Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

وقتِ دعا

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے
جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے
چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تیری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر
مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
فریاد ہے اے کشتی اُمت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
کر حق سے دعا اُمت مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھِرا ہے
ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے اگر حال بُرا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کے مقبول خدا ہے

سوچ کردار کا پیمانہ ہے

ہر آدمی کا عمل اُس کی سوچ کا تابع ہوتا ہے ۔ کسی کی سوچ کا درست قیاس عام طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔ البتہ سوچ کا کچھ اندازہ اُس وقت لگایا جا سکتا ہے جب مذکورہ آدمی کو اچانک کوئی بڑی خوشی ملے یا بڑا دھچکا لگے
اس کی ایک عام فہم مثال کرکٹ کے بارے میں ہے کیونکہ کرکٹ وہ کھیل ہے جس میں ساری دنیاکے لوگ دلچسپی رکھتے ہیں

پاکستان نے 1992ء میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ جیتنے کے بعد اُس وقت کے پاکستانی ٹیم کے کپتان سے اُس کا تاءثر پوچھا گیا تو اُس کے منہ سے نکلا
” My ambition, Shaukat Memorial Trust “
ٹیم جس نے کپتان کو یہ اعزاز لینے کا اہل بنایا تھا اُس کا خیال تک نہ آیا

امسال یعنی 2016ء میں پاکستان کی ٹیم کو بہترین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم اور کپتان کو بہترین کپتان قرار دیا گیا
کپتان سے اُس کا تاءثر پوچھا گیا تو اُس نے برملا کہا ” Captain is nothing without team “

اوّل الذکر کپتان کے اظہار سے خود غرضی عیاں ہے جبکہ مؤخر الذکر نے حقیقت کا اظہار کیا

گھر بیٹھے حرم شریف کعبہ کی سیر

حرم شریف مکّہ کی سیر پر کلِک کیجئے تو آپ اپنے آپ کو حرمِ شریف مکہ کے اندر پائیں گے ۔ پھر اگر دل چاہے کعبہ کے گِرد طواف کیجئے یا پورے حرم شریف کی سیر کیجئے
اگر آپ کے سامنے کمپیوٹر ہے تو چوہے کے نشانِ کار (Mouse pointer) کو مانیٹر کی سکرین پر داہنے یا بائیں یا اُوپر یا نیچے کی طرف حرکت دے کر حرم شریف کا نظارہ کیجئے
اگر آپ کے سامنے اینڈرائیڈ سکرین (Andriod) ہے یا آپ کے ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون ہے تو سکرین پر اُنگلی رکھ کر اُنگلی کو داہنے یا بائیں یا اُوپر یا نیچے کی طرف حرکت دے کر حرم شریف کا نظارہ کیجئے

حرم شریف کے نظارہ کے دوران اگر تصویر پر کہیں تِیر کا نشان نظر آئے تو اس پر کلِک کر دیکھیئے کیا ہوتا ہے
اسی طرح اگر زنجیر کا ایک لِنک یعنی 8 کھڑا یا لیٹا ہوا نظر آئے تو اس پر کلِک کر کے دیکھیئے کہ کیا ہوتا ہے
یعنی ہر دَم فرق نظارہ ۔ سُبحان اللہ

نہیں نا اُمید ۔ ۔ ۔

نہیں نا اُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
علامہ محمد اقبال صاحب کے مندرجہ بالا قول کی عملی مثالیں گاہے بگاہے سامنے آتی رہتی ہیں ۔ آج ان میں سے ایک واقعہ نقل کر رہا ہوں جو آج کے نوجوانوں کے عِلم میں شاید آیا ہی نہ ہو اور بڑوں کی اکثریت شاید بھول چکے ہوں
یہ اچھوتا اور مغربی دنیا میں ناقابلِ یقین واقعہ آج سے 18 سال 5 ماہ اور 4 دِن قبل 25 اکتوبر 1998ء کو بلوچستان اور سندھ کی فضاؤں میں رونما ہوا تھا fokker

