Category Archives: روز و شب

خاوند اور بیوی

ہر عورت (بیوی) کو معلوم ہونا چاہیئے کہ

جو مرد (خاوند) اُس سے سچا پیار کرتا ہے
حالات خواہ اُس کیلئے کتنے ہی مُشکل ہوں
وہ اُسے کبھی تنہاء نہیں چھوڑے گا

ہر مرد (خاوند) کو معلوم ہونا چاہیئے کہ

جو عورت (بیوی) اُس سے سچا پیار کرتی ہے
وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُس سے خفا ہوتی رہے گی
لیکن رہے گی اُس کے ساتھ ہی

پيار کا کاروبار

سُنا ہے کہ پيار اچانک ہو جاتاہے
مسئلہ يہ ہے کہ پتہ کيسے چلے کہ پيار ہو گيا ہے ؟

1 ۔ فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے
جب سانسيں تيز ہونے لگيں
يا
دِل زيادہ دھڑکنے لگے
يا
رات کی نيند اور دن کا چين جاتا رہے

تو سمجھو پيار ہو گيا

مشورہ
مندرجہ بالا ميں سے کوئی بھی عارضہ ہو تو بہتر ہو گا کہ امراضِ قلب کے ڈاکٹر سے رجوع کيا جائے ۔ کہيں ايسا نہ ہو کہ دير ہو جائے ۔ محبت دھری رہ جائے اور بندہ پار ہو جائے

2 ۔ ایک گانا ہے

جب پيار کسی سے ہوتا ہے
اِک درد سا دل ميں ہوتا ہے

کچھ پيار کرنے والوں اور واليوں کو انٹر ويو کيا تو اُنہوں نے دل کے درد سے انکار کيا البتہ اتنا بتايا کہ زيادہ سموسے يا گول گپّے کھا جانے سے پيٹ ميں درد ہوا تھا

3 ۔ پيار کی گلی سے گذر کر آرام کرنے والوں اور واليوں سے تبادلہ خيال کيا تو بتايا گيا

جب لڑکا جان چھُڑائے
لڑکی پيچھے بھاگی آئے
تو سمجھو پيار ہو گيا
:lol:

تہذيب ۔ ۔ ۔ ؟

تہذیب کے موضوع سے انصاف کرنے کیلئے ضروری تھا کہ ثقافت کے معنی پوری طرح واضح کئے جائیں کیونکہ تہذیب اور ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے البتہ تہذیب ثقافت سے جنم نہیں لیتی بلکہ تہذیب ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی راہ متعین کرتی ہے ۔ تہذیب کسی گروہ کے عقائد کے تابع ہوتی ہے ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ افراد کو گروہ میں قائم رکھنے کیلئے کچھ مشترک باہمی عوامل لازم ہیں اور یہ عوامل ہی دراصل عقائد کا روپ دھارتے ہیں ۔ فطری طور پر یہ عوامل ان کے مذہبی اصول ہی ہوتے ہیں ۔ جيسا کہ ميں پہلے لکھ چکا ہوں ثقافت بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی بلکہ اس کی حدود و قیود ہوتی ہیں

رہی تہذیب تو مؤرخین نے کم از کم وسط اُنیسویں صدی عیسوی تک اسے مذہب کے زیرِ اثر ہی گردانا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عیسائی اور یہودی بہترین اوصاف کا منبع زبور تورات اور انجیل کو قرار دیتے تھے اور یہ استدلال درست بھی تھا گو متذکرہ کُتب تحریفات کے سبب الہامی نہ رہی تھیں ۔ پھر جب غیرمسلم دنیا اپنے عقائد سے بالکل اُچاٹ ہو گئی تو اُنہوں نے تہذیب کی تعریف میں سے لفظ مذہب کو حذف کر دیا ۔ اس کے باوجود اب بھی کچھ ڈکشنریاں ایسی ہیں جن میں تہذیب کا تعلق مذہب سے بتایا گیا ہے یا مذہب کا نام لئے بغیر اس طرف اشارہ کیا ہے

تہذیب رکھنے والے کو مہذب کہا جاتا ہے ۔ کوئی بھی مہذب گروہ ہو وہ اپنے بنیادی عقائد سے ضرور متاءثر ہوتا ہے چنانچہ مُسلمان کا مہذب ہونے کیلئے اپنے دین اسلام سے متاءثر ہونا اچنبہ کی بات نہیں ہے بلکہ ایسا ہونا ایک لازمی امر ہے ۔ باعمل مسلمانوں کا مقابلہ دورِ حاضر کے عیسائیوں اور یہودیوں سے اسلئے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوگ پہلے اپنے دین سے منحرف ہوئے اور جب کلیسا ہی برائیوں کا گھر بن گیا تو انہوں نے مذہب سے کھُلم کھُلا بغاوت کر کے مذہب کو اپنی زندگی کے تمام عملی پہلوؤں سے نکال کر کلیسا میں محبوس کر دیا ۔ اس نئے خود تراشیدہ نظام کو سہارا دینے کیلئے سیکولرزم کا نظریہ ایجاد کیا گیا

عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے تنزل کا سبب اُن کا دین نہیں بلکہ سبب یہ ہے کہ ان کی بھاری تعداد نے دین اسلام کو بھی وہی صورت دے رکھی ہے جو کئی صدیاں قبل کلیسا کے پاسبانوں نے دی تھی ۔ یعنی نماز پڑھتے نہیں اور پیروں کے آستانوں اور مزاروں پر حاضری اور تعویز گنڈے کو معمول بنا رکھا ہے ۔ زکوات اور صدقہ سے عاری ہیں مگر گیارہویں کا ختم نافذ کر رکھا ہے ۔ وغیرہ

دورِ حاضر کا مناسب دینی تعلیم سے محروم مسلمان جب ترقی اور جدیدیت کی علمبردار قوموں سے اپنی قوم کا موازنہ کرتا ہے تو بھٹک جاتا ہے ۔ ہمارے لوگ تاریخ پر تحقیق کرنا تو کُجا تاریخ پر نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے ورنہ سب کچھ کھُل کر سامنے آ جائے ۔ یہاں تک کہ جس کتاب [قرآن شریف] کی بے حرمتی پر وہ مرنے مارنے پر تُل جاتا ہے اسے سمجھ کر پڑھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا ۔ قرآن شریف میں اللہ تعالٰی نے واضح الفاظ میں انسان کے ہر فعل کو دین کا تابع کرنے کا حُکم دیا ہے ۔ اسلئے مسجد ہو یا گھر ۔ دفتر ہو یا بازار ۔ تجارت ہو یا سیاست سب کو اللہ کے احکام کے تابع رکھنے سے ہی مسلمان بنتا ہے ۔ چنانچہ یورپ اور امریکہ میں رہنے والوں کے طور طریقے مسلمان نہیں اپنا سکتا سوائے ان اچھی عادات کے جو دین اسلام سے متصادم نہ ہوں بلکہ اچھی چیزیں اپنانا ہی چاہئیں ۔ ہمارے دین کی صلاح یہی ہے

میرے تہذیب اور مذہب کے درمیان رشتہ بیان کرنے پر خرم صاحب نے فرمایا تھا کہ اُردو والی تہذیب کا تعلق مذہب سے ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے انگریزی والی civilization کی بات کی تھی جس کا تعلق مذہب کے ساتھ نہیں بنتا ۔
بہت خُوب ۔ دیکھ لیتے ہیں کہ انگریزی والی civilization کیا ہوتی ہے

