Category Archives: تاریخ

غزہ ميں اسرائيلی دہشتگردی

نيچے غزہ ميں اسرائيل کی دہشتگردی کے چند نمونے ہيں جو بين الاقوامی تنظيموں کے ذريعہ وقتاً فوقتاً منظرِ عام پر آتے رہے ۔ اسرائيل کی شايد يہی کاروائياں امريکا کو اسرائيل کی پُشت پناہی اور مدد کرنے پر مجبور کرتی ہيں کيونکہ امريکا کی زبان ميں يہ اسرائيل کا جمہوری حق ہے اور عراق اور افغانستان پر قابض امريکی فوج کے خلاف بولنا بھی دہشتگردی ہے . اسرائيلی فوج نے ہسپتال پر بھی ميزائل مارا

اسرائيلی درندگی کے نمونے اِن شاء اللہ دوسری قسط ميں ۔ اسرائيل نے غزہ ميں رہنے والے معصوم بچوں پر نہ صرف تشدد کيا بلکہ بے دردی سے شيرخوار بچوں کو ہلاک بھی کيا

آج کی تاريخ

آج سے 55 سال قبل يعنی 2 جون 1955ء کو ميرے دادا جان اچانک وفات پا گئے تھے ۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِليَہِ رَجِعُون ۔ اُن دنوں ہم مکان نمبر آر ۔ 166 جھنگی محلہ راولپنڈی ميں رہتے تھے ۔ اس طرح ميرا روزانہ کا تاريخی تربيتی اور معلوماتی پروگرام ختم ہو گيا جو دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد دادا جان کی ٹانگيں اور بازو سہلاتے ہوئے سالہا سال سے مجھے ميسّر تھا

صيہونی بمقابلہ نازی

نام نہاد ہالوکاسٹ کا راگ الاپنے والے صيہونیوں نے نازيوں سے بچ نکلنے کے بعد جن اولادوں کو جنم ديا اُنہوں نے فلسطينيوں کے ساتھ پچھلے 62 سال سے جو ظُلم روا رکھا ہے اگر آج ہٹلر دوبارہ پيدا ہو جائے تو يہ مناظر ديکھ کر اپنا سر پيٹے کہ اس قوم کی وہ نسل کُشی کر ہی ديتا تو دنيا امن و سکون سے رہتی
اسرائيل کا ظُلم فلسطينيوں پر ۔ ۔ ۔ نازيوں کا ظُلم يورپی يہوديوں پر

نيچے بائيں طرف کی تصوير ميں يہوديوں نے دکھايا ہے کہ نازی بچہ يہوديوں کا مذاق اُڑاتا تھا جبکہ داہنی تصوير ميں يہودی اسرائيلی بچوں کو دعوت دی گئی کہ وہ فلسطينيوں پر چلائے جانے کيلئے تيار گولوں پر اپنے پيغامات لکھيں

نيچے کی دو تصاوير ميں بائيں طرف والی ايک ہی تصوير ہے ۔ يہ تصوير پورے امريکہ اور کئی يورپی ممالک کی تاريخ کی کتابوں ۔ انسائيکلوپيڈيا ۔ لائبريريوں اور عجائب گھروں ميں ديکھنے کو ملتی ہے کہ نازيوں نے يہودی بچے کو بھی ہينڈز اَپ کرايا ۔ اس ايک تصوير کے مقابلہ ميں داہنی طرف دو مختلف فلسطينی بچوں کی تصاوير ہيں جن ميں اسرائيل کا گھناؤنا کردار واضح ہے

پروپيگنڈہ اور لطيفے

عام طور پر پروپيگنڈہ کا اثر بلا تامل قبول کر ليا جاتا ہے ۔ بہت کم لوگ جانتے ہيں يا احساس رکھتے ہيں کہ پروپيگنڈہ کا اثر لينے کا مطلب کسی دوسرے کے ہاتھ ميں کھيلنا ہوتا ہے ۔ اسی طرح لطيفے سُن کر دوسروں کو سُنانا عام انسان کا معمول بن چکا ہے يہاں تک کہ کئی لطيفے کسی انسان کی دل آزاری يا اللہ يا رسول کے حضور ميں گُستاخی کے موجب ہوتے ہيں

انٹرنيٹ سے تعلق رکھنے والے جانتے ہوں گے کہ کبھی کبھی ای ميل آتی ہے کہ فلاں فلاں ويب سائٹ نہ پڑھيں اور اپنے سب دوستوں کو يہ ای ميل فارورڈ کريں ۔ کبھی کسی نے تحقيق کی کہ ايسی ای ميل کا منبع کہاں ہے ؟ ايسی ای ميلز کا مقصد زيادہ سے زيادہ قارئين کو اس غلط ويب سائٹ سے متعارف کروانا ہوتا ہے ۔ منصوبہ يہ ہوتا ہے کہ اگر 5 فيصد قارئين بھی وہاں لکھی عبارت کا اثر لے ليں يا اصل عبارت کو مشکوک سمجھنے لگ جائيں تو يہ تحريک شروع کرنے والے کی 100 فيصد کاميابی ہو گی

پروپيگنڈہ اس طرح نہيں ہوتا جيسے بہار يا برسات کے موسم ميں اچانک کونپليں پھوٹ پڑتی ہيں بلکہ اس کيلئے باقاعدہ اور لمبی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ان کی نمُو کيلئے لمبی لمبی رقميں خرچ کی جاتی ہيں ۔ پروپيگنڈہ کے دو منفرد جزو ہيں ۔ ايک من گھڑت واقعات پھيلانا اور دوسرا لطيفے ۔ مقصود کسی گروہ يا قوم کے ذہن بدلنا ہوتا ہے

برطانيہ اُنيسویں صدی کے آخر اور بيسويں صدی ميں اُردن اور ہندوستان ميں ذہن بدلنے کی کامياب کوشش کر چکا تھا مگر دوسری جنگِ عظيم کے بعد محسوس کيا گيا کہ جنگ اور قبضہ کے بعد ايسا کرنے ميں جيتنے والے کا بھی کافی نقصان ہوتا ہے چنانچہ ايسا طريقہ نکالا جائے جس سے سانپ مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے ۔ اس میں پہل سووئٹ رشيا [USSR] نے کی اور يہ کام کے جی بی کے سپرد کيا ۔ امريکا [USA] کو بھی بھِنَک پڑ گئی اور اس نے يہ کام سی آئی اے کے سپرد کر ديا ۔ چنانچہ جسمانی جنگ کی بجائے ذہنی جنگ کا آغاز ہو گيا جس ميں اپنا مال خرچ کر کے دوسری قوموں کی زمينوں کی بجائے اُن کے ذہنوں پر قبضہ کرنے کی مُہمات شروع ہو گئيں ۔ اس پروپيگنڈہ کی جنگ کی دو شاخيں بنائی گئیں ۔ ايک لطيفے اور دوسرا من گھڑت واقعات ۔ جس ملک پر قبضہ کرنا مقصود ہو ان ميں سے ايک يا دونو اُس ملک ميں پھيلا کر وہاں کے باشندوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا بنيادی مقصد قرار پايا ۔ مفکرين [Think Tanks] اس کام پر لگ گئے پھر لطيفوں اور من گھڑت واقعات کی قيمت لگنے لگی ۔ کئی ايسے لطيفے بھی تھے جن ميں سے ہر ايک کا معاوضہ 5 لاکھ روبل يا ڈالر ديا گيا ۔ ان منصوبوں ميں يگانگت يہ ہے کہ ان کا حدف صرف مسلم ممالک تھے جن ميں ہمارے مُلک [پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان] کو ترجیح دی گئی

کچھ پرانے واقعات

پاکستان بننے کے بعد ايک لطيفہ مشہور کيا گيا کہ انگريزوں نے کچھ کشميری جوان فوج ميں بھرتی کر لئے ۔ جب اُنہيں بندوقيں دی گئیں تو اُنہوں نے کہا “تُپے رکھدا سُو ٹھُس کردا سُو” [اسے دھوپ ميں رکھو خود ہی چلے گی] يعنی کشميری اتنے بزدل ہوتے ہيں ۔ حقيقت يہ تھی کہ کشميريوں نے بغير کسی کی مدد کے ستمبر اکتوبر 1947ء ميں گلگت بلتستان وغيرہ آزاد کرا ليا تھا اور پرانے ہتھياروں کو استعمال کر کے منظم بھارتی فوج سے لڑ کر جنوری 1948ء تک وہ علاقہ جسے آزاد جموں کشمير کہا جاتا ہے بھی آزاد کرا ليا تھا

پاکستان کے پہلے وزيرِ اعظم نوابزادہ لياقت علی خان کی بيوی بيگم رعنا لياقت علی کے متعلق مشہور کيا گيا کہ ہندو ہے ۔ نوابزادہ لياقت علی خان کے قتل کے بعد جب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے بيگم رعنا لياقت علی کو قرآن شريف کی تلاوت کرتے ديکھا تو پشيمان ہوئے

