Category Archives: روز و شب

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کسی سے نہ کہنا

کسی سے دل کی بات کہہ کر کہا جائے
کہ کسی سے نہ کہنا

اس سے خاموشی بہتر ہے

شیخ سعدی

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے” The subversives

آئی کیو ؟

حاصل تقسیم ذہانت (Intelligence Quotient) المعروف آئی کیو کا گفتگو میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اسے کہیں جدید تعلیم کہیں سائنس اور کہیں آزاد خیالی سے جوڑا جاتا ہے

میں لڑکپن اور جوانی میں قرآن شریف پڑھتا تو سوچ میں پڑھ جاتا کیونکہ مجھے کچھ یوں سمجھ آتی کہ عقل اور ذہانت کا معیار یہ ہے کہ کوئی کتنا اللہ کے فرمان کو سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے

میں اسی ادھیڑ بُن میں لگا رہتا کہ ذہانت کا معیار اللہ کے فرمان کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے یا کہ کوئی ریاضی ۔ طبیعات یا کیمیاء کے امتحان میں کتنے زیادہ نمبر لیتا ہے ؟ گو ان مضامین میں میرا شمار اپنی جماعت کے چاروں حصوں کے 200 لڑکوں میں سے صرف چند بہترین میں ہوتا تھا

وقت گذرتا گیا اور اللہ کی مہربانی سے عُقدے کھُلتے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص سکول ۔ کالج اور پھر یونیورسٹی کے سب امتحانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے کامیاب ہوا اور ڈاکٹر یا انجیئر بن گیا مگر بعض اوقات سادہ سی بات بھی اس کی سمجھ میں نہ آتی ۔ یہی نہیں اگر سوائے اس کے کہ جو اس نے پڑھا تھا اُسے کوئی سوال ان مضامین کی حدود میں بھی پوچھو تو بیگانہ لگے ۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک نو دس سالہ بچہ بیٹھا تھا وہ مسکرانے لگا ۔ اُسے پوچھا تو اس نے بتا دیا کہ ”آپ یہ کہہ رہے ہیں اور اس سے یہ ایسے ہو جائے گا“۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے ایک استاذ صاحب نے ایک بار کہا تھا ”پڑھائی میں محنت کچھ اور چیز ہے اور ذہانت کچھ اور“۔

کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں نظامِ تعلیم ناقص ہے ۔ لیکن اس کا اثر تو ہر ایک پر ہوتا ہے خواہ وہ ذہین ہو یا نہ ہو ۔ میں نے اوپر جو تجربہ بیان کیا ہے اس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جرمن انجیئر بھی جن کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے

بات اسی پر پہنچتی ہے کہ ذہین آدمی حقائق کو پہچانتا ہے اور ان کی تہہ کو پہنچتا ہے ۔ وہ ایک طرف اگر سائنس میں نئی دریافتیں کر سکتا ہے تو دوسری طرف اللہ کو بھی درست طریقے سے پہچانتا ہے ۔ اور قرآن شریف اللہ کا کلام ہے ۔ اللہ خالق و مالک ہے ۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ انسان کو کیا بنایا ہے ۔ اسلئے ذہانت کیلئے لازم ہے اللہ کو درست پہچانے ۔ آج کی یونیورسٹیوں کا راگ الاپنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس سائنس کی بنیادیں استوار کیں وہ اپنے مذہب کے بھی عالِم تھے ۔ میں اس سلسلے میں سر الیگزنڈر فلیمنگ کا واقعہ بیان کر چکا ہوں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ بھلائی

اگر تم سے کوئی بھلائی کی اُمید رکھے
تو اسے مایوس مت کرو

کیونکہ

لوگوں کی ضرورت کا تم سے وابستہ ہونا
تم پر اللہ کا خاص کرم ہے

قول علی رضی اللہ عنہ

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”پانچ چیزیں جو پاکستان میں درست چل رہی ہیں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کیا مُشکل ؟

بااختیار عہدہ چھوڑنا اس سے بہت زیادہ مشکل ہے
کہ
اس دنیا کو مع اس کی لذتوں کے چھوڑ دیا جائے

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”امریکا کی انسانیت اور جمہوریت کے نام پر مہمات کے پس پردہ کیا عزائم ہیں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ بھروسہ

قابلِ بھروسہ ہے وہ شخص جو 3 باتیں سمجھ سکے

1 ۔ مسکراہٹ کے پیچھے دُکھ
2 ۔ غُصے کے پیچھے پیار
3 ۔ چُپ رہنے کے پیچھے وجہ

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے” US Presumption

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ پہچان

کسی چیز کی قدر دو وقت ہوتی ہے
ملنے سے پہلے اور کھونے کے بعد

لیکن

اس کا اصل مقام وہ ہے
جب وہ پاس ہوتی ہے

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”ڈرون حملوں میں مرنے والے کون ہوتے ہیں

عقيدت و تقليد

عام طور پر میں رات کو 10 بجے تک سو جاتا ہوں اور صبح فجر کی نماز سے قبل اُٹھتا ہوں ۔ 20 اور 21 اگست کے درمیان آدھی رات کو میرے موبائل فون نے ٹن ٹن ٹن ٹن کیا یعنی 2 پیغام آئے ۔ میری نیند کھُل گئی لیکن پیغام میں نے صبح ہی پڑھا ۔ لکھا تھا ”تقلید فرض ہے واجب ہے یا مستحب“۔ میں نے جواب دیا ”رسول اللہ ﷺ نے تقلید سے منع کیا ہے ۔ اس کا سبب ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی سے پوچھا ”کیا پڑھ رہے تھے ؟“ اُنہوں نے جواب دیا کہ آپ کو پڑھتے دیکھا تھا“۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”میری تقلید نہ کرو ۔ کبھی پڑھو ۔ کبھی نہ پڑو“۔

لُغوی معنی سے قطع نظر ميں صرف اُن عوامل کی بات کرنا چاہتا ہوں جسے عام طور پر تقليد يا عقيدت کا نام دیا جاتا ہے مگر پہلے دو مثاليں

ايک گڈريا کہہ رہا ہے “ميرے سوہنے ربّا ۔ تو ميرے پاس ہو تو میں تمہارا سر اپنی بکری کے دودھ سے دھو کر تمہارے بالوں کی مِينڈياں بناؤں”۔ سيّدنا موسٰی عليہ السلام نے اُسے منع کيا تو وحی آئی کہ ”ميرے بندے کو جس طرح مجھے ياد کرتا ہے کرنے دے“۔

شايد بابا بھُلے شاہ کا شعر ہے

کنجری بنياں ميری ذات نہ گھٹدی مينوں نچ نچ يار مناون دے

ميرے خيال ميں متذکرہ بالا مثالیں تقليد کيلئے نہيں ہيں ۔ کیا تقليد کا يہ مطلب ہے کہ متذکرہ بالا مثالوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم گڈريئے کی طرح اللہ کو یاد کريں یا پھر ناچنا اپنا شعار بنا ليں ؟

ايک جملہ ہمارے ہاں بہت استعمال ہوتا ہے “فلاں کی برسی بڑی عقيدت و احترام سے منائی گئی”۔ اس ميں عقيدت سے کيا مُراد ہے ؟ کیا برسی منانا دین اسلام کا حصہ ہے ؟

پچھلی پانچ دہائيوں کے دوران تقليد اور عقيدت کے نام پر ايسے عمل مشاہدہ میں آئے کہ توبہ استغار ہی کرتے بنی ۔ کسی کی قبر کی طرف سجدہ کرنا ۔ کسی کی قبر پر ميلہ لگانا ۔ قبر پر چڑھاوا چڑھانا ۔ نماز اور روزہ کی طرف لاپرواہی مگر کسی کو پير يا مُرشد مان کر اس کی تقليد میں مختلف عوامل جن کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہ ہو کرنا یا خاص تاريخوں کو کچھ پکا کر اس پير یا مُرشد کے نام سے بانٹنا ۔ ایک لمبی فہرست ہے ۔ کيا کيا لکھوں ؟

اصولِ فقہ ہے کہ
اوّل قرآن شریف
جو قرآن شریف میں نہ ہو وہ حدیث میں دیکھا جائے
جو حدیث میں نہ ہو وہ اصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تلاش کیا جائے
اور اُس کے بعد کچھ اور ہو سکتا ہے جس کيلئے اجتہاد اور اجماع ضروری ہے اور اس میں بھی تابعین کی ترجیح ہے

تقليد اور عقيدت کے متعلق کوئی صاحب مفصل عِلم رکھتے ہوں تو مستفيد فرمائيں