Category Archives: خبر

تصحیح

میں نے کل لکھا تھا ” جامعہ حفصہ کے قریب نالے میں طالبات کا سامان پھینکا ہوا پایا گیا تھا“۔ طالبات کا سامان جی سیون ٹو کے نالے میں پایا گیا تھا جبکہ جامعہ حفصہ جی سِکس وَن اور جی سِکس فَور کے درمیان ہے ۔ سامان ملنے والی جگہ جامعہ حفصہ سے تقریباً ایک کلو میٹر دور ہے ۔

اس سامان میں کیا تھا جاننے کیلئے یہاں کلک کیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا ہم سب مسلمان ہیں ؟ ؟ ؟

اب کیا ہو رہا ہے ؟ ؟ ؟

جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے خلاف فوجی کاروائی 11 جولائی کو مکمل ہو گئی تھی ۔ 14 جولائی کی صبح اردگرد کے رہائشی علاقہ سے کرفیو ختم کیا گیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس اور اس کے اردگرد کے علاقہ بشمول کمیونٹی سنٹر ۔ انوائرمنٹ منسٹری اور انکم ٹیکس کے دفاتر اور آبپارہ سے میلوڈی مارکیٹ کی طرف جانے والی دونوں سڑکوں یعنی کوئی سات آٹھ سو میٹر لمبے اور پانچ سو میٹر چوڑے علاقہ میں مزید ایک ہفتہ کرفیو رہے گا ۔ یہ ایک ہفتہ 21 جولائی کی صبح کو پورا ہو گیا تھا ۔ اس خیال سے کہ کرفیو حسبِ وعدہ اُٹھا لیا گیا ہو گا آج صبح 9 بجے میں کسی کام سے آبپارہ مارکیٹ اور میلوڈی مارکیٹ کیلئے روانہ ہوا ۔ جب میں آبپارہ چوک سے میلوڈی مارکیٹ کی طرف جانے والی بڑی اور دوہری سڑک پر مُڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آبپارہ مارکیٹ کے فوراً بعد سڑک پر بڑے بڑے سیمنٹ کنکریٹ بلاک رکھ کر سڑک بند کی ہوئی ہے اور الِیٹ فورس کے مسلحہ کمانڈو کسی پیدل شخص کو بھی اُدھر نہیں جانے دے رہے ۔ مجھے آبپارہ مارکیٹ کے ساتھ ہی مڑنا پڑا اور پھر 12 فٹ چوڑی سڑکوں پر سے ہوتا ہوا جگہ جگہ رُکتا کیونکہ سامنے سے بھی ٹریفک آ رہی تھی 2 منٹ کا راستہ 40 منٹ میں طے کر کے میلوڈی مارکیٹ پہنچا ۔

میں تو خیر کبھی کبھار کسی کام سے ہی اُدھر جاؤں گا لیکن جو سڑکیں ابھی تک کرفیو میں ہیں اُن کے کنارے رہنے والے جو 3 جولائی سے 14 جولائی تک کرفیو کی وجہ سے گھروں میں قید تھے 14 جولائی سے اب تک گلیوں کے راستے پیدل اپنے گھروں سے دور سڑک پر نکلتے ہیں اور پھر کسی طرف جانے کے قابل ہوتے ہیں جو بیمار یا لاغر کیلئے بہت مشکل کام ہے ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس سے ملبہ ہٹانے پر مامور مزدوروں کو 22 جولائی کو ایک جلی ہوئی لاش ملی جس کے ٹکڑے ہو چکے تھے ۔ اس سے ایک دن پہلے جامعہ حفصہ کے قریب نالے میں طالبات کا سامان پھینکا ہوا پایا گیا تھا ۔ جو ملبہ بیکار سجھ کر فوجی افسروں نے باہر پھینکوا دیا تھا اس میں سے اسلام آباد کے ایک بچے فاروق الحسنین کا پاسپورٹ ملا ہے جس کی تاریخ پیدائش 14 فروری 2003 ہے اور پاسپورٹ کا اجراء 24 مارچ 2006 کو ہوا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ فاروق الحسنین کہاں ہے ؟ ابھی تو سب کچھ ایک بڑے علاقہ میں کرفیو لگا کر فوجی افسران کی نگرانی میں ہو رہا ہے تو یہ حال ہے ۔ منگل 10 جولائی سے لے کر آج تک ہر آنے والا دن حکومت کے کردار کو مشکوک سے مشکوک تر بنا رہا ہے ۔

اگر صرف لال مسجد یا جامعہ حفصہ کی مرمت ہی کرنا ہو تو اردگرد کے اتنے بڑے علاقہ میں کرفیو کی کیا ضرورت ہے ؟ صرف لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کی ناکہ بندی کافی ہے جو کہ موجودہ کرفیو والے علاقہ کا آٹھواں حصہ ہو گا ۔ پہلے آپریشن ختم ہونے کے بعد دو دن تک صحافیوں کو متاثرہ علاقہ میں نہ لیجانا ۔ پھر صحافیوں کو صرف لال مسجد کے ہال اور ابتدائی دنوں میں بنے ہوئے تنگ برآمدے تک محدود رکھنا اور اب تک اتنے بڑے علاقہ میں کرفیو رکھنے سے ذہن میں صرف ایک ہی بات آتی ہے کہ حکومت کی سفاکی اور 1000 سے 2000 بے گناہ طلباء و طالبات کے بیہیمانہ قتل پر پردہ ڈالنے کیلئے حکومت یہ سب اقدامات کر ہی ہے ۔ جلے ہوئے انسانی جسموں کو رات کی تاریکی میں ٹھکانے لگا دیا گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نشانات کو مٹانے میں کافی وقت لگتا ہے ۔ اسی طرح بموں سے عمارت کے اندر جب جسموں کے ٹکڑے اُڑتے ہیں تو جا بجا جسموں کی تعداد سے بہت زیاد نشانات چھوڑتے ہیں ۔ ان کو بھی ڈھونڈنے اور مٹانے میں کافی وقت لگتا ہے ۔

معروف بزرگ وکیل حشمت حبیب صاحب جو عدالتِ عظمٰی میں لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن میں گُم شدہ طلباء و طالبات کے وارثوں کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں نے چیف کمشنر اسلام آباد کو ایک درخواست دی ہے جس میں لکھا ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں 1200 طلباء اور 3500 طالبات موجود تھیں ۔ انہوں نے درخواست میں یہ بھی لکھا ہے کہ پولیس کی طرف سے عدالت میں بیان دیا گیا تھا کہ جب آپریشن سے قبل لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کو گھیرے میں لیا گیا تھا تو 2000 سے زیادہ طالبات ڈنڈے لے کر باہر آئی تھیں ۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ حکومت نے ابھی تک چند سو کا حساب دیا ہے باقی طلباء اور طالبات کہاں ہیں ؟

عشقِ حُسن کیا ہے بندگی کے آگے ؟

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ ایک آزاد منش نوجوان شہزادہ ایک نہائت خوبصورت شہزادی پر فریفتہ ہو گیا اور اُس سے شادی کی خواہش کی ۔ شہزادی نے کہا کہ فلاں دینی عالم کی نگرانی میں چلّہ کاٹو اگر تم کامیاب رہے تو میں تم سے شادی کر لوں گی ۔ نوجوان کو دین سے کوئی لگاؤ نہ تھا مگر دل کے ہاتھوں مجبور دینی عالم کے پاس جا کر قصہ بیان کیا ۔ عالم نے اسے ایک کمرے میں رہنے کی اجازت دے دی ۔ نوجوان نے چلّہ شروع کیا اور عالم کی خدمت بھی کرتا رہا ۔ جب کئی ماہ گذر گئے تو شہزادی نے قاصد بھیجا کہ احوال معلوم کرے ۔ قاصد نے آ کر بتایا کہ وہ تو اب شہزادہ لگتا ہی نہیں ۔ شہزادی کو یقین نہ آیا ۔ سواری تیار کرا کے خود وہاں جا پہنچی اور شہزادے کو کہا کہ میں تو تمہارا امتحان لے رہی تھی جس میں تم پورے اترے ۔ اب میں شادی کی منتظر ہوں ۔ شہزادہ بولا کیسی شہزادی کیسا حسن کیسی شادی ۔ مجھے یہاں وہ کچھ مل گیا ہے جو کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا ۔ شہزادی نے عالم دین سے مدد چاہی تو انہوں نے کہا بیٹی ۔ یہ تو اللہ کا تابعدار ہو گیا ہے اور اسے اللہ کے بندوں کی خدمت کا چسکا پڑ گیا ہے ۔

سو کچھ ایسا ہی مجھے عامر لیاقت حسین کے متعلق ایک کراچی والے نے اس کے لال مسجد جامعہ حفصہ پر فوج کشی کی مخالفت کرتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہونے سے چند دن پہلے کہا تھا ۔

عامر لیاقت حسین سابق وزیرِ مملکت کی ایک تازہ تحریر

جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو بہت فخر سے اور بڑھ چڑھ کر یہ گیت اسکول کی اسمبلی میں سب کے ساتھ مل کرگایا کرتا تھا

آؤ بچو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

اِس قومی نغمے میں نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ رگوں میں دوڑتا لہو بھی کچھ دیر کے لیے سبز ہوجاتا تھااور اندر ہی اندرخواب، امیداورتوقع کے نئے پودے تناور درخت بننے کے لیے بے تاب ہوجاتے … لیکن قومی اسمبلی، اسکول کی اسمبلی سے بہت مختلف ہے…وہاں چونکہ سب جیت کر آتے ہیں اِسی لیے گیت بھی بدل جاتے ہیں…اُس وقت انداز والہانہ تھا،اب فاتحانہ ہے …اُس وقت بچوں کی اسمبلی تھی اِسی لیے صرف پاکستان نظر آتا تھا…اب قومی اسمبلی ہے اِسی لیے ”صدرِ پاکستان“ کے سوا کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا…اور پھر میں بھی سب کی طرح یہ گیت بھول گیا…کہ اقتدار کی راہداریوں میں تو لوگ سچ اور حق کو بھول جاتے ہیں یہ تو صرف ایک گیت تھا…ایک ایسا بھولا بسرا نغمہ جسے گنگنانے کے لیے آواز کی نہیں…صرف حب الوطنی کی ضرورت تھی…مگر اب سب کچھ ویسا نہیں ہے ، دھیمے سُروں کی جگہ اب خود کش حملہ آوروں کے سَروں نے لے لی ہے …آواز کے جادو پر درد بھری چیخوں کی ظالمانہ حُکم رانی ہے …اِسی لیے اب کوئی ”قومی نغمہ “ نہیں گاتا…سہمے سہمے سوز سے بس ”قومی نوحے“ پڑھے جاتے ہیں…ہرفرد نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی ممکنہ دھماکے سے قبل ہی وہ کرب سے پھٹ جائے گا… آج مجھے وہی گیت پھر یاد آرہا ہے ، مگر ویسا نہیں جیسا میں گاتا تھا…مجھے نیزوں کی نوکوں پر بچوں کے سر، خون میں لت پت ٹرینیں، انسانی جسم اگلتے کنوئیں اور وہ سوختہ نعشیں بھی دکھائی دے رہی ہیں جن کے سبب پاکستان جیسی نعمت عظیم ہم جیسے ”بے قدروں“ کو نصیب ہوئی…

فوجی جوانوں پر حملے کرنے والے جنونی اور مساجد کو ویران کرنے والے”ویر“ یہ نہیں جانتے کہ دونوں جانب بہنے والا خون ہمارا اپنا ہے …اِس کی مہک گواہی دے رہی ہے کہ یہ آج بھی اُن22لاکھ انسانی جانوں کا مقروض ہے جو تخلیقِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو اپنے لہو کی آبیاری سے مضبوط کرگئیں…آج میں اُن شہیدوں ہی سے مخاطب ہوں…مگرخجالت و شرمندگی کے بوجھ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے

آؤ شہیدو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد . . . پاکستان زندہ باد 
دیر و سوات اسلام آباد میں بمباروں کا ڈیرا ہے
سفاکی اور بربادی کا اِن کے سر پر سہرا ہے
گلیوں میں کوچوں میں اِن کی دہشت کا رنگ گہرا ہے
دیکھو غور سے دیکھو کتنا مکروہ اِن کا چہرہ ہے
جاں لیتے ہیں اپنی نفرت سے یہ ہر انسان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
گلی گلی میں بکھری ہیں لاشیں ماؤں کے لال کی
ہ لاشیں کیسی لاشیں ہیں بن جسموں کے کھال کی
نہ تو جھگڑا عورت پر ہے نہ یہ جنگ ہے مال کی
تصویریں جو ماضی کی تھیں دیکھو اب ہیں حال کی
رہی نہ قیمت سب کی نظروں میں انسانی جان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
آزادی آزادی کہہ کر پاکستان بنایا تھا
لاکھ ستاروں کے جھرمٹ میں چاند ستارہ پایا تھا
رمضاں کی ستائیس تھی قرآں کا سر پہ سایہ تھا
اپنا خوں دے کر یہ تم نے تحفہ پیارا پایا تھا
نفرت کی آندھی ہے اور آمد ہے اب طوفان کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
مسجد مسجد خون کی موجیں زخمی ہر پیشانی ہے
بے قیمت ہے خون یہاں پر مہنگا لیکن پانی ہے
ہر صبح سیلاب بکف ہے شام ہر اک طوفانی ہے
کتنی سرکش کتنی رسوا اب نسلِ انسانی ہے
صد افسوس کہ بھول گئے ہیں باتیں ہم قرآن کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
درسِ محبت دینے والے انسانوں کا نام نہیں
سورج جیسی صبح نہیں ہے تاروں جیسی شام نہیں
کون سا گھر ہے ارضِ وطن کا جس میں اب کہرام نہیں
یاد کسی کو پیارے نبی کا آج کوئی پیغام نہیں
بھول گئے ہاں بھول گئے ہیں باتیں ہم ایمان کی
اپنے ہاتھوں کھول رہے ہیں راہیں ہم زندان کی
دیکھو شہیدو! اپنی اولادوں کی حق تلفی دیکھو!
حسرت دیکھو ،نفرت دیکھو لاشیں تم گرتے دیکھو
آزادی کے تحفے میں عزت کی پامالی دیکھو
آنکھیں بند کر کے تم دختر کی عزت لٹتے دیکھو
کیوں لگائی تھی اے پیارو! تم نے بازی جان کی
کس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
دست دعا پر حرف دعا پر خون کے آنسو گرتے ہیں
چہروں چہروں خوف کے نغمے لکھنے والے لکھتے ہیں
دل میں بسا کر امن کی خواہش شہروں شہروں پھرتے ہیں
رہبر پھر بھی رہزن بن کر ہر رستے پر ملتے ہیں
مسلم ہوکر مان رہے ہیں باتیں سب شیطان کی
پس منظر میں رکھ دیں ہم نے باتیں رب رحمن کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا ہے بازار یہاں
بغض، عداوت اور جلن کا سب کے سر پہ بار یہاں
بوڑھی لگتی ہے مروت نفرت کا ہر وار جواں
بیتے پل بس یادیں ہیں اب ایسے دن اور رات کہاں
ایسا لگتا ہے سپاہ اتری ہے یاں خاقان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
دین، عقیدے اور مذہب کے نام پہ لاشیں گرتی ہیں
مائیں اپنے ٹکڑوں کے ٹکڑوں کو لے کر پھرتی ہیں
امیدوں کی کلیاں اس گلشن میں اب کم کھلتی ہیں
روحیں نخوت کی یاں خوشیوں کے جسموں سے چڑتی ہیں
انسانوں کی اِس بستی میں ہے کمی انسان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
بولو شہیدو! کہو شہیدو! کیوں بنایا پاکستان
نعرہ یہ تم نے کیوں لگایا”لے کے رہیں گے پاکستان“
اپنی جنت اپنا گھر ہی کہلائے گا پاکستان

کیا امریکہ کی خاطر ملک تباہ کر دیا جائے گا ؟

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر فوج کشی اور ہزاروں بے قصور طلباء و طالبات کو قتلِ عام صرف امریکی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ۔

واشنگٹن………..امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ پاکستان کو انتہاپسندی سے نجات دلانے کیلئے امریکا صدر پرویز مشرف کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں امریکی صدر کاکہنا تھا کہ پاکستان میں لال مسجد آپریشن سمیت شدت پسندوں کے خلاف اقدامات امریکا کی القاعدہ کے خلاف عالمی مہم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ صدر پرویز مشرف نے سمجھ لیا تھا کہ دوہزار چھ میں قبائلی عمائدین سے کئے جانے والے امن معاہدے ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد انہوں نے اسے درست کرنے کیلئے متحرک اقدامات کئے ۔صدر بش نے اپنے خطاب میں بتایا کہ صدر پرویز مشرف نے اس ماہ کے اوائل میں صدر پرویز مشرف نے مسجد پر قبضہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف فورسز کو استعمال کیااور اس کے بعد اپنے خطاب میں پاکستان کو انتہاپسندی سے نجات دلانے کا عزم کیا۔صدر بش نے مزید کہا کہ پاکستانی فورسز حالت جنگ میں ہیں اور کئی افراد نے اپنی جانیں بھی دی ہیں،امریکا ان اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر پاکستان سمیت دنیا بھر میں القاعدہ اور طالبان کو محفوظ ٹھکانے نہیں بنانے دینگے۔

کاش کوئی سُنتا ۔کوئی مانتا

ایک محاورہ سکول کے زمانہ میں پڑھا تھا “ایک نہ اور سو سُکھ” مگر جب ہمارے کمانڈو صدر صاحب کو آدھی رات کے وقت امریکی وزیر کولن پاول کا ٹیلیفون آیا تو پوری قوم کو تڑیاں دینے والا ڈھیر ہو گیا اور سب شرائط بلا چوں و چرا مان لیں ۔ اس وقت محبِ وطن پاکستانیوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی بات ماننا نہیں چاہیئے تھی کہ ایک غلط مطالبہ مان لیا جائے تو پھر مطالبے کبھی ختم نہیں ہوتے اور اگر کسی وقت امریکہ کی بات نہ مانی گئی تو وہ پاکستان سے بھی افغانستان جیسا سلوک کرے گا ۔ کچھ تو کہتے تھے کہ افغانستان کے بعد ہر صورت امریکہ کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر حملہ کرے گا ۔ حکومت کے اہلکاروں نے ان باتوں پر کان نہ دھرا اور اب وہی کچھ ہو رہا ہے جو کہا گیا تھا ۔ قبائلی علاقہ میں امریکہ نے دینی مدرسوں اور شہری آبادیوں پر کتنے ہی حملے کئے ۔ چند با اپنی خجلت مٹانے کی ناکام کوشش میں حکومت نے یہ حملے اپنے کھاتے میں ڈالے ۔ ملاحظہ ہوں امریکہ کے حوالہ سے تین خبریں

پہلی خبر ۔ امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملہ خارج از امکان نہیں ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کبھی بھی اس آپشن کو رد نہیں کیا جس میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ایسی کارروائی سے پہلے صدر بش پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے کارروائی کی اجازت طلب کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کو عوامی سطح پر موضوع بحث بنانا مناسب نہیں۔ دوسری جانب امریکی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ نے بش انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ جنگجوؤں اور مشتبہ تربیتی کیمپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جائے وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو نے کہا کہ صدر پرویزمشرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکاکے اہم اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی خطرات میں ڈال رکھی ہے۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ طالبان اور القاعدہ نے شمال مغربی علاقوں اور فاٹا میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جس سے حکومت پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ صدر مشرف کو اب ان علاقوں میں کارروائی کے لئے جارحانہ رویہ اپنانا ہوگا اور وہ مزید فورسز روانہ کرکے اسی رویئے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ امریکی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ نے بش انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ جنگجوؤں اور مشتبہ تربیتی کیمپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جائے۔ صدر کے سولہ رکنی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ کے رکن لی ہملٹن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امریکی افواج کو افغانستان سے بھاگ کر پاکستان میں داخل ہونے والے القاعدہ جنگجوؤں کی گرفتاری کے اختیارات سونپے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ امریکاکیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں جانے کے قابل ہو۔

دوسری خبر ۔ ایک پاکستانی بریگیڈیئر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”اب تمام قبائلی علاقوں میں طالبان کے خفیہ اڈوں کے خلاف ایک فل اسکیل ملٹری آپریشن ہوگا“ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس پاکستانی بریگیڈیئر نے اپنا نام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پوسٹ نے ایک دوسرے بریگیڈیئر کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان آرمی کو ریاست ہائے متحدہ امریکا سے طالبان کے خلاف فوجی مدد مل رہی ہے۔ امریکا نے پاکستان کو ڈرون [drone] طیارے فراہم کئے ہیں جن کے ذریعے باغیوں کا پتہ چلانے میں مدد ملتی ہے [ نوٹ ۔ ایسا طیارہ لال مسجد کے اندر طالبات اور طلباء کی موجودگی معلوم کرنے کیلئے استعمال کر کے آگ لگانے والے گولے پھینک کر سب کو جلا دیا گیا تھا] ۔ ان بریگیڈیئر صاحب نے بھی اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یاد رہے کہ اس نامہ نگار کی رپورٹ بدھ کے روز شائع ہوئی تھی جس میں واشنگٹن میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے اس فل اسکیل ملٹری آپریشن کی اطلاع دی گئی تھی اور یہ بھی کہ اس سلسلے میں امریکی ایئرفورس کی مدد شامل ہوگی اور آپریشن کی صورت میں امریکی شاید بمباری بھی کریں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان اب بھی میانہ رو قبائلی لیڈروں سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ کوشش بھی کرے گا کہ یہ میانہ رو لیڈر انتہاپسندوں کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔

تیسری خبر ۔ القاعدہ نے پاکستان، افغانستان سرحد کے ساتھ ساتھ محفوظ اڈے بنا لئے ہیں جہاں سے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیڈر امریکہ اور پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے القاعدہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر 9/11کی طرح کا ایک حملہ کرنیوالی ہے۔ یہ انکشاف امریکہ کی سالانہ انٹیلی جنس رپورٹ میں کیا گیا ہے جو منگل کو جاری ہوئی ہے اور اس حوالے سے امریکی ٹی وی ایک جامع رپورٹ منگل کی صبح کو دے چکا ہے۔ رپورٹ کے تجزیئے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے دوبارہ نمودار ہونے کے موضوع پر بھی بات کی گئی ہے۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ دہشت گرد اور طالبان قبائلی علاقوں میں ازسرنو منظم ہوگئے ہیں،جس کے باعث قبائلی علاقوں میں بڑے فوجی آپریشن کا امکان ہے ۔ ایک غیر ملکی سفارتی ذرائع نے رپورٹ کے اجراء سے ایک روز پہلے ”نمائندہ جنگ“ کو بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں ایک بڑا ملٹری آپریشن متوقع ہے جس میں امریکی فضائیہ کی بمباری بھی شامل ہوگی۔ ایک اور ذریعہ نے مبینہ طور پر متوقع امریکی بمباری کے لئے ”کارپیٹ بمباری“ کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی۔ اس مبینہ متوقع حملے میں گراؤنڈ پر پاکستان آرمی اور دوسری سیکوریٹی فورسز استعمال کی جائیں گی۔

ایک اور غیر ملکی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اب اپنے قریب ترین مشیروں سے بھی مشورہ نہیں کرتے اور اپنے اقدامات کو آخروقت تک خفیہ رکھتے ہیں۔ لال مسجد کے واقعے میں مذاکرات کے دوران اچانک انہوں نے ملٹری ایکشن کا حکم دیا تھا۔ شمالی وزیرستان میں اگرچہ ”مذاکرات“ پر زور دیا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ فوجیں بھی صوبہ سرحد میں جمع ہو رہی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان امریکا کا مشترکہ آپریشن جولائی کے تیسرے یاآخری ہفتے میں اور یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت کے قرب وجوار میں ہوگا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ آئندہ 2 ماہ میں اہم سیاسی، اقتصادی اورانفراسٹرکچر ٹھکانوں پر حملے کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مالی اور جانی نقصان پہنچایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ”القاعدہ روایتی چھوٹے ہتھیاروں اور گھر میں بنائے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے استعمال میں مہارت رکھتی ہے اور وہ سیکورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی نت نئی ترکیبوں کی بھی ماہر ہے“۔ رپورٹ کے مطابق 9\11کے بعد القاعدہ نے اپنی صلاحیت کے وہ تمام کلیدی عناصر بحال کردیئے ہیں جو امریکی سرزمین پر حملہ کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ ان میں اہم ترین چیز پاکستانی قبائلی علاقوں میں محفوظ ٹھکانے اور حملے کرنیوالے نئے لیڈر ہیں، یہ گروپ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا چونکہ امریکی سرزمین پر حملے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور اس حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے 9\11 کی طرح اس وقت پاکستانی قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر موجود ہیں۔ لہذا پاکستانی سرزمین پر فوری ملٹری آپریشن کا جواز پیدا ہوگیا ہے اور منطق یہ ہے کہ اگر 9/11کے بعد امریکا نے افغانستان پر شدید بمباری کی تھی تو ایک اور 9/11کو روکنے کیلئے اتنی ہی شدید بمباری کی جائے گی۔ ایک ہفتہ قبل ایک امریکی ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ القاعدہ کا ایک خصوصی حملہ آور گروپ امریکہ پر حملے کیلئے روانہ ہوچکا ہے یا امریکہ میں داخل ہوگیا ہے اور صدر جارج بش نے اس صورتحال پر غور کرنے کیلئے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے لیکن وہائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تردید کردی تھی

احساس جُرم کا شکار طالبہ اور خون کی برسات کیسے تھمے گی ؟

اسکول کی ایک معصوم طالبہ ایمان یوسف نجانے کیوں احساس جُرم کا شکار نظر آتی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتی ہے۔ اس نے ای میل کے ذریعے مجھے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ایک چینی مساج سینٹر کے خلاف شکایت لے کر وہی مولانا عبدالعزیز کے پاس لال مسجد گئی تھی۔ ایمان لکھتی ہے کہ اس کے ہمراہ اس کی کچھ سہیلیاں بھی تھیں جن کا خیال تھا کہ چینی مساج سینٹر میں غلط کام ہو رہے ہیں اور ان سب نے مولانا عبدالعزیز سے درخواست کی تھی کہ پولیس ان غلط کاموں کو نہیں روکتی تو پھر آپ ہی کچھ کریں۔ ایمان اور اس کی سہیلیوں کی شکایت پر لال مسجد والوں نے مساج سینٹر پر چھاپہ مارا، چینی خواتین کو اغوا کیا، اغواء شدگان کو ایک رات جامعہ حفصہ میں رکھا اور اگلے دن وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔

ایمان لکھتی ہے کہ اس واقعے کے کچھ دنوں بعد لال مسجد میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل یقین تھا اور شاید یہ سب کچھ اسی کی وجہ سے ہوا، نہ وہ مولانا عبدالعزیز کے پاس جاتی، نہ چینی مساج سینٹر کی شکایت لگاتی، نہ چینی خواتین اغواء ہوتیں اور نہ ہی لال مسجد کے خلاف آپریشن کے حالات پیدا ہوتے۔ آخر میں اس نے لکھا ہے کہ کاش آپریشن کے آخری دن وہ بھی لال مسجد میں ہوتی اور وہ بھی بہت سے دوسروں کے ساتھ اس ظالم دنیا کو چھوڑ کر چلی جاتی۔ ایمان یوسف کے خیالات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک انگریزی میڈیم اسکول کی معصوم سی طالبہ موت کی خواہش کیوں کر رہی ہے؟

میرے پاس جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ کا ایس ایم ایس پیغام بھی محفوظ ہے۔ یہ طالبہ چھ جولائی کو اپنی پرنسپل اُمُ حسّان کے اصرار پر مدرسے سے باہر آ گئی تھی لیکن اب بے چین ہے۔ 16 جولائی کو اس طالبہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے”دعا کریں اللہ مجھے شہادت عطا فرمائے، جینے کی کوئی تمنا باقی نہیں رہی ساری خوشیاں ہم سے چھین لی گئیں“۔ 17 جولائی کی رات اسی طالبہ نے ایک اور پیغام میں لکھا ہے ”میرا لہو کل بھی بہہ رہا تھا، میرا لہو اب بھی بہہ رہا ہے، یہی لہو ابتدا تھی میری اور یہی لہو انتہا ہے میری“

سوچنے کی بات ہے کہ یہ طالبہ لہو میں نہانے کی خواہش کیوں رکھتی ہے؟ اس خواہش کے پیچھے جنت میں جانے کی تمنا سے زیادہ مایوسی اور انتقام کا جذبہ ہے۔ اگر طالبات کی یہ سوچ ہے تو نوجوان طلباء کی کیا سوچ ہو گی؟ ان طلباء میں آج کل عبدالرشید غازی کی ایک نظم بہت مقبول ہے۔ غازی نے یہ نظم چند سال قبل بڑے ترنم سے گائی تھی اور اس کی کسیٹیں دینی مدارس کے طلباء و طالبات میں بڑی مقبول ہوئی تھیں۔ اس نظم کا پہلا مصرعہ یہ تھا

”شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بُھلا نہ دینا۔“

آخری دن عبدالرشید غازی نے سہ پہر ساڑھے تین بجے ہمارے صحافی ساتھی عبدالسبوخ سیّد سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ روزے سے ہیں اور افطار شہادت سے کریں گے۔ انہوں نے ایک اور صحافی دوست سے رابطہ کیا اور آخری فرمائش کے طور پر اسے کہا کہ وہ شراب پینا چھوڑ دے۔ آخری وقت میں انہوں نے کسی سے زندگی بچانے کی درخواست نہیں کی بلکہ وہ زیادہ تر اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے رابطے کرتے رہے۔ ان کے اکثر ساتھی اور دوست عبدالرشید کی موت کے بعد مایوسی اور انتقام کے جذبے کا شکار ہیں۔ ان کے ایک دوست ندیم حسین نے مجھے لکھا ہے کہ چند سال قبل عبدالرشید غازی نے اپنے بیٹوں ہارون اور حارث کو مارشل آرٹس کی تربیت دلوائی۔ غازی صاحب اپنے بیٹے حارث کی پھرتی دیکھ کرکہتے تھے کہ میں اپنے اس بیٹے کو فوجی کمانڈو بناؤں گا۔ ندیم حسین کہتے ہیں کہ حارث کا باپ انہی فوجی کمانڈوز کے آپریشن میں اپنی جان سے گیا اور جب مجھے اپنے دوست کی شہادت کی خبر ملی تو میرے ذہن میں عبدالرشید غازی کے یہ الفاظ گونجنے لگے کہ ”میرا بیٹا کمانڈو بنے گا“۔ آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی اب حارث فوجی کمانڈو بننا پسند کرے گا؟ اس سوال میں بھی مایوسی ہے۔

آج پاکستانی معاشرے کو بڑھتے ہوئے تشدد اور خون ریزی سے بچانے کے لیے یہ مایوسی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مایوسی ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بے گناہوں اور معصوموں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال نہ کی جائے۔ امریکا کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ قبائلی علاقوں میں بمباری کرے ۔ روشن خیالوں اور انتہاپسندوں کی تقسیم ختم کی جائے۔ سب سے بہتر تو یہ ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے پاکستان کو علیحدہ کر دیا جائے کیونکہ اس جنگ نے پاکستان کو مزید دہشت گردی اور خود کش حملوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ علماء کے فتوؤں، فلموں اور ڈراموں سے خودکش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ یہ خود کش حملے جن پالیسیوں کا ردعمل ہیں اُن پالیسیوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ یہ پالیسیاں اُسی وقت ختم ہو سکتی ہیں جب فیصلے کا اختیار کسی ایک فردکی بجائے عوام کی منتخب اور خود مختار پارلیمنٹ کے پاس آ جائے گا۔ جس ملک کی پارلیمنٹ بے اختیار ہو وہاں قانون و انصاف کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی، جہاں انصاف نہیں ہو گا وہاں مایوسی ختم نہیں ہو گی اور جہاں مایوسی ختم گی نہیں ہو گی وہاں خون کی برساتیں نہیں تھم سکتیں۔

تحریر ۔ حامد میر

اندر کیا ہوتا رہا

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے گرد ونواح میں 3 جولائی سے 13 جولائی تک کیا ہوتا رہا انسانوں میں سے سوائے آپریشن سائلنس یا سن رائز پر معمور فوجی افسران کے کسی کو معلوم نہیں کیونکہ صحافیوں سمیت کسی کو 2 جولائی کے بعد آپریشن والے علاقہ میں نہیں جانے دیا گیا تھا حتٰی کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولنسز کو بھی نہیں جانے دیا گیا تھا ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے اندر محصور انسانوں پر کیا گذری وہ مکمل تو شائد کبھی معلوم نہ ہو سکے کیونکہ اندر محصور انسانوں کی اکثریت اللہ کو پیاری ہو گئی ۔ عدالتِ عظمٰی کے حکم کے بعد زخمیوں تک ان کے چند قریبی عزیز پہنچے ہیں تو کچھ اندر کی خبر آنا شروع ہوئی ہے ۔

ایک زخمی نے بتایا کہ پہلی شدید فائرنگ اور گولہ باری [3 یا 4 جولائی کو] اس وقت ہوئی جب سب مرد لال مسجد کے صحن میں فجر کی نماز کے سلسلہ میں موجود تھے ۔ پھر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔ طلباء و طالبات زخمی ہوتے رہے اور مرتے رہے ۔
دوسری بار شدید فائرنگ اور گولہ باری اس وقت ہوئی جب تیس طالبات جو فوج کی گولہ باری سے شہید ہو گئی تھیں ان کی نمازٍ جنازہ پڑھی جا رہی تھی ۔ ان طالبات کو لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے احاطہ میں دفن کیا گیا ۔

غالباً 4 جولائی کو بجلی اور پانی بند کر دیئے گئے اور دو دن بعد گیس بھی بند کر دی گئی ۔ شروع کے چند دن کچھ کھانے کو تھا ۔ باقی دن درختوں کے پتے حوض کے پانی کے ساتھ کھاتے رہے ۔ پانی بند کر دینے کی وجہ سے ٹائیلٹس کی بدبُو باہر تک پھیل گئی تھی ۔

آخری شدید فائرنگ اور گولہ باری جس کو حکومت نے آپریشن کا نام دیا وہ بھی فجر کی نماز کے وقت شروع ہوئی اور اس میں کافی لوگ زخمی اور شہید ہوئے ۔ ان زخمیوں میں وہ خود بھی شامل تھا ۔ جامعہ حفصہ پر بہت زیادہ گولے پھینکے جاتے رہے جن سے عمارت کو بھی نقصان پہنچا اور آگ نے پوری عمارت کو گھیر لیا ۔ جامعہ میں سے جو طالبات اور معلمات آگ اور دھوئیں کی وجہ سے جلدی باہر نکل آئی تھیں انہیں فوجی گرفتار کر کے لے گئے ۔ باقی تمام طالبات ۔ کچھ معلمات اور کچھ طلباء جو ان کی حفاظت کر رہے تھے سب جل گئے ۔