہ میں صنعتکار اپنا پیسہ مُلک سے باہر لے گئے اور عوام روزگار کی تلاش میں مُلک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ دساور سے کمایا پیسہ معیشت کیلئے بہت کم استعمال ہوا ۔ زیادہ تر فضولیات میں اُڑا دیا گیا جن میں وی سی آر ۔ میوزک ڈیک اور دوسری دکھاوے کی اشیاء کے علاوہ شادی کی کئی کئی دن بڑی بڑی دعوتیں شامل ہیں ۔ کچھ لوگ امیر اور مُلک غریب ہو گیا ۔ 1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کو گولی کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی ۔ دو تین روز کی کاروائی کے بعد لاہور پولیس کی حُب الوطنی جاگ اُٹھی اور اُس نے کاروائی سے انکار کیا ۔ فوج بلائی گئی جس کی صرف ایک کاروائی کے بعد کاروائی کے سربراہ بریگیڈیئر نے کور کمانڈر کے سامنے اپنے بِلے اور پیٹی رکھتے ہوئے کہا “میں اپنے بھائیوں کی حفاظت کیلئے بھرتی ہوا تھا ۔ اُن کے قتل کیلئے نہیں”
دوسرے شہریوں کو دیکھتے ہوئے فوجیوں نے بھی مال بنانا شروع کیا اور وہ منہ زور ہو گئے ۔ عدالتوں کو لیٹرل اَینٹری [lateral entry] کی کھاد پہلے ہی پڑ چکی تھی ۔ معاشرے کی درستگی کرنے والے ناپید ہو گئے ۔ سیاستدانوں کے جھوٹے نعروں اور دوغلے کردار نے “سونے پر سہاگہ” یا زیادہ موزوں ہو گا ” ایک کریلہ دوسرے نیم چڑھا” کا کام کیا ۔ پھر ایک ڈکٹیٹر نے نہ صرف قوم کے فرزندوں کے خون سے ہاتھ رنگے بلکہ سینکڑوں کو ڈالروں کے عِوض بیچ دیا ۔ لوٹ مار اتنی بڑھی کہ سمجھ سے باہر ہو گئی

قوم کو بھُلانا نہیں چاہیئے تھا خان عبدالقیوم خان کو جس نے اپنے وقت کے ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اُٹھائی اور قید و بند جھیلی ۔ لاہور کے اُن تھانیدار اور بریگیڈیئر کو جنہوں نے اپنی قوم پر گولی چلانے کی بجائے ملازمت سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی ۔ مگر قوم کی کوتاہ اندیش اکثریت نے صرف اتنا خیال رکھا کہ مال کتنا اور اکٹھا کرنا ہے ۔ قوم غلط راہ پر آگے بڑھتی گئی اور قومی جذبہ اور احساسِ زیاں کھو بیٹھی ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ملک کے وزیرِاعظم کو جبری ہٹا دیا گیا لیکن قوم سوئی رہی

دین سے بیگانہ قوم نے جاہلانہ رسم و رواج میں گُم ہو کر اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں میں کیڑے نکالنا شغف اپنایا اور نتیجہ میں ہونے والی اپنی بربادی کا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا ۔ کچھ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے والے اور آگے بڑھے اور قائداعظم میں کیڑے نکانے شروع کئے اور اپنے ہاتھوں تیار کردہ جہنم کو دین کی قباحت قرار دیا ۔ چار دہائیاں قبل بے معنی مباحث کی جگہ حجام کی دُکان ہوا کرتی تھی ۔ قوم پٹڑی سے اُتر گئی اور ہر محفل لاحاصل مباحث کا مرکز بن گئی ۔ دین اور مُلک کے آئین و قانون کی خلاف ورزی روز کا معمول بن گئی ۔ یہ کسی قوم کے زوال کی آخری نشانی ہوتی ہے

حکومت نے اُس علاقہ میں جہاں کبھی بھی مُلک کا آئین نافذ نہیں کیا گیا تھا امن قائم کرنے کیلئے 15 سال پرانا عدل ریگولیشن نافذ کرنے کی منظوری دی تو 1500 کلو میٹر دُور بیٹھے لوگوں نے طوفان مچا دیا ۔ ریاست کے اندر ریاست کا شور مچانے والے اتنا بھی نہیں جانتے کہ اُن کے پسندیدہ مُلک امریکہ میں مختلف علاقوں کے قوانین مختلف ہیں جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم جنس پرستی جو اُن کے مذہب کے مطابق بھی گناہِ کبیرہ ہے وہ کسی علاقہ میں جُرم ہے اور کسی میں قانون کے عین مطابق

اگر ہماری قوم کی اکثریت سرد مہری ۔ بے حِسی یا بیوقوفانہ خودغرضی کا شکار نہ ہوتی تو کوئی ڈکٹیٹر مُلک پر قبضہ نہیں کر سکتا تھا اور نہ کوئی مُلک خواہ امریکا ہی ہو ہمارے مُلک میں مداخلت تو کیا اس کی طرف بُری آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اسی سرد مہری ۔ بے حِسی اور خودغرضی کی وجہ سے ہماری قوم نے مشرقی پاکستان گنوایا تھا اور باقی کو اس حال میں پہنچایا جہاں آج ہے ۔

