Category Archives: روز و شب

روٹی کپڑا اور مکان

یہ ہماری ایک بڑی سیاسی جماعت کا نعرہ ہے جس کی بنیاد پر اُنہوں نے 1971ء کے الیکشن میں خاصی کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ بے چاری سیدھی سادھی قوم ہے آپ اس کو جو بھی نعرہ دیں ، گولی دیں ، یہ بخوشی قبول کر لیتی ہے۔ پاکستان میں اس نعرہ کے بلند ہونے سے پیشتر یہ کمیونزم سے متاثر ہندوستان میں وجود میں آیا تھا اور یہ اس قد ر مشہور ہو گیا تھا کہ منوج کمار نے اپنی فلم کا یہی نام رکھدیا اور اس کو گولڈن جوبلی منا کر بہت شہرت ملی۔ کمیونزم نے ہندوستان میں پہلے اپنے قدم جمائے (مغربی بنگال اس کا گڑھ تھا) اور پھر پاکستان میں کچھ لوگ اس سے متاثر ہوئے کہ اس میں غریبوں کی مدد کا اصول اور وعدہ تھا۔ یہ تین نام یعنی روٹی، کپڑا اور مکان دراصل غریب انسان کی تین اہم بنیادی ضروریا ت کے نام ہیں یعنی خوراک، رہائش گاہ اور لباس (یعنی ستر پوشی)۔ عیار سیاست دانوں نے اس کی مقبولیت کو سمجھ کر انتخاب میں اپنے منشور میں شامل کر کے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا اور وہ بے چارے غریب کی دلی تمنا اور آواز ہونے کی وجہ سے کامیاب رہے۔ دوسرے وعدوں کی طرح اس کا بھی بُرا حشر ہوا لیکن عوام خواب خرگوش میں مبتلا ہو کر اچھے دنوں کے خواب اور امید میں زند گی گزارنے لگے

ہندوستان میں بھوپال کا ایک چمار جگجیون رام نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع کے عہدے پر فائز ہوا (اس کی بیٹی میرا کماری آجکل لوک سبھا کی اسپیکر ہے) ۔ یہ برسوں وزارت کے عہدے پر رہا اور اسکی مالی حالت اس قدر اچھی ہو گئی کہ پارلیمنٹ میں کسی نے جب اس سے سوال کیا کہ جگجیون رام جی آپکے بیٹے سریش بھائی نے چوبیس کروڑ روپیہ انکم ٹیکس کیوں ادا نہیں کیا تو منسٹر صاحب موصوف نے مسکرا کے فرمایا کہ وہ شاید بھول گیا ہو گا۔ اس سے آپ موصو ف کے ماضی اور موجو د ہ دولت کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔ کچھ اسی قسم کے معجزات ہمارے ملک میں بھی ظہور پذیر ہوئے ہیں اور عوام ان سے اچھی طرح واقف بھی ہیں لیکن مجبور ہیں ، کچھ کر نہیں سکتے اور بولنے سے ڈرتے ہیں۔ بہرحال یہ اس ملک ہندوستان کا حال ہے جس نے یہ نعرہ ایجا د کیا تھا۔ لاتعداد کئی دوسرے سیاسی لیڈر بھی اس معجزے سے مستفید ہو گئے۔ جب یہ پُرکشش نعرہ پاکستان میں داخل ہو ا تو لیڈروں نے اس کو لبیک کہا اور گلے لگا لیا اور ہر گلی کوچے میں یہ نعرہ دیواروں پر نظر آنے لگا اور اس کا چر چا ہونے لگا لیکن نعرہ اورچیز ہے اور اس پر عمل کرنا دوسری چیز۔ اس نعرے کے تین اجزاء میں روٹی ، کپڑا اور
مکان ہیں اور ان میں روٹی سب سے زیادہ اہم ہے۔ روٹی صر ف روٹی ہی نہیں بلکہ کھانے پینے کی تما م چیزیں مثلاً اجناس، ترکاریاں ، گوشت ،چینی گھی اور تیل وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال جو کمیونزم سے میلوں دور تھے انہیں بھی یہ کہنا پڑا :

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہءِ گندم کو جلا دو

ساتھ ہی انہوں نے ہمیں راستہ بھی بتلا دیا جس پر عمل ہو تو موجودہ نظام ہل جائے گا ۔
اُٹھو میری دنیا کے غر یبوں کو جگا دو
کاخ اُمراء کے در و دیوار ہلا دو

یہ بات برصغیر کے بڑے سے بڑے سوشلسٹ لیڈر کے ذہن میں اور زبان پر نہیں آ سکی ۔ راجہ مہدی علی خان نے یہ مشہور گیت لکھا تھا۔ ”دیوانہ آدمی کو بناتی ہیں روٹیاں“،
”خود ناچتی ہیں سب کو نچاتی ہیں روٹیاں“
عوامی کہاوت مشہور ہے کہ کسی نے بھٹو صاحب سے پوچھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ”چار روٹیاں“۔ معین احسن مشہور بھوپالی شاعر جو علی گڑھ چلے گئے تھے انہوں نے بہت پیارا شعر کہاہے:۔
جب جیب میں پیسے ہوتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہوتی ہے
اس وقت یہ ذرہ ہیرا ہے اس وقت یہ شبنم موتی ہے

جگر مراد آبادی کو یہ شعر بہت پسند تھا ۔ بار بار یہ غزل پڑھواتے تھے اور جوش کی طرف مسکر ا کر کہتے تھے ۔ دیکھئے یہ ہے سوشلزم ۔ مذہبی اعتبار سے بھوکے کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے ۔ پرانے زمانے میں امیر لوگ لنگر جاری کرتے تھے اور آج بھی نیک دل مخیر حضرات محدود طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا دے اور بر کت عطا فرمائے۔ آمین

مشرف نے جہاں لاتعداد بدمعاشیاں کیں وہاں غریبوں سے روٹی تک چھین لی، اپنی گندم سستے داموں بیچ کر مہنگے داموں در آمد کیا اور لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں اور فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ۔ خوب کمیشن کھا یا اور مزے اُڑائے ، لاتعداد لوگ زخمی ہوئے اور فوت ہو گئے ۔ یہ کارکردگی ہے ہمارے حکمرانوں کی ۔ ماشاء اللہ موجودہ حکومت اُ س سے بھی دس قدم آگے بڑھ گئی ہے ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں وزیروں اور ناظمین نے غریب خواتین او ر مر دوں کو تھپڑ لگا ئے ، جوتے مارے اور ڈنڈے برسائے۔ ایسے حکمران یقینا اپنے اعمال کا صلہ پائیں گے۔ اس بدنظمی کا سب سے بڑا سبب آئندہ آنے والے حالا ت سے غفلت ، ذخیرہ اندوزی اور وقت پر اناج کا ذخیر ہ نہ کرنا ہے اور کرپشن ہے۔ سر سے لے کر پیر تک ان کے بدن تعفّن کا شکار ہیں۔ یہی رواج جاری رہا تو کسان کاشتکار ی چھوڑ دے گا، لوگ اناج کو ترسنے لگیں گے اور غریب مستقل فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا۔ خدا رحم کرے اور ہمیں ایسے حالات سے محفوظ رکھے ۔ آمین

دوسری اہم ضرورت کپڑا ہے جس سے ستر پوشی کے تمام وسائل موجو د ہیں۔ انسان کی تخلیق کے بعد ہی شجر ممنوعہ کے پاس جانے سے آدم و حوّا برہنہ ہو گئے تو ستر پوشی کے لئے درختوں کے پتے ان کے کا م آئے ، پھر جانوروں کی کھالیں یہ کام دینے لگیں ، چرخہ کی ایجا د ہوئی تو کھّد ر سے ہوتے ہوتے بڑے بڑے مِل بن گئے لیکن مہنگائی بھی بڑھنے لگی تو ساحر لدھیانوی چلا اُٹھا :
مِلیں اس لیے ریشم کے ڈھیر بُنتی ہیں
کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں

آج اُمراء کے پاس ضرورت سے زیادہ اور غریب کے پاس بمشکل ستر چھپانے کو کپڑ ے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ نئے نئے فیشن کی وجہ سے امیر لوگ پرانے کپڑے جلد غریبوں کو دے دیتے ہیں۔ اسی طرح باہر سے پرانے کپڑے ، جو اعلیٰ قسم کے اور اچھی حالت میں ہوتے ہیں ، در آمد کئے جاتے ہیں اور لنڈ ا بازار میں معمولی قیمت پر غربیوں کو مل جاتے ہیں اور خاص طور پر سر دی کے موسم میں ان کو سردی کی شد ت سے بچا لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ عر صہ بعد لوگ بنیان اور لنگی اور پھر شاید قدرتی لباس میں نظر آنے لگیں۔ اسی لئے شاعر نے برجستہ کہا تھا:
تن کی عریانی سے بہتر ہی نہیں کوئی لباس
یہ وہ جامہ ہے نہیں جس کا کچھ اُلٹا سیدھا

کپڑے کی انسان کو نہ صرف زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی کفن کی صورت میں ضرورت پیش آتی ہے گویا :
جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی پاس نہ ہو گا
دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہو گا
(اسد بھوپالی )

نعرے لگانے کے بجائے موجودہ حکومت کا فرض ہے کہ غریبوں کو کم قیمت پر کپڑا مہیا کرے اور اپنے لیڈروں کے وعدوں کا ایفا کرے۔
سب سے آخری مگر نہایت اہم ضرورت سر چھپانے کی جگہ ہے جس کو کُٹیا ، چھونپڑی، مکان، فلیٹ، حویلی، محل وغیرہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔

دراصل یہ سائبان سر چھپانے اور قیام و رہائش کی جگہ ہے جسے کسی نہ کسی طرح حاصل کرنا فطرت و ضرورت انسانی ہے۔ آسمان ، فلک ، چرخ نیلی کو شاعروں نے ظالم اور بُرا کہا ہے سوائے ایک شاعر آتش لکھنوی کے جس نے کہا تھا:
خدا دراز کرے عمر چر خ نیلی کی
کہ ہم اسیروں کی تربت پہ شامیانہ ہوا

وہ تو تربت پر شامیانہ کو غنیمت سمجھتے ہیں مگر آج زندہ لوگ چھت سے محروم ہیں اور شاعر کو کہنا پڑتا ہے:
فٹ پاتھ پہ سو جاتے ہیں اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

اس طرح پچھلے چند سالوں میں لوگوں کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے کہ آج فٹ پاتھ ، ویران علاقہ ، کھنڈرات ، درختوں کے سائے اور کچی

جھونپڑیا ں ان کی پناہ گاہیں بن گئی ہیں۔ غریب اب غریب سے غریب تر ہو گیا ہے، نہ کھانا مل رہا ہے ، نہ کپڑا پہننے کو مل رہا ہے اور نہ سر پہ سایہ ہے۔ یہ موجودہ ترقی یافتہ زمانہ ہے اس کے مقابلہ میں ذرا وہ غیر ترقی یافتہ زمانہ جو حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کا دیکھیں ، کوئی غریب نہ تھا، کوئی زکوة لینے والا نہیں ملتا تھا۔ نہ ہوائی جہاز، نہ بحری جہاز، ریل ، ٹرک، ٹیلیفون، موبائل، ای میل، فیکس وغیرہ کچھ بھی نہ تھا پھر بھی مدینہ سے تاشقند ، ثمر قند اور شمالی افریقہ تک کے ممالک کے عوام کو تمام ضروریات زندگی میسر تھیں اور امن و امان قائم تھا۔ حکمران خوف الہٰی سے کانپتے تھے اور رات میں گھنٹوں عبادت اور دعا مانگتے رہتے تھے۔ مگر آج کے حکمران ہر چند روز بعد ایوانوں میں عشائیہ دیتے ہیں ، لاکھوں روپے کے اعلیٰ کھانے کھائے جاتے ہیں اور عوام کو ہر دوسرے روز جھوٹے وعدوں سے بہلا دیا جاتا ہے ۔ اس کی یقینا باز پُرس ہو گی اور ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہیں اور مخلص لوگوں کی تجاریز اور مشورے ان کے بہرے کانوں تک نہیں پہنچتے ، گویا بقول مومن#:
تیرا ہی دل نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں

کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے جوکہ ایوانوں کے مکینوں کے ضمیر کو ہلانے کو کافی ہے :
”جو گھر بنا تے ہیں اس گھر میں وہ نہیں رہتے “

بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ روٹی ، کپڑ ا اور مکان کا نعرہ توپورا نہ ہو سکا بلکہ اس کی جگہ جوتا، لاٹھی اور تھپڑ نے لے لی ہے۔

تحرير ڈاکٹر عبدالقدير خان ۔ بشکريہ جنگ

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ایک ارب کتنا ہوتا ہے

جانتے ہیں ایک ارب میں کتنے صفرے ہوتے ہیں ؟ مشکل سوال ہے ؟ چلئے حساب لگاتے ہیں

ایک ارب ثانیئے [seconds] کا مطلب ہے 38 سال

ایک ارب دقیقے [minutes] کا مطلب ہے 19ہزار 2 سال

ایک ارب گھنٹےکا مطلب ہے ايک لاکھ 14 ہزار ايک سو 55 سال

ایک ارب دنوں کا مطلب ہے 27 لاکھ 39 ہزار 7 سو 26 سال

مگر ہمارے سیاستدانوں کیلئے ایک ارب روپے کا مطلب ہے چند دن کا خرچ

جواب

مجھے ياد نہيں آ رہا کب مگر پہلے بھی ذکر ہوا تھا کہ لفظ ” نکتہ ” درست ہے يا ” نقطہ “۔ اب شاہدہ اکرم صاحبہ نے يہ سوال اُٹھا يا ہے ۔

اُردو ہماری قومی زبان ہے مگر جتنا بُرا سلوک ہماری قوم نے اس کے ساتھ پچھلی چار دہائيوں ميں کيا ہے ايسا کسی قوم نے اپنی زبان کے ساتھ نہيں کيا ہو گا ۔ نہ صرف بودے طريقہ سے اس ميں انگريزی کا جڑاؤ بلکہ الفاظ کا غلط استعمال اور غلط ہِجے ۔ ايک روز مرّہ کی مثال ہے کہ” طالب ” کی جمع ” طلباء ” ہے مگر دورِ جديد کے تمام علوم سے ليس لوگ ” طلبہ ” لکھتے ہيں ۔ اسی طرح ” طالب علم ” کی جمع ” طالب علموں ” لکھی جاتی ہے ۔ مُستقبَل کو مُستقبِل کہا جاتا ہے ۔ خير آتے ہيں اصل موضوع کی طرف ۔

” نُکتہ ” اور ” نُقطہ ” دونوں ہی درست ہيں ليکن دونوں کا مطلب مُختلف ہے ۔ ميں ان کے فقروں ميں استعمال سے معنی واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں

نُکتہ چِينی اچھی عادت نہيں
شاہدہ اکرم صاحبہ نے خُوب نُکتہ نکالا ہے
سيّد حيدرآبادی صاحب بہت نُکتہ داں ہيں

. . . . ميں نے چار نُقطے ڈالے ہيں
ب کے نيچے ايک نقطہ ۔ ت کے اُوپر دو نقطے
کسی چيز کی بہت ہی کم تعداد بتانے کيلئے مبالغہ آرائی کرتے ہوئے نُقطہ کا لفظ استعمال کيا جاتا ہے

ذاتی التماس
ميرے عِلم کے مطابق شاہدہ اکرم صاحبہ ايک تابعدار بيٹی ۔ جانثار بہن ۔ وفادار بيوی ۔ سمجھدار ماں اور صُلح جُو فردِ قوم ہيں اور سب سے بڑھ کر اچھی عورت کی مثال ہيں چنانچہ حسّاس بھی بہت ہيں اور برداشت کی قوت بھی بہت رکھتی ہيں ۔ اللہ اُنہيں سدا تندرُست و صحتمند ۔ خوش و خُوشحال رکھے ۔ اپنے قارئين سے بھی ميری درخواست ہے کے اُن کيلئے يہی دعا کريں

امریکی اخبار ۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دِکھانے کے اور

امریکی عدلیہ کی آزادی پر فخر کا دم بھرنے والے امریکی میڈیا جو کسی صورت میں اپنے سرکاری عہدیدار پر کرپشن کا الزام تک برداشت نہیں کرتا کی جانب سے امریکا کے بڑے اخبارات میں پاکستانی عدلیہ کے خلاف اور اس کے این آر او کے متعلق فیصلے کے حوالے سے جو کچھ بھی شایع ہوا ہے وہ سب غلط، آدھا سچ اور انتہائی حد تک متعصبانہ اور حقیقت سے انتہائی دور ہے ۔ کئی رپورٹس نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دی گئی ہیں اور ان میں پیپلز پارٹی کے حوالہ جات بھی شامل ہیں

صحافت کے اعلیٰ ترین معیارات کی پیروی کرنے کے دعوے کرنے والے ٹائم میگزین نے ڈھٹائی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے آئینی پیکیج کی حالیہ مخالفت چیف جسٹس کے دباؤ کا نتیجہ تھی ۔ میگزین کے مطابق چیف جسٹس نے نواز شریف کو دھمکی دی تھی کہ بصورت دیگر عدالتیں ان کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولیں گی

کئی اعلیٰ ترین وکلاء یہ سمجھتے ہیں کہ ٹائم میگزین میں جو کچھ شایع ہوا ہے وہ پروپیگنڈہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران چیف جسٹس سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے ججوں کے تقرر کے معاملے پر نواز شریف کے مؤقف کے مخالف ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چیف جسٹس ایسے کسی معاملے پر مشاورت کے خواہاں نہیں ہیں جو پارلیمنٹ کا اثاثہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ٹائم میگزین یہ نوٹ کرنے میں ناکام ہوگیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے حال ہی میں سینیٹر رضا ربانی کی زیر قیادت پارلیمانی کمیٹی کے کام کی تعریف کی گئی ہے ۔

واشنگٹن سے شائع ہونے والے ایک اور جريدہ ”دی ہل” میں جارج برونو نے پاکستان میں ہونے والی ایک بغاوت کا ذکر کیا ہے ۔ بے وقوفی سے بھرپور اس تحریر میں پروپیگنڈہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ مضمون پاکستانی لابِسٹس کے زیر اثر تحریر کیا گیا ہے ۔ اس مضمون میں پاکستانی عدلیہ کے سیاست زدہ ہونے کی بھی بات کی گئی ہے ۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے آئین کی مخالفت میں نہ صرف عدالتوں میں پیدا ہونے والی اسامیوں پر تقرر کا وزیراعظم کا اختیار چھین لیا ہے بلکہ ایگزیکٹو برانچ کی طاقت بھی چھین لی ہے ۔ “دی ہل” کی جانب سے شائع کی گئی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ اسے ان معاملات میں آئینی شقوں کا علم ہی نہیں ہے ۔

تحریر میں جارج برونو نے خود کو یونیورسٹی آف نیو ہمپشائر کے “پارٹرنز فار پیس” پروگرام کے شریک ڈائریکٹر کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ انہوں نے خود کو سابق امریکی سفیر بتانے کے علاوہ کلنٹن انتظامیہ میں خدمات انجام دینے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی عدلیہ کے خلاف جو کچھ بھی لکھا ہے اس کے بعد ان کی ساکھ کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے پاکستان میں جاری حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کے موقف اور سوئس پراسیکیوٹر جنرل کے بیان کے بعد سے پاکستان میں کرپشن کے کیسز پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ۔ جبکہ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار اور صدر زرداری کے قریبی دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا کہ جہاں تک میرا خیال ہے سپریم کورٹ میں ساری کارروائی ایک تماشہ اور سیاسی نمبر بڑھانے کا عمل دکھائی دیتی ہے کیونکہ چیف جسٹس اس قانونی صورتحال سے لاعلم نہیں رہے سکتے کہ درحقیقت سوئٹزرلینڈ میں اس کیس پر کارروائی نہیں ہوسکتی

بنیادی طورپر یہ امریکی میڈیا ہی تھا جس نے مقدمہ چلنے یا مؤاخذہ ہونے سے قبل ہی صدر رچرڈ نکسن کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا ۔ امریکی میڈیا یہ بات بھی بھول جاتا ہے کہ پاکستان کے منتخب سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور ماضی کے حکمرانوں، بشمول موجودہ صدرِ پاکستان، کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرانے کی خاطر این آر او کے اجراء میں امریکا اور برطانیہ کا ہی ہاتھ تھا ۔ پارلیمنٹ کی جانب سے این آر او کو منظور کرنے سے انکار کرنے کے بعد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے کالعدم قرار دیا ۔ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کیا امریکا اپنے ملک میں ایسا غلیظ قانون منظور ہونے دے سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو امریکی میڈیا ایسی چیز کو ہمارے لئے اچھا کیوں سمجھتا ہے جو اس کے اپنے ملک کے لئے ناپسندیدہ ہو

بشکريہ ۔ جنگ

موبائل فون سے دو دو ہاتھ

موبائل فون کی تين بيمارياں ہيں
1 ۔ مختصر پيغامات ۔ ايک ۔ کمپنی کے اشتہارات ۔ دوسرے ۔ جو فارغ لوگ بھيجتے ہيں
2 ۔ دھوکہ والی کالز
3 ۔ مِسڈ کالز

ميں اُلٹی ترتيب سے چلتا ہوں ۔ ہم رات کو نو دس بجے تک سونے کے عادی ہيں ۔ دو تين رات گيارہ بارہ بجے کے درميان مِسڈ کالز آئيں تو ميں نے صبح کے وقت اُس نمبر پر ٹيليفون کيا ۔ خاتون نے ہيلو کہا ميں نے وجہ بتائی تو کھِلکھلا کر ہنس پريں اور کہنے لگيں “يہاں سے تو کسی نے نہيں کيا ۔ ميں نے کہا “اگر اب اس نمبر سے کال آئی تو اس کی سزا کا بندوبست کرنا پڑے گا”۔ اگلی رات ايک اور دو بجے کے قريب اُسي نمبر سے مسڈ کال آئی ۔ اگلے دن صبح ميں نے پی ٹی اے کے چيئرمين کو ای ميل بھيجی اور اس کا نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ اس طرح ميں پچھلے چار سال ميں چار نمبر بلاک کروا چکا ہوں جن ميں سے تين خواتين کے تھے اور ايک لڑکے کا

ايک سال قبل ايک کال آئی “ميں فلاں کمپنی سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کے نمبر پر انعام نکلا ہے ۔ آپ فلاں نمبر پر کال کيجئے تاکہ انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے اُس کی بجائے جس موبائل کمپنی کا نمبر تھا اُن کو شکائت بھيجی اور نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ 22 مارچ 2010ء کو ايک کال آئی “ميں وارد کے ہيڈ آفس سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے ۔ آپ اسی نمبر پر کال کيجئے تاکہ آپ کا انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے وارد کے منيجر ريگوليشنز کو ای ميل بھيجی اور دوسرے دن اُس کا جواب آ گيا کہ نمبر بلاک کر ديا گيا ہے

موبائل فون کمپنی کے اپنے اشتہارات کا تو ميں کچھ کر نہيں سکتا ۔ البتہ فارغ لوگوں کو ميں کم ہی جراءت کرنے ديتا ہوں ۔ ايک ميرا ہم زُلف ہے ۔ اُسے اسی ماہ يو فون والوں نے 3000 مختصر پيغامات بھيجنا مُفت کر ديا ۔ اُس نے پچھلے چار دن سے پريشان کيا ہوا ہے ليکن چند پيغامات اس قابل ہيں کہ يہاں لکھے جائيں

سب سے اچھا ہے
ہم تو مِٹ جائيں گے اے ارضِ وطن ليکن تم کو
زندہ رہنا ہے قيامت کی سحر ہونے تک

ايک آدمی نے دريا سے مچھلی پکڑی اور خوش خوش گھر آيا ۔ ديکھا تو بجلی بند ۔ گيس کم ۔ اور تيل بھی ختم ۔ واپس گيا اور مچھلی کو دريا ميں پھينک ديا ۔ مچھلی اُچھل کر پانی سے باہر آئی اور نعرہ لگايا “جيو زرداری”

کون کہتا ہے کہ پاکستان ميں غم ہيں خوشياں نہيں ۔ بجلی آنے کی خوشی ۔ بازار سے ہو کر زندہ واپس گھر آنے کی خوشی ۔ مسجد ميں نماز کے بعد خودکُش حملے سے بچ جانے کی خوشی ۔ بس سے اُترنے کے بعد اپنے موبائل کو اپنی جيب ميں پانے کی خوشی ۔ اتنی خوشياں ہونے کے باوجود پاکستانی عوام خوش نہيں

نيند اور سُستی ہماری بہت بڑی دُشمن ہيں ۔ علامہ اقبال
ہميں اپنے دُشمن سے بھی پيار کرنا چاہيئے ۔ قائد اعظم
دسو ہَن بندہ کِدی منّے

A mistake which makes you sober is much better than an achievement which makes you proud

الطاف بھائی حج کرنے گئے ۔ جب وہ شيطان کو پتھر مارنے لگے تو آواز آئی “بھائی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔ آپ نے يہاں آنے کی زحمت کيوں کی ۔ مجھے لندن بُلوا ليا ہوتا”

فقير “بھوکا ہوں ۔ اللہ کے نام پر تھوڑا سا کھانا دے ديں”
باجی “کھانا ابھی نہيں پکا”
فقير “باجی ۔ نمبر لکھ ليں جب پک جائے تو مِسڈ کال دے دينا”

سال 1990ء
“يار ۔ آج بجلی کيوں بند ہوئی ہے ؟”
“ٹرانسفارمر بدل رہے ہوں گے”

سال 2010ء
“يار ۔ يہ بجلی کب آئے گی ؟”
“جب ہمارے محلے کی بند ہو گی تو تمہارے محلے کی آئے گی”

سال 2020ء
” يار ۔ صبح سے بجلی بند ہے ۔ کب آئے گی”
“آج ملتان کی باری ہے اور کل لاہور کی ۔ سو کل تمہاری بجلی آئے گی اور ملتان کی بند ہو گی”

سال 2030ء
“يار سُنا ہے کہ بجلی نام کی کوئی چيز ہوا کرتی تھی ۔ جس سے گھر جگ مگ کرتے تھے”
“چُپ کر کے سو جا ۔ تمہيں ايسے ہی کسی نے بہکا ديا ہے”

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ خوشی اور صحت کاراز

خاميوں سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اس کے بعد اللہ کے برگزيدہ بندے يعنی انبیاء عليہم السلام ہيں ۔ باقی ہر انسان ميں خامياں موجود ہوتی ہيں ۔ اگر غور کيا جائے تو اکثر انسانوں ميں خوبياں اُس کی خاميوں سے زيادہ بلکہ بہت زيادہ ہوتی ہيں

نجانے کيوں انسان کی عادت ہے کہ دوسرے انسانوں کی خاميوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کے نتيجہ ميں پریشان ہوتا ہے ۔ فرض کريں کہ انسان کی کُل خواص 100 ہيں ۔ اب اگر ایک آدمی ميں 15 خامياں ہيں تو ان 15 کی وجہ سے پريشان ہونے کی بجائے اُس آدمی کی 85 خُوبيوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو اس کا نتيجہ ايک خوشگوار احساس ہو گا جس کا صحت پر اچھا اثر پڑے گا اور ساتھ ہی اچھے تعلقات بھی استوار ہوں گے

خوشی اور صحت دوسروں کی خاميوں کی بجائے اُن کی خوبيوں پر نظر رکھنے سے حاصل ہوتی ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” پچھلے ساڑھے پانچ سال سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے