صدر ممنون حسین نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے تحت پورے ملک میں گھریلو اور تجارتی صارفین کو بجلی چوری کے الزام میں 10 لاکھ سے ایک کروڑ (ایک ملین سے 10 ملین) روپے جرمانہ اور 2 سے 7سال قید بامشقت کی سزا دی جائے گی ۔ آرڈیننس کا مسودہ وزارت پانی و بجلی نے تیار کیا تھا۔ صدر نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آرڈیننس کی منظوری دی ہے ۔ ملک میں بجلی چوروں کو سزا دینے کے لئے پہلی بار قانون نافذ کیا گیا ہے
Category Archives: روز و شب
جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو
ہمارے ہاں عام تاءثر یہی ہے کہ پڑھائی کی بنیاد اور عقل کی نشانی انگریزی ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر نے زندگی کا بہتر حصہ ولائت میں گذارا تھا اور شادی بھی ولائتی گوری سے کر کے گویا سونے پر سوہاگہ مل دیا تھا ۔ اُس نے لاہور سونامی کو اپنا رہبر بنایا ۔ اس کی چکا چوند نے بہت لوگوں کی نظروں کو خیرا کر دیا ۔ عوام پیچھ چل پڑی ۔ ہر طرف بالخصوص فیس بُک پر خان خان بلا بلا ہونے لگا ۔ لیڈر صاحب بھی موج میں آ کر سمجھ بیٹھے بلکہ اعلان کر بیٹھے کی پاکستان کا اگلا وزیرِ اعظم وہی ہوں گے ۔ جب انتخابات ہوئے تو سارے خواب چکنا چور ہو گئے
وزارتِ عُظمٰی ہاتھ سے گئی تو احتجاج کا دامن ایسا پکڑا کہ چھوڑنے کا نام نہیں لیتے ۔ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں افغانستان کو جانے والے ٹرکوں کے راستہ میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک دھرنا دیتے ہیں جسے چِلّہ ہونے کو ہے ۔ سُنا ہے کہ باقی راستوں سے تو ٹرک معمول کے مطابق جا رہے ہیں اور خیبر پختونخوا میں سے بھی رات کے وقت جاتے ہیں ۔ خیبر پختون خواہ کے وزیرِ اعلٰی صاحب نہیں جانتے کہ وزیرِ اعلٰی وفاق کا نمائیندہ اور وفاق کے ماتحت ہوتا ہے اور اس لحاظ سے وہ آئین کی خلاف ورزی کے مُرتکب ہو رہے ہیں
لیڈر صاحب جس جمِ غفیر کو لے کر چلے تھے سمجھتے رہے کہ شاید اُن سب کی ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے ۔ سینہ تان کے آگے آگے چلتے رہے اور لوگ اپنے اپنے دھندوں کی طرف رخصت ہوتے رہے ۔ سُنا تھا کہ ”اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے“۔ لیکن شاید یہ ضرب المثل ولائت میں نہیں پڑھائی جاتی اسلئے لیڈر صاحب کے عِلم میں نہ تھی ۔ ترنگ میں مہنگائی کے خلاف دُشمن کے گڑھ لاہور میں جلوس جلسہ کی ٹھان لی ۔ جب سردی سے کچھ زیادہ ہی سُکڑا ہوا جلسہ دیکھا تو جوش میں کہہ دیا ”خیبر پختونخوا کی بجلی سپلائی کی کمپنی خیبر پختونخوا کی حکومت کے حوالے کر دی جائے تو ہم سب ٹھیک کر دیں گے“۔ بُرا ہو میڈیا کا کہ جھٹ پٹ بات دشمن کو پہنچا دی ۔ بجلی اور پانی کے وزیر کا جواب آیا ”بصد شوق لیجئے“۔ 29 دسمبر کو وزیرِ اعظم نے بھی اس کی منظوری دے دی
اب لیڈر صاحب کے چیلے کہتے پھر رہے ہیں کہ خان صاحب نے تو کہا تھا کہ بجلی کی پیداوار کا محکمہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے حوالے کیا جائے ۔ وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا نے فرما دیا ہے ”وزیرِ اعظم ہمارے ساتھ مذاق نہ کریں ۔ یہ تو پہلے ہی آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق ہمارا حق ہے ۔ ہمیں جنریشن اور ڈسٹریبیوشن بھی دی جائے“۔ محترم نے شاید آئین کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی ۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق وفاق کسی صوبے کو اپنے کوئی اختیارات تفویض کر سکتا ہے ۔ یہ نہیں لکھا کہ بجلی کمپنی صوبے کو دے دی گئی ۔ خیر ۔ وہ جو چاہے کہتے رہیں بادشاہ ہیں ۔ بلاول بھی تو بہت کچھ کہتا ہے
مگر میں اس سوچ میں پڑا ہوں کہ اگر بجلی اور پانی کے وزیر نے کہہ دیا ”وہ بھی لے لیجئے“ تو لیڈر صاحب پھر کیا کریں گے ؟ میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں لیڈر صاحب اپنے دل کی بات کہہ اُٹھے کہ ”وزارتِ عظمٰی مجھے دے دیں تو میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا“۔
اگر خدا نخواستہ ایسا ہو گیا تو یہ ملک نہ تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہے جو کبھی کپتان اور کبھی پی سی بی کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اور نہ لوگوں کی زکٰوۃ اور خیرات پر چلنے والا شوکت خانم میموریل ہسپتال
کہیں ملک کو چلاتے چلاتے خدا نخواستہ چلتا ہی نہ کر دیں
جَل تُو جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو
ملک کو اسلامی نظریہ سے علیحدہ کرنے کی سازش کا انکشاف
پاکستان کو اسلامی نظریہ سے علیحدہ کرنے کے لئے بابائے قوم محمد علی جناح کی جانب سے معاشرے کو مُلک کے نظریئے کے مطابق اسلامی بنانے کی خاطر تشکیل دیئے گئے محکمہ برائے اسلامی تنظیم نو (ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن) کو بابائے قوم کے انتقال کے فوراً بعد بند اور اس کا ریکارڈ ضائع کردیا گیا تھا
پنجاب کے سیکریٹری آرکائیوز نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم نے اپنے پہلے ایگزیکٹو اقدام کے طور پر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن قائم کرنے کے لئے احکامات دیئے تھے جس کا واحد مقصد مُلک کی کمیونٹی کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تنظیم نو کرنا تھا لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد ہی اس محکمہ کو بند کردیا گیا تھا۔ سیکریٹری آرکائیوز () اوریا مقبول جان نے کہا کہ وہ جلد ہی مُلک کی اعلیٰ قیادت کو پاکستان کے خلاف اس سنگین سازش سے آگاہ کریں گے
سرکاری دستاویز میں اس محکمہ کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں ۔
اسلامی تعلیمی نظام
اسلامی قانون اور معاشرتی تنظیم نو
اسلامی معیشت
شہری اخلاق
یہ وہ چار شعبہ جات تھے جو قرآن اور سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے طے کئے گئے تھے۔ سیکریٹری اوریا مقبول جان نے کہا کہ اس ڈپارٹمنٹ کا سربراہ علامہ محمد اسد کو بنایا گیا تھا لیکن قائد اعظم کی رحلت کے بعد اس وقت کے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ خان نے علامہ کا تبادلہ کردیا اور انہیں امور خارجہ سے وابستہ ملازمت دیدی۔ اوریا مقبول جان نے بتایا کہ علامہ اسد کے جانے کے بعد ڈپارٹمنٹ کو بھی ختم کردیا گیا۔ بعد میں 1948ء میں پُراسرار انداز سے محکمہ کی عمارت میں آگ لگ گئی اور پورا ریکارڈ تباہ ہوگیا۔ اوریا نے کہا کہ یہ ملک کو قائد اعظم کی بصیرت کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خلاف ایک سازش تھی
انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی سوانح عمری ”یورپی بدو“ میں علامہ محمد اسد نے لکھا تھا کہ کس طرح اچانک ان کا ملازمت سے تبادلہ کیا گیا۔ علامہ اسد نے بھی سازش کے متعلق باتیں لکھی ہیں۔ سیکریٹری آرکائیوز اوریا مقبول کی جانب سے دی نیوز کو دی جانے والی سرکاری دستاویز کی نقل کے مطابق اس محکمہ کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے ہیں ان میں لکھا ہے کہ کئی قربانیوں اور غیر معمولی مشکلات کے نتیجے میں پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم چاہتے تھے کہ ملک کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق چلایا جائے اور وہ پاکستان کے قیام کو سفر کا اختتام نہیں سمجھتے تھے۔ دستاویز میں لکھا ہے کہ ”پاکستان کے متعلق کہا گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کے قیام کو نہیں روک سکتی اور ایسا ہوا بھی لیکن کئی مشکلات اور مسائل کے خاتمے کے لئے ابھی بہت کوشش کرنا باقی ہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے نظریہ کی ریاست قائم کرنا ہوگی یعنی کہ ایک ایسی ریاست بنائیں گے جہاں اسلامی اصولوں کے تحت نظام حکومت تشکیل دیا جائے گا۔ کئی برسوں کی غلامی اور رسوائی کے بعد یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ اسی وجہ سے ہماری طاقت اور سماجی سطح پر حوصلہ کمزور ہوا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے حصول کے لئے ہماری جدوجہد کا محور نظریاتی پلیٹ فارم رہا ہے۔ ہم یہ کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہم اسلامی استقامت کی وجہ سے بحیثیت مسلم ایک قوم ہیں، ہمارے لئے مذہب صرف ایک عقیدہ یا اخلاقی قواعد نہیں ہے بلکہ عملی رویہ کا ایک مجموعہ قانون بھی ہے۔ تقریباً تمام دیگر مذاہب کے برعکس، اسلام کا تعلق صرف روحانیت سے نہیں بلکہ یہ ہماری طبعی زندگی کو بھی ترتیب دینے کے لئے ہے۔ قرآن میں بتائی گئی اسکیم کے مطابق اور حضور پاکﷺ کی زندگی کی مثال سے انسانی بقاء کے تمام پہلوئوں کو زیر غور رکھا جاتا ہے جسے ہم انسانی زندگی کہتے ہیں۔ لہٰذا ہم صرف اسلامی عقائد کو اپنے پاس رکھ کر اسلامی زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہمیں اس سے کہیں زیادہ کرنا ہوگا۔ اسلام کے تحت ہمیں رویہ، انفرادیت، سماجی رکھ رکھاؤ کو بھی اسی انداز میں ڈھالنا ہوگا“۔
ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کی دستاویزات میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی راہ میں ممکنہ رکاوٹوں کا بھی ذکر موجود ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ یقیناً، خالصتاً ثقافتی اور نسلی بنیادوں پر قوم پرستی کے نظریات پر عمل پیرا دنیا کے درمیان نظریاتی ریاست کا تصور بالکل منفرد ہے تو ایسے ماحول میں جہاں پوری دنیا ایسے ممالک کو جدید اور پسندیدہ کہتی ہے ایسے میں زبرست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ ہمارے دور کے لوگوں کی اکثریت نسلی وابستگی اور تاریخی روایات کو قومیت کی واحد قانونی حیثیت کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ دوسری جانب ہم نظریاتی کمیونٹی، ایک ایسی کمیونٹی جس میں لوگوں کی زندگی کے متعلق ایک طے شدہ رائے ہو اور اس میں اخلاقی اقدار پائی جاتی ہوں، کو قومیت کی اعلیٰ ترین قسم سمجھتے ہیں جس کی انسان خواہش کرسکتا ہے۔ ہم یہ دعوٰی صرف اس لئے نہیں کرتے کہ ہم یہ بات باور کرچکے ہیں کہ ہمارا مخصوص نظریہ ”اسلام“ براہِ راست خدا کی طرف سے ہے بلکہ اسلئے بھی کہ ہماری منطق ہمیں بتاتی ہے کہ ایک حادثے یا پھر رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر یا پھر جغرافیائی محل و وقوع کی بنیاد پر قائم ہونے والی کمیونٹی کے برعکس مشترکہ طور پر ایک نظریہ پر عمل کرنے والی ایک کمیونٹی انسانی زندگی کا ایک بہترین اظہار ہے
دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ ہماری قوم اس وقت تک مسلم ملت کہلائے جانے کے لئے متحد نہیں ہوسکتی جب تک شرمناک بوکھلاہٹ اور بد دلی، سماجی تانے بانے کے نقصان، اخلاقی کرپشن پر قابو نہیں پا لیتے۔ اور یہی وجہ مقام ہے جہاں ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن اپنا کام دکھائے گا۔ اس کے بعد اس دستاویز میں ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کی جانب سے جس منصوبے
پر عمل کرنا ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے
تحریر ۔ انصار عباسی
چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ہونی
جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے
اُسی وقت جب اُس نے ہونا ہوتا ہے
اور اُسی طرح جس طرح ہونا ہوتا ہے
اس پر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا
البتہ پریشان ہونے سے نقصان ہو سکتا ہے
یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Drone Summit “
13 دردوں کے علاج آپ کے گھر موجود
1 ۔ ڈنمارک کے محققین کے مطابق پٹھوں کی سوزش اور جوڑ درد کیلئے ہنڈیا میں روزانہ 2 چائے کے چمچے کُتری ہوئی ادرک یا ایک چائے کا چمچہ خُشک
ادرک کا سفوف ڈال کر کھانے سے 60 فیصد افاقہ ہوتا ہے
.