ریاستہائے متحدہ امریکا کے بانیوں میں سے ایک بنجامِن فرینکلِن [Benjamin Franklin] سے 1787ء میں کسی نے پوچھا “آپ نے ہمیں کیا دیا ہے؟” اُس نے جواب دیا “جمہوریت ۔ اگر آپ لوگ اسے سنبھال سکیں” ۔ ہماری قوم کو قائداعظم نے ایک مُلک اور جمہوریت زبردست سیاسی قوت کے ساتھ دی تھی ۔ آدھی صدی میں ہم نے اُس کا جو حال کر دیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ جمہوریت مضبوط اداروں کی بنا پر ہوتی ہے اور اداروں کو فعال رکھنے کیلئے مسلسل جد و جہد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر گھر یا دفتر میں بیٹھے اداروں کی صحت کی سند جاری کر دی جائے تو ادارے انحطاط کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کے اصل محافظ عوام ہوتے ہیں ۔ ایک فرانسیسی مفکّر [Montesquieu] نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں کہا تھا ” بادشاہت میں ایک شہزادے کا ظُلم و تشدد عوامی بہبود کیلئے اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا جمہوریت میں ایک شہری کی سرد مہری

مئی 2006ء میں ایک نوجوان سیّد عدنان کاکا خیل اُٹھا اور اسلام آباد کے کنوینشن سینٹر میں مُلک کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو آئینہ دکھا دیا ۔ فروری 2007ء میں اس کی وڈیو کی سی ڈی راولپنڈی بار میں پہنچی اور وکلاء نے بار بار دیکھی ۔ مارچ 2007ء میں پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو راولپنڈی کے وکلاء کی حُب الوطنی جاگ چکی تھی چنانچہ وکلاء کی تحریک شروع ہوئی جو دو سال زندہ رکھی گئی

قوم کو مرہونِ منت ہونا چاہیئے سیّد عدنان کاکا خیل کا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کا جس نے ایک باوردی ڈکٹیٹر کے سامنے جھُکنے سے انکار کیا اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں اور اُن وکلاء کا جنہوں نے اپنی روزی پر لات مار کر ۔ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک عمدہ تحریک چلائی ۔ قوم کو شکرگذار ہونا چاہیئے اُن درجنوں بوڑھوں کا اور سینکڑوں جوانوں کا جنہوں نے تمام پابندیوں کو توڑ کر اور 200 اشک آور گیس کے گولے برداشت کرکے لاہور جی پی او چوک پر پورا دن احتجاج کیا ۔ قوم کو آفرین کہنا چاہیئے اُس سپرنٹنڈنٹ پولیس گُوجرانوالا کو جس نے غیر قانونی حُکم ماننے سے انکار کیا ۔ قوم کو مشکور ہونا چاہیئے اُس مجسٹریٹ کا جس جی پی او چوک لاہور پر احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کے غیر قانونی حُکم کو ماننے سے انکار کیا ۔ میاں نواز شریف کو بھی کچھ تو داد دینا چاہیئے جس نے اپنی جان داؤ پر لگا غیرقانونی نظربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کا حصار توڑا اور جلوس کی سربراہی کر کے اُسے کامیاب بنایا ۔ اللہ کی کرم فرمائی ہے کہ ابھی اس قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے ۔ سچ کہا تھا شاعرِ مشرق نے

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ۔ ابھی تو جمہوریت کے سکول میں داخلہ لیا ہے ۔ بہت سے سبق یاد کرنا اور کئی امتحان دینا باقی ہیں اور اِن شآءَ اللہ کامیاب بھی ہونا ہے

سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔
اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

یہ میں نہیں کہتا

جو کچھ وطنِ عزیز کے قبائلی علاقوں میں ہوتا آیا ہے اُس کے متعلق میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہوں اور اِن شاء اللہ جلد پوری صورتِ حال کا مختصر جائزہ اپنے مشاہدات کی روشنی میں لکھوں گا ۔ جو بات میری سمجھ میں نہیں آتی یہ ہے کہ الطاف حسین اور اُس کے چیلوں کو صوبہ سرحد اور پنجاب کی فکر کھائے جا رہی ہے لیکن جہاں اُس کا ایک چیلا گورنر اور باقی چیلے وزراء ہیں اور رہائش پذیر ہین وہا حالات ابتر ہیں ۔ اور کراچی کو طالبان نے گھیر لیا کا شور مچا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ کسی نے نہ دیکھا اور نہ سُنا ۔

یہ میں نہیں کہتا ۔ کل سارے کراچی میں شور تھا جو میرے کانوں تک بھی پہنچا جس کا خلاصہ یہ ہے

سہیل ظاہر خٹک جمعہ کی شام گاڑی کھاتہ کے علاقے میں واقع ایک پرنٹنگ پریس کے باہر بیٹھا ہوا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اُسے فوری طور پر سول اسپتال لے جایا گیا جہاں بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اسپتال کے سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑکے مطابق مقتول کے سر میں گولی لگی تھی۔ مرحوم سلطان آباد کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق سہیل پر حملے کی خبر پھیلتے ہی تقریباً 3 سے 4 سو افراد سول اسپتال پہنچ گئے جنہوں نے وہاں شدید توڑ پھوڑ کی۔ ڈاکٹرز کو مارا پیٹا جس سے وہ خوفزدہ ہو کر ایمرجنسی وارڈ چھوڑ چلے گئے

