Category Archives: روز و شب

اب ویسٹ انڈیا کمپنی

بلیک واٹر کی سرگرمیاں اور ہم خوابیدہ

بلیک واٹر دنیا کی طاقتور امریکی سیکیورٹی کمپنی ہے جو 1997 میں قائم ہوئی تھی اس کا اصل نام بلیک واٹر یو ایس اے تھا اب اس کا نام XE-WORLD WIDEہے۔ یہ امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں CIA کے تعاون سے ایک ٹریننگ کیمپ چلاتی ہے جس میں سالانہ 40 ہزار آدمیوں کو جن میں غیر ملکی اور پولیس والے جن کا تعلق امریکا سے ہوتا ہے ان کو سیکیورٹی ٹریننگ دیتی ہے۔ اس سیکیورٹی کمپنی کی بنیاد ایک امریکی ارب پتی پرنس ایرک نے رکھی تھی اور اس کا معاون Al Clock تھا جس نے 6000 ایکڑ زمین خریدی اور وہاں ایک بڑا ٹریننگ سینٹر قائم کیا اس کا تنظیمی ڈھانچہ 9 ڈویژن پر مشتمل ہے امریکن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تین بڑی سیکیورٹی کمپنیوں میں سے یہ سب سے بڑی ہے اس کا 90 فیصد سرمایہ امریکی حکومت کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے حاصل ہوتا ہے سابق صدربش کی ان کو آشیرواد حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ دو تہائی فیصد کنٹریکٹ بولی کے بغیر دیئے جاتے ۔ دنیا بھر میں 987 امریکی سیکیورٹی ٹھیکوں میں سے 788 بلیک واٹر کے پاس ہیں اس کمپنی کے پاس ڈالروں کے انبار لگے ہوئے ہیں ان کے اپنے جہاز، ہیلی کاپٹرز ہیں۔ جدید قسم کی ٹرانسپورٹ جن میں جدید قسم کے آلات نصب ہیں ان کے استعمال میں رہتے ہیں 2003 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو بلیک واٹر بھی ان کے پیچھے آگئی 16 ستمبر 2007 کو جب 17 معصوم عراقیوں کو بلیک واٹر نے گولیوں سے بھون دیا تو اس کے نتیجے میں ان کی بڑی بدنامی ہوئی اور عراقی حکومت نے ان کا لائسنس کینسل کر دیا لیکن امریکی دباؤ کے نتیجے میں چند ہزار لوگوں کو ستمبر 2009 تک اجازت دی گئی۔ یاد رہے دنیا میں امریکہ کا سب سے بڑا سفارت خانہ عراق میں ہے اور اس کی سیکیورٹی بلیک واٹر کے سپرد ہے بدنامی سے بچنے کے لئے نیام نام XE ورلڈ وائڈ رکھا گیا تھا۔
ان چند بنیادی باتوں کے بعد اب ہم ان کی سرگرمیوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ چند روز پہلے اسلام آباد میں یو ایس میرینز اور ایک پولیس افسر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی لیکن حکومت نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ میڈیا کے مطابق اب XE نے کھلے عام پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ جس ملک میں بھی جاتے ہیں وہاں سے ریٹائرڈ فوجی اور پولیس اور پیراملٹری فورس کے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اوران کو منہ مانگی تنخواہ دیتے ہیں پاکستان جہاں غربت اور بے روزگاری عروج پر ہے لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں اور پھر ان کو ٹریننگ دے کر ان سے ہر قسم کا کام کرواتے ہیں کہیں مسئلہ ہو جائے تو ان کو چھڑا کر لے جاتے ہیں ان کو پشاور اور اسلام آباد میں دیکھا گیا ہے پچھلے دنوں سینیٹر بخاری کے بھتیجے کے ساتھ بھی سفارتی انیکلیو میں واقع پیش آیا جب امریکی اہل کاروں کی اس سے توتکار ہوئی ۔ بقول امریکہ کے چوں کہ پاکستانی فورسز اپنے وزراء کو اسلام میں تحفظ نہیں دے سکتی اس لئے اپنا بندوبست کر رہے ہیں۔ سابق صدر نے امریکہ کو اپنی سرزمین دی اڈے دیئے، ایئرروٹ دیا، لینڈ روٹ دیا، ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ دی، اس پر قوم نے بڑا شور مچایا پھر ڈرون حملے شروع ہوگئے ہم ابھی ڈرون حملوں کو رو رہے تھے جنہیں ہم نے تقدیر مبرم کے طور پر قبول کرلیا ہے اس لئے احتجاج میں وہ شدت نہیں رہی لیکن اب معاملہ بہت آگے نکل گیا ہے، بلیک واٹر کی آمد، سفارت خانہ کی توسیع کے لئے 18 ایکڑ زمین کی فروخت یہ سب کچھ کیا ہے اصل میں امریکہ اسلام آباد میں ایک فوجی بیس بنانا چاہتا ہے جس طرح انہوں نے عراق اور افغانستان میں اپنی بیس بنائی ہیں اب ان کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا ہے سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے سفارت خانہ کا کیا رول ہوتاہے ان کا رول دونوں ملکوں کے درمیان مختلف امور پر رابطہ کرنا ہوتا ہے منی فوجی اڈے تعمیر کرنا نہیں ہوتا۔ میڈیا میں کافی شور مچایا جا رہا ہے ٹاک شوز ہو رہے ہیں جماعت اسلامی کے امیر مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن حکومت مکمل طور پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اس کا پھر مطلب یہی نکلتا ہے کہ XE حکومت کی اجازت سے سرگرم ہے ہماری حکومت کو تو صرف ڈالر چاہئیں وہ ملتے رہیں باقی سب ٹھیک ہے ہماری پارلیمنٹ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ایسے موقعوں پر اپوزیشن کا کردار اہم بن جاتا ہے لیکن وہ کولیشن پارٹنر ہے اور منہ میں دانت ہی نہیں ہیں اس لئے وہ بول ہی نہیں سکتے۔ عوام کو اعتماد میں لینے کے بجائے وقفے وقفے سے مہنگائی کے انجکشن دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی نہ بول سکیں اور حکومت اپنی مان مانی کرتی رہے اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں بلیک واٹر یعنی XE نے اپنا ہیڈ کوارٹر بھی قائم کیا ہوا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق XE اپنے پوشیدہ اپریشن کیلئے سرحد اور پنجاب سے اردو اور پنجابی بولنے والے لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے ان لوگوں میں بیشتر ریٹائرڈ فوجی، پولیس، بیورو کریٹس اور کچھ میڈیا کے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ آپ ویب سائٹ secure blackwatersa.com پر جائیں تو آپ کو ملازمت حاصل کرنے کیلئے فارم سامنے آجاتا ہے۔ بعض حالتوں میں کمپنی کا نام چھپانے کیلئے پوسٹ بکس کا سہارا لیا جاتا ہے ملک کے مختلف شہروں میں زمین حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہاں تربیتی مراکز قائم کئے جائیں میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی چند لوگوں کے ساتھ تجارت کرنے آئی تھی اور ہندوستان پر قبضہ جما لیا تھا۔
پاکستان میں امریکہ کے سفیرنے (جو ہمارے کم اور امریکی مفادات کی نگرانی کرنے میں مشہور ہیں) ایک ماہ میں 360 امریکی ویزے بغیر سیکورٹی کلیئرنس کے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیئے ہیں۔ اگر ہم نے اس پر دھیان نہ دیا تو یہ لوگ پورے پاکستان میں پھیل جائیں گے ۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہماری حکومت نے امریکہ کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں اور ہم یس سر یس سر کر رہے ہیں لیکن پاکستانی قوم یہ بات کبھی بھی گوارا نہیں کرے گی پاکستانی قوم پہلے ہی امریکہ کے رول کو پسند نہیں کرتی بہتر یہی ہو گا کہ حکومت اپنی پالیسی تبدیل کرے ورنہ عوام کا سمندر سب کچھ بہادے گا۔

تحریر ۔ مختار احمد بٹ بشکریہ جنگ بتایخ 30 ستمبر 2009

پریشان کن خبروں میں سے ایک

جن پریشان کن خبروں کا میں نے ذکر کیا تھا ان میں سے ایک اخبار مٰیں آگئی ہے ۔ ملاحظہ فرمایئے

یہ اس دن کی بات ہے جب صدر آصف علی زرداری امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ایک پرائیویٹ ادارے کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپہ مارنے کا فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں تین بڑے خفیہ اداروں نے اسلام آباد میں امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کے بارے میں اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں۔ یہ رپورٹیں سامنے آنے کے بعد اجلاس میں موجود وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو پانی سر سے اوپر جاتا ہوا محسوس ہوا اور انہوں نے فوری طور پر انٹر رسک نامی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کے دفتر پر چھاپے مارنے کا حکم دیدیا کیونکہ اطلاعات کے مطابق اس ادارے سے وابستہ کچھ سابق فوجی افسران ایک امریکی ادارے کے ساتھ مل کر پاکستان میں جاسوسی کا ایک نیٹ ورک بنا رہے تھے۔ جس دن اسلام آباد میں انٹر رسک کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا اس دن اسلام آباد کی سڑکوں پر ایسی درجنوں جیپیں نمودار ہوئیں جن میں مسلح گورے ہتھیاروں سمیت موجود تھے۔ ان جیپوں میں سوارگورے عام طور پر ٹریفک قوانین کی کوئی پروا نہیں کرتے اس وقت ایف سکس کے علاقے میں ایک چوراہے پر ریڈ سگنل کے باعث ٹریفک بند تھی لیکن ایک جیپ میں سوار گورے اپنے آگے موجود گاڑیوں کو ہٹانے کیلئے مسلسل ہارن بجائے جا رہے تھے۔ کچھ گاڑیاں ہٹ گئیں لیکن ایک گاڑی والے نے گوروں کو راستہ دینے سے انکار کردیا۔ اس گستاخی پر ایک مسلح گورا جیپ سے نیچے اترا اور اپنے آگے موجود گاڑی کے ڈرائیور کو باہر آنے کیلئے کہا۔ ڈرائیور نے شیشہ اوپرچڑھا دیا اور گورے کو نظر انداز کردیا۔ یہ دیکھ کر گورے نے اپنے ہتھیار سے گاڑی کے شیشے کو کھٹکھٹانا شروع کردیا۔ شاید پاکستانی ڈرائیور اس صورت حال کیلئے تیار تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ سے پستول نکالا اور گورے کو دکھا کر اپنی جھولی میں رکھ لیا۔ اس دوران ٹریفک سگنل کی لائٹ گرین ہوچکی تھی لیکن گوروں نے پاکستانی ڈرائیور کو گھیر لیا اور اپنے مزید ساتھی بلا لئے۔ موقع پر ہجوم اکٹھا ہوچکا تھا۔ یہ پاکستانی ڈرائیور پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر کا بھتیجا تھا اور لائسنس یافتہ ہتھیار کے ساتھ گوروں کو آنکھیں دکھا رہا تھا۔ مسلح گورے اسے اپنے ساتھ ”بیس کیمپ چلنے کیلئے کہہ رہے تھے لیکن پاکستانی نوجوان انکاری تھا۔ پولیس موقع پر پہنچ چکی تھی۔ پولیس نے گوروں سے ان کے ہتھیاروں کے لائسنس مانگے لیکن انہوں نے لائسنس دکھانے سے انکار کردیا جبکہ پاکستانی نوجوان نے فوراً اپنا لائسنس دکھا دیا۔ گورے مصر تھے کہ پاکستانی نوجوان کو تحقیقات کے لئے ان کے ساتھ جانا ہوگا لیکن اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے گوروں سے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے اور یوں سینیٹر کا بھتیجا گمشدہ افراد کی فہرست میں شامل ہونے سے بال بال بچ گیا۔ مجبوراً گورے اس نوجوان کے بغیر ہی موقع سے چلے گئے۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اگلے دن اس نوجوان کو ایف ایٹ کے ایک پٹرول پمپ پر انہی گوروں نے دوبارہ گھیر لیا اور اس کی تصاویر بنا کر موقع سے غائب ہوگئے۔ اس قسم کے واقعات آئے دن اسلام آباد میں پیش آ رہے ہیں۔ اسلام آباد پولیس شدید دباؤ میں ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائی روکنے کیلئے اسلام آباد پولیس نے شہر میں جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں ان ناکوں پر جب عام پاکستانی یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی گاڑیوں کی تلاشی تو لی جاتی ہے لیکن کالے شیشوں والی بڑی جیپوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ اپنی پولیس پر برسنے لگتے ہیں۔ ایک طرف اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کے دفتر پر چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ برآمد کیا جاتا ہے اور ایجنسی کا این او سی منسوخ کردیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف اسی شہر میں جیپوں پر ہتھیار لیکر گھومنے والے گوروں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
کیا اسلام آباد میں غیر ملکیوں کیلئے قانون کی پابندی ختم ہوچکی ہے؟ اگر ہم واشنگٹن یا لندن جا کر وہاں کے قانون کی پابندی کرتے ہیں تو وہاں کے رہنے والے ہمارے ملک میں آ کر پاکستانی قوانین کی پابندی کیوں نہیں کرتے؟ امریکی حکومت بار بار تردید کررہی ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں لیکن پاکستان کے بچے بچے کو پتہ چل چکا ہے کہ بلیک واٹر کا نام بدل دیا گیا ہے اور اب ایک امریکی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی نہیں بلکہ کم از کم تین امریکی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں پاکستان میں سرگرم ہیں۔ امریکی حکام دراصل پاکستان کو افغانستان سمجھ بیٹھے ہیں۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ جس طرح ان کے اہلکار کابل میں اسلحہ کے ساتھ جیپوں میں بلاروک ٹوک گھوم سکتے ہیں اسی طرح اسلام آباد میں گھومنا ان کا حق ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی آڑ لیکر داخل ہوئے تھے اور شمالی اتحاد نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔ پاکستان میں امریکی فوج کے داخلے کو جائز ثابت کرنے کے لئے نہ تو اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد موجود ہے اور نہ ہی پاکستان میں امریکیوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے کوئی شمالی اتحاد موجود ہے۔ اسلام آباد میں امریکیوں کی مشکوک سرگرمیاں امریکہ کے اپنے مفاد کیلئے خطرات پیدا کررہی ہیں کیونکہ اسلام آباد کے پڑھے لکھے اور معتدل مزاج طبقے میں امریکیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی نہ تو امریکہ کے فائدے میں ہے اور نہ ہی نئی جمہوری حکومت کے فائدے میں ہے جس کے گلے میں کیری لوگر بل کا پھندا ڈال دیا گیا ہے۔ سچی بات ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے اور سچائی یہ ہے کہ کیری لوگر بل کے باعث پاکستان میں ایک طرف امریکہ کے خلاف منفی جذبات میں مزید اضافہ ہوگا اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کی ساکھ کو بھی مزید نقصان پہنچے گا۔ اس بل کے تحت پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت کو روکنے کی کوشش بالکل درست ہے کیونکہ ماضی میں امریکہ نے ہر پاکستانی فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کی لیکن اس بل کے ذریعہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک رسائی کی کوششوں کو پاکستان میں پذیرائی نہیں مل سکتی۔ امریکہ نے اس بل کے ذریعہ افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف پاکستان میں کارروائی کا تقاضا کیا ہے لیکن کیا پاکستان نے افغانستان میں بھارت کے ان تربیتی کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو امریکہ کی ناک کے نیچے چلائے جا رہے ہیں؟ عام پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ کی پالیسیاں ان کی سلامتی کیلئے خطرہ بنتی جارہی ہیں۔ پاکستانیوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن امریکہ کی غلامی ننانوے اعشاریہ نو فیصد پاکستانیوں کو کسی قیمت پر قبول نہیں۔ کیری لوگر بل دوستی کی نہیں غلامی کی دستاویز ہے اور پاکستان کی پارلیمینٹ کو یہ دستاویز مسترد کردینی چاہئے