.
.
.
.
.
2 ۔ دانت میں درد سے عارضی سکون پانے کیلئے درد والے دانت پر ایک الونگ رکھ کر
آہستہ آہستہ چبائیے 2 گھنٹہ تک آرام رہے گا
.
.
.
.
.
.
3 ۔ کھانے میں لہسن کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے بچاتا ہے ۔ ھائی بلڈ پریشر ہو تو کچے لہسن کی ایک پھانک یا تُری روزانہ کھایئے ۔ بلڈ پریشر میں کمی
آئے گی ۔
University of New Mexico School of Medicine کے ماہرین کے مطابق کان میں درد کیلئے لہسن کے تیل کے دو قطرے صبح شام 5 دن کان میں ڈالنے سے کان درد سے چھٹکارا مل سکتا ہے
.
.
.
.
.
.
4 ۔ East Lansing ‘s Michigan State University کے محققین کے مطابق روزانہ 20 دانے گلاس (Cherries) کھانے
سے جوڑوں اور سر کے درد میں افاقہ ہو سکتا ہے
.
.
.
.
.
5 ۔ آنتوں کی سوزش ۔ پیٹ درد اور بل پڑتے ہوں تو کورٹی سٹیرائیڈز کی بجائے ہفتے میں ایک کیلو گرام
مچھلی کھایئے ۔ افاقہ ہو گا ۔ مچھلی میں سالمن ۔ سارڈینز ۔ ٹُونا ۔ میکریل ۔ ٹراؤٹ اور ھَیرِنگ بہتر ہیں
.
.
.
.
.
.
.
6 ۔ خواتین کو قدرتی نظام کے تحت ماہانہ تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے New York Columbia University کی گائناکالوجی کی پروفیسر
Mary Jane Minkin, M.D. کے مطابق روزانہ 2 کپ قدرتی دہی کھانے سے ان کی تکلیف میں 48 فیصد کمی آ سکتی ہے
.
.
.
.
.
.
.
7 ۔ غذا کے ماہر محقق Julian Whitaker, M.D. کے مطابق روزانہ پسی ہوئی ہلدی چائے کا چوتھائی چمچہ ہنڈیا میں ڈال کر پکا کھانا
کھانے سے دائمی درد میں افاقہ ہو گا ۔ یہ نسخہ اسپرین ۔ بروفین یا ناپروکسن کھانے سے بہتر ہے
.
.
.
.
.
8 ۔ Ohio State University کے مطابق روزانہ ایک بھرا ہوا کپ انگور کھانے سے کمر کے درد میں افاقہ ہوتا ہے 
.
.
.
.
.
9 ۔ جرمن محققین کے مطابق سُہانجنا یا مُنگا کی جڑ سے sinusitis کا علاج ہو سکتا ہے ۔ ایک چائے کا چمچہ صبح شام ایسے ہی یا گوشت پر یا سینڈ وِچ پر لگا
کر جب تک آرام نہ آئے کھاتے ریئے
.
.
.
.
.
.
10 ۔ Rutgers University کی سائنسدان Amy Howell, Ph.D.
کے مطابق اگر ایک کپ تازہ نیلے بیر (blueberries) یا جمے ہوئے روزانہ کھانے یا ان کا رَس (juice) پینے سے urinary tract infection سے 60 فیصد بچاؤ ہو سکتا ہے
.
.
.
11 ۔ منہ اندر سے پک جائے تو خالص شہد دن میں 4 مرتبہ لگایئے 
.
.
.
.
.
.
.
.
.
12 ۔ اگر ٹانگ کی رگ چڑھ جاتی ہو جسے انگریزی میں cramps کہتے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے تو روزانہ 250 ملی لیٹر یعنی چوتھائی لیٹر ٹماٹروں کا رَس پیجئے

13 ۔ امریکا کی National Headache Foundation کے مطابق تو تیز کافی پینے سے مِیگرین (migraine) کے علاج کی دواؤں کا اثر 40 فیصد تیز ہو جائے گا 
لیکن
میرا ذاتی تجربہ مِیگرین کا مکمل اور پائیدار علاج ہے جس کیلئے نہ ڈاکٹر کی فیس دینا پڑے اور نہ مہنگی دوائیاں خریدنا پڑیں ۔ کوئی 17 سال قبل مجھے شدید سر درد کی شکائت ہوئی جو مہینے میں 2 بار ہونا شروع ہوئی ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ مِیگرین ہے اور دوا دے دی لیکن سر درد بڑھتے بڑھتے ایک سال بعد مہینے میں 4 بار ہونے لگی ۔ نیورو سرجن کے بعد نیورو فزیشن کے پاس پہنچا ۔ اس نے دوا دی اور چاکلیٹ ۔ کیلا اور چاول کھانا اور کافی ۔ پیپسی اور کوکا کولا پینا منع کر دیا ۔ لیکن بمِثل ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” 2 سال بعد مجھے ہفتہ میں دو بار مِیگرین ہونا شروع ہو گئی ۔ اتفاق سے دفتر کے ایک پرانے ساتھی سے ملاقات ہو گئی جسے کسی زمانہ میں مِیگرین نے بہت تنگ کیا ہوا تھا ۔ اس سے احوال دریافت کیا تو اس نے جواب دیا “الحمدللہ اب ٹھیک ہوں ۔ بہت علاج کر کے مایوس ہو چکا تھا کہ کسی نے دیسی نُسخہ بتایا جس کے استعمال سے سر درد ہمیشہ کیلئے جاتا رہا”۔

وہ نسخہ یہ ہے ۔ برابر مقدار میں سفید زیرہ اور سؤنف علیحدہ علیحدہ پیس کر اچھی طرح ملا لیجئے ۔ اس کا ایک چائے کا بھرا ہوا چمچہ ہر کھانے کے بعد 6 ماہ تک کھایئے ۔ میں نے سفید زیرہ اور سؤنف 3 ماہ متواتر کھایا پھر کبھی کبھی کھاتا رہا کیونکہ چَسکا پڑ گیا تھا اللہ کے فضل سے مِیگرین ایسی گئی کہ یاد نہیں ہوئی بھی تھی
چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ عقلمند ؟
عقلمند وہ نہیں جو دوسروں کی بیوقوفیاں گِنے
بلکہ
عقلمند وہ ہوتا ہے
جو اپنی بیوقوفیوں کو یاد رکھے
اور
ان سے سبق سیکھے
یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Israel Commands, US Obeys “
میں فقیر نہیں ہوں
راشد ادریس رانا صاحب نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر نقل کی جسے میں نیچے دُہرا رہا ہوں ۔ میری تمام قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ دولت کسی وقت بھی چھن سکتی ہے اور زندگی کا بھی کوئی بھروسہ نہیں کہ کب اچانک ختم ہو جائے اسلئے آج ہی سے اپنے عزیز و اقارب ۔ محلے داروں ۔ ملنے والوں اور چلتے پھرتے نظر آنے والوں کو ذیل میں درج واقعہ کے راوی کی نظر سے دیکھا کیجئے ۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ سے قریب ہی کوئی خاندان ایسا ہو گا جو بظاہر ٹھیک ٹھاک نظر آتے ہیں یعنی اپنا بھرم کسی طرح قائم رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ فوری مدد کے مستحق ہیں ۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جلد مدد کیلئے آگے بڑھیئے ۔ آپ دیکھیں گے کہ خاموشی سے کی ہوئی آپ کی امداد آپ کی دسترس میں کمی کرنے کی بجائے اِن شاء اللہ اسے اور بڑھا دے گی کیوں کہ اللہ ایک کے بدلہ میں 10 سے 100 تک دیتا ہے ۔ اُنہیں تو اللہ نے پال ہی دینا ہے تو کیوں نا اس نیکی کو آپ اپنے نام لکھ لیں