پی ایس ایف کے مذکورہ کارکن کی ہلاکت کے بعد لیاری، لی مارکیٹ، کھارادر، کھڈا مارکیٹ، سلطان آباد، آرام باغ، ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، مائی کلاچی، روڈ، سلطان آباد اور دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع کر دیا، فائرنگ کی زد میں آکر بہار کالونی میں حمید اللہ، رنچھوڑ لائن میں حبیب اور کھڈا مارکیٹ میں مستان شاہ نامی شخص زخمی ہوگئے۔ جبکہ ہنگامے کے سبب متاثرہ علاقوں میں رات گئے تک کھلنے والے بازار اور دکانیں بند ہوگئیں۔ جبکہ لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

قدراداں کہاں ؟

یہ گیت چار پانچ دہائیاں قبل لکھا گیا تھا مگر جتنا آج ہمارے معاشرے پر چُست ہوتا ہے اتنا اُن دنوں نہ تھا

محبتوں کے قدر داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں
حقیقتوں کے پاسباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

کِیا کئے تمام عُمر ۔ ہم وفا کی آرزُو
ملے دِلوں کے راز داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

زمین و زر کے حُکمراں ۔ ملے ہمیں گلی گلی
مگر دِلوں کے حُکمراں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

بَن کے جو صدائے دِل ۔ زندگی سنوار دے
وہ اِک نگاہِ مہرباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

ایک تبصرہ

میں نے “اصل خطرہ پاکستان” کے عنوان سے جو بی بی سی کی خبر نقل کی تھی اُس پر ایک قاری کا اس تبصرہ اُمید ہے کہ باقی قارئین بھی مستفید ہوں گے

اسرائیل کے بڑوں نے تبھی ہی سے ہمیں اپنا پکے والا دشمن قرار دے دیا تھا جب اقوام متحدہ کا رُکن ہونے کے ناطے پاکستان نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام کی شد و مد سے مخالفت کی تھی۔ پاکستان کے شمال اور مشرقی سرحدوں پہ ہونے والی “گریٹ گیم” میں امریکہ ، بھارت اور افغانستان کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی شروع دن سے اپنا لُچ تل رہا ہے۔ خاصکر بھارت کے قبضے میں کشمیر کی وجہ سے آجکل “انڈیا اسرائیل ہنی مون” میں ممبئی دہشت گردی جیسے واقعات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے انڈیا نے اسرائیل کے سامنے مکمل طور پہ گھُٹنے ٹیک دئیے ہیں اور اسرائیل بھارت کا دوسرا بڑا اسلحے کا سپلائیر ہے

ویسے بھی برھمن اور یہودی فطرت ایک جیسی ہے بلکہ یہود بڑے کی افرادی طاقت بہت کم ہونے کی وجہ سے ایک عرصے تک یہود ھنود کو موسٰی علیہ السلام کے دور میں اپنا گمشدہ قبیلہ قرار دیتے رہے ہیں جس میں ھنود کا سبزی خور ہونا ایک بڑی دلیل گردانتے رہے ہیں ۔ بقول یہود کے جب مذکورہ قبیلہ موسٰی علیۃ والسلام سے بد عہدی اور نافرمانی کی وجہ سے صحرا میں گم ہو گیا تھا تو اس وقت بنی اسرائیل پہ گوشت حرام قرار دیا جاچکا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ بھارت کی آزادی کے شروع ادوار میں موہن داس کرم چند گاندھی (جسے ھندو مہاتماکہتے ہیں) اور تب کے کانگریسی رہنماؤں نے معروف “چانکیہ اصولِ سیاست” کے تحت اسرائیلی قیام کی حمایت نہیں کی تھی کیونکہ تب ایک نیا عالم تعمیر ہو رہا تھا جس میں نئی نئی آزاد ہوتی قومیں اور ممالک اسرائیل کے قیام کے سخت مخالف تھے ۔ اس لئے اسرائیل کے گمشدہ قبیلے والا قصہ تب اپنے انجام کو نہ پہنچ سکا ۔ مگر اس کے باوجود اسرائیل نے بھارت سے ایک قدیم یہودی قبیلہ ڈھونڈ نکالا تھا اور یہ سب کو علم ہے کہ وہاں یہود تعطیلات کے نام پہ گلچھڑے اُڑانے جاتے ہیں۔ جس میں شراب و شباب دونوں کا بند وبست ہوتا ہے