سب سے بڑی انگریزی سے اُردو آن لائین ڈِکشنری
تمدن ۔ تہذیب ۔ شائستگی

انگریزی اُردو لغت آن لائین
تہذیب ۔ تمدن ۔ تربیت ۔ انسانیت

ایک اور انگریزی اُردو لغت آن لائین
تہذیب و تمدن

مریم ویبسٹر ڈکشنری
مقابلتاً اعلٰی سطحی ثقافت اور فنی ترقی بالخصوص وہ ثقافتی ترقی جس میں تحریر اور تحاریر کو محفوظ رکھنے کا حصول مقصود ہو ۔ خیالات عادات اور ذائقہ کی شُستگی یا آراستگی

کیمبرج ڈکشنری
اچھی طرح ترقی یافتہ ادارے رکھنے والا انسانی گروہ یا کسی گروہ کے رہن سہن کا طریقہ

رھائیمیزون
اعلٰی سماجی ترقی کا حامل گروہ [مثال کے طور پر پیچیدہ باہمی قانونی اور سیاسی اور مذہبی تنظیم]

اینکارٹا آن لائین انسائیکلوپیڈیا
تاریخی اور ثقافتی یگانگی رکھنے والا ترقی یافتہ گروہ ۔ قرونِ وسطہ سے اُنیسویں صدی تک اکثر یورپی مؤرخین نے مذہبی پسِ منظر لیا ہے

الٹرا لِنگوا
ایک گروہ مخصوص ترقی کی حالت میں ۔ کوئی گروہ جو قانون کا پابند ہو اور وحشت کا مخالف ۔ ثقافت کا اعلٰی درجہ

امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی ۔ مندرجہ بالا سب جدید ڈکشنریاں ہیں پھر بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ کچھ میں مذہب کا لفظ غائب کر دیا گیا ہے لیکن اشارہ مذہب ہی کی طرف ہے ۔ پانج سات دہائیاں پرانی ڈکشنریوں میں civilization کو مذہب کے زیرِ اثر ہی لکھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مطابق بھی ہر بھلائی کا سرچشمہ زبور تورات اور انجیل تھیں گو کہ ان کُتب میں بہت تحریف کی جا چکی تھی

ثقافت ۔ ۔ ۔ ؟

ثقافت کے بارے میں اخبارات ۔ رسائل اور ٹی وی پر لوگوں کے خیالات پڑھے یا سنے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی نہیں جانتے کہ ثقافت کیا ہوتی ہے اور تہذيب کس بلا کا نام ہے

پچھلی دو صدیوں میں لکھی گئی کُتب کی طرف رُخ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ثقافت کسی قوم ۔ ملت یا قبیلہ کی مجموعی بود و باش سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ایک عادت یا عمل سے ۔ نہ کچھ لوگوں کی عادات سے ۔ مزید یہ کہ ثقافت میں انسانی اصولوں پر مبنی تعلیم و تربیت کا عمل دخل لازم ہے ۔ ثقافت کے متعلق محمد ابراھیم ذوق ۔ الطاف حسین حالی ۔ علامہ اقبال ۔ اکبر الٰہ آبادی اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن میں اسے دہرانے کی بجائے صرف لُغت سے استفادہ کروں گا

فیروز اللُغات کے مطابق ” ثقافت ” کے معنی ہیں ۔ عقلمند ہونا ۔ نیک ہونا ۔ تہذیب
ایک انگریزی سے اُردو ڈکشنری کے مطابق کلچر [Culture] کا مطلب ہے ۔ ترتیب ۔ تہذیب ۔ پرورش کرنا ۔ کاشت کرنا

چند مشہور انگریزی سے انگریزی ڈکشنریوں کے مطابق ثقافت یا کلچر [Culture] کے معنی ہیں

مریم ویبسٹر ڈکشنری
1 ۔ شعوری اور اخلاقی استعداد کا افشا بالخصوص علم کے ذریعہ
2 ۔ شعوری اور جمالیاتی تربیت سے حاصل کردہ بصیرت اور عُمدہ پسندیدگی
3 ۔ پیشہ ورانہ اور فنی استعداد سے ماوراء فنونِ لطیفہ ۔ انسانیات اور سائنس کی وسیع ہیئت سے شناسائی
4 ۔ انسانی معلومات کا مرکب مجسمہ ۔ اعتقاد اور چال چلن جس کا انحصار سیکھنے کی وسعت اور آنے والی نسلوں کو علم کی مُنتقلی پر ہو
5 ۔ کسی گروہ کے رسم و رواج ۔ باہمی سلوک اور مادی اوصاف

کومپیکٹ آکسفورڈ ڈکشنری
1 ۔ خیالی یاشعوری فَن یا ہُنر کے ظہُور جو اجتمائی نشان ہو یا اس کی ایک خالص فِکر یا قدر دانی
2 ۔ کسی قوم ۔ مِلّت یا گروہ کی رسوم ۔ ادارے اور کامرانی

کیمبرج بین الاقوامی انگریزی کی ڈکشنری
1 ۔ کسی قوم ۔ مِلّت یا گروہ کے کسی خاص دور میں بود و باش کا طریقہ بالخصوص عمومی عادات ۔ رسوم ۔ روایات اور عقائد
2 ۔ اگر صرف فَنون سے متعلق ہو تو موسیقی ۔ ہُنر ۔ ادبی علوم یا تمثیل گھر

اینکارٹا ورلڈ انگلش ڈکشنری
کسی قوم یا گروہ کی / کے مشترکہ
1 ۔ مجموعی طور پر فن یا ہُنر جس میں فنونِ لطیفہ ۔موسیقی ۔ ادب ۔ ذہنی چُستی شامل ہوں
2 ۔ آگہی ۔ آمیزش اور بصیرت جو تعلیم کے ذریعہ حاصل ہو
3 ۔ رائے ۔ وصف ۔ رسم و رواج ۔ عادات ۔ باہمی طور طریقے
4 ۔ شعور یا ہُنرمندی یا فنی مہارت کی نشو و نما

چنانچہ ثقافت صرف عادات و رسوم کا ہی نہیں بلکہ صحتمند عادات و رسوم کے مجموعہ کا نام ہے جن کی بنیاد تربیت پر ہو ۔ ہر چند کہ کسی گروہ یا قبیلہ کے لوگ کچھ قباحتیں بھی رکھتے ہوں لیکن ان بُری عادات کو ان کی ثقافت کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا

ہندوؤں کیلئے بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کی ثقافت ناچ گانا ہے کیونکہ ناچ گانا ان میں بھی صرف چند فیصد لوگ ہی کرتے ہیں ۔ ہاں شائستہ (classical) موسیقی یعنی بھجن ان کی پوجا پاٹ کا حصہ ہے اور یہ وہ ناچ گانا نہیں ہے جو کہ مووی فلموں میں دکھایا جاتا ہے

مسلمان کیلئے دین اول ہے اسلئے مسلمانوں کی ثقافت میں دین کا لحاظ لازمی ہے لیکن میرے کچھ ہموطن مسلمان ہوتے ہوئے اپنی ثقافت کو ناچ ۔ گانا ۔ تمثیل ۔ مصوّری ۔ بُت تراشی وغیرہ ہی سمجھتے ہیں اور ثبوت کے طور پر ہندوانہ رسم و رواج کا حوالہ دیتے ہیں یا پھر اس دور کی مثال دیتے ہیں جب اسلام کا ظہور نہیں ہوا تھا

عام طور پر جو لوگ ثقافت پر زور دیتے ہیں اُن میں سے کچھ کے خیال میں شاید ثقافت ساکت و جامد چیز ہے اور وہ اسے موہنجو ڈارو کے زمانہ میں پہنچا دیتے ہیں ۔ جبکہ کچھ لوگ ثقافت کو ہر دم متغیّر قرار دیتے ہیں ۔ یہ دونوں گروہ اپنے آپ کو جدت پسند ظاہر کرتے ہیں ۔ مؤخرالذکر ثقافت کو اپنے جسم تک محدود رکھتے ہیں یعنی لباس ۔ محفل جمانا ۔ تمثیل ۔ ناچ گانا وغیرہ ۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ ثقافت عوام کی اکثریت کا ورثہ اور مرہُونِ منت ہے جنہیں ثقافت کی بحث میں پڑنے کا شاید خیال بھی نہیں ہوتا یا جنہوں نے کبھی ثقافت پر غور کرنے یا اسے اُجاگر کرنے کی دانستہ کوشش نہیں کی

ثقافت ایک ایسی خُو ہے جو اقدار کی مضبوط بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں عورت اور مرد کا جنسی اختلاط عام ہے اور عرصہ دراز سے ہے ۔ کسی یورپی یا امریکن سے پوچھا جائے کہ کیا یہ جنسی اختلاط آپ کی ثقافت کا حصہ ہے تو وہ کہے گا کہ “نہیں ایسا نہیں ہے” ۔ اس کے برعکس کچھ ایسی عادات ہیں جسے اُنہوں نے غیروں سے اپنایا ہے مثال کے طور پر آجکل جسے ٹراؤزر یا پینٹ کہتے ہیں یہ دراصل منطلون یا منطالون ہے جسے عربوں نے گھوڑ سواری بالخصوص جنگ کے دوران کیلئے تیار کیا تھا ۔ یہ اب یورپ اور امریکہ کی ثقافت کا حصہ ہے گو اس کی شکل اب بدل چکی ہے اور اُن لوگوں کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے ۔ اسی طرح کچھ کھانے ہیں جو یورپی اور امریکی ثقافت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ایشیا سے نقل کئے گئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ اب ایشیا کی بجائے یورپ یا امریکہ کا خاصہ تصور ہوتے ہیں ۔ دورِ حاضر کا برگر جرمنی کا ہیمبُرگر تھا کیونکہ اسے ہیمبُرگ میں کسی شخص نے بنانا شروع کیا تھا ۔ اس سے قبل اس کا نام وِمپی تھا اور ترکی اور اس کے قریبی ایشیائی علاقہ میں بنایا جاتا تھا ۔ اُس سے پہلے یہ منگولوں کا سفری کھانا تھا ۔ اسی طرح شیش کباب جسے ولائیتی [یورپی] کھانا سمجھ کر کھایا جاتا ہے درصل سیخ کباب ہی ہے جو کہ ترکی کا کھانا تھا

ہندو عورتیں ڈیڑھ گز چوڑی چادر پیچھے سے سامنے کی طرف لا کر داہنے والا کونہ بائیں کندھے اور بائیں والا کونہ داہنے کندھے کے اُوپر لے جا کر گردن کے پیچھے باندھ لیتی تھیں اور یہی ان کا لباس تھا ۔ لباس میں ساڑھی جسے کئی لوگ ہندوؤں کا پہناوا یا ثقافت کہتے ہیں ہندوؤں نے مسلمانوں سے نقل کیا جس کو مختلف اشکال دی گئیں اور عُریاں بھی بنا دیا گیا ۔ دراصل یہ عرب بالخصوص افریقی مسلمانوں کا لباس ساری تھا جو کہ مسلمان عورتیں بطور واحد لباس نہیں بلکہ اپنے جسم کے خد و خال چھپانے کی خاطر عام لباس کے اُوپر لپیٹ لیتی تھیں ۔ یہ ساری اب بھی افریقہ کے چند ملکوں بالخصوص سوڈان میں رائج ہے

ثقافت کے متذکرہ بالا اجزاء میں جو مادی اوصاف ہیں وہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان کے تبدیل ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور انسانی بہتری کیلئے ان میں تبدیلی ہوتے رہنا چاہیئے مگر ثقافت پر اثر انداز ہونے والی اقدار میں وہ وصف شامل ہیں جن کی بنیاد خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کی بہتری کیلئے مقرر کر دی ہے ۔ ان کو تبدیل کرنا انسانی تمدن کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اللہ کی نافرمانی بھی ۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے ۔ کمپیوٹر متعدد قسم کے کام سرانجام دیتا ہے مگر یہ سب کام کمپیوٹر کے خالق کے مقرر کردہ ہیں ۔ کمپیوٹر ان مقررہ حدود سے باہر نہیں جاتا ۔ یہی حال انسان کا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کو کچھ اختیار دیا ہوا ہے لیکن ساتھ ہی انسان کا نصب العین بھی مقرر کر دیا ہے اور اس پر واضح کر دیا ہوا ہے کہ غلط عمل کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا ۔ اس لئے انسان کیلئے لازم ہے کہ انسانیت یا خود اپنی بہتری کیلئے اپنی اقدار کو نہ بدلے اور ان پر قائم رہے ۔ وہ اقدار ہیں عبادت ۔ تعلیم ۔ سلوک ۔ عدل ۔ انتظام ۔ وغیرہ

تہذیب کے بارے میں مضمون اِن شاء اللہ عنقریب

منافق سے دُشمن بہتر

منافقت (Hypocrisy) اور دُشمنی میں واضح فرق ہے
منافق (Hypocrite) دراصل دوست یا خیر خواہ کے بھیس میں دُشمن ہوتا ہے
تھوڑی یا زیادہ کوشش سے کوئی بھی شخص دُشمن کو جان جاتا ہے
لیکن منافق کو پہچاننا بہت مُشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوتا ہے
چنانچہ منافق دُشمن سے زیادہ خطرناک ہے

عوام ۔ غلطياں اور غلط فہمياں

شايد آج کی پوری دنيا کا ہی الميہ ہے مگر بالخصوص ہمارے ہاں غلط يا تراشيدہ [manufactured] باتوں کو جتنا عام کيا جاتا ہے اور جتنا ان پر بحث کو وقت ديا جاتا ہے اتنی حقائق کی طرف توجہ نہيں دی جاتی ۔ قانون اور الفاظ دونوں ہی کے اصل کی بجاۓ غلط معروف ہیں

چند نمونے

طلب سے بنا طالب یعنی طلب رکھنے والا ۔ علم کی طلب رکھنے والا ہوا طالب علم جسے مختصر طور پر طالب کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع ہوئی طُلباء ۔ لیکن چند سالوں سے اخبارات اور ٹی وی چنلز والوں نے طلبہ لکھنا شروع کر دیا ہے اور شاید ان کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی طلبہ لکھنے لگے ہیں ۔ یہ پڑھے لکھے لوگ معمولی سا غور کرنا بھی شاید گوارا نہیں کرتے کہ طلب سے طلبہ بنا تو اس کا مطلب کیا ہوا اور یہ کس اصول کے تحت بنا ؟ کیا یہ اتنی سُوجھ بُوجھ بھی نہیں رکھتے کہ ذاکر مذکر ہے تو ذاکرہ اس کی مؤنث ہوئی ۔ طلب تو ہے ہی مؤنث تو اس کی مزید مؤنث کیا طالب علم کی جمع بن جائے گا ؟

لفظ ”عوام الناس“ تھا ۔ مطلب عام یا سب آدمی یا انسان ۔ استعمال سے ”الناس“ گھِس گيا يا راستے ميں کہيں گِر گيا اور رہ گیا عوام الناس کی زبان پر صرف ”عوام“

فارسی کا ايک مصدر ہے ”آمدن“ جس کا صيغہ حاضر جمع ہے ”آمدَيد“اور ”خوش“ کا مطلب ہے ”اچھا يا بھلا“ ان دو لفظوں سے بنا تھا ”خوش آمدَيد“۔ جديد ہواؤں نے ” د “ کی ”زَبَر“ کو نيچے گرا ديا اور وہ بن گئی ” زَير “۔ اور ”خوش آمدَيد“ کا بن گيا ”خوش آمدِيد“
فارسی ہی کا مصدر ہے ”دِيدن“ جس کا صيغہ ماضی ہے ”دِيد“ جس کا مطلب ہے ”ديکھا“ چنانچہ ”خوش آمدِيد“ کا مطلب بنا ”اچھا آم ديکھا“۔ اس کی وجہ يہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے لوگ آم کھانا پسند کرتے ہيں :lol:

سب سے اہم بلکہ قومی سانحہ
ہمارے ہاں کيا حکمران کيا عوام 1973ء کے آئين کی تعريفيں کرتے نہيں تھکتے ۔ ان ميں سے 90 فيصد سے زائد ايسے ہوں گے جنہوں نے کبھی آئين کو پڑھا ہی نہيں ۔ راقم الحروف نے پہلی بار اس آئينی دستاويز کو 1974ء کی آخری چوتھاتی ميں صرف پڑھا ہی نہيں بلکہ اس کا مطالعہ کيا کيونکہ ميں اُن دنوں سينئر منيجمنٹ کورس پر تھا اور آئين پر مباحثہ ميں حصہ لينا تھا ۔ مباحثہ ميں دلائل کے ساتھ يہ حقيقت آشکار ہوئی تھی کہ آئين کامل نہيں اور قابلِ عمل بنانے کيلئے کچھ تراميم کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر تعزيراتِ پاکستان ميں انقلابی تبديلياں لانا ہوں گی

ايک اہم حقيقت سامنے آئی تھی جو اب تک جوں کی توں موجود ہے کہ يہ آئين جمہوری تو ہے مگر اختيارات سارے حکمران کے ہاتھ ميں ہيں ۔ وہ چاہے تو ملک کو اپنی ملکیت سمجھ کر بيچ دے يا قوم کو غلام سمجھ کر بيچ دے ۔ ملک کا کوئی ادارہ دھرن تختہ کر دے تو الگ بات مگر آئينی يا قانونی طريقہ سے حکمران کا کچھ نہيں بگاڑا جا سکتا جب تک ايوان ميں اُسے اکثريت کی حمائت حاصل رہے اور يہ ہمارے ہاں رہتی ہے ۔ اس سلسلے میں عدالتِ عظمٰی کو بھی کاروائی کی اجازت نہیں ہے ۔ کوئی شخص جو حکمران نہ ہو بھی اگر مُلک سے غداری کرے تو حُکمران کے باقاعدہ حُکم کے بغير اُس کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہيں کی جا سکتی ۔ 1973ء کے آئين کے تحت 1976ء ميں ايک قانون بنايا گيا جسے 1956ء سے مؤثر قرار ديا گيا ۔ اس قانون کے متعلقہ اقتباس سے صاف واضح ہے کہ ”جو چاہے سو حکمران کرے ۔جمہوریت کو فقط بدنام کیا

Criminal Law Amendment (Special Court) Act 1976.

An offence of simple treason punishable under the Pakistan Penal Code and an offence under The High Treason (Punishment) Act 1973 whether committed before or after the commencement of the 1976 statute shall be tried by the special court in accordance with the provisions of this legislation.
It is necessary to provide for the punishment of persons found guilty of acts of abrogation or subversion of a Constitution or of high treason . . . A person, who is found guilty (a) of having committed an act of abrogation or subversion of a Constitution in force in Pakistan at any time since the 23rd day of March 1956, or (b) of high treason as defined in Article 6 of the Constitution; (c) be punishable with death or imprisonment for life.

No court shall take cognisance of an offence punishable under this Act except upon a complaint in writing made by a person designated by the federal government in this behalf. The government may assign this job to the attorney general or appoint a prosecutor general to represent it in the high treason trial.