ہمیشہ اچھے لوگوں سے دوستی رکھیئے
اچھے دوست اچھے دنوں میں سرمایہ
اور
برے دنوں میں محافظ ہوتے ہیں
قول علی رضی اللہ عنہ
ہمیشہ اچھے لوگوں سے دوستی رکھیئے
اچھے دوست اچھے دنوں میں سرمایہ
اور
برے دنوں میں محافظ ہوتے ہیں
قول علی رضی اللہ عنہ
اِس آدمی نے آر پی پی میں خُورد بُرد کے خلاف درخواست گذاران خواجہ آصف اور فیصل صالح حیات کو پچاس پچاس کروڑ روپے کی پیشکش کی
یہ آدمی آصف علی زرداری اور راجہ پرویز اشرف کا باہمی دوست ہے
ڈی جی ایچ آر نَیب کوثر اقبال ملک جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نَیب کامران فیصل مرحوم کوپچھلی تاریخ میں رپورٹ تبدیل کرنے کا کہا تھا اس آدمی کا بہترین دوست ہے
آر پی پی میں خُورد بُرد کا 575 ارب روپیہ جس کی تفتیش کامران فیصل مرحوم نے کی تھی سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا آدمی یہی ہے
اس آدمی کا نام ہے اقبال زیڈ احمد
اور یہ ایل پی جی ۔ ایل این جی اور آئل اینڈ گیس کا بادشاہ ہے
اگر آپ ایک خوشی کو لے کر بار بار خوش نہیں ہو سکتے
توپھر
ایک دُکھ کو لے کر بار بار کیوں روتے ہیں ؟
میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء میں ورڈ پریس نے اسے 10 بہترین بلاگز میں سے ایک قرار دیا تھا اور بلاگ ابھی تک اپنی حثیت بحال رکھے ہوئے ہے ۔ 2012ء کی رپورٹ دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ”
* * * * * * * * * * * ذہین آدمی وہ نہیں ہوتا
جو صرف یہ جانتا ہو کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے
* * * * * * * ذہین آدمی وہ ہوتا ہے
جو کچھ اچھا دیکھے تو اُسے اختیار کرے
اور
جو کچھ بُرا دیکھے اُس سے اجتناب کرے
جی ۔ پوچھا گیا ہے کہ جو لانگ مارچ جمعرات 17 جنوری کو اسلام آباد میں ختم ہوا اس کے بارے میں میرا کیا خیال ہے ؟
جب دوسرے لوگ اسے امریکا یا کسی اور بڑے کی منصوبہ بندی قرار دے رہے تھے میرا اُس وقت جو خیال تھا لانگ مارچ ختم ہو جانے کے بعد آج بھی وہی خیال ہے اور وہ یہ کہ منصوبہ بندی خواہ کسی کی ہو اس کا مقصد زرداری کو فائدہ پہنچانا اور طاہر القادری کا سیاسی بُت جو قریب المرگ تھا اس میں کچھ جان ڈالنا تھا
صرف چیدہ چیدہ واقعات پر غور کیا جائے تو میرا خیال درست نظر آ سکتا ہے
معاہدہ جو طے پایا ہے اس میں سوائے ایک نقطے کے باقی سب کچھ آئین اور قانون میں موجود ہے ۔ ذرائع ابلاغ اور سیاستدان بھی ان کی تعمیل پر زور دیتے رہتے ہیں ۔ اب کونسی طاقت آئے گی جو ان کی تعمیل کرائے گی
نیا نقطہ یہ ہے کہ انتخابات سے قبل اُمیدواروں کو آئین کی دفعات 62 اور 63 پر پرکھا جائے اور ایسا کرنے کیلئے انتخابات کا انعقاد 90 دن بعد اسطرح سے ممکن بنایا جائے گا کہ اسمبلیاں وقت (16 مارچ) سے پہلے تحلیل کر دی جائیں گی ۔ اگر اسمبلیاں 15 مارچ کو تحلیل کر دی جائیں تو انتخابات 13 جون تک کرائے جا سکتے ہیں ۔ اگر اسمبلیاں تحلیل نہ کی جائیں تو 16 مارچ کو خود بخود تحلیل ہو جائیں گی اور انتخابات 15 مئی تک کرانے ہوں گے
طاہر القادری جنہیں چور ۔ اُچکے ۔ بدمعاش ۔ بددیانت ۔ جاگیردار ۔ سرمایہ دار وغیرہ کہہ رہے تھے اُن کے ساتھ مل بیٹھے ہیں اور اس طرح اپنے پیروکاروں کو زرداری کی جھولی میں ڈال دیا ہے
وفاقی حکومت نے طاہر القادری کو لانگ مارچ کیلئے ہر ممکن سہولت دی حتٰی کہ ڈی چوک میں دھرنا لگانے دیا جبکہ پچھلے 4 سال سے اسلام آباد کا شہری ہوتے ہوئے مجھے کبھی اپنی کار بھی وہاں سے گذارنے نہیں دی گئی
سردی میں عوام ٹھٹھرتے رہے ۔ طاہرالقادری اپنے ڈبے میں محفوظ رہے ۔ اختتام پر خود چلے گئے اور عوام سے کہا کہ اُن کے بندوبست کا ناظمِ اعلٰی اعلان کریں گے ۔ تین چار گھنٹے دیر ہو جائے گی مگر سب کا بندوبست ہو جائے گا
آج تیسرا دن ہے کہ میں دِل کٹا ہوا محسوس کرتا ہوں
دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور کلیجہ بار بار منہ کو آتا ہے
وہ ہزارہ تھے
وہ شیعہ تھے
درست کہ میں اُن کے مسلک سے اختلاف رکھتا ہوں
مگر وہ انسان تھے
کیا اللہ نے ۔ اُس اللہ نے جس کا میں مُسلم ہوں
کسی انسان کے اس طرح ہلاک کئے جانے کی اجازت دی ہے ؟
جس طرح جمعہ کے دن کوئٹہ میں 100 سے زائد بے قصور انسانوں کو بغیر کسی اشتعال کے خُون میں نہلا دیا گیا ؟
کہاں ہے انسانیت ؟
کہاں مر گئی جمہوریت ؟
پچھلے 53 سے زائد گھنٹوں سے ہلاک کئے جانے والوں کےسینکڑوں لواحقین 86 میّتوں کو لئے برفانی سردی میں کھُلے آسمان تلے بیٹھے ہیں ۔ کل بارش بھی اُن پر برستی رہی اور اُنہوں نے ذرا سی جُنبش نہ کی
آخر اس کے سوا وہ کر بھی کیا سکتے ہیں ؟
پہلے بھی اسی طرح اُن کے درجنوں ساتھی ہلاک کئے گئے مگر حکومت نے کچھ نہ کیا
اللہ کے بندو ۔ اور کچھ نہیں کر سکتے تو اُن سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج تو کرو
چند سو لوگ جو کئی شہروں میں کل سے احتجاج کرتے ہوئے کھُلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں
اگر اُن کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے تو قلم سے تو احتجاج کر سکتے ہیں
جیسا کہ عدالتِ عظمٰی بہت پہلے فیصلہ دے چکی ہے بلوچستان کی حکومت ناکام ہو چکی ہے
بلوچستان کی حکومت کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور وہاں دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں