Category Archives: روز و شب

ذہانت اور وکالاتِ ذہانت

ذہانت ایسی خُو ہے جس کا بنیادی مادّہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کے دماغ میں رکھا ہے البتہ ذہانت کی نشو و نما کیلئے اس کا درُست متواتر استعمال ضروری ہے ورنہ اِسے زنگ لگ جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے سے بھی ذہانت کا استعمال کم ہو جاتا ہے ۔ زنگ لگ جانے کی صورت میں معمولی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ دورِ حاضر میں جس طرح عام آدمی [common man] میں عمومی سُوجھ بُوجھ [common sense] کم ہی ملتی ہے اسی طرح وکالاتِ ذہانت [intelligence agencies] کے اہلکار ذہانت کا استعمال کم ہی کرتے ہیں ۔ عام آدمی محدود وسائل اور فکرِ معاش میں مبتلا ہونے کے باعث کسی اور طرف توجہ نہیں دے سکتا لیکن وکالاتِ ذہانت کے ارکان ذرائع اور اختیارات کی فراوانی کی وجہ سے اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ عقلِ کُل ہیں ۔ ایسا رویّہ اُن کی ذہانت پر بُری طرح اثرانداز ہوتا ہے ۔ فرسودہ نظامِ تفتیش رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے

غُوغا تو جدیدیت کا بہت ہے لیکن تفتیش کیلئے فی زمانہ بھی ہزاروں سال پرانے طریقے ہی استعمال کئے جاتے ہیں صرف اوزار جدید ہیں جو نفسیاتی اثر رکھنے کی وجہ سے زمانہ قدیم سے زیادہ تشدد کا سبب بنتے ہیں اور زیرِ تفتیش شخص کا ذہنی توازن مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ گونٹاناموبے میں امریکی جیل میں مُلزمان سے کیا جانے والا سلوک اس کی ایک ادنٰی سی مثال ہے

دورِ حاضر میں تفتیش کا طریقہ جو قدیم زمانہ میں نہ تھا یہ ہے کہ وکالات ذہانت کے اہلکار اپنی مرضی کے چُنے ہوئے شواہد پر ایک کہانی مرتّب کرتے ہیں اور اس میں مفروضہ مُلزِم یا مُلزِموں کو کردار عطا کرتے ہیں ۔ اس کہانی کا ہیرو گرفتار شدہ یا نامزد ملزم ہوتا ہے ۔ اگر گرفتار ملزم تفتیش کاروں کی پٹڑی پر چڑھ جائے تو اُسے وِلیئن [villain] کا کردار بھی دیا جا سکتا ہے ۔ اسے مناسب معاوضہ دے کر کسی اور تک پہنچا جاتا ہے

طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ گرفتار ملزم کو تیار شدہ کہانی سنائی جاتی ہے ۔ اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے ۔ جب ملزم نڈھال ہو جائے تو اسے پھر اُسی کہانی کا کردار بننے کو کہا جاتا ہے ۔ یہ عمل ہر بار پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دُہرایا جاتا ہے اور ذہنی اذیت کے طریقے بدل بدل کر استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اگر ملزم کی کوئی دُکھتی رگ تفتیش کاروں کے عِلم میں آجائے تو وہ ملزم سے سب کچھ منوا لیتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک پچاس پچپن سالہ عزّت دار مرد کو کہا جائے کہ “اگر تم تعاون نہیں کرو گے تو تمہاری جوان بیٹی کو ہم یہاں لے آئیں گے ۔ اُس کے سامنے تمہیں ننگا کریں گے اور تفتیش کریں گے “۔ تو وہ شخص تمام ناکردہ جرائم اپنے سر لینے کے لئے تیار ہو جائے گا تاکہ اس کی بیٹی اُسے ننگا ديکھنے اور تفتیش کی اذیت سے بچ جائے

جدید آلات کا استعمال اس طرح بھی کیا جاتا ہے کہ پہلے مفروضہ مُلزمان کے بیانات ریکارڈ کر لئے جاتے ہیں ۔ تفتش کاروں کے پاس اُجرتی آواز نقل کرنے والا شخص ہوتا ہے ۔ وہ نقال ٹیپ سُن سُن کر آواز کی نقل کی مشق کر لیتا ہے ۔ پھر اُسے ایک خود ساختہ بیان لکھ کر دیا جاتا ہے جو نقال اُس آواز میں پڑھ دیتا ہے اور اُسے ریکارڈ کر لیا جاتا ہے ۔ اس بیان میں مفروضہ ملزمان میں سے ایک کا اقبالِ جُرم ہوتا ہے ۔ اس مصنوعی بیان کی ٹیپ پھر دوسرے ملزمان کے سامنے چلا کر اُنہیں جُرم قبول کرنے کیلئے ہر طرح کا دباؤ ڈالا جاتا ہے اور جُرم قبول نہ کرنے کی صورت میں مختلف طریقوں سے ڈرایا جاتا ہے اور ذہنی اذیت بھی دی جاتی ہے ۔ اس طرح بھی گرفتار آدمی ناکردہ جُرم اپنے سر پر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے

مندرجہ بالا سطور میں جو سادہ سا خاکہ پیش کیا گیا ہے حقائق اس سے بہت زیادہ بھیانک ہیں ۔ یہ طریقے صرف وطنِ عزیز یا بھارت میں ہی نہیں بلکہ امریکہ اور کئی مغربی ممالک میں بھی زیرِ استعمال ہیں ۔ چنانچہ وکالاتِ ذہانت [intelligence agencies] کے گرفتار کئے ہوئے کسی شخص کا بیان درست ہے یا غلط یہ وہ خود جانتا ہے یا پھر اللہ جانتا ہے

ہمارے متعلقہ مُلکی ادارے کیا تھے ۔ اب کیا ہیں اور کیا ہونا چاہیئے اس کیلئے میری اگلی تحریر اِن شاء اللہ جلد

ہر اچھی چیز کا قاتل دور

میرے بچپن کی یادوں میں ذرائع ابلاغ کے کھاتے میں دو چیزوں سے میرا جذباتی لگاؤ رہا ۔ وہ ہیں

اخبار ۔ سِول اینڈ مِلٹری گزٹ۔ جو میں نے ساتویں جماعت میں پڑھنا شروع کیا اور سات آٹھ سال بعد اس کی اشاعت بند ہونے تک پڑھتا رہا ۔ اس میں چھپنے والی قسط در قسط ریاست جموں کشمیر کے متعلق اقوامِ متحدہ کی کاروائی کے تراشے آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں

رسالہ ۔ ریڈرز ڈائجسٹ جو میں نے آٹھویں جماعت میں پہنچتے ہی سالانہ بنیاد پر لینا شروع کیا اور 40 سال متواتر خریدتا اور پڑھتا رہا

اللہ کی مہربانی سے ان دونوں نے مجھے انگریزی سمجھنے اور لکھنے کی استطاعت عطا کی ۔ ان دونوں کے عمدہ انگریزی میں لکھے مضامین کے علاوہ سِول اینڈ مِلٹری گزٹ کے معمے [Crossword puzzles] اور ریڈرز ڈائجسٹ کا اپنی لفظی استعداد بڑھاؤ [Increase your word power] ۔ ان دونوں ذرائع نے مجھے وہ گُر بخشا کہ میرے سکول و کالج کے اساتذہ کے بعد میرے افسران بھی میرے انگریزی میں لکھے مضامین کے معترف رہے

آج صبح سویرے جب میں نے پڑھا کہ ریڈرز ڈائجسٹ شائع کرنے والا ادارہ دیوالیہ ہو گیا ہے تو کچھ دیر کیلئے میں سکتے میں آ گیا ۔ زبان تو نہیں مگر میرا دِل گریہ کرنے لگا ۔ ثابت ہوا کہ دورِ حاضر میں کوئی اچھی چیز زندہ نہیں رہ سکتی

خبر
دنیا بھر میں ڈاکٹروں، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں میں یکساں مقبول اور عوامی انتظار گاہوں کی میزوں کی زینت ”ریڈرز ڈائجسٹ“ کی ایسوسی ایشن نے 90سال کے بعد گزشتہ روز عمداً دیوالیہ ہونے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے ،مذکورہ ایسوسی ایشن ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں رونما ہونے والے مالیاتی بحران کا حال ہی میں شکار ہوئی ہے ،ادارے کے حصص کی خریداری میں اہم سرمایہ کاری کرنے والی فرم” رپل وڈ ہولڈنگز“ جس نے 2006ء میں 2.4 بلین ڈالر کے متوقع منافع کا اعلان کر رکھا تھا کی 600ملین ڈالر کی تمام سرمایہ کاری مکمل طور پر ڈوب جائے گی ،ریڈرز ڈائجسٹ کا آغاز نیو یارک میں ایک بیوی اور شوہر نے 1921ء میں ایک کمرے سے کیا تھا ،اس وقت ڈائجسٹ کی ایسوسی ایشن کے 94 میگزینز میں سے 9 کی صرف امریکا میں ایک ملین سے زیادہ سرکولیشن ہے ، اس کے علاوہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے 78 ممالک میں130ملین افراد اس کے مستقل پڑھنے والے ہیں،گروپ کے انفارمیشن بیورو کے مطابق ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں معاشی بحران کے علاوہ لوگوں کے مطالعہ کرنے کی عادات اور رجحان میں تبدیلی کے باعث گزشتہ سال ادارے کے محاصل میں 18.4 فیصد کی ریکارڈ کمی ہوئی جبکہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران آمدنی کی اس کمی میں 7.2فیصد مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

کیا اس کے ذمہ دار طالبان ہیں ؟

امریکا ہمیشہ پاکستان بالخصوص طالبان کو منشیات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ حقائق ہمیشہ امریکا اور اس کے حواریوں کو جھٹا ثابت کرتے ہیں لیکن نامعلوم کیوں دنیا کی اکثریت امریکی جھوٹ کو سچا سمجھتی ہے

امریکی سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر10 میں سے 9 امریکی بنک نوٹ کوکین [Cocaine ] کے ذرات سے آلودہ پائے گئے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے کئے گئے لوگوں کے تجزیہ سے پتہ چلا کہ وہاں 95 فیصد نوٹوں پر کوکین کے ذرات تھے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں پر کوکین کے ذرات منشیات کی آمدنی کے تبادلے اور کاروبار کے علاوہ آلودہ نوٹوں کے مشینوں کے اندر گنتی کی وجہ سے بھی پھیلتے ہیں

اس تحقیق کے دوران امریکہ کے علاوہ کینیڈا ۔ برازیل ۔ چین اور جاپان کے نوٹوں کا بھی تجزیہ کیاگیا ۔ امریکی اور کینیڈین نوٹوں پر کوکین کے ذرات کا تناسب 85 سے90 فیصد کے درمیان تھا جبکہ سب سے کم آلودہ جاپان اور چین کے نوٹ تھے ۔

ریسرچ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف میسا چوسٹس سے ڈاکٹر یوگنگ زو کا کہنا تھا کہ نوٹوں پر کوکین کے ذرات سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی کساد بازاری کی بنا پرامریکیوں میں کوکین کا استعمال بڑھ گیا ہے

بشکریہ جنگ

عمر صاحب کے استفسارات اور جوابات

تاخیر کیلئے معذرت خواہ ہوں ۔ یہ سب شرارت منظرنامہ کی ہے جنہوں نے بلاگستان کا شوشہ چھوڑا ۔ عمر احمد بنگش صاحب نے میری تحریر اور تشریح کے بعد مندرجہ ذیل اظہارِ خیال کیا ہے جو مزید وضاحت مانگتا ہے ۔ میں اللہ کی عطا کردہ سمجھ ۔ تحقیقی کتب کے مطالعہ اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر اپنا نظریہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں

1 ۔ چیک پوائنٹ‌حلال اور حرام کی تمیز ہے۔ اس کو جانچنے کا‌آلہ انسان کا اپنا ضمیر ہوتا ہے
2 ۔ سیدھی راہ کا تعین نہایت ضروری ہے، جو میرے خیال میں‌صرف اور صرف علم کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے
3 ۔ اور یہ راہ بالکل ایسے ہے کہ جیسے “اک آگ کا دریا ہے ، اور ڈوب کے جانا ہے
اس کے علاوہ اگر کچھ میں‌سمجھنے میں‌ناکام رہا ہوں‌تو میری کوتاہی ۔ یہاں‌تک تو بات ٹھیک ہے ۔ لیکن دو ایک چیزیں‌ہیں‌جو مجھے کافی پریشان رکھتی ہیں
4 ۔ علم کا اصل منبع کیا ہے اور عملی طور پر علم کی کیا حیثیت ہے؟
5 ۔ ضمیر کا ماخذ‌کیا ہے؟، دماغ‌، قلب یا دونوں
6 ۔ پروفیشنل اور ذاتی زندگی دونوں صورتوں میں حق کو کیسے پہچانا جائے؟
7 ۔ کہنے کو یہ باتیں نہایت سادہ ہیں، کیونکہ تدریسی عمل میں ہم میں سے ہر ایک شخص نے بارہا یہ پڑھی ہیں۔ لیکن میرا مقصد ان کو زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے سے ہے۔ اس طور ضرور روشنی ڈالیے

1 ۔ انسان میں اچھے بُرے کی تمیز پیدائشی ہے ۔ میں نفسیات بالخصوص بچوں کی نفسیات کا طالب علم رہا ہوں ۔ میں انسانوں اور بچوں پر ہلکے پھُلکے تجربات کرتا رہا ہوں ۔ میں نے 6 سے 10 ماہ کے بچوں پر آزما کے دیکھا ہے کہ اُنہیں بھی اچھے بُرے کی پہچان ہوتی ہے ۔ بعد میں جب ماحول ان پر حاوی ہو جاتا ہے تو یہ پہچان معدوم یا مجروح ہو جاتی ہے ۔ نفسیات کے ماہرین لکھتے ہیں کہ رحمِ مادر میں بھی بچہ باہر کے ماحول سے متاءثر ہوتا ہے

آپ ایک ايسے بچے کے پاس جو بیٹھتا ہے مگر کھڑا نہیں ہوتا اور کبھی مٹی کے پاس نہیں گیا اس کے دودھ کی بوتل یا بسکٹ جو وہ کھاتا رہتا ہے رکھ دیجئے اور قریب ہی مٹی کا ڈھلا رکھ دیجئے اور کمرے سے باہر نکل جایئے ۔ اگر بچہ مٹی اٹھائے اور عین اس وقت آپ کمرے میں آ جائیں تو بچہ ڈر جائے گا ۔ اگر بچے نے دودھ کی بوتل یا بسکٹ اٹھایا ہو تو اس پر آپ کی آمد کا کچھ اثر نہیں ہو گا

2 ۔ سیدھی یا اچھی راہ کا تعیّن از خود ہو جاتا ہے اگر کسی عمل سے پہلے یہ سوچا جائے کہ اگر کوئی دوسرا ایسا کرتا تو میں کیا محسوس کرتا

3 ۔ سیدھی راہ آگ کا دریا نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو وہ تراوٹ بخشتی ہے جو کسی مادی چیز سے حاصل نہیں ہوتی ۔ اللہ پر یقین شرط ہے

4 ۔ “علم کا منبع” میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ علم تو بذاتِ خود منبع ہے ۔ علمِ نافع انسان کو سیدھی راہ پر چلا کر کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے جبکہ علمِ باطل انسان کو سبز باغ دکھا کر تباہی کی طرف لے جاتا ہے جس کا احساس بعض اوقات بہت دیر سے ہوتا ہے ۔ وہ علم بیکار ہے جس کا عملی زندگی سے تعلق نہ ہو ۔ اسے المیہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے ملک میں علم نہیں اسناد حاصل کرنے کا رجحان ہے ۔ عالِم یا اچھا انسان بننے کیلئے بہت کم لوگ علم حاصل کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں لڑکیوں کی کثیر تعداد ایم بی بی ایس کر کے طِب کا پیشہ اختیار نہیں کرتیں ۔ اس طرح ایک تو وہ اپنا عِلم ضائع کرتی ہیں دوسرے ان طلباء اور طالبات کا حق مارتی ہیں جو اِن کی وجہ سے ایم بی بی ایس کے داخلہ سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ ملک میں اطِباء کی قلت ہے

5 ۔ ضمیر نہ دل میں ہے نہ دماغ میں ۔ یہ ایک احساس ہے جو اللہ تعالٰی نے ہر ذی ہوش انسان میں رکھا ہے ۔ بُرے سے بُرے آدمی کا ضمیر کسی وقت جاگ کر اسے سیدھی راہ پر لگا سکتا ہے ۔ ایسے کچھ لوگ میرے مشاہدے میں آ چکے ہیں جو میرے ہمجماعت یا دفتر کے ساتھی تھے

6 ۔ حق کا سب کو علم ہوتا ہے لیکن خودغرضی اس پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔ بات وہیں پر آ جاتی ہے جیسا میں اُوپر لکھ چکا ہوں کہ ” اگر کسی عمل سے پہلے یہ سوچا جائے کہ اگر کوئی دوسرا ایسا کرتا تو میں کیا محسوس کرتا”

7 ۔ وہ علم بیکار ہے جس پر عمل نہ کیا جائے یا جس پر عمل نہ ہو سکے ۔ جو لوگ حاصل کردہ علم سے استفادہ کرتے ہیں یا اس پر عمل کرتے ہیں اللہ اُنہیں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ وقتی تکالیف تو ہر شخص پر آتی ہیں چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق اختیار کرے ۔ تکلیف کی نوعیت فرق ہو سکتی ہے

علم انسان کو اللہ سے قریب کرتا ہے ۔ آئزک نیوٹن نے کہا تھا کہ ہاتھ کے انگوٹھے کی ایک پور کا مطالعہ ہی خالق کو پہچاننے کیلئے کافی ہے

جب صبح طلوع ہو گی

لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس خواجہ محمدشریف نے چیف ٹریفک افسر لاہورکی اہلیہ کی سہیلی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر روکنے کے جُرم میں معطل کئے گئے ایک ٹریفک وارڈن کو بحال اوردیگر دوکے خلاف انکوائری ختم کرنے کاحکم دیدیا

ڈی آئی جی ٹریفک محمد عثمان خٹک ۔چیف ٹریفک افسر مرزاشکیل احمد اورتینوں وارڈنز چیف جسٹس ،جسٹس خواجہ محمدشریف کے روبروپیش ہوئے ۔چیف ٹریفک افسر نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک وارڈنز نے ایک حساس ادارے کے افسراوران کے اہل خانہ کو غیر قانونی طورپر روک کر ان سے بدتمیزی کی جس پر اس آفیسر کی بیٹی جوان کی اہلیہ کی سہیلی ہیں نے انہیں اطلاع دی اور باقاعدہ انکوائری کے بعد ایک ٹریفک وارڈن سرفراز کو معطل کیا گیا ۔ٹریفک وارڈن غلام مرتضی اورحافظ سرفراز نے عدالت کو بتایا کہ حساس ادارے کے ایک افسرکو ممنوعہ علاقے میں کوسٹر لانے سے روکاگیاتھا جس پر ان کی بیٹی نے چیف ٹریفک افسر کی اہلیہ کو بلا لیا اور انہوں نے ہمیں دھمکیاں دیں کہ اگرانہیں نہ چھوڑا توتمہاری وردیاں اتروادوں گی۔ عدالت نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کیا اورمعطل وارڈن کو بحال کرنے اورانکوائری ختم کرنے کا حکم دیدیا۔

زندگی کی حقیقت

ہر کوئی اپنے دوست سے کہتا ہے “ہم ہمیشہ دوست رہیں گے”۔ یہ وعدہ کتنا دیرپا ہوتا ہے ؟ کبھی کسی نے سوچا ؟

ایک وقت دو بہت گہرے دوست ہوتے ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد دوست ہوتے ہیں ۔ مزید کچھ عرصہ بعد صرف ملنا جُلنا رہ جاتا ہے اور پھر کبھی ملتے بھی نہیں

عام طور پر تو ایسے ہوتا ہے کہ اِدھر آمنا سامنا ختم ہوا ۔ اُدھر دوستی ہِرن ہو گئی جسے کہتے ہیں آنکھ اَوجھل پہاڑ اَوجھل

لیکن ہر شخص کو دوست کی ضرورت ہوتی ہے اور دوست کی مدد بھی درکار ہوتی ہے

دوستی کو اگر بے غرض اور مُخلص رکھ کر وقت اور جغرافیہ میں قید نہ کیا جائے تو دوستی کا ہمیشہ قائم رہنا ممکن ہو سکتا ہے ۔ دوست تو ہوتا ہی وہ ہے جو آڑے وقت کام آئے لیکن دوستی کی بنیاد غرض ہو تو پھر ایسا نہیں ہوتا

کبھی کبھی ایسے بے مروت شخص سے بھی واسطہ پڑتا ہے کہ آپ اُس کے آڑے وقت کام آئیں لیکن وہ آپ کا دوست نہ بنے اور بعض اوقات آپ کو زِک پہنچائے ۔ یہ تجربہ بھی ایک لحاظ سے اچھا ہوتا ہے کہ دوست پہچاننے میں مدد دیتا ہے

ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے کہ کوئی دوست نہ ہونے کا احساس اُس کیلئے کرخت اور بعض اوقات وبالِ جان بن جاتا ہے
صرف اتنا سوچنا کہ میرا دوست ہے انسان کو بڑی بڑی پریشانیوں سے بچا لیتا ہے یا راحت کا باعث ہوتا ہے

بے لوث بھلائی کیجئے کہ بُرے وقت میں کئی لوگوں کی حقیقی دوستی کا تصور انتہائی خوشگوار اثرات کا حامل ہوتا ہے

سورت ۔ 41 ۔ سُورة فُصِّلَت یا حٰم السَّجْدَہ ۔ آیات 34 و 35 ۔ ۔ ۔ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر [طریقے] سے دور کیا کرو اس کے نتیجہ میں وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا ۔ اور یہ [خوبی] صرف اُنہی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ [توفیق] صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہوتا ہے

تشریح

ماحول انسان کے ذہن پر اس قدر اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان کے لئے حقیقت کو سمجھنا ہی محال ہو جاتا ہے ۔ کل میں نے اسی حوالے لکھا تھا ۔ تشریح نہ کی کہ میں اسلام آباد گيا ہوا تھا ۔ وہاں بھتیجے کا کمپیوٹر استعمال کیا جس میں اُردو نہیں تھی

ماضی کی تلخیوں کو بھُلانا دینا چاہیئے مگر ان سے سبق ضرور حاصل کرناچاہیئے
حال میں رہنے کا مطلب ہے کہ نہ تو یہ سوچا جائے کہ بڑے آدمی کی اولاد چھوٹا کام نہ کرے اور نہ یہ کہ چھوٹے آدمی کی اولاد بڑا کام نہیں کر سکتی ۔ نہ مستقبل کے لئے خیالی پلاؤ پکائے جائیں بلکہ حال میں مستقبل کیلئے جد و جہد کی جائے