Category Archives: روز و شب

کھايئے اور تعريف کيجئے ۔ اللہ کی

مجھے پکانا نہيں آتا ليکن کھانا خوب جانتا ہوں البتہ بسيار خور نہيں ہوں
کوئی جتنا زيادہ کھائے اور جتنا زيادہ سوئے اتنا ہی زيادہ بيمار رہتا ہے
عقلمند لوگ کہتے ہيں کہ کم کھانا صحت اور کم سونا عافيت ہے

اوہ ہو ۔ بات تو پکانے کی ہو رہی تھی

تو جناب ۔ جب شادی نہيں ہوئی تھی تو ميری پياری امی مجھے باورچی خانے کا کوئی کام نہيں کرنے ديتی تھيں
شادی ہوئی تو بيوی باورچی خانے ميں گھُسنے بھی نہيں ديتی
پھر بھی مجھے چائے بنانا اور انڈا تلنا جسے آجکل فرائی کرنا کہتے ہيں آتا ہے ۔ ہوں نا ميں ہوشيار ؟

آج ميں آپ کو اپنے ايک دلپسند ناشتہ کی ترکيب بتانے لگا ہوں جو شايد آپ نے پہلے نہيں کھايا ہو گا [يہ ميں اپنے اور اپنی بيوی کے سگے بہن بھائيوں اور اپنے بچوں کے متعلق نہيں کہہ رہا کيونکہ اُنہوں نے ميری بيوی کے ہاتھ کا بنا کھايا ہوا ہے]

يہاں ميں ايک حقيقت بتا دوں کہ جب بھی مجھے ميری بيوی کہے کہ “آپ ميرے پکائے کی تعريف نہيں کرتے” تو ميں کہتا ہوں
“تعريف اس اللہ کی جس نے جہاں بنايا اور تمہيں بھی بنايا”

اجزاء

مکئی کا آٹا ۔ 3 پيالی [اگر اُردو نہ آتی ہو تو 3 کپ ۔ اور ہاں ۔ مکئی کا آٹا ايک سال پرانا کڑوا نہ ہو]
چينی ۔ ڈيڑھ پيالی [چينی بھارت سے درآمد شدہ نہ ہو]
انڈے ۔ 3 عدد [مرغی کے انڈے ۔ کيا معلوم آپ کونسے انڈے ڈال ديں ۔ اور ہاں انڈے چھوٹے چھوٹے نہ ہوں]
دودھ ۔ ايک پيالی [آپ کے پاس گائے يا بھينس ہو تو بہتر ورنہ پانی ملا دودھ بازار ميں عام ملتا ہے ۔ خبردار مِلک پَيک شَيک نہيں ڈالنا البتہ پرَيما دودھ ڈال سکتے ہيں اگر دو دن سے زيادہ پرانا نہ ہو]

ترکيب

چاروں اجزاء کو اچھی طرح ملا کر گوند ليجئے حتٰی کہ اتنا نرم ہو جائے کہ توے پر لکڑی کے چمچے کے ساتھ آسانی سے پھيلايا جا سکے ۔ اگر ضرورت پڑے تو تھوڑا پانی ڈال ليجئے ۔ اگر آپ کے پاس آٹا گوندھنے والی مشين جسے انگريزی ميں ڈَو ہُک کہتے ہيں ہو تو اسے استعمال کرنے ميں کوئی ہرج نہيں

سرد موسم ميں 10 اور گرم موسم ميں 5 منٹ کيلئے رکھ ديجئے

توا چولہے پر رکھ کر مناسب حد تک گرم ہونے ديجئے [توے کی بجائے انگريزی والے فرائنگ پَين کو بھی استعمال کيا جا سکتا ہے]
پھر توے پر تھوڑا سا گھی ڈالئے [ديسی گھی ہو تو بہتر ہے ۔ يہ سفيد خالص مکھن سے بھی بنايا جا سکتا ہے ۔ تيل استعمال نہ کيجئے]
پھر 3 کھانے کے چمچے کے برابر گوندھا ہوا مکئی کا آٹا توے پر ڈال کر پھيلا ديجئے
نچلا حصہ پکنے پر اُلٹا کر مکمل پکا ليجئے

آپ کيلئے بہترين ناشتہ تيار ہے
کھايئے اور اللہ کا شکر ادا کيجئے جس نے بے شمار نعمتيں عطا کی ہيں
اگر ہو سکے تو ميری بيوی کی ہميشہ اچھی صحت کيلئے بھی دعا کيجئے

بدلہ جانوروں سے ؟ ؟ ؟

ميں پہلے بدلہ انسانوں سے لکھ چکا ہوں جس ميں اس سلسلہ ميں اللہ کا فرمان نقل کر چکا ہوں ۔ ہم لوگ اتنے خود پسند اور خود غرض ہو چکے ہيں کہ بے زبان جانوروں کو بھی معاف نہيں کرتے ۔ انسان بول سکتے ہيں بدلہ لے سکتے ہيں مگر جانور جو ايسا نہيں کر سکتے ہمارا رويّہ اُن کے ساتھ بہتر ہونے کی بجائے ظالمانہ ہوتا ہے

پرانے زمانہ ميں لوگ اپنے گھر کی چھتوں پر يا برآمدے ميں محراب کی چوٹی سے دو برتن لٹکا ديا کرتے تھے اور روزانہ ايک ميں دانہ اور ايک ميں پانی ڈالا کرتے تھے ۔ يہ کام صرف مالدار نہيں کم مايہ لوگ بھی کرتے تھے اور کئی اب بھی کرتے ہيں ۔ پرندے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی حمد کرتے ہيں کيا وہ انسانوں کيلئے خير کی دعا نہيں کر سکتے ؟

ميں نے بچپن ميں چيوٹيوں کی لمبی قطار لگی ديکھی تو اپنے گھر والوں کو مطلع کيا ۔ کہا گيا “ديکھو چيونٹياں کہاں سے آ رہی ہيں ۔ وہاں ايک مُٹھی آٹا ڈال دو”۔ ميں نے تعميل کی اور چيونٹيوں کا جائزہ لينے لگا ۔ کچھ ہی دير ميں سب چيونٹياں آٹا اپنے بِل ميں ليجا رہی تھيں ۔ اس کے بعد گھر ميں کوئی چيونٹی نظر نہ آئی

اب اگر پرندوں کے گند ڈالنے يا چيونٹيوں کے گھر ميں کھانے کی چيز پر چڑھنے يا گھر ميں پھرنے سے ناراض ہو کر پرندوں کو ہلاک کرنا شروع کر ديا جائے يا چيونٹيوں کی نسل کُشی کر دی جائے تو کيا يہ ظلم نہ ہو گا ؟

ہم نے اساتذہ اور بزرگوں سے سنا تھا کہ ايک درخت کاٹا جائے يا فالتو پانی بہايا جائے تو اس کا بھی روزِ محشر حساب دينا ہو گا ۔ بدلہ لينے کے سلسلہ ميں اللہ کا فرمان ہے بے زبان سے کيا بدلہ لينا جسے اس بات کی سمجھ ہی نہيں کہ وہ اپنا رزق تلاش کرتے ہوئے کسی کی نازک طبع پر گراں گذر رہا ہے

سورت 16 النحل آيت 126 ۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ
اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے

سورت 42 الشورٰی آيات 40 تا 43 ۔ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالٰی ظالموں سے محبت نہیں کرتا

اے تے فير ہے

مسلم لیگ [نواز] کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے عدالتِ عظمٰی ميں پٹیشن دائر کر دی ہے جس ميں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 101 کے مطابق صدر نے وزیراعظم کی مشاورت سے گورنرز کا تقرر کرنا ہوتا ہے جبکہ موجودہ چاروں گورنرز کا تقرر مشرف دور میں ہوا جو اب غیرآئینی ہوچکا ہے لہٰذا چاروں گورنرز کو کام کرنے سے روکا جائے اور گورنرز کے تقرر کے احکامات غیر آئینی قرار دیئے جائیں ۔ ظفرعلی شاہ نے اپنی پٹیشن میں وفاق ۔ صوبائی حکومتوں اور گورنرز کو فریق بنایا ہے