اسرائیلی وزیرِ خارجہ افِگدور لِبر مین [Avigdor Liberman] روسی یہودی ہے اور یہ سابقہ سویت یونین مولداویا میں پیدا ہوا اور یہ 1978ء میں روس سے اسرائیل منتقل ہوا۔ روسی یہودی مسلمانوں کے بارے میں انتہائی گھٹیا خیالات رکھتے ہیں۔ لِبرمین انتہائی دائیں بازو کا کٹڑ انتہا پسند ہے اور اس نے اپنے موجودہ الیکشن کمپین [election campaign] میں اسرائیل کے دس لاکھ سے زیادہ عرب اسرائیلی شہریوں کو اسرائیل سے باہر نکال دینے کا انتخابی نعرہ لگایا تھا اور یہ اس کے پارٹی منشور کا حصہ ہے۔ بہر حال یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ کہ کمزور اقلیتوں کو دبانے کے نام پہ الیکشن جیتا جائےاور یہی بھارت کے الیکشن میں ہوتا رہا ہے اور یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمانوں کا میڈیا ٹرائیل[media trial] بھی صرف اپنے آڈِئینس [audience] میں اضافے کیلئے کیا جاتا ہے کہ یہ آسان اور کم قیمت نسخہ رہا ہے مگر ان ممالک کے عام عوام کو بھی اس بات کا ادارک ہو چلا ہے کہ یہ صرف الیکشن جیتنے کا ایک مسکینی طریقہ ہے۔ یا اپنے ریڈیو ٹی وی کے ناظرین بڑھانے کا ایک نہائت گھٹیا اور اخلاق سے گرا حربہ ہے۔ اس لئے لِبرمین کی یہ باتیں اور شوشے اپنے ووٹروں اور یہودیوں کے لئے ہیں۔ اس کے اس بیان سے پاکستان کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا

لِبر مین کے پورے بیان میں صرف ایک بات نئی ہے جس پہ ہمارے اربابِ اقتدار و اختیار کو زیادہ غور کرنا چاہیئےکہ اس دفعہ اسرائیل نے پاکستان پہ طالبان کے تخیّلاتی قبضے کے پروپیگنڈے کے پس منظر میں پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین کے ناخوش ہونے کی بات کی ہے۔ جو ایک نئی بات ہے۔ کیا یہ لِبر مین کی لن ترانیوں میں سے ایک ہے یا اس بیان کے پیچھے چین کی تحفظات کی کوئی سنجیدہ صورت ہے ؟ یہ جاننا اور اس کا سدِباب ہمارے ذمہ دار لوگوں کو ابھی سے کرلینا چاہیئے۔ اس پہلے کہ پاکستان مخالف مختلف لابیاں پاکستان کی مخالفت اور چین کی حمایت میں تصوارتی خطرات کے پروپیگنڈا کا آسمان سر پہ اٹھا لیں۔ بھارت اور اسرائیل ۔ ھندو مہاجن اور یہودی کارباری فطری حلیف ہیں۔ اس میں ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے دفاع کی اپنی سی تیاری ہمیشہ رکھنی چاہیئے اور اپنے گھر میں ہر طرف لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا بندوبست بدستور کرتے رہنا چاہیئے

خیراندیش
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

ایک بات جو جاوید گوندل صاحب نے نہیں لکھی یہ ہے کہ جب سیّدنا موسٰی علیہ السلام کسی وجہ سے اپنے علاقہ سے باہر گئے ہوئے تھے تو یہودیوں نے گائے کی پوجا شروع کر دی تھی جس کا مکمل ذکر قرآن شریف میں ہے ۔ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں

میاں نواز شریف نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرنے سے پہلے امریکہ کے صدر کو کیا لکھا تھا ؟ پہلی دفعہ منظرِ عام پر آتا ہے ۔ یہاں کلِک کر کے پڑھیئے

پاکستان کے ثقافتی ہٹلر

میں ثقافت کے متعلق چار مضامین لکھ چکا ہوں ۔ اب حاضر ہے ثقافت کا حال ثقافت سے منسلک ایک نامور شخص کے الفاظ میں

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اسلام آباد ،ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں فیض احمد فیض کی سربراہی میں قائم ہوا۔ اسکامقصد پاکستان میں فن اور فنکاروں کی فلاح اور بہبود کیلئے کونسلنگ کرنا تھا۔ ادارے کا مونو مسز ایلس کے کہنے پہ میں نے ڈیزائن کیا ۔ پہلے یہ منسٹری آف ایجوکیشن کے ماتحت تھا، اسکے بعد منسٹری آف کلچر کے تحت ”اپنا کام “کرنے لگا۔فیض صاحب کے جانے کے بعد یہ ادارہ آرٹ اورآرٹسٹوں کی بھلائی کی بجائے وفاقی حکومتوں کا بھرتی دفتر بن گیا ۔

نیشنل کونسل آف آرٹس کے دفاتر پچھلے پینتیس سالوں سے اسلام آباد میں کرائے کے مکانوں میں قائم تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں اس کا اپنادفتر بنا جو باہر سے اتنا ہی بدنما ہے جتنا اندرسے خوبصورت ہے۔دفتر کی افتتاحی تقریب میں انہی لوگوں کو مدعو کیا گیا جوپرویز مشرف کے منظور نظر تھے۔آرٹس کونسل کی افتتاحی تختی پرویز مشرف کے نام کی بنوائی گئی جسے آنے والے وقت میں یا دور میں ہٹا دیا جائے گا یا اسے چھپا دیا جائے گا۔اچھاتویہ ہوتا اگرافتتاح کسی نامور فنکار سے کرایا جاتا جسے عوام چاہتے ہیں یا جو سیاسی لیڈروں کی طرح متنازع نہیں، تو تختی ہٹانے پہ شرمندگی نہ ہوتی۔

اگر فیض صاحب کے بعد پاکستان نیشنل کونسل سیاسی بھرتی دفتر نہ بنتا تو آج شائد ہم فلم، تھیٹر،موسیقی اور فنون لطیفہ میں زوال پذیر نہ ہوتے۔ہم عدلیہ کو آزاد کرانے کیلئے جلوس تو نکالتے ہیں مگر خود کہیں بھی عدل نہیں کرتے۔یہی وجہ ہمارے معاشرے میں فنون لطیفہ کے فیل ہونے کی ہے۔ ثقافت عوام سے بنتی ہے اور عوام ہی اسے پروان چڑھاتے ہیں۔جس معاشرے میں ثقافت کی منسٹری ہو اورجہاں ایک جنرل ثقافتی ادارے کا افتتاح کرتا ہو وہاں کی ثقافت کاوہی حال ہوگا جو آج کل ہمار ی ثقافت کاہے۔

لوک ورثہ:اسلام آباد میں عکسی مفتی نے اپنے سرکاری ٹورز کیلئے ایک ادارہ بنوایا جسے لوک ورثہ کہا جاتاہے۔ اس دفتر میں بھی ہم نے دس سال کام کیا اور لوک ورثہ میوزیم کی بنیاد ڈالی۔ہم اکثر ان سے کہتے تھے کہ آپ نے دستکاروں کا ساز و سامان تو سجا لیا ہے کبھی انکے دستکاروں کا حال بھی پوچھ لیجئے جوکس مپرسی کی حالت میں برائے نام زندہ ہیں۔ لوک ورثہ بھی سیاسی بھرتی دفتر بنا رہا اور تیس سال تک اس ادارے کا سربراہ ثقافتی ہٹلر بن کے اس پر حکومت کرتا رہااور پھر اسی کے چہیتوں نے اس کا تختہ الٹ کر لوک ورثہ پہ قبضہ کرلیا۔ بقول سرگم، لوک ورثہ عوام کا نہیں بلکہ ادارے کے سربراہ کا ورثہ ہے ۔ اس ورثے میں پچھلے دنوں پرویز مشرف اور انکی بیگم کے بڑے بڑے پورٹریٹ لگے ہوئے تھے جو حکومت کے تبدیل ہوتے ہی ہٹادیئے گئے۔

جب ہم کبھی لوک ورثہ میں تھے تو ایک دن ہمیں منسٹری آف کلچر کے جائنٹ سیکرٹیری کا فون آیا اور ہم سے کہا گیا کہ ہماری فیملی نے لوک ورثہ کی سیر کرنی ہے اسلئے لوک ورثہ کی سرکاری گاڑی بھجوائی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ لوک ورثہ کہاں واقع ہے؟ہم بڑے حیران ہوئے کہ ہمارے ہی محکمے کے افسر اعلیٰ جو کئی سالوں سے اس پہ حکومت کر رہے ہیں انہیں لوک ورثے کا محل وقوع معلوم نہیں۔ ہمارے خیال میں لوک ورثہ کا اصل مقصد غیر ملکی سربراہان کی بیویوں کا سرکاری دورں کے دوران انکا وقت پاس کرانا ہی ہے۔

وفاقی فلم سنسر بورڈ:اسلام آباد میں ایک فلم سنسر بورڈ بھی ہے جو دوسرے ثقافتی اداروں کی طرح سیاسی رشوت دینے کے کام آتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں اب برائے نام فلمیں بنتی ہیں لہٰذا فلم سنسر بورڈ کے چیئر مین کا کام ایر کنڈیشنڈ دفتر میں میں بیٹھ کر کافی پینا یا فلمی اداکارؤں سے سرکاری فون پر بات کرنا ہی رہ گیا ہے۔ ہم چونکہ پاکستانی فلموں پہ تنقید کیا کرتے تھے چنانچہ ہمیں سزا کے طور پہ فلم سنسر بورڈ کا ممبر بنا دیا گیا۔ ہم اب پاکستانی فلموں پہ اتنی ہی تنقید کرتے ہیں جتنی کہ ملک میں فلمیں بنتی ہیں۔ سنسر بورڈ کے پروجیکشن ہال کا وہی حال ہے جو ہماری فلموں کا ہے۔ ہال میں جب کبھی کبھار کوئی فلم آتی تو حال میں سنسر کرنے والے چند وہ لوگ اونگتے نظر آتے جن کا فنون لطیفہ سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ ایک بار ہم نے سنسر بورڈ کا ہال فل دیکھا تو پتہ چلا کہ آج انڈین فلم مغل اعظم لگنی ہے جس میں چیئر مین صاحب کے منظور نظر لوگوں کوخاص طور پہ دعوت دی گئی ہے۔

