Category Archives: روز و شب

کيا دنيا مردوں کی ہے ؟

يہ ميں نے نہيں لکھا
بلکہ برطانيہ ميں پيدا ہونے والی ايک برطانوی پڑھی لکھی کئی بچوں کی ماں کی سائٹ سے نقل کيا ہے

لڑکی زور سے ہنسے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوبصورتی
لڑکا زور سے ہنسے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گنوار
لڑکی ميٹھا بولے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پياری لگے
لڑکا ميٹھا بولے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاپلوس
لڑکی شاپنگ کرے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رواج
لڑکا شاپنگ کرے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حرام کا مال جو ہے
لڑکی خاموش رہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غمگين
لڑکا خاموش رہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مِيسنا
لڑکياں مل کر چليں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گروپ
لڑکے مل کر چليں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے غيرتوں کا ٹولہ

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ اسلام ميں داخلے کا امتحان

مسلمان والدين کے ہاں پيدا ہونے والی ہر لڑکی اور ہر لڑکا مسلمان ہوتا ہے اور ساری زندگی وہ اپنے آپ کو اِسی بنا پر مسلمان سمجھتے ہيں ۔ تقريباً تمام سکولوں ميں پہلے چھ کلمے پڑھائے جاتے ہيں جو کہ سب بچے طوطے کی طرح رَٹ ليتے ہيں مگر بہت ہی کم ايسے طلباء و طالبات ہوتے ہيں جو ان کلموں کے معنی اور مقصد پر غور کرتے ہوں گے ۔ يہ چھ کلمے دراصل اسلام ميں داخلے کا امتحان ہيں جس کے بعد مسلمان ہونے کی کئی اور منازل بھی ہيں ۔ صرف چھٹا کلمہ نقل کر رہا ہوں تاکہ سب اپنا احتساب کريں کہ انہيں اسلام ميں داخلہ مل گيا ہے يا نہيں ؟

چھٹا کلمہ

اَللَّھُمَ اِنیِ اَعُوذُ ِبکَ مِن اَن اُشرِکَ بِک شَیئًا وَّاَنَا اَعلَمُ بِہٖ وَ اَستَغفِرُکَ لِمَالَا اَعلَمُ بِہٖ تُبتُ عَنہُ وَ تَبَرَّاَتُ مِنَ الکُفرِ و َالشِّرکِ وَ الکِذبِ وَالغِیبَۃِ وَ البِدعَۃِ وَ النَّمِیمَۃِ وَ الفَوَاحِشِ وَ البُہتَانِ وَ المَعَاصِی کُلِّھَا وَ اَسلَمتُ وَ اَقُولُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ

اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تیرے ساتھ کسی کو شریک کروں اور وہ میرے علم میں ہو ۔ اور میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اس گناہ سے جس کا مجھے علم نہیں ۔ میں نے اس سے توبہ کی اور میں بیزار ہوا کفرسے اور شرک سے اور جھوٹ سے اور غیبت سے اور ہر نئی بات سے جو بری ہو اورچُغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور کسی پر بہتان باندھنے سے اور ہر قسم کی نافرمانی سے اور میں اسلام لایا اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں

آج کی اہم ملکی جبريں

ہم دنيا کی بہترين قوم ہيں اسلئے ہماری ہر چيز بہترين اور اچھوتی ہے
دوسرے مُلکوں کی خبريں ہوتی ہيں مگر ہمارے مُلک ميں جبريں ہوتی ہيں
حاضر ہيں آج کی اہم جبريں ۔ ہر جبر کے 2 حصے ہوں گے ۔ پہلا ۔ جو کہا گيا اور دوسرا ۔ جو مطلب ہے

صدرِ محترم کا گلا پھاڑ اعلان
“عوام دستی کو چاہتے ہیں تو تم کیا کر سکتے ہو”
مطلب ۔ عوام دھوکے باز ہيں تو کيا وہ ديانتدار شخص کو پسند کريں گے ؟

عدلیہ سے مخاطب ہو کر ” آپ مان لیں کہ عوام اصل طاقت ہیں”
مطلب ۔ اعلٰی عدالتوں کو ميں ياد دہانی کراتا ہوں کہ ہمارے جيالوں کا جتھہ جس سڑک سے گذرتا ہے اس سڑک پر کوئی چيز سلامت نہيں رہتی ۔ ديکھتے نہيں ہم کراچی ميں بولنے والوں کو کتنی صفائی سے راستہ سے ہٹا رہے ہيں

” اپنے دوستوں کو صبر کی تلقین کرتا ہوں”
مطلب ۔ ابھی تو ميں نے ايک ارب ڈالر سے کچھ اُوپر جمع کيا ہے ۔ صبر سے کام ليں ۔ کم از کم 10 ارب ڈالر تو کر لينے ديں پھر اگر کچھ بچ گيا تو تم لے لينا

حکومت کا اعلان
حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت بجلی کے نرخوں میں آج بروز جمعرات یکم جولائی سے 7.6 فیصد فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ روز کے 14 پيسے فی يونٹ اضافے سے الگ ہے
مطلب ۔ ہميں ووٹ دو گے تو ايسے ہی مزے پاؤ گے ۔ ہم سے کچھ تو سيکھو ۔ بِل ادا کرنا ہے تو مال بناؤ ۔ تمہارے ہاتھ پاؤں نہيں ہيں کيا ؟

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا اعلان
جن علاقوں میں چوری کی شرح 10 فیصد سے کم ہے وہاں لوڈشیڈنگ 3 سے 2 گھنٹے کر دی جائے گی۔ وقت پر بل ادا کرنے والوں کو کچھ فری یونٹ دیئے جائیں گے
مطلب ۔ بجلی ضرور چوری کرو بھائی مگر کچھ ہماری اِجت کا بھی کھيال رکھو ۔ بھائی تھوڑا سا بِل تو ادا کر دو ۔ ہم اُس ميں سے بھی کچھ يونٹ مُفت کر ديں گے ۔ بھائی جرا کھيال کرو ہماری اِجت کا

عوام کا اعلان
چنيوٹ ميں غربت سے تنگ آکر خاتون نے 2 بچوں سمیت دریا میں کود کر خودکشی کرلی
مطلب ۔ عوام کے پاس اب ايک ہی طاقت رہ گئی ہے اس جمہوريت ميں ۔ سُنا تو تھا کہ جمہوريت کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہيں

طالبعلم 10 سال سےلاپتہ

” میرے بیٹے کی خطا یہ تھی کہ اس کے چہرے پر داڑھی تھی” یہ الفاظ ہیں مغلی کے جو پچھلے 10 سال سے اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہے۔ مغلی کا 23 سالہ بیٹا عاشق حسین ملک ساکنہ پیرباغ حیدر پورہ 12ویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہائرسکنڈری سکول جواہر نگر میں زیر تعلیم تھا ۔ اپنی روئیداد بیان کرتے ہوئے عاشق کے بڑے بھائی محمد کمال نے کہا ”23 اور 24 مئی 1997ء کی درمیانی رات کو 20 گرینیڈرس جس کی قیادت کمانڈر اے اے ملک کررہے تھے اور ان کے ساتھ ایک نقاب پوش آدمی بھی تھا نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور عاشق کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ محلہ کے ہی ایک اور نوجوان غلام قادر بٹ کا مکان دکھائے” ۔ محمد کمال کا مزید کہنا ہے کہ” بٹ کو فوج پہلے ہی حراست میں لے چکی تھی اور اسکا گھر دکھانے کابہانہ کرکے وہ عاشق کو گاڑی میں دھکیل کر بھاگ گئے”۔

محمد کمال نے بتایا کہ اگلے ہی دن وہ 20 گرینیڈرس کے کیمپ واقع گریند بڈگام پہنچ گئے لیکن وہاں فوج نے انہیں عاشق سے ملنے نہیں دیاجبکہ فوج نے یہ اعتراف کرلیا کہ عاشق اُن ہی کے پاس ہے۔ محمد کمال نے حیرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا ”اپنادکھڑا سنانے کیلئے ہم پولیس کے پاس گئے مگرپولیس چوکی ہمہامہ نے ایف آئی آر درج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ایس پی بڈگام کے ہدایات ہیں کہ فوج کے خلاف کوئی شکایت درج نہ کریں ”۔

محمد کمال کے مطابق پانچ دن کے بعد غلام قادر بٹ کو رہا کیا گیا اور اذیتوں کی داستان سناتے ہوئے بٹ نے انہیں بتایا کہ پورے پانچ دن ان دونوں (عاشق اور بٹ) کو ننگا رکھا گیا اور شدید انٹروگیشن کیا گیا ۔ پانچویں دن کپڑے پہننے کی اجازت دیکر بٹ کو رہا کیا گیا ”۔ کسمپرسی کی دلخراش داستان سناتے ہوئے محمد کمال کہتے ہیں” ایک سال تک ہم متعلقہ فوجی کیمپ کی خاک چھانتے رہے یہاں تک کہ وہ کیمپ وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا”۔ عاشق کے لواحقین نے فوج تو فوج سیاست دانوں اور ذمہ داروں تک کا دروازہ کٹھکھٹایا مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا۔ کمال نے کہا ”ہم متعلقہ ضلع کمشنر سے لیکر وزیر اعلیٰ تک درخواست لے کر پہنچے لیکن وہاں سے خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا ”۔

عاشق کی عمر رسیدہ ماں مغلی کا کہنا ہے ” انٹروگیشن سنٹروں سے لے کر سب جیل ، سب جیل سے لے کر ہرکسی جیل تک بیٹے کو ڈھونڈا لیکن کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔ یہاں تک کسی نے ایک بارافواہ پھیلائی کہ عاشق دلی کے تہاڑ جیل میں ہے، وہاں بھی پہنچے لیکن بے سود”۔

محمد کمال نے سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کی ساخت پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا ”کمیشن میں مقدمہ دائر کرنا فضول ہی ثابت ہوا کیونکہ گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد کمیشن نے فیصلہ سنانے کے بجائے اُنہیں یہ مشورہ دیا کہ کیس واپس لیکر معاوضہ لیجئے ”۔ محمد کمال کے بقول ایس ایچ آر سی نے انہیں یہ کہہ کر اور زیادہ مایوس کیا کہ کمیشن کو فوج کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

محمد کمال نے اپنی مایوسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”کہ جب ہر جگہ سے خالی ہاتھ ہی لوٹے تو بعد میں ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور 20 گرینیڈرس اور کمانڈر اے اے ملک کے خلاف مقدمہ زیر نمبر 145/97 دائر کیا۔ ہائی کورٹ نے سیشن جج بڈگام کو تحقیقات کرنے کیلئے حکم نامہ بھیجا ۔ سیشن جج بڈگام نے گواہوں کے بیانات بشمول بٹ کے قلمبند کئے اور پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا اور پولیس نے تب جاکے ایف آئی آرزیر نمبر 18/2005/342,365RPCمورخہ 3 فروری 2005ءکو درج کیا”۔ 2007ء میں منظر پر عام پر آئے زیر حراست ہلاکتوں کے واقعات کے حوالہ سے محمد کمال نے اپنے اندر کے ڈر کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے کہا ” گاندر بل اور سمبل کے قبرستانوں سے بے گناہ کشمیریوں کی لاشیں نکالے جانے کے بعد ہماری پریشانیوں میں اور زیادہ اضافہ ہوگیاہے”۔

تحرير ۔ امتياز خان ۔ سرينگر ۔ مقبوضہ جموں کشمير

مياں بيوی ميں جنگ کيسے شروع ہوتی ہے

ايک خاوند گھر ميں اکيلا چھوٹے موٹے کام کر کے فارغ ہو گيا تو سمجھ ميں نہيں آ رہا تھا کيا کرے ۔ ٹی وی آن کيا اور ريموٹ کنٹرول سے چينل تبديل کرنے لگ گيا ۔ اتنی دير ميں بيوی آ گئی اور خاوند کے ساتھ صوفے پر بيٹھ کر بولی

بيوی “جانی ۔ ٹی وی پر کيا ہے ؟”

خاوند “خاک”

اور پھر جنگ شروع ہو گئی

———— ——— ——— ——— ——— ——— ———

بيوی سج دھج کر کہيں جا رہی تھی ۔ خاوند کو خدا حافظ کہا تو وہ بولا

خاوند ” واپس کب آؤ گی ؟”

بيوی ” کيوں ؟ ”

خاوند ” ميرا مطلب ہے کل ہماری شادی کی سالگرہ ہے ۔ کيسے منانے کا ارادہ ہے ؟ ”

بيوی ” ميرا جی چاہتا ہے کہ اب کے شادی کی سالگرہ ايسی جگہ مناؤں جہاں گئے کافی عرصہ ہو گيا ہے ”

خاوند ” تو پھر کيا خيال ہے کل کا دن باورچی خانہ ميں گذاريں ؟ ”

پھر جنگ شروع ہو گئی

بچوں کو لکھنا کيسے سيکھائيں

عنيقہ ناز صاحبہ نے اچھا موضوع چُنا ہے ۔ طريقہ جو بتايا ہے اُس سے ميرے پوتے پوتياں مستفيد ہو سکتے ہيں ۔ ايسے بچے تو پہلے سے ہی اُونچے نام والے سکولوں ميں پڑھتے ہيں ۔ اگر ايسے بچوں ميں تعليم کی کمزوری پائی جاتی ہے تو اس ميں طريقہ تعليم کا کوئی دوش نہيں ۔ اُن کے والدين کی لاپرواہی يا غرور کا نتيجہ ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اصلاحِ طريقہ تعليم کی ضرورت اُن 60 سے 70 فيصد طلباء و طالبات کو ہے جن کے والدين ايسے سُلجھے ہوئے طريقوں پر عمل کرنے سے قاصر ہيں جس کی تين وجوہات ہيں

ايک ۔ والدين اَن پڑھ ہيں يا کم پڑھے لکھے ہيں
دو ۔ والدين گھر کے اخراجات مہيا کرنے ميں اتنے مصروف ہوتے ہيں کہ بچوں کو وقت نہيں دے سکتے

تين ۔ سب سے بڑی وجہ يہ ہے کہ اس طريقہ پر چلنے کيلئے اُن کے پاس وسائل نہيں ہيں

اس کا حل ميں بعد ميں بتاؤں گا پہلے ميری آپ بيتی

اللہ کی کرم نوازی ہے کہ ميں نے بلامعاوضہ پہلی جماعت سے لے کر ايم ايس سی تک کے بچوں کو پڑھايا ہے اور ملازمت کے طور پر 3 سال ايسوسيئيٹ انجنيئر ڈپلومہ کلاسز اور 5 سال بی ايس سی انجنيئرنگ کلاسز کو پڑھايا ہے

ميں نے درجن بھر ننھے بچوں کو سکول داخل ہونے سے پہلے پڑھنا لکھنا سکھايا ۔ ان ميں 4 ميرے مجھ سے 10 سے 15 سال چھوٹے بھائی بہن اور 3 ميرے بچے ہيں ۔ ان سب پر ميں نے بڑے حِلم کے ساتھ محنت کی مگر ميری مجھ سے 15 سال چھوٹی بہن کو پڑھانا اور لکھانا ميرے لئے سب سے بڑا امتحان تھا ۔ ميں نے کہا پڑھو “الف” تو اس نے کہا “پڑھو الف”۔ خير اس سے تو جلدی جان چھوٹ گئی ميں نے صرف الف کہنا شروع کيا ۔ ميں نے کہا “ب”۔ تو بہن نے کہا “نہيں آتا” ۔ ميں نے کہا ” A ” تو اس نے کہا ” A “۔ ميں نے کہا ” B “۔ تو اُس نے کہا “نہيں آتا”۔ ميں نے کہا “ايک” تو اُس نے کہا “ايک”۔ ميں نے کہا “دو”۔ تو اس نے کہا “نہيں آتا”

ميں انجنئرنگ کالج سے گرميوں کی چھٹيوں ميں گھر آيا ہوا اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ تين دن ميں پوری کوشش کرتا رہا مگر ميری پياری بہن کا جواب نہ بدل سکا ۔ پھر اس کا ايک حل ذہن ميں آيا ۔ ميں بازار سے اچھے معيار کا سفيد کاغذ اور رنگدار پنسليں لايا اور ايک کاغذ پر رنگدار سيب بنايا اور ساتھ لکھا ” A for Apple “۔ پھر بہن کو دکھا کر کہا ” A for Apple “۔ اُس نے کہا ” A for Apple “۔ ميں نے دوسرے کاغذ پر کرکٹ کا بلا بنايا اور اسے کہا ” B for Bat “۔ تو بلا توقف بہن نے کہا ” B for Bat “۔ اسی طرح انگور کا گچھا بنا کر لکھا الف سے انگور اور بلّی بنا کر لکھا ب سے بلّی اور وہ پڑھتی گئی ۔ گنتی کيلئے بنايا ايک سيب دو ناشپاتی تين آلو بخارے وغيرہ وغيرہ ۔ ميرا نُسخہ کامياب ہو گيا ۔ اس طرح ميں نے اُسے حروفِ ابجد اور Alphabet صرف ايک ماہ ميں پڑھا دی البتہ ميری ڈرائينگ بنانے کی اچھی مشق ہو گئی ۔ لکھنے کيلئے چار لکيری کاپی لايا اُس پر ہلکی پنسل سے ميں لکھ ديتا اور بہن سے کہتا کہ ان لکيروں پر لکيريں لگاؤ مگر ديکھو اگر آپ کی لکير ميری لکير سے باہر نہ گئی تو آپ بادشاہ بنو گی ميں وزير اور اگر آپ کی لکير باہر چلی گئی تو آپ وزير بنو گی اور ميں بادشاہ

ميں نے اس طرح 2 ماہ ميں اپنی اس بہن کو پڑھنا اور لکھنا سکھا ديا تو اُس نے ايسی رفتار پکڑی کہ ہر جماعت ميں شاباش ليتی بڑھتی گئی اور ايم ايس سی بوٹنی کے بعد ايم فِل کيا ۔ ايک سال بعد پی ايچ ڈی بھی کر ليتی اگر اُس کی شادی نہ کر دی جاتی

ہمارا معاشرہ جس ميں 40 فيصد آبادی غربت کی لکير سے نيچے زندگی بسر کر رہی ہے اور مزيد 20 فيصد بمشکل گذارہ کر رہے ہيں وہ اپنے بچوں کيلئے ايسی کاپياں جو عام کاپيوں سے خاصی مہنگی ملتی ہيں کيسے مہيا کر سکتے ہيں ۔ اس مسئلے کا حل تختی اور سليٹ ہے جس کا استعمال دو تين دہائيوں سے ترک کر ديا گيا ہے ۔ تختی پر استاذ پنسل سے لکھ ديتے تھے اور بچے قلم سے لکھتے تھے ۔ اب تو وہ قلميں عجائب گھر ميں بھی نظر نہيں آتيں ۔ سليٹ پر استاذ گنتی سکھاتے ۔ اگر کہيں غلطی ہو جاتی تو مٹا کر درست کرتے اور ساتھ سمجھاتے بھی ۔ ايک تختی اور ايک سليٹ گھر کے سب بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا سکتی ہيں اور اس کے بعد کسی اور کے بھی کام آ سکتی ہيں

تختی پر قلم سے لکھنے کيلئے قلم کو ايک خاص طريقے سے پکڑا اور چلايا جاتا تھا اور دباؤ کا بھی خاص دھيان رکھنا پڑتا تھا ۔ يہ سب کام استاذ سکھاتے تھے ۔ اس سے انگليوں ہتھيلی اور کلائی کے پٹھے موذوں طور پر نشو و نما پاتے تھے اور بعد ميں پنسل يا پين سے لکھنا آسان ہوتا تھا

بچوں کو لکيريں لگانے کا شوق 2 سے 3 سال کی عمر کے درميان شروع ہو جاتا ہے ۔ ايک طرف سے استعمال شدہ کاغذ خاصی تعداد ميں سنبھال رکھيئے ورنہ بازار سے نيا سفيد کاغذ لے آيئے اور آدھی لمبائی والی رنگدار پنسليں بھی ۔ بچے کو رنگدار پنسليں ديجئے اور ايک ايک کر کے کاغذ ديتے جايئے ۔ اس بات کا خاص خيال رکھيئے کہ بچہ پنسل يا کاغذ منہ کی طرف نہ ليجائے ۔ پنسل کی صورت ميں وہ اُسے کاٹے گا اور اس کي نوک ٹوٹ کر بچے کے حلق ميں اٹک سکتی ہے جو پريشانی کا باعث بنے گی ۔ کاغذ بچہ تيزی سے منہ ميں ڈال کر کھينچتا ہے ۔ اس صورت ميں کاغذ کا چھوٹا ساٹکڑا منہ ميں رہ سکتا ہے جس کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب تالو يا حلق سے چپک کر مصيبت کھڑی کر ديتاہے ۔ بچے کو محدود وقت کيلئے پنسليں ديجئے اور پھر لے کر چھپا ديجئے ورنہ آپ کے گھر کی ديواريں آپ کے کپڑے بچے کا جسم يا جو کچھ اُسے مل جائے اُس پر ابسٹريکٹ آرٹ [abstract art] کے نمونے بن جائيں گے

عسکريت پسندی ۔ وجہ ۔ مدرسے يا پبلک سکول ؟

امریکی تھنک ٹینک کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دینی مدرسے نہیں بلکہ سرکاری تعلیم کا ناقص نظام عسکریت پسندی کے فروغ کی وجہ بن رہا ہے ۔ بروکنگز انسٹيٹیوٹ کی رپورٹ جو آج جاری کی جارہی ہے میں عسکریت پسندی اور تعلیم کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکولوں ميں اندراج کی کم شرح تشدد کا رجحان بڑھانے کا خطرہ پیدا کررہی ہے جبکہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے بارے میں پاکستان کی صلاحیت طلب سے بہت کم ہے

پاکستان کا سرکاری تعلیمی نظام بہت زیادہ کرپٹ ہے اور محکمے میں عہدے سیاسی بنیادوں پر دیئے جاتے ہیں جبکہ اساتذہ چاہے کلاسیں لیں یا نہ لیں انہیں تنخواہ ملتی رہتی ہے ۔ پاکستان میں ہر آنے والی حکومت تعلیم کو اپنے سیاسی عزائم پورا کرنے کیلئے آلے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں کا نصاب اور طریقہ تدریس عدم برداشت کو جنم دینے کا سبب بننے کے علاوہ طلباء کو لیبر مارکیٹ کے مطابق تیار کرنے میں بھی ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ جس سے نوجوان مایوسی کا شکارہورہے ہیں اور نتیجتاً عسکریت پسندوں کی بھرتی کا دائرہ بڑھ رہا ہے

بروکنگز کے ماہرین کے مطابق دینی مدارس کے بارے مغرب میں پایا جانے والا یہ تصور غلط ہے کہ وہ عسکریت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں کیونکہ صرف اسکول جانے کی عمر کے بچوں کا 10 فیصد سے بھی کم مدرسوں میں جاتا ہے ۔ اس لئے انہیں اچھی تعلیم اور استحکام میں رکاوٹ سمجھنا غلط ہے جبکہ سیکیورٹی کیلئے چیلنج سمجھتے ہوئے صرف مدرسوں پر توجہ مرکوز کرنے کی غلطی کی بھی تصحیح ہونی چاہیئے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں صرف 54 فیصد آبادی پڑھ سکتی ہے اور 5 سے 9 سال کی عمر کے 68 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے جبکہ ایک چوتھائی سے بھی کم لڑکیاں ابتدائی اسکول کی تعلیم مکمل کرپاتی ہیں ۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسکولوں تک رسائی کی کمی تنازعات اور عسکریت پسندی کے فروغ کا سبب بنتی ہے

رائٹرز کی رپورٹ