امريکی امداد کہاں جاتی ہے ؟

يو ايس ايڈ کا نام عام سُنا جاتا ہے اور اخبارات ميں بھی اس کا بہت ذکر رہتا ہے ۔ ہوتی ہے
United States Agency for International Development
عام لوگ حيران ہوتے ہيں کہ يو ايس ايڈ کے تحت اربوں ڈالر پاکستان کو ملتے ہيں مگر ترقی [development] کہيں نظر نہيں آتی
1960ء کی دہائی کے اوائل ميں ميرے 200 سے زائد جوان انجنيئر ساتھيوں نے جو واپڈا کی ملازمت ميں تھے اسی يو ايس ايڈ کے اصل استعمال کو ديکھ کر لاہور واپڈا ہاؤس کے سامنے احتجاج کيا اور تمام صعوبتيں جھيلنے کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرا کے اس موذی مرض سے واپڈا کو نجات دلانے ميں کامياب ہو گئے

اُنہی دنوں ميں پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ميرے ساتھی آدھی درجن جوان انجيئروں نے اپنا خاموش احتجاج اربابِ اختيار تک پہنچايا اور اس وقت کے چيئرمين صاحب نے جراءت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس وقت کے حکمرانوں کو اس موذی بيماری کی توسيع روکنے پر قائل کر ليا ۔ چند ماہ کے اندر اس موذی مرض سے نجات مل گئی اور پاکستان آرڈننس فيکٹريز تيزی سے ترقی کرنے لگيں

پھر ناجانے کب يہ موذی مرض وطنِ عزيز ميں حملہ آور ہوا اور اب سرطان کی طرح پھيل کر ملک کو بُری طرح جکڑ چکا ہے

آخر يہ امداد جو ترقی کا نام لئے ہوئے ہے جاتی کہاں ہے ؟ نيچے ديئے ربط پر کلک کر کے اس کی نہائت مختصر داستان پڑھيئے
Where USAID Goes ???

پھر شور اُٹھا ہے چرخِ کُہن سے

23 جمعرات 23 دسمبر 2010ء کے اخبار ميں وفاقی شرعی عدالت کا فيصلہ اور اس کے خلاف روشن خيال عورتوں کی ہاہاکار شائع ہوئی ہے ۔ حقوقِ نسواں آرديننس 2006ء شائع ہونے کے بعد ميں نے 23 جنوری کو ايک تقابلی جائزہ شائع کيا تھا جو وقت کی ضرورت کے مطابق دوبارہ شائع کر رہا ہوں

خواتين کے حقوق محفوظ ہو گئے ؟ ؟ ؟ بتاريخ 23 جنوری 2007ء

ميں شعيب صفدر صاحب کا مشکور ہوں کہ نئے قانون تحفظِ حقوق خواتين کے ويب پر شائع ہوتے ہی اس کا لِنک مجھے بھيج ديا ۔ اس کا مطالعہ سکون سے کرنا ضروری تھا ۔ ميں کچھ ذاتی کاموں ميں مصروف تھا ۔

زنا زبردستی سے کيا جائے يا باہمی رضامندی سے قرآن شريف اور سنّتِ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہُ عَلَيہِ وَ سَلَّم کے مطابق زانی اور زانيہ کی سزا ميں کوئی فرق نہيں ہے اور سزاسو کوڑے يا رجم ہے البتہ زنا بالجبر کی صورت ميں عورت کو باعزت بری کر ديا جاتا ہے اور زانی مرد کو سزا دی جاتی ہے

تحفظِ حقوق خواتين کا قانون منظور کرانے کا مقصد خواتين کے حقوق محفوظ کرنا ہے يا بے راہ روی کو محفوظ کرنا ۔ يہ نئے قانون کی مندرجہ ذيل صرف تين دفعات پڑھنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے ۔

376 ۔ زنا بالجبر کے لئے سزا
[1] جو کوئی زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا

496 ۔ ب ۔ باہمی رضا مندی سے زنا کی سزا
[2] اگر عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا کے مرتکب ہوں تو انہيں قيد کی سزا دی جا سکتی ہے جس کی معياد پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی کيا جا سکتا ہے جو دس ہزار روپے سے زيادہ نہ ہو

203 ۔ الف ۔ زنا کی صورت ميں نالش

[1] کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے

[2] کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث اور زنا کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔

[3] مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔

[4] اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔

[5] کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روبرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے

تبصرہ

زنا بالجبر ثابت ہو جانے پر بھی موت کی سزا دينا ضروری نہيں رہا بلکہ پانچ سال قيد کی سزا دے کر بھی فارغ کيا جا سکتا ہے ۔ سو کوڑے يا رجم
کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے

اگر باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو زيادہ سے زيادہ پانچ سال قيد کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ اس ميں بھی سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے

چار تزکيۂِ نفس رکھنے والے چشم ديد گواہ کہاں سے آئيں گے جن پر مجاز جج کو بھی اعتبار ہو ؟

کيا متذکّرہ تخفيف شدہ سزا بھی صرف کھُلے عام زنا کرنے والوں کيلئے ہے ؟ قانون کی شِقوں سے تو ايسا ہی ظاہر ہوتا ہے

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔ نہ پوليس اور نہ کسی اور جج کو زنا کے سلسلہ ميں کسی قسم کی کاروائی کا کوئی اختيار ہو گا اور نہ کوئی جج از خود نوٹس لے کر کاروائی کر نے کا مجاز ہو گا ۔ چنانچہ کسی دُور دراز علاقہ ميں بھی کوئی زنا کا مرتکب ہو گا تو مستغيث اور چار چشم ديد گواہوں کو ڈسٹرکٹ ہيڈکوارٹر جا کر ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کے سامنے پيش ہو کر اپنے بيانات قلمبند کرانا ہوں گے جبکہ ہمارے ملک ميں تو اپنے ہی شہر ميں مقدمہ درج کروانا مشکل ہوتا ہے

اس قانون سے تو يہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ زنا کے مرتکب مرد اور عورت کو صرف اسی وقت سزا ملے گی جب کوئی بااثر شخص اُنہيں سزا دينا چاہے گا اور وہ سچے يا جھوٹے گواہ مہيّا کر دے گا ۔ جہاں تک بااثر لوگوں کا تعلق ہے وہ اب بغير خطرے کے پہلے سے زيادہ رنگ رلياں منائيں گے

کہاں گئے مغرب زدہ اين جی اوز اور دوسرے روشن خيالوں کے جديد طريقوں کے وہ بلند بانگ دعوے جن کو قرآن شريف پر ترجيح دی جا رہی تھی ؟ حقيقت يہ ہے کہ اُن کی عياشی پر قدغن تھی سو اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہيں ۔ جس دن يہ قانون منظور ہوا لاہور کے بازارِ حُسن ميں جشن منايا گيا تھا اور مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ چند مادر پدر آزاد اين جی اوز نے بھی مٹھائی بانٹی اور ايک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ يہ ہے وہ تاريک اور گھناؤنا غار جس ميں ہمارے روشن خيال حکمران ہماری قوم کو دھکيل رہے ہيں

اور اب پیشِ خدمت ہے تعلیم یافتہ معروف اساتذہ کا تیار کردہ تقابلی جائزہ مابين احکامِ الٰہی و حقوقِ نسواں آرڈيننس 2006ء جو ميں 25 مارچ 2007ء کو شائع کر چکا ہوں

خاموش سازش ؟

مُجرم جُرم کرتا ہے ۔ مُجرم کا تو کام ہی جُرم کرنا ہے ۔ مُجرم سازش نہيں کرتا
سازشی وہ ہيں جو جُرم کی منصوبہ بندی کرتے ہيں
يا
وہ ہيں جو جُرم ہوتے ديکھتے ہيں اور جُرم کو روکتے نہيں