درجِ ذیل واقعہ کو اِنہماک سے پڑھیئے اور اپنا مستقبل درست کرنے کی کوشش کیجئے لیکن اس سے پہلے میری 3 دسمبر 2013ء کی تحریر پر نظر ڈال لیجئے
واقعہ
مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے ایک معصوم سے چہرے پر نظر پڑی ۔ عمر یہی کوئی 14 یا 15 سال ہوگی ۔ پر پتہ نہیں ایسی کیا بات تھی اس کے چہرے پر کہ میں رُک کر اُسے دیکھنے لگا اور ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے مجھے وہ نہ دیکھ پائے ۔ وہ بچہ باہر نکلتے ہوئے جھجک رہا تھا ۔ نمازیوں نمازیوں کی طرف قدم بڑھاتا پھر پیچھے ہو جاتا ۔ میں سمجھ گیا کہ اس لڑکے کو ضرور کوئی ممسئلہ درپیش ہے ۔
خیر آہستہ آہستہ نمازی مسجد سے باہر نکل گئے ۔ وہ لڑکا دیوار سے ٹیک لگا کر زمین پر پیٹھ گیا اور زمین پر اپنی اُنگلیوں سے آڑھی ترچھی لکیریں بنانے لگا ۔ میری بے صبری طبیعت بھی اب مجھے اس کا حال احوال پوچھنے کیلئے اُکسانے لگی تھی سو اسکے پاس جا کر زمین پر ہی بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر وہ اُٹھ کر جانے لگا تو میں نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا اور پوچھا ”کیا ہو گیا ہیرو ؟ کیوں پریشان ہو ؟“
جواب ملا ”کچھ نہیں بھائی ۔ میں گھر جا رہا ہوں“۔ یہ کہہ کر وہ پھر جانے لگا تو میں بھی اُس کے پیچھے ہو لیا اور تھوڑی دور جانے کے بعد پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور کہا ”دیکھو ۔ میں تمہارا بھائی ہوں ۔ تم مجھے جانتے ہو گے (دراصل آس پاس محلے کے لڑکے میرے بہت اچھے دوست ہیں اور تقریباً سب ہی مجھے نام سے جانتے ہیں)۔
میں نے کہا ”بھائی سے تو بات نہیں چھپایا کرتے ۔ میں جانتا ہوں تم کسی پریشانی میں ہو ۔ دیکھو ۔ تمہارا بھائی اتنے پیسے والا تو نہیں کہ تمہارے مسائل حل کر سکے ۔ پر جتنا ہو سکا اتنا ضرور کروں گا ۔ اس کی آنکھیں تو شاید کب سے برسنا چاہ رہی تھیں میری ان باتوں سے تو وہ ساون کی بپھری ہوئی برسات کی طرح برس پڑیں ۔ یہ 14 ، 15 سال کی عمر بہت حساس ہوتی ہے ۔ بچہ اس عمر مین نئی نئی چیزیں اور انسانی عادت سمجھتا ہے ۔ محسوسات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ دُکھ یا خوشی کا مطلب سمجھنا شروع کرتا ہے ۔ میں نے اسے بہت مشکل سے چُپ کرایا پھر اسے کُریدنا شروع کیا تو جو کچھ اُس نے کہا وہ آپ لوگوں سے شیئر کرتا ہوں
”میں فقیر نہیں ہوں ۔ اللہ قسم میں فقیر نہیں ہوں ۔ کچھ عرصہ پہلے جب ابو سکول کی کتابیں لینے جا رہے تھے تو اُنہیں کسی نے گولی مار دی ۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ تمہارے ابو کی ”ٹارگٹ کِلِنگ“ ہو گئی ۔ امی نے فیکٹری مین کام کرنا شروع کر دیا لیکن جب وہ بیمار ہو گئیں تو کام چھوڑ دیا ۔ ابھی امی بہت بیمار ہین ۔ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاتیں ۔ شام مین نے کہا ”امی ۔ اگر آپ ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گی تو میں روزہ نہیں کھولوں گا ۔ پھر امی رونے لگی ۔ کہہ رہی تھیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ڈاکٹر کے پاس چلی گئی تو رات کھانا کیا کھائیں گے ؟ اب تو دکان والا اُدھار بھی نہیں دیتا ہے ۔ عرصہ ہوا تمہارے چچا تایا وغیرہ بھی نہیں آئے ۔ مین نے امی سے کہا کہ میں کھیلنے جا رہا ہوں ۔ عصر کی نماز پڑھی تو مسجد میں ایک بندہ پیسے مانگ رہا تھا اور سب اسے پیسے دے رہے تھے ۔ وہاں سب مجھے جانتے ہیں تو پھر میں ادھر آپ لوگوں کے علاقے میں آ گیا کہ مجھے بھی پیسے ملیں گے تو میں امی کو ڈاکٹر کے پاس لیجاؤں گا ۔ لیکن جب مین نے مانگنے کی کوشش کی تو میں نہ تو ہاتھ پھیلا سکا اور نہ ہی میری آواز نکلی ۔ مجھے ابو یاد آ گئے وہ کسی سے بھی کچھ مانگنے سے منع کرتے تھے ۔ ابو بہت اچھے تھے ۔ سکول سے ایک بھی چھٹی نہیں ہونے دیتے تھے ۔ اب مین نے سکول بھی چھوڑ دیا ۔ اب اگر بھیک مانگوں گا تو ابو اور خفا ہو جائین گے ۔ پر پیسے نہ ہوئے تو امی ڈاکٹر کے پاس نہیں جائین گی پھر وہ بھی مر جائیں گی ۔ پھر میرا کیا ہو گا ؟ میں کہاں جاؤں گا ؟
شاید اس سے زیادہ مجھ میں بھی سننے کی ہمت نہیں تھی ۔ میں نے اپنے آنسو روکے اور اسے گلے سے لگا لیا ۔ جیب میں پاکٹ منی کی تھوڑی سی رقم تھی سو اسکے گھر گیا ۔ وہاں اس کی والدہ سے ملا اور پھر اپنے ننھے شیر کی ماں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے ۔ اس کے بعد ایک طویل کہانی ہے کہ کس طرح میں نے اپنے والد صاحب کو قائل کیا کہ ان کی مستقل مدد کرنا چاہیئے ۔ اس وقت بھی میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں ۔ آنسوؤں سے ناجانے کتنی ہی معصوم کلیاں مجبوری کے پتھروں تلے کُچلی جاتی ہوں گی
میری ان تمام لوگوں سے گذارش جنہیں اللہ تعالٰی نے مناسب مال عطا کر کے ایک آزمائش مین ڈالا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں کہ کسی کو ہاتھ پھیلانے کا موقع نہ ملے ۔ یہ آپ کا احسان نہیں آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حلات خود سمجھیئے ۔ ڈھائی فی صد تو فرض ہے ۔ اپنے ہاتھ کھولیئے اور کثرت سے صدقہ و خیرات کیجیئے ۔ میں دروازے پر مانگنے والوں کی بات نہیں کررہا ہوں ۔ باہر نکلئیے اور مستحق لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کیجیئے ۔ یقین کیجیئے سب کچھ یہیں رہ جائے گا سوائے اُس (الباقیات الصالحات) کے جو آپ نے آگے بھیجا
یہ پیسہ اور مال کسی کام کا نہیں اگر اس سے کسی دکھی دل کی خدمت نہ ہو ۔ میں آپ کو وہ سکون اور خوشی کبھی بھی کسی بھی طرح نہیں بتا سکتا جو سچے دل سے اور بنا کسی بدلے کی اُمید کے کسی کا دکھ بانٹ کر ملتی ہے ۔ یہ بچپن بہت قیمتی ہوتا ہے ۔ خدا راہ کسی کا بچپن بچا لیجئے ۔ کسی کے موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی آنسو مٹی تک نہ پہنچنے دیجئے ورنہ یہ نمی مٹی تک پہنچنے سے پہلے بہت تیزی سے عرش تک جا پہنچتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ اللہ تعالٰی کی بے آواز لاٹھی وار کرے اُٹھین اور دوسروں کی مدد کریں