قائد اعظم محمد علی جناح کے متعلق کئی بار مشہور کيا جا چکا ہے کہ وہ اچھے مسلمان نہيں تھے جبکہ قائد اعظم نے بارہا اپنی تقريروں ميں دين اسلام اور اس پر عمل کی بات کی اور اُن کے قريب رہنے والے شہادت دے چکے ہيں کہ اُنہوں نے قائد اعظم کو نماز پڑھتے اور مصلے پر دعا کے دوران آنسو بہاتے ديکھا تھا

نوابزادہ لياقت علی خان امريکا کی دعوت پر امريکا گئے ۔ اُن کے واپس آنے پر مشہور کر ديا گيا کہ وہ امريکا کے دستِ نگر بن گئے ہيں ۔ کئی سال بعد سرکاری ريکارڈ سے ظاہر ہوا کہ امريکا نے بُلايا تو اپنی تابعداری کيلئے تھا مگر نوابزادہ لياقت علی خان نے کہا ” ہم ايک خود مُختار رياست ہيں”۔ اور يہی بات اُن کے قتل کا سبب بنی

جب جنرل ايوب خان نے امير محمد خان نواب کالا باغ کو پنجاب کا گورنر بنايا تو مشہور کيا گيا کہ امير محمد خان قاتل اور غُنڈا ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ امير محمد خان صرف ايک روپيہ ماہانہ تنخواہ ليتے تھے ۔ اپنے بيوی بچوں کو کبھی گورنر ہاؤس ميں نہيں رکھا ۔ اُن کا کھانا اُن کے گھر سے آتا تھا ۔ اپنا بستر بھی وہ اپنے گھر سے لائے ہوئے تھے ۔ جب وہ گورنر تھے تو اُن کے دو بيٹے لاہور ميں پڑھ رہے تھے جو کرائے کے مکان ميں کچھ اور لڑکوں کے ساتھ رہتے تھے روزانہ اپنے بائيساکلوں پر کالج جاتے تھے ۔ ايک دن چھوٹا بيٹا جو لاء کالج ميں پڑھتا تھا کا بائيسائکل خراب تھا تو صبح سويرے پيدل کالج جا رہا تھا کہ چڑيا گھر کے قريب گورنر کی سرکاری کار آ کر رُکی ۔ ڈرائيور نے حال احوال پوچھا اور کہا “ميں سيکريٹريٹ جا رہا ہوں ۔ بيٹھ جائيں راستہ ميں اُتر جانا “۔ وہ بيٹھ گيا ۔ دو دن بعد گورنر امير محمد خان نے بُلا بھيجا ۔ وہ گيا تو اُسے باپ نے بہت ڈانٹا

ايک بزرگ ريٹائرڈ اعلٰی اہلکار نے مجھے بتايا تھا کہ ايک نيک بزرگ لاہور ميں فوت ہو گئے ۔ اُن کی وصيت تھی کہ نمازِ جنازہ وہ پڑھائے جس نے کبھی نماز قضا نہ کی ہو ۔ بڑے بڑے مسلمان جنازہ پڑھنے آئے ہوئے تھے سب خاموش سر جھکائے کھڑے تھے پانچ سات منٹ بعد امير محمد خان جو پچھلی صفوں ميں کھڑے تھے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آگے آئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی ۔ کوئی ليڈی ڈاکٹر ميانوالی ميں تعينات ہونا پسند نہ کرتی تھی ۔ ايک ليڈی ڈاکٹر وہاں تعينات کی گئی ۔ وہاں ايک عورت کا غلط معائنہ سرٹيفيکيٹ مانگا گيا جو اُس نے نہ ديا ۔ دوسرے دن وہ اغواء ہو گئی ۔ اُس کے خاوند نے گورنر کو درخواست دی اور بتايا کہ ڈاکٹر کو نيو خان بس سروس کی بس پر ليجايا گيا تھا جس پر گورنر کے حُکم سے نيو خان کی تمام بسیں جہاں جہاں تھیں روک دی گئيں ۔ يہ بسيں ايک بہت بڑے شخص کے خاندان کی بسيں تھيں جس کی بيٹی گورنر کی بہو تھی ۔ تين دن بعد ڈاکٹر بحفاظت اُس کے گھر پہنچا دی گئی

جب ذوالفقار علی بھٹو وزير اعظم بنے تو چوہدری فضل الٰہی صاحب کو صدر بنايا گيا ۔ اُن کے متعلق ايک لطيفہ مشہور ہوا کہ وزير اعظم دساور سے وطن واپس آ رہے تھے تو صدر نے اپنے سيکريٹری سے کہا “بھٹو صاحب آ رہے ہيں ۔ اُن کا استقبال کرنے ايئر پورٹ چليں” ۔ سيکريٹری نے کہا “سر ۔ آپ صدر ہيں ۔ صدر وزير اعظم کا استقبال کرنے نہيں جاتے”۔ تو چوہدری فضل الٰہی صاحب نے کہا ” مياں ۔ اچھی طرح پتہ کر لو ۔ کہيں مروا نہ دينا”
مطلب يہ کہ چوہدری فضل الٰہی صاحب صدارت کے اوصاف سے ناواقف اور بزدل تھے ۔ مگر جب ريٹائرڈ جنرل ٹکا خان کی تجويز کہ” دو تين لاکھ لوگ مار ديئے جائيں تو پھر بھٹو کی کوئی مخالفت نہ کرے گا” بھٹو صاحب نے منظور کر کے صدر صاحب کو دستخط کليئے بھيجی تو چوہدری فضل الٰہی صاحب نے بھٹو اور اُن کے ساتھوں کو قيد کروا ديا ۔ اس طرح اُن کی حکومت جاتی رہی [اسے ضياء الحق کا مارشل لاء کہا جاتا ہے ۔ يہ لمبی کہانی ہے ميں نے صرف نتيجہ لکھ ديا ہے]

آئين ؟ ؟ ؟

علامہ اقبال نے فرمايا ہے
آئينِ جواں مرداں حق گوئی و بيباکی
اللہ کے بندوں کو آتی نہيں روباہی

مگر میں بات کر رہا ہوں پاکستان کے آئين کی ۔ عرصہ سے سُنتا آيا ہوں کہ پاکستان کا آئين 1973ء تک کسی نے نہ بنایا ۔ یہ فقرہ اتنے شد و مد سے دہرایا جاتا رہا ہے کہ ہموطنوں کی اکثريت اس جھُوٹ کو سچ سمجھتی ہے

اگست 1947ء کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے قتلِ عام عورتوں اور لڑکيوں کے اغواء اور مسلمانوں کی بڑی تعداد کو پاکستان کی طرف دھکيلنے اور پاکستان کے حصے کے اثاثے ضبط کر لينے کے بعد پاکستان جن نامساعد حالات سے دوچار تھا اُن کا اندازہ آج لگانا اگر ناممکن نہيں تو بہت مشکل ضرور ہے ۔ اس کے بعد قائداعظم کی وفات اور 1951ء میں قائدِ ملت لياقت علی خان کے قتل کے بعد کی صورتِ حال اعصاب پر سوار ہونے کيلئے کافی تھی ۔ اس کے باوجود پاکستان کی پہلی مُنتخب اسمبلی نے متفقہ طور پر آئين تيار کر ليا تھا جو اسمبلی کی ايک ہی نشست ميں منظور ہو جانا تھا ۔ معمول کے مطابق پہلے آئين کی منظوری کابينہ نے دينا تھی جس کا اجلاس اُس وقت کے وزير اعظم خواجہ ناظم الدين صاحب بلايا ہی چاہتے تھے کہ غلام محمد جس کا ريموٹ کنٹرول نمعلوم کس کے پاس تھا نے وزير اعظم کو بر طرف کر ديا ۔ سردار عبدالرب نشتر صاحب کے اسے غلط اقدام کہنے پر غلام احمد نے مُنتخب کابينہ کو برطرف کر کے اپنی من پسند کابينہ نامزد کر دی ۔ آئين پر ہونے والا کام نہ رُکا تو پاکستان کی پہلی مُنتخب اسمبلی ہی کو 24 اکتوبر 1954ء کو چلتا کيا ۔ کہا جاتا ہے کہ غلام محمد مرزائی تھا اور شرابی بھی تھا ۔ [اس پر اعتراض کرنے سے پہلے کراچی والے معلوم کر ليں کہ غلام محمد کی قبر کہاں ہے ۔ ميری شُنيد کے مطابق کراچی کے لوگوں نے اس کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان ميں دفن نہ ہونے ديا تو اُسے عيسائيوں کے قبرستان یا اس کے مضافات ميں دفن کيا گيا تھا]

کچھ عرصہ بعد آئين بنانے کا کام نئے وزيرِ اعظم چوہدری محمد علی کے ماتحت ايک کميٹی کے سپرد ہوا مگر اس کميٹی کے اراکين کا تبادلہ کبھی کہيں کبھی کہيں کيا جاتا رہا جو تاخير کا سبب بنا ۔ مسؤدے ميں کئی تبديليوں کے بعد آخر آئين 1956ء ميں منظور ہو گيا مگر 1958ء میں سب کچھ ختم کر کے مارشل لاء لگا ديا گيا

جب مشرقی پاکستان کھونے کے بعد مغربی پاکستان کی اسمبلی کا اجلاس بطور پاکستان کی اسمبلی کے ہوا تو سياستدانوں کے دباؤ پر تيسری بار آئين بنانے کام شروع کيا گيا ۔ پيپلز پارٹی کی حکومت تھی جو سيکولر جماعت تھی ۔ مسؤدہ تيار کرنے کا کام محمود علی قصوری [خورشيد محمود قصوری کے والد] کے سپرد کيا گيا جو کميونسٹ تھے ۔ پرانے مسؤدوں کو بھُلا کر نيا سيکولر مسؤدہ تيار کيا گيا ۔ اس پر بھی ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو کوئی پریشانی تھی کہ آخری دنوں میں عبدالحفيظ پيرزادہ نے اس میں رد و بدل کر کے پيش کيا ۔ اس مسؤدے کو منظور کرنے کی سب کو جلدی تھی اسلئے اس میں کئی خامياں رہ گئيں ۔ سب سے بڑی خامی يہ کہ آئين توڑنا غداری قرار ديا گيا مگر کسی کو غدار کس طرح ثابت کيا جائے گا ۔ اُسے سزا دينے کی کاروائی کون کرے گا اور کس طرح کرے گا ۔ اس کا کہيں ذکر نہيں

جنرل ضياءالحق تو بحیثيت صدر ہی مر گيا مگر پرويز مشرف کے خلاف آئين توڑنے پر آج تک کچھ اسلئے نہيں کيا گيا کہ موجودہ صورت میں يہ کام صرف حکومت کر سکتی ہے جو پی پی پی ۔ ايم کيو ايم ۔ فضل الرحمٰن کی جے يو آئی اور اے اين پی پر مشتمل ہے ۔ يہ لوگ بولنے کے شير اور عمل کے گيدڑ سے بھی کم ہيں اور انہيں مُلک و قوم سے زيادہ حکمرانی کی کرسیاں پسند ہيں جو انہيں پرويز مشرف کے طفيل ملی ہيں تو يہ کيوں اپنے پاؤں پر کُلہاڑا ماريں گے ؟

جمہوری شہنشاہ

ماہ جون 1975ء کی دوپہر میرے علیگ ساتھی ابصار صدیقی سپرنٹنڈنگ انجینئر اسلام آباد دفتر سے گھر جارہے تھے راستے میں ان کی نظر معروف سیاسی لیڈر جناب غوث بخش بزنجو پر پڑی جو چلچلاتی دھوپ میں سڑک پر پیدل چلے جارہے تھے ابصارصدیقی نے اخلاقاً کار روک کر بزرگ رہنما سے کہا “سر ۔ میں آپ کو چھوڑ دوں؟” بزنجو صاحب شکریہ ادا کرکے گاڑی میں بیٹھ گئے ابصار صدیقی انہیں منزل پر پہنچا کر اپنے گھر چلے گئے ۔ اس سے پہلے نہ وہ کبھی بزنجو صاحب سے ملے نہ ان کے سیاسی معاملات سے کوئی واسطہ تھا ۔ اگلے روز دفتر پہنچے تو معطلی کا پروانہ میز پر رکھا تھا ۔ الزام یہ تھا کہ ” آپ رياست مخالف کاروائی [Anti State Activities] میں ملوث پائے گئے ہیں”۔ ابصار صدیقی کے پیرو ں تلے کی زمین نکل گئی نیکی برباد گناہ لازم ۔ ابصار صدیقی کے پاس جو ہمارے بھی ہمدم دیرینہ تھے چیف انجینئر محمدغیاث الدین صدیقی خود کراچی سے اسلام آباد گئے اور ابصار صدیقی کو سرکار کے عتاب سے بچا لائے

کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ خود انجنيئر غیاث الدین صدیقی [تمغہ پاکستان ۔ ستارہ پاکستان] بھی سلطان [ذوالفقار علی بھٹو] کے عتاب کا شکارہوگئے ۔ بقول شیخ سعدی ”خلاف رائے سلطاں رائے جستن بخون خویش باید دست شستن“ [سلطان کی رائے کے خلاف رائے رکھنا اپنے خون سے ہاتھ دھونا ہے]۔ غیاث الدین صدیقی ایک نہایت دیانتدار قابل انجینئر پورا کیریئر بے داغ بلکہ درخشاں سلطان کی جنبش قلم نے سب پر پانی پھیر دیا ۔ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے ساتھ پاسپورٹ کی ضبطی سلطان کے غیظ و غضب کی نشاندہی کرتی تھی ۔ ان ہی دنوں لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ایک قابل انجینئر کی ضرورت پڑی کسی نے معتوب صدیقی کا پتہ دیا ۔ خود چل کر پاکستان آیا پرائم منسٹر ذوالفقارعلی بھٹو سے ملا پاسپورٹ حاصل کیا اپنے ساتھ لیبیا لے گیا عزت عہدہ مرتبہ عطا کیا۔ سردار عبدالرب نشتر کا یہ شعرغیاث الدین صدیقی پر صادق آتاہے
بس اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ ہم سے قافلے منزل پے لٹوائے نہیں جاتے

سردار عبدالرب نشتر نے یہ شعر کب اور کیوں کہا تھا ؟ ایک غمناک کہانی ہے ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے جب خواجہ ناظم الدین جیسے شریف النفس یکے از رفیق قائداعظم پرائم منسٹر کو برخاست کرديا تو سردار عبدالرب نشتر نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے چند روز پہلے بجٹ منظور ہوا ہے ۔ خواجہ صاحب کی برخاستگی ناجائز غیرآئینی فعل ہے ۔ غلام محمد نے طیش میں آکر کابینہ ہی کو توڑ دیا ۔ جس میں سردار عبدالرب نشتر وزیرمواصلات تھے ۔ لیاقت علی خاں کی شہادت میں اپنائے وطن کی جس ہوس کا دخل تھا اور جو مستقبل کے سیاسی انتشار کی نشاندہی کرتا تھا اسی نے سردار عبدالرب نشتر جیسے پاکباز انسان کو بری طرح متاثر کیا۔ سردار عبدالرب نشتر انتہائی راسخ العقیدہ صوم و صلوٰة کے پابند انسان تھے۔ قائداعظم ، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کی سرپرستی میں تربیت حاصل کئے تھے۔ اپنے سالار قائداعظم سے عقیدت مرشد کے مانند رکھتے تھے۔ شرافت نیک نفسی اور وضعداری کا مجسمہ تھے

تحریر ۔ سعيد صديقی

راجہ داہر اور گاندھی کن کے ہيرو ہيں

پچھلے دنوں ايک نئے اُردو بلاگر اطہر ہاشمی صاحب نے حاجی عديل صاحب کے راجہ داہر کو ہيرو کہنے کا ذکر کيا ۔ اتفاق سے ميں اس کے متعلق ايک تاريخ دان کی تحرير نقل کرنے ہی والا تھا ۔ سو حاضر ہے

غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوچکی تو ایک روز حضرت ابوبکر کے صاحبزادے عبدالرحمن اپنے والد گرامی سے ملے اور کہنے لگے کہ بدر کے میدان میں ایک موقع پر آپ کی گردن میری تلوار کی عین زد میں آگئی تھی لیکن میں نے آپ سے رشتے کا احترام کرتے ہوئے تلوار کا رخ موڑ دیا ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تک عبدالرحمن نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، چنانچہ وہ کفار کی جانب سے میدان میں اترے تھے ۔ یہ بات سن کر حضرت ابوبکر نے ایسا جواب دیا جس نے رشتوں کے درمیان حد فاصل کی وضاحت کردی ۔ آپ نے کہا کہ صاحبزدے اگر تمہاری گردن میری تلوار کی زد میں آجاتی تو خدا کی قسم میں اسے کاٹ کر تن سے جدا کردیتا

خون کے رشتے مذہب کے رشتوں کے مقابلے میں باطل ٹھہرے اور یہی وہ بات ہے جو ہمارے ان روشن خیال، سیکولر ازم پر فخر کرنے والے ا ور
نام کے مسلمان دانشوروں، لکھاریوں اور نام نہاد مؤرخین کو سمجھنی چاہيئے جو ہر وقت یہ رٹ لگاتے پائے جاتے ہیں کہ ہم اور ہندو اور سکھ ایک ہی نسل سے ہیں، اس لئے اختلافات اور علیحدگی چہ معنی ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ اگر قائد اعظم بھی ہمارے ان روشن خیال اور سیکولر دانشوروں کی مانند ہوتے تو وہ کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کا بہترین حصہ اس موقف کی وضاحت پر صرف نہ کرتے کہ مسلمان ہر لحاظ، تعریف اور معیار کے مطابق ایک الگ قوم ہیں اس لئے وہ ایک الگ وطن چاہتے ہیں ۔ قائد اعظم اپنے مذہب اور عقیدے کی روح سے شناسا تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب ان کی اکلوتی اور نہایت چہیتی بیٹی دینا جناح نے ایک پارسی نوجوان سے شادی کرنے کا ارادہ کیا تو بقول سیٹنلے والپرٹ (جناح آف پاکستان) قائد اعظم نے دینا کو بلایا، نہایت محبت سے اسے سمجھایا اور کہا کہ ہندوستان میں کروڑوں مسلمان نوجوان ہیں جو تم سے شادی کرنے پر فخر محسوس کریں گے ، تم کسی بھی مسلمان نوجوان کو اپنا جیون ساتھی منتخب کر لو میں اس پرراضی ہوں گا لیکن اگر تم نے کسی غیر مسلم نوجوان سے شادی کی تو میری اور تمہاری راہیں جداجدا ہوجائیں گی ۔ اولاد اور پھر اکلوتی اولاد کو چھوڑنا قیامت سے کم نہیں ہوتا ۔ کسی صاحب اولاد سے پوچھو کہ یہ کتنا کٹھن اور دردناک فیصلہ ہوتا ہے؟ جو قائد اعظم نے اپنے مذہب اور دین کی خاطر کیا ۔ یہ بھی نہیں کہ قائد اعظم انسانی کمزوریوں سے ماوراء تھے ۔ ان میں بھی کمزوریاں تھیں لیکن ان کی دیانت، حق گوئی اور اعلیٰ کردار ان کی زندگی کے ایسے شعبے ہیں جن کا اعتراف ان کے بدترین دشمن بھی کرتے ہیں اور جس کی تصدیق اب تاریخ نے بھی کردی ہے

جب ایسی شخصیت پر حاجی عدیل آف اے این پی نے کیچڑ اچھالا تو مجھے نہایت صدمہ ہوا اور میں فقط یہی سمجھ سکا کہ گویا ابھی تک آنر بیل خان عبدالغفار خان کے سیاسی جانشینوں نے قائد اعظم کا پاکستان قائم کرنے کا جرم معاف نہیں کیا، گویا ابھی تک ان کے باطن میں نہرو اور گاندھی سے عقیدت و وفاداری کے بت موجود ہیں ۔ میں نے عمر بھر نیپ اور پھر اے این پی کی جمہوریت پسندی کی حمایت کی ہے اور عمر بھر یہ لکھتا رہا ہوں کہ ان علاقائی سیاسی قوتوں کو قومی دھارے میں شامل اور ضم کرکے ہی جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے لیکن حاجی عدیل کے پے در پے قلبی انکشافات کے بعد مجھے تشویش ہے کہ کیا کبھی پاکستان اور قائد اعظم مخالف قوتیں قومی دھارے میں ضم ہوں گی ؟ کیا ان کی موجودہ نسلیں جو وقتاً فوقتاً قائد اعظم کے قائم کردہ پاکستان میں اقتدار کے ”لوشے“ لوٹتی رہتی ہیں اپنے ذہنوں اور دلوں کے چوکھٹوں میں گاندھی کی جگہ قائد اعظم کی تصویر سجائیں گی ؟ میرا خیال تھا کہ تقسیم ہند سے نفرت کا ورثہ سرحدی بزرگوں کے ساتھ دفن ہوچکا لیکن لگتا ہے کہ یہ محض ہمارا حسن ظن تھا

اس حوالے سے مجھے قائد اعظم کے وہ ا لفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے 20 اپریل1948ء کو پشاور کے جلسہ عام میں کہے تھے ۔ ہماری نوجوان نسلوں کو علم نہیں کہ قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرل پاکستان 18,17,16اپریل 1948ء کو صوبہ سرحد کا دورہ کیا تھا ۔ پشاور کے قیام کے دوران وہ مسلسل دو دن خان عبدالغفار خان سے ملے اور انہیں پاکستان کے قومی دھارے میں شریک کرنا چاہا اور پھر مایوس ہو کر 20 اپریل کو جلسہ عام میں یہ اعلان کیا کہ اے قوم یہ لوگ قابل اعتماد نہیں ۔ جو دوست اس موضوع پر تفصیل پڑھنے کی خواہش رکھتے ہوں وہ میری کتاب درد آگہی کا آخری باب ملاحظہ فرمائیں

قائد اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار جن شخصیتوں کے بارے میں کیا تھا وہ اللہ کو پیاری ہوچکیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی ورثہ حاجی عدیل جیسے وفاداروں کے ذہنوں پر آج تک چھایا ہوا ہے حاجی عدیل صاحب کے ذہنی رہنما اور سیاسی گرو کو اپنے سرحدی گاندھی ہونے پر فخر تھا اور گاندھی کی سوچ کیا تھی اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ وہ قائد اعظم سے خط و کتابت اور ملاقاتوں میں فرمایا کرتے تھے کہ میں کیسے مان لوں کہ کچھ مذہب تبدیل کرنے والے (Converts) علیحدہ قوم بن گئے ہیں

مسلمانوں سے حقارت اس قدر کہ ایک بار مسلمانوں کے نام کھلی چھٹی لکھی کہ تمہارے ڈرپوک بزرگ اور نگزیب کی تلوار سے ڈر کر
مسلمان ہوگئے تھے ۔ تم واپس ہندو دھرم میں آجاؤ ۔ جمیل الرحمن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ گاندھی نے اپنے رسالے میں لکھا
ہندوستان کے مسلمانوں سے نپٹنے کے دو طریقے ہیں ۔ اول ان کو واپس ہندو دھرم میں لایا جائے، دوم جو اس کے لئے تیار نہ ہوں انہیں ملک
بدر کردیا جائے ۔ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں سرآغاخان کی آٹو بائیو گرافی کے حوالے سے لکھا ہے کہ گول میز کانفرنس لندن کے دوران
سر آغا خان نے گاندھی سے کہا کہ آپ ہندوستان کے باپو کہلاتے ہیں کیا آپ مسلمانوں کے باپو بھی بن سکتے ہیں ۔ گاندھی کا جواب نفی میں تھا ۔ وہ گاندھی جو مسلمانوں سے اتنی”محبت“ بہ وزن ”حقارت“ کرتا تھا اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو سرحدی گاندھی کہلوانا اور قیام پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کرنا بذات خود پاکستان اور قائد اعظم سے ”محبت“ کے واضح ثبوت ہیں لیکن اس کے باوجود ہم جیسوں کو خوش فہمی تھی کہ شاید قیام پاکستان کے وقت پیدا ہونے والی نسل اپنا قلبی و ذہنی قبلہ تبدیل کرکے ماضی کے سیاسی ورثے سے تائب ہوجائے کہ انہیں پاکستان نے بے حد عزت و احترام دیا ہے لیکن میرے ممدوح حاجی عدیل صاحب تو چند قدم مزید آگے چلے گئے اور یہ بیان دے کر اپنی”اصل“ آشکارا کردی کہ میرا ہیرو راجہ داہر ہے نہ کہ محمد بن قاسم ۔ بے شک انہوں نے گاندھی کے سچے پیروکار اور ذہنی چیلے ہونے کا ثبوت دے دیا اور ظاہر ہے کہ ان کا ہیرو راجہ داہر ہی ہونا چاہئے تھاکیونکہ وہ اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالنے والے محمد بن قاسم کو کیسے اپنا ہیرو مان سکتے ہیں ؟ اسی طرح بانی پاکستان ان کا ہیر و کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ راجہ داہر کے مریدوں کا ہیرو تو صرف گاندھی ہی ہوسکتا ہے

محمد بن قاسم کا اصل قصور کچھ اور تھا وہ 712 ء میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ کر 715ء میں واپس چلا
گیا ۔ 997ء سے لے کر 1030ء تک محمود غزنوی نے ہندوستان پر تیرہ حملے کئے لیکن اس نے اسلامی مملکت کی بنیاد ہرگز نہیں رکھی ۔ اس کے باوجود 1192ء میں جب غوری اور پرتھوی راج کے درمیان جنگ ترائن ہوئی تو تاریخ فرشتہ کے مطابق شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو جو خط لکھا اس میں واضح کیا کہ سندھ پنجاب اور سرحد میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں ہیں اس لئے یا تو یہ علاقے مجھے دے دو یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ

یہ محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی اور غوری تک کا اعجاز تھا کہ ان علاقوں میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں ہوئے جس میں صوفیاء
اکرام اور اولیاء اکرام نے بے حد اہم کردار سرانجام دیا ۔ مشیت الٰہی یہ تھی کہ جغرافیائی حوالے سے ایک دوسرے میں پیوست علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہوئے جس کی بنیاد پر قائد اعظم نے پاکستان کا مطالبہ کیا ۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ان ملحقہ علاقوں میں اسلام محمد بن قاسم، محمود غزنوی اور غوری اور مسلمان صوفیاء اکرام کے سبب پھیلا اور اسی لئے وہ ہمارے ہیرو ہیں جبکہ کچھ حضرات ان کے مخالفین کو اپنا ہیرو مانتے ہیں اور ہندو مؤرخین کی پیروی کرتے ہوئے ان کی کردار کشی کرتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مسلمان ہونے پر شرمندہ ہوں ؟

بشکريہ ۔ جنگ