طالب علمی کے زمانہ ميں ايک استاذ نے بتايا تھا کہ کہ اگر کوئی جُرم ہوتا ديکھے اور اسے نہ روکے تو وہ جُرم ميں 10 فيصد حصہ دار بن جاتا ہے
آج سوچتا ہوں کيا فلسفہ تھا اس فقرے ميں ۔ ۔ ۔

اسی سلسلہ ميں مندرجہ ذيل ربط پر کلک کر کے ايک سير حاصل مضمون پڑھيئے

A Conspiracy of Silence

توّکل

عام ديکھا گيا ہے کہ جو کام کسی آدمی کے بس ميں نہ ہو تو اُسے کر کے کہتا ہے ” اللہ توّکل کر ديا ہے”
حقيقت يہ ہے کہ اللہ پر توّکل کرنا مسلمان پر واجب ہے
يہاں ميں يہ واضح کر دوں کہ ہند و پاکستان ميں الفاظ “فرض” اور “واجب” کا استعمال غلط العام ہے ۔ آجکل لوگ انگريزی کا زيادہ استعمال کرتے ہيں اسلئے انگريزی کے ذريعہ ہی بتانے کی کوشش کرتا ہوں
“فرض” ہوتا ہے “ڈِيوٹی [Duty]”
واجب ہوتا ہے “کمپلسری [Compulsory]”
ہند و پاکستان کے جو لوگ عرب دنيا ميں يا ايران ميں کچھ عرصہ رہے ہيں اور انہوں نے عربی يا فارسی زبان سيکھنے کی کوشش کی ہے وہ ميری بات کو بآسانی سمجھ جائيں گے
عام کہا جاتا ہے کہ فجر ميں 2 ۔ ظہر ميں 4 ۔ عصر ميں 4 ۔ مغرب ميں 3 اور عشاء ميں 4 فرض ہيں اور عشاء ميں 3 واجب يعنی وتر ہيں
ہميں ڈيوٹی سے چھُوٹ [چھُٹی] ايک دن سے چند ماہ تک کی بلکہ بعض اوقات سال بھر کی چھُٹی مل سکتی ہے مگر جو کام کسی کيلئے کمپلسری قرار ديا گيا ہو اس کی چھُوٹ نہيں مل سکتی
چنانچہ جنہيں فرض کہا جاتا ہے وہ بھی در اصل سب واجب ہيں کيونکہ ان کی چھُوٹ کسی حال ميں بھی نہيں ہے

کتنی بدقسمتی ہے کہ آج کا مسلمان باپ ۔ بھائی ۔ بيٹے يا دولت پر تو توّکل کر ليتا ہے مگر اللہ پر صرف بحالتِ سخت مجبوری

ميں نے 5 ستمبر 2010ء کو ذاتی مشاہدہ کی بناء پر لکھا تھا
“توكل پرندوں سے سيكھيئے كہ جب وہ شام كو اپنے گھونسلوں يا بسيروں کو واپس جاتے ہيں توان كی چونچ ميں اگلے دن كے لئے كوئی دانہ نہيں ہوتا”

چند دن قبل ميری بيٹی پوچھنے لگی ” ابو ۔ يہ ذرا سمجھا ديجئے کيا لکھا ہے ؟”

وہ بابا بُلھے شاہ کے پنجابی کلام کا يہ قطع تھا

ويکھ بَنديا اسماناں تے اُڈدے پنچھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [ديکھ اے انسان آسمانوں پر اُڑتے پرندے]
ويکھ تے سہی کی کردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [ديکھو تو سہی کيا کرتے ہيں]
نہ اور کردے رِزق ذخيرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[نہ وہ کريں رزق کا ذخيرہ]
نہ او بھُکھے مردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [نہ وہ بھُوکے مرتے ہيں]
کدی کسے نے پنکھ پکھيرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[کبھی کسی نے پرندوں کو]
بھُکھے مردے ويکھے نے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[بھُوکے مرتے ديکھا ہے ؟]
بندہ ای کردا رزق ذخيرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [انسان ہی کرتے ہيں رزق ذخيرہ]
بندے ای بھُکھے مردے نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔[انسان ہی بھُکے مرتے ہيں]