بشکریہ جنگ ۔ قلم کمان از حامد میر بتاریخ 28 ستمبر 2009

آخر کرنا ہی پڑا

میں 15 ستمبر کو اسلام آباد پہنچا اور دو تین دنوں میں اخبارات میں نہ چھپنے والی کچہ ایسی خبریں سنیں جو ہر محب وطن پاکستانی کیلئے پریشان کن تھیں ۔ ان کا ذکر مناسب سمجھا تو پھر کبھی کروں گا فی الحال آج کے اخبار سے ایک متعلقہ اقتباس

امریکی سفارتخانے کی حمایت یافتہ پاکستانی نجی سیکورٹی ایجنسی انٹر رسک جسے گذشتہ ہفتے پولیس کے چھاپوں اور مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑا اسے وزارت داخلہ کی جانب سے توڑ دیا گیا ہے۔اس ضمن میں جب ”دی نیوز“نے وزارت داخلہ کے ترجمان اور ایڈیشنل سیکریٹری راجہ محمد احسن سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انٹر رسک کو جاری کیا گیا این او سی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ حکومت امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں سے منسلک نجی سیکورٹی ایجنسیوں کے کردار اور ضابطہ اخلاق کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور آنے والے چند روز میں مزید ایجنسیوں پر پابندی لگنے کا امکان ہے ۔انٹر رسک کی بندش اور این او سی کی تنسیخ نے اس کی شراکت دار امریکی پارٹنر ڈین کورپ کے کردار اور ضابطہ اخلاق کے بارے میں مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں، ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ اب اس کو پاکستان سے اپنی سرگرمیاں سمیٹنے کا حکم دے دیا جائیگا۔حال ہی میں دی نیوز میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی جانب سے رواں سال کے تیسرے مہینے کی 30تاریخ کو رحمن ملک کو لکھے گئے خط کے متن کی اشاعت سے امریکی حکومت کے ڈین کورپ سے سیکورٹی کنٹریکٹ اور اس کے پاکستانی شراکت دار انٹر رسک پرائیویٹ لمیٹڈ اور اسپیڈ فلو فلٹر انڈسٹریز کی تصدیق ہو گئی ہے۔ این پیٹر سن حکومت پاکستان پرانٹر رسک کیلئے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے حصول کیلئے دباؤ ڈالتی بھی پائی گئی ہیں ، جبکہ انٹر رسک کے مالک نے دی نیوز کو تصدیق کر دی تھی کہ کمپنی کے پاس جدید ممنوعہ اسلحہ موجود تھا جو کہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے انٹر رسک کے نام پردر آمد کیا گیا تھا۔انٹر رسک کا مالک ایک ریٹائرڈ ملٹر ی کمانڈوکیپٹن (ر) سید علی جعفر زیدی ہے جو کہ ابھی تک پویس کے ہتھے نہیں چڑھا۔ بہر حال پولیس نے اس کی رہائشگاہ اور ایک سرونٹ کوارٹر (جس پر ایک حاضر سروس آئی بی انسپکٹرکا قبضہ تھا) سے بڑی مقدار میں مدفون اسلحہ بر آمد کر لیا ہے۔

پورا مضمون یہاں کلک کر کے پڑھیئے

غیر معمولی دن

آج کا دن غیر معمولی ہے کیونکہ

یہ دن ہماری زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا
اور نہ ہی یہ دن پھر کبھی آئے گا
سو يہی دن ہے ہمارے پاس
ہمارے لئے بہتر يہی ہے کہ اس دن کو بہترین طریقہ سے گذاریں
نہ کسی کی بد دعا لیں نہ کسی کی خفگی کا سامنا کریں
محنت سے اپنا کام کریں اور دوسروں کو اپنا کام کرنے دیں

تربیت

خاور صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تعلیم و تربیت کی بات کرتے ہوئے لکھا کہ تعلیم کے فروخت مراکز تو کھُل چُکے ہیں اور والدین اپنی اولاد کیلئے تعلیم خرید رہے ہیں مگر تربیت کہاں سے آئے کہ تربیت کے فروخت مراکز ابھی نہیں کھُلے ۔ اس پر مجھے یاد آیا وہ وقت جسے عصرِ حاضر کے جدید تعلیم یافتہ لوگ شاید دورِ جاہلیت کہتے ہوں کہ روشن خیالی نام کی صفت اُس زمانے میں ایجاد نہ ہوئی تھی

ہر سکول و کالج میں خواہ وہ راولپنڈی میں تھا یا لاہور میں ۔ ملتان میں تھا یا اٹک میں روزانہ سکول یا کالج کی پڑھائی کا وقت شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے میدان میں جسمانی تربیت [P.T=Physical training] ہوتی تھی ۔ جس طالب علم کی جسمانی تربیت کی حاضریاں 70 فیصد سے کم ہو ں وہ سالانہ امتحان نہیں دے سکتا تھا ۔ اگر وہ روزانہ کی جسمانی تربیت سے بچنا چاہتا تو صرف ایک طریقہ تھا کہ روزانہ عصر کے بعد ایک گھنٹہ کیلئے ہاکی یا فٹ بال کھیلے اور اپنا نام متعلقہ ٹیم میں درج کرائے

ہر سکول یا کالج میں ہفتہ میں ایک بار اخلاقی تربیت کا سبق بھی ہوا کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی گاہے بگاہے اساتذہ موقع پا کر اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتے رہتے تھے