پی آئی اے کا چھوٹا ہوائی جہاز (فوکر فرینڈشپ 27) گوادر ایئر پورٹ سے کراچی روانہ ہونے کو تیار کھڑا تھا ۔ روانگی سے قبل جہاز میں معمول کے مطابق اعلان کیا گیا ”خواتین و حضرات اپنے حفاظتی بند باندھ لیجئے ۔ ہم اپنے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں”۔
جہاز میں 33 مسافر اور عملہ کے 5 افراد سوار تھے ۔ شام ساڑھے 5 بجے جہاز منزل کی جانب روانہ ہوا ۔ زمین سے اُٹھنے کے 20 منٹ بعد ایک درازقد جوان اُٹھا اور کاک پِٹ کی جانب بڑھا ۔ ایئر ہوسٹس خالدہ آفریدی نے سامنے آتے ہوئے گذارش کی ”سر آپ تشریف رکھیں ۔کاک پٹ میں جانے کی اجازت نہیں“۔
وہ شخص اُسے دھکا دے کر کاک پِٹ میں داخل ہو گیا اور پستول پائلٹ عزیر خان کی گردن پر رکھتے ہوئے خبردار کیا کے وہ اسکے حکم کا پابند ہے ۔ اسی لمحے ہائی جیکر کے 2 ساتھیوں نے کھڑے ہو کر مسافروں پر پستول تان لئے ۔ اِن میں سے ایک نے خود کُش جیکٹ پہن رکھی تھی ۔ ہائی جیکر نے کیپٹن عزیر کو حکم دیا ” یہ جہاز کراچی نہیں دہلی جائے گا“۔
کیپٹن نے جہاز میں مسافروں کو آگاہ کیا ”معزز خواتین و حضرات جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے اور اب یہ انڈیا جائے گا“۔

پھر ہائی جیکر نے کیپٹن عزیر کو انڈین ایئر بیس رابطہ کر کے اُترنے کی اجازت مانگنے کا کہا ۔ کیپٹن نے بظاہر اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی جہاز کی سِمت بدل دی ۔ راڈار پر جہاز کی سِمت بدلتے ہی پاکستانی ایئر پورٹ ہیڈ کوارٹر میں کھلبلی مچ گئی ۔ چند منٹ بعد پاکستان ایئر فورس کے 2 فائٹر جیٹ فضا میں بلند ہوئے اور فوکر کو گھیر لیا ۔ ایئر پورٹ ہیڈ کوارٹر میں اعلی حکام کا اجلاس ہوا جس میں لائحہءِ عمل تیار کیا گیا ۔ فیصلہ ہوا کہ فوکر کو حیدرآباد (سندھ) ایئرپورٹ پر اُتارا جائے ۔ تربیت یافتہ پولیس اور فوج کے کمانڈوز کے دستے منگوا لئے گئے ۔ رینجرز کا دستہ بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا

اب اصل ڈرامہ شروع ہونے کو تھا
کیپٹن عزیر خان جان چکے تھے 2 فائٹر جیٹ جہاز کو گھیرے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بہانہ بناتے ہوۓ کہا ”ہمارے پاس ایندھن اتنا نہیں ہے کہ ہمیں دہلی لے جاسکے ۔ ہمیں قریبی ائیر پورٹ سے ایندھن لینا پڑے گا“۔
ہائی جیکرز ہر صورت جہاز دہلی لے جانا چاہتے تھے ۔ ان کے پاس نقشہ تھا ۔ انڈیا کی بھوج ائیربیس کو نقشے میں دیکھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے جو سُن کر کیپٹن نے کہا ”انڈیا کا بھوج ائیر بیس قریب پڑتا ہے ۔ وہاں تک جہاز جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے انڈین ہیڈ کوارٹر سے اجازت لینا ہوگی“۔
کیپٹن عزیر جانتے تھے قریبی ایئرپورٹ حیدرآباد (سندھ) کا تھا ۔ انہوں نے رابطہ کرتے ہوئے کہا ”کیا یہ بھوج ائیر پورٹ ہے ؟ کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں ؟ “ جواب میں کسی نے ہندی زبان میں ہائی جیکروں کے ساتھ بات کرانے کا کہا اور ہائی جیکروں نے بات شروع کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بلوچستان کی طلباء تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاز میں 33 مسافر اور 5 عملہ کے لوگ ہیں ۔ وہ پاکستان کے انڈیا کے مقابلہ میں ایٹمی تجربہ کرنے کے خلاف ہیں اور پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہ تجربہ نہ کریں ۔ پھر جئے ہند کا نعرہ لگا کر کہا کہ وہ انڈیا کی مدد کریں گے اور پاکستان کا یہ جہاز دہلی لے جانا چاہتے ہیں ۔ انہیں بھوج ائیر بیس پر اُترنے دیں کیونکہ جہاز کو ایندھن چاہیئے

ہائی جیکروں کے ساتھ بات کرنے والا پاکستان ایئر فورس کا خصوصی تربیت یافتہ آفیسر تھا ۔ اُس نے ان کی شناخت پوچھی ۔ ہائی جیکر نے اپنے پورے نام اور پتے بتا دیئے ۔ کچھ وقفہ کے بعد ہائی جیکروں کو بتایا گیا ”پردان منتری سے بات کرنے کے بعد آپ کا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے اور بھوج ایئرپورٹ پر اُترنے کی اجازت ہے“۔ خوشی سے ہائی جیکروں نے جئے ہند کے نعرے لگائے ۔ دوسری جانب سے بھی جے ہند کے نعرے کی آواز آئی

کیپٹن عزیر یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ اب وہ انڈیا کی طرف جا رہے جہاز کو حیدرآباد ایئر پورٹ پر گھماتے رہے ۔ پاکستان کے سیکورٹی افسران نے متعلقہ اداروں سے ہائی جیکروں کا ڈیٹا حاصل کر لیا ۔ رات کا اندھیرہ چھا چکا تھا ۔ ہنگامی طور پر حیدرآباد ایئر پورٹ سے تمام جہاز ہٹا دیئے گئے ۔ پولیس نے ائیر پورٹ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیئے ۔ حیدرآباد ایئر پورٹ پر لائٹس بند کر دی گئیں ۔ شہر کی بجلی بھی بند کر دی گئی تاکہ ہائی جیکر علاقہ نہ پہچان سکیں ۔ ایئر پورٹ کی عمارت سے پاکستان کا جھنڈا اُتار کر انڈیا کا جھنڈا لہرا دیا گیا

کچھ دیر بعد جہاز حیدر آباد ایئر پورٹ پر اُتر گیا ۔ وہاں انڈیا کا پرچم لہراتے دیکھ کر ہائی جیکروں نے پھر جئے ہند کا نعرہ لگایا ۔ کمانڈوز اور رینجرز تیار کھڑے تھے ۔ جہاز کھڑا ہوتے ہی گاڑیاں اس کے آگے کھڑی کر دیں گئیں کہ جہاز ٹیک آف نہ کرسکے ۔ ایئر پورٹ عملہ کے روپ میں انڈین آرمی کی وردی پہنے 3 پاکستانی کمانڈوز بغیر ہتھیاروں کے جہاز میں داخل ہوئے اور بات چیت کے دوران جہاز کے اندر کی صورتحال کا مکمل جائزہ لے لیا ۔ آخر ہائی جیکروں سے کہا ”آپ چِنتا نہ کریں ۔ آپ بھوج ایئر بیس پر ہیں اور محفوظ ہیں ۔ عورتوں ۔ بچوں اور ان کے ساتھی مردوں کو یہیں اُتار کر آپ دہلی پدھاریں“۔
مسافروں کے جہاز سے اُترنے کی دیر تھی کہ کمانڈوز ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ایک ہی ہلے میں دونوں دروازوں سے جہاز میں داخل ہو گئے اور ہائی جیکروں کو قابو کر کے باندھ دیا

کپیٹن عزیر اور باقی عملہ مسکراتے ہوئے جہاز سے اُتر گئے
کپیٹن عزیر کی ذہانت اور چُست فیصلہ سازی نے مُلک کو ایک عظیم نقصان سے بچا لیا
اس واقعہ کے بعد جب صحافیوں نےان سے پوچھا تو بولے ” اگر دشمن یہ سمجھتے ہیں کے ہم موت سے ڈرتے ہیں تو سُن لیں مسلمان موت سے نہیں ڈرتا اور شہادت تو مسلمان کے لئے انعام ہے“۔
ہائی جیکروں پر سول عدالتوں میں مقدمہ چلتا رہا اور پھانسی کا حُکم سنا دیا گیا لیکن حکومتِ وقت نے غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر سزا روکے رکھی ۔ بالآخر ان ہائی جیکروں کو 28 مئی 2015ء کو پھانسی دے دی گئی

پاکستان کے دشمنوں کو خبر ہو کے جس وطن کے بیٹے اتنے دلیر اور جانثار ہوں اس سرزمین کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
پاکستان اِن شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے کے لئے ہے

بھارتی ظُلم و سِتم کے 69 سال

انگریز حکمرانوں نے جواہر لال نہرو کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے پاکستان کی سرحدوں کا اعلان 14 اگست 1947ء کی بجائے 17 اگست کو کیا اور نہائت عیّاری سے گورداسپور جو کہ مسلم اکثریت والا ضلع تھا کو بھارت میں شامل کر دیا ۔ جس کے نتیجہ میں ایک تو گورداسپور میں تسلّی سے اپنے گھروں میں بیٹھے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور دوسرے بھارت کو جموں کشمیر جانے کے لئے راستہ مہیا کر ہو گیا جہاں سے راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دَل کے عسکری تربیت یافتہ مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہو گئے