راولپنڈی آرٹس کونسل: فنون لطیفہ کے نام پہ قائم کی گئی یہ کونسل بھی پنجاب حکومت کے ماتھے پہ ایک بدنما داغ ہے۔ اس ادرے پہ پچھلے تیس پینتیس سالوں میں ایک ہی ڈائریکٹر نے حکومت کی۔ہم بھی اس ادارے کے ڈرامے کے بورڈ ممبر رہے۔اسکا سالانہ بجٹ آرٹ کی ترویج سے زیادہ اسکے انتظامی امور کا ہے۔ سال میں ایک دو عورتوں کی کُکنگ کلاسوں اور تصویری نمائشوں کے علاوہ یہ بھی اپنے نو تعمیر شدہ ڈرامہ ہال کی طرح بنجر ہی رہتی ہے۔اس ادارے میں بھی لوکل فنکاروں کے بجائے ادارے کے ملازمین کی فلاح و بہبود کا کام بڑی محنت اور تسلسل ہوتا ہے۔ ادارے میں ڈائریکٹر تو موجود ہے مگر فنکاروں کی کوئی ڈائریکٹری نہیں ، اگر ہوتی تو ہمارا نام بھی کبھی کسی فنکشن میں مدعو کرنے کیلئے ہوتا۔تو جناب پاکستان نے جتنی ثقافتی ترقی کرنی تھی وہ اسنے ان لوگوں کے دور میں کر لی جن کی پیدائش پاکستان بننے سے پہلے کی ہے۔ 62سالوں میں ہم نے نہ تو یہ فیصلہ کیا کہ ہماری سیاست کیا ہے اور ثقافت کیا ہے؟ ہم گانے والوں کو کنجر مراثی بھی کہتے ہیں اور انہیں پرائڈ آف پرفارمنس بھی دیتے ہیں

تحریر ۔ پُتلی تماشہ کے فاروق قیصر کی

گھڑی نہ ہو تو بچت کیسے ہو ؟

وزیر برائے پانی و بجلی کے 15 اپریل سے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا حُکم صادر کیا جواز یہ تھا کہ اس سے بجلی کے استعمال میں بچت ہو گی ۔ ایک معصوم سے شخص نے پوچھا ” جس غریب کے پاس گھڑی ہی نہ ہو ۔ وہ بجلی کی بچت کیسے کرے ؟” میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے ۔

ہمارے حُکمرانوں کی نفسیات کچھ ایسی ہو چُکی ہے کہ ہر وہ عمل جو فرنگی اختیار کرے اُسے بغیر سوچے سمجھے اختیار کرنے میں بہتری خیال کرتے ہیں ۔ایک پرانی ضرب المثل ہے کہ دوسرے کا منہ سُرخ دیکھ کر اپنا تھپڑ مار مار کر سُرخ کر لینا ۔ فرنگیوں کے جغرافیائی اور ترقیاتی حالات وطنِ عزیز اور اس کے گرد و نواح کے حالات سے مختلف ہیں اس لئے یورپ اور امریکہ بجلی کی بچت کیلئے نہیں بلکہ قدرتی روشنی سے مستفید ہونے کیلئے گرمیوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر لیتے ہیں اور سردیوں میں واپس ۔ ان ممالک کے لوگ گھڑیاں آگے اور پیچھے کرنے کی بجائے اوقاتِ کار آگے پیچھے کر سکتے تھے مگر اُن کا زیادہ تر دفتری کاروبار کمپیوٹرائزڈ [computerised] ہوتاہے ۔ بالخصوص ملازمین کی حاضری اور تنخواہ کا نظام ہر محکمہ میں کمپیوٹرائزڈ ہے ۔ اوقاتِ کار بدلنے سے سب محکموں کے کمپیوٹروں کے پروگرام میں مناسب تبدیلیاں سال دو بار کرنا پڑتیں جو کہ وقت طلب عمل ہے اور بعض اوقات مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے ۔ اسلئے ان ترقی یافتہ ملکوں میں گھڑیاں آگے پیچھے کرنا ہی مناسب ہے ۔

وطنِ عزیز میں تو کمپیوٹرائزیشن برائے نام ہے ۔ پھر اوقاتِ کار بدلنے میں پریشانی کیوں ؟ وطنِ عزیز میں کم از کم 1973ء تک تمام تعلیم اداروں اور دفاتر کے اوقاتِ کار یکم اپریل اور یکم اکتوبر کو تبدیل ہوا کرتے تھے ۔ یہ سلسلہ حکومت نے آج سے تیس پینتیس سال قبل ختم کر دیا ۔ دکانین صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک کھُلتی تھیں ۔ بعد میں دکانداروں پر نجانے کونسا بھوت سوار ہوا کہ اُنہوں نے دکانیں دوپہر کو کھولنا اور آدھی رات کو بند کرنا شروع کر دیں

بھارت سائنس اور کمپیوٹر میں عملی طور پر وطنِ عزیز سے بہت آگے ہے لیکن وہاں کسی نے گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا نہیں سوچا ۔ نہ سری لنکا میں ایسا ہوا ہے ۔ یہ عقلمندی صرف وطنِ عزیز کی حکومت کو ہی کیوں سُوجھی ہے ؟ یہ بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ ہمارے ہموطنوں کی اکثریت وقت دیکھنا بھی نہیں جانتی ۔ میرے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بعض اوقات ایسا ہوا کہ کسی راہگذر نے وقت پوچھا ۔ میں نے کہا میرے پاس گھڑی نہیں ہے تو اس نے اپنی گھڑی والی کلائی میرے سامنے کر دی

گھڑیوں پر وقت تبدیل کرنے کے احکامات پر ہموطنوں کی اکثریت عمل نہیں کرتی ۔ نجی ادارے اور دکاندار سرکاری حُکم سے بے نیاز اپنے معمول پر قائم رہتے ہیں ۔ سرکاری اداروں کا یہ حال ہے کہ ملازمین دفتر پہنچتے تو پرانے وقت کے مطابق ہیں اور چھٹی نئے وقت کے مطابق کرتے ہیں یعنی روزانہ ایک گھنٹہ کم کام کرتے ہیں یعنی اُلٹا چھ گھنٹے فی ہفتہ کا نقصان ۔ پھر اس سارے تکلف کا فائدہ ؟

جب پچھلی حکومت نے گھڑیاں آگے کرنے کا حُکم جاری کیا تھا تو میں نے کچھ تجاویز وزیر پانی و بجلی کو بھیجی تھی اور اخباروں کو بھی لکھا تھا ۔ ڈان اور دی نیوز میں میرا خط چھپا بھی تھا ۔ پچھلے سال بھی میں نے موجودہ حکومت کو وہی تجاویز بھیجی تھی ۔ لیکن کون سنتا ہے عام شہری کی بات ۔ اس بار میں نے وہی تجاویز لکھ کر بڑے لوگوں سے میل ملاپ رکھنے والے ایک شخص کو دی تھیں ۔ یہ تجاویز مندرجہ ذیل ہیں

فوری اقدامات

1 ۔ بجلی کی ترسیل کا غیر قانونی کُنڈے نظام جہاں جہاں بھی ہے اُسے ختم کیا جائے ۔ کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی یہ نظام عام ہے ۔ لائین مین کھُلے بندوں کنڈا لگانے کا 1500 روپیہ مانگتے ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں ۔ دوسرے شہروں میں بھی یہ ناسُور موجود ہے ۔ دیہات میں بھی بارسوخ لوگ بجلی کا بڑا استعمال میٹر سے مبرا ہی کرتے ہیں ۔ اسے بھی کُنڈا ہی کہنا چاہیئے

2 ۔ وزراء اور اعلٰی سرکاری ملازمین کو بے تحاشہ زیادہ بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے اور ان لوگوں کی ماہانہ تنخواہیں اور دوسری مراعات بھی بہت ہیں ۔ واپڈا کے ملازمین کو بھی بجلی کے استعمال کی کافی چھوٹ دی گئی ہے ۔ ایک مثال ۔ واپڈا کے سکیل ۔ 19 کے ریٹائرڈ ملازم کو ساری زندگی کیلئے ماہانہ 450 یونٹ تک مفت بجلی استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ دوسری طرف مُلک ڈُوب رہا ہے اور یہ سب حضرات موج میلا لگائے ہوئے ہیں ۔ ان سب کی مفت بجلی کی حدوں کو کم از کم آدھا کر دیا جائے

3 ۔ تمام دکانداروں کی ایسوسی ایشنز کے ساتھ مذاکرات کر کے اُنہیں احساس دلایا جائے کہ وہ دکانیں صبح 8 بجے کھولیں اور رات 8 بجے بند کریں

4 ۔ تمام کارخانوں کے اوقاتِ کار ترتیب دیئے جائیں کہ ہر کارخانہ 24 گھنٹوں میں 8 گھنٹے اس طرح کام کریں کہ کسی بھی وقت بجلی کا خرچہ کم سے کم ہو یعنی کچھ کارخانے صبح 8 سے بعد دوپہر 2 بجے تک کام کریں ۔ کچھ بعد دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک اور کچھ رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک ۔ متواتر چلنے والے کارخانوں کو دورانیہ ایک ہفتہ مقرر کیا جائے اس طرح ترتیب دیا جائے کہ کسی بھی وقت بجلی کا خرچہ کم سے کم ہو

5 ۔ پیداواری منصوبہ بندی

بھاشا ڈیم جیسے ایک یا دو بہت بڑے پراجکٹس کی بجائے بہت سے چھوٹے اور درمیانے حُجم کے منصوبے شروع کئے جائیں ۔ ایسے ہر منصوبے کی لاگت بہت کم ہو گی اور یہ بہت جلد مکمل بھی ہو جائیں گے ۔ سب سے بڑی بات کہ ایسے منصوبوں کو کسی صوبے کے سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کیلئے بھی استعمال نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان میں جو پانی پیچھے سے آئے گا وہ آگے نکل جائے گا ۔ ایک ایسا ہی چھوٹا منصوبہ عرصہ دراز سے گجرات کے قریب شادی وال میں کام کر رہا ہے ۔ ایسے منصوبے دریائے سندھ اور جہلم کے علاوہ کئی نہروں پر بھی ایک دوسرے سے 20 سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر لگائے جا سکتے ہیں

آہ ۔ میری ڈائری اور میرا خزانہ

رات میں سونے کیلئے بستر پر دراز ہوا تو ماضی کی ایک یاد داشت کی تلاش میں ماضی میں بہت دُور نکل گیا اور کچھ دیر بعد بے ساختہ گنگنانے لگا

میری دنیا لُٹ گئی تھی مگر میں خاموش رہا
ٹکڑے اپنے دل کے چُنتا کس کو اِتنا ہوش تھا

لُٹا تھا کس طرح ؟

میرا خیال ہے کہ مناسب ماحول ملے تو ہر لکھنا جاننے والا ڈائری لکھے ۔ میں نے کتنی عمر میں ڈائری لکھنا شروع کی مجھے یاد نہیں ۔ میرے انجیئر بن جانے کے بعد میرے بزرگوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں جب تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا تو 1946ء کی گرمیوں میں جموں سے سرینگر اور واپسی کے سفر کا حال جو میں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا وہ زبردست تھا ۔ یہ ڈائری تو 1947ء میں پاکستان کی طرف ہجرت کے وقت جموں میں ہی رہ گئی تھی کہ ہم تین کپڑوں میں اپنی جان بچا کر نکلے تھے ۔ مجھے یاد نہیں میں نے کیا لکھا تھا ۔ اتنا یاد ہے کہ سفر دلچسپ تھا جو راستے میں بس خراب ہوجانے کی وجہ سے شاید بڑوں کیلئے پریشانی لیکن میرے لئے مزید دلچسپ بن گیا تھا

ہمارا سالانہ امتحان فروری یا مارچ 1947ء میں ہونا تھا لیکن فسادات شروع ہونے کی وجہ سے سکول بند ہو گئے ۔ میں وسط دسمبر 1947ء میں پاکستان پہنچا اور مجھے 1948ء میں سکول داخل کرایا گیا ۔ اس طرح میرا پڑھائی کا ایک سال ضائع ہو گیا ۔ 1948ء کے آخر میں ہم راولپنڈی آ گئے جہاں مجھے اسلامیہ مڈل سکول سرکلر روڈ داخل کرا دیا گیا ۔ سکول کے کام کی مشق کرنے کیلئے کاغذ کا دستہ لے کر آیا ۔ میں نے تین ورق نکال کر ان سے سوا چار انچ ضرب ساڑھے تین اِنچ کی ڈائری بنائی ۔ پھر جو نئی چیز نظر آتی یا جو چیز پسند آتی ۔ شعر ۔ سائنس کی وہ باتیں جو ہماری کتاب میں نہ تھیں اور سفر کا حال وغیرہ سب کچھ میں اس میں لکھتا رہتا

میں جب آٹھویں جماعت میں تھا تو دوسرے ممالک کے متعلق جاننے کا شوق ہوا ۔ میں نےترکی ۔ اٹلی ۔ فرانس ۔ جرمنی ۔ ہسپانیہ اور ہالینڈ کے سفیروں کو انگریزی میں خط لکھے کہ میں ان کے مُلک میں دلچسپی رکھتا ہوں اور تعلیم اور سیر و سیاحت کے مواقع جاننا چاہتا ہوں ۔ ان سفیروں نے مجھے رنگین تصاویر والی کُتب اور رسالے بھیجے جن میں تعلیم اور سیاحت کی سب معلومات تھیں ۔ میری الماری ان کتابوں اور رسالوں سے بھر گئی جو میں پڑھتا رہتا تھا اور میرے دل میں ان ممالک کی سیر کی زبر دست خواہش پیدا ہوئی ۔ اس کے علاوہ میں اخباروں کے تراشے بھی جمع کرتا رہتا تھا جن میں حافظ مظہرالدین صاحب کی جموں کشمیر اور تحریکِ پاکستان کے متعلق نظمیں بھی شامل تھیں

دسویں میں کامیابی کے بعد مجھے ہر سال کہیں نا کہیں سے خوبصورت ڈائری مل جاتی تھی سو مجھے سہولت ہو گئی ۔ میرا ڈائری لکھنے کا شوق ہمیشہ قائم رہا ۔ میں نے انجنیئرنگ پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ راولپنڈی پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ میں ملازمت کی ۔ یکم مئی 1963ء کو پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ملازمت اختیار کی اور واہ چھاؤنی میں اپنی بڑی بہن کے پاس رہنے لگا

سیٹلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ہمارا گھر تیار ہونے پر میرے گھر والے یکم اگست 1964ء کو جھنگی محلہ راولپنڈی سے سیٹلائیٹ ٹاؤن منتقل ہو گئے ۔ یہ منتقلی اچانک ہی ہوئی تھی ۔ مجھے اس کی خبر نہ ہوئی ۔ 1948ء سے لے کر اُس وقت تک میں نے اپنی ساری کتابیں ۔ نوٹس ۔ ڈائریاں ۔خاص خاص رسالے ۔ اخباروں کے تراشے اور متذکرہ بالا معلوماتی کتب سب سنبھال کر رکھے ہوئے تھے ۔ دو بڑی الماریاں بھری پڑی تھیں ۔ صرف انجنیئرنگ کی کُتب میں اپنے ساتھ واہ چھاؤنی لے گیا تھا ۔ میرے چھوٹے ماشاء اللہ تین بھائیوں نے سمجھا یہ سب ردی ہے کیوں نہ بیچ کر جیب خرچ بنایا جائے ۔ یوں 1964ء میں میری دنیا لُٹ گئی اور میرا دل اور جگر اندر ہی اندر خون کے آنسو روتے رہے مگر زبان کچھ کہہ نہ سکی ۔ خاموش نوحہ میں ہی عافیت سمجھی ۔

اُس دن مجھ پر واضح ہو گیا تھا کہ ہمارے مُلک میں علم کی کوئی قدر نہیں ۔صرف سندیں حاصل کرنا ہی تعلیم کا مقصد ہے علم حاصل کرنے کیلئے نہیں ۔ ایک میں ہی بیوقوف ہوں جو بچپن سے اب تک علم سیکھنے کے پیچھے پڑا رہتا ہوں