پھر ایک دور آيا [عوامی دور] جس میں سب کچھ عوامی قرار دیا گیا مگر ہوتا وہ شاہی گیا ۔ تمام سکول و کالج قومیا لئے گئے اور وہاں پر اپنے من پسند لوگ تعینات کئے گئے ۔ مالدار لوگوں کے بچوں کی درسگاہیں الگ اور عام لوگوں کے بچوں کی الگ ہونا شروع ہوئیں ۔ پيسے والوں کے بچوں نے کلرکوں کچھ دے دلا کر اپنی حاضریاں لگوانی شروع کر دیں ۔ جسمانی تربیت صرف غریبوں کے بچوں کا مقدر بن کے رہ گئی ۔ ايک طرف بڑے لوگوں کے بچوں کیلئے انگریزی ناموں والے سکول کھلنے لگے جن میں میدان تھا ہی نہیں کہ جسمانی تربیت ہوتی ۔ کچھ میرے جیسے لوگوں نے شور مچایا تو جسمانی تربیت کو نصاب سے ہی باہر کر دیا گیا

اخلاقی تربیت ایسے غیرمحسوس طریقہ سے غائب کی گئی کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا

کیا مذاق صرف مسلمانوں کا اُڑانا جائز ہے ؟

نبیل نقوی صاحب لکھتے ہیں

یہ بات کافی اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان میں مسلمان ایمان کی روشنی سے سرشار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مذہبی جوش و جذبے کا تحت دوسروں کو جلا کر راکھ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی اس بارے میں محض تردید کافی نہیں ہو گی بلکہ انہیں اپنے ایمان کی باقاعدہ تجدید کرنی پڑے گی۔ ان حضرت مولانا نے ایمان کی تجدید کا پروسیجر نہیں بتایا کہ آخر ایمان کی تجدید کیسے کی جاتی ہے۔ شاید ان ملاؤں کو نذرانے سمیت حلوے کی دیگ پکوا کر بھیجنی پڑتی ہوگی

ایسی دیوانگی کو ایمان کی روشنی لکھنا تمام مسلمانوں کا ہی نہیں دین اسلام کا بھی مذاق اُرانے کے مترادف ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔ اگر مرتد المعروف مرزائیوں یا اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کچھ لکھا جائے تو طوفان برپا ہو جاتا ہے ۔ کیا مسلمانی کا يہی شیوہ ہے ؟

تجدیدِ دین کا معروف طریقہ جو بہت سادہ ہے کُتب میں موجود ہے ۔ ہر وقت دوسروں پر طنز کرنا بالخصوص جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں کیا مسلمان ہونے کی نشانی ہے ؟

قباحتیں

کچھ ایسی قباحتیں ہیں جو شاید غیرمحسوس طور پر ہماری خصلت بنتی جا رہی ہیں ۔ اچھی بات ہے کہ کم از کم رمضان مبارک میں مسجدوں میں رونق زیادہ ہوتی ہے لیکن جتنا نظم و ضبط ہمارے دین کا خاصہ ہے اتنا ہی کم ہم لوگ اس کی طرف توجہ دیتے ہیں

کسی دعوت پر جانا ہو تو ہم سج دھج کر اچھے سے اچھے کپڑے پہن کر جاتے ہیں ۔ کائنات کے مالک کے حضور پیش ہونے کیلئے کچھ حضرات نے ایسے کپڑے پہن رکھے ہوتے ہیں جو پہن کر وہ شاید کسی اور جگہ جانا پسند نہ کریں ۔ پھر آجکل کے فیشن کے مطابق تصویر والی بنیان جسے آجکل شرٹ کہا جاتا ہے پہن کر آ جاتے ہیں جسے پہننا ہی غلط ہے کُجا کہ مسجد میں پہن کر جائیں

کچھ حضرات کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا شوق ہے جس کے باعث بعد میں آنے والوں کو دقت ہوتی ہے ۔ جماعت کھڑے ہونے پر ان حضرات کو اگلی صفیں پُر کرنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے

کچھ مساجد ایسی ہیں جہاں لاؤڈسپیکر پر اذان سے قبل کچھ پڑھا جاتا ہے ۔ بالخصوص رمضان میں مغرب کی اذان سے قبل اگر کچھ پڑھا جائے اور کوئی اذان سمجھ کر روزہ کھول لے تو اس روزہ ٹوٹنے کا گناہ کس کے سر ہو گا ؟

رکوع یا سجدہ میں جاتے ہوئے کوہنیاں پھیلانا نامعلوم کونسی کتاب میں لکھا ہے مگر جب کسی کے پیٹ یا چھاتی یا منہ پر کُہنی لگتی ہے تو اس فعل کو کیا کہا جائے گا ؟