موہن داس کرم چند گاندھی ۔ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل پٹھانکوٹ کٹھوعہ کے راستے جموں پہنچے اور مہاراجہ ہری
سنگھ پر مختلف طریقوں سے بھارت کے ساتھ الحاق کے لئے دباؤ ڈالا ۔ مسلمانوں کی طرف سے قرارداد الحاق پاکستان پہلے ہی مہاراجہ کے پاس پہنچ چکی تھی ۔ راجہ ہری سنگھ نے مُہلت مانگی ۔ 3 دن کی متواتر کوشش کے بعد بھی ہاں نہ ہو سکی اور کانگرسی لیڈر بھارت واپس چلے گئے

بعد میں تمام فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج سے لدھے ہوائی جہازوں نے بغیر اطلاع عید الاضحے کے دوسرے دن یعنی 27 اکتوبر 1947ء کو جموں ایئر پورٹ (ستواری) میں دھڑا دھڑ اُترنا شروع ہو گئے ۔ جلد ہی بھارتی فوج جموں میں پھیلنے کے علاوہ جموں کشمیر کی سرحدوں پر بھی پہنچ گئی ۔ اِن میں زیادہ تعداد گورکھا اور نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کی تھی جو انتہائی ظالم اور بے رحم مشہور تھے ۔ قائداعظم نے پاکستانی فوج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی کو جموں کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم دیا ۔ اس نے یہ کہہ کر حکم عدولی کی کہ میرے پاس بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے سازوسامان نہیں ہے

خُفیہ منصوبے کے تحت بارتی فوج کی پُشت پناہی میں راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہاسبھا اور اکالی دَل کے عسکری دستوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کیا ۔ 4 ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947ء کی شام کو ختم ہوئے اِن مسلحہ ہندوؤں اور سِکھوں نے صوبہ جموں میں پونے دو لاکھ کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے اور سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں ۔ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا

کچھ سال امن رہنے کے بعد بھارت کا جبر و استبداد پھر شروع ہوا جس کے نتیجہ میں جموں کشمیر کے مسلمانوں نے احتجاج شروع کیا اور آزادی کے نعرے لگانے شروع کئے ۔ بھارتی ریاستی ظُلم بڑھتا گیا اور مسلمانوں کا احتجاج بھی زور پکڑتا گیا ۔ 1987ء میں نیشل کانفرنس (آل انڈیا کانگرس کی شاخ) کے قومی اسمبلی میں مُنتخب نمائندے آزادی کیلئے لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ مل گئے ۔ اس کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے جموں کشمیر کے مسلمانوں کا کھُلم کھُلا قتلِ عام شروع کر دیا ۔ اُنہیں دفن کر دیا جاتا اور کسی کسی کی قبر بنائی جاتی اور اُس پر فرضی نام کی تختی لگا کر نیچے پاکستانی دہشتگرد لکھ دیا جاتا ۔ ایسی قبر جب بھی عدالتی حُکم پر کھولی گئی تو میت لاپتہ کشمیری جوان کی نکلی

امسال 8 جولائی کو بُرہان وانی کے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کے بعد پورے جموں کشمیر میں پُر زور احتجاج شروع ہو چکا ہے اور بھارتی سکیورٹی فورسز بھی ظُلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ اس کی تفصیل سب قارئین روزانہ سُنتے ہیں ۔ متعدد وِڈیوز بھی اُپ لَوڈ ہو چکی ہیں جنہیں دیکھ کر رَونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں

انسانی حقوق کے دعویدار امریکہ اور یورپ والوں کی آنکھوں پر بھارتی چشمے چڑھے ہوئے ہیں ۔ اسلئے وہ اس ظُلم و استبداد کے خلاف آواز اُٹھانا تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے اور نہ اُن کا میڈیا ان حقائق کو دِکھاتا ہے

کچھ سُنا آپ نے ؟

کہا جاتا ہے کہ مہنگے علاقہ کے گھروں میں رہنے والوں کو سب کچھ اُن کی دہلیز پر ملتا ہے
اسلام آباد میں سیکٹر ایف 8 اسی درجے میں آتا ہے اور سیکٹر ای 7 بننے سے قبل اسلام آباد کا سب سے بہتر معیار کا سیکٹر صرف یہی تھا
ایف 8 میں اکثر پلاٹ 2000 مربع گز کے ہیں ۔ کچھ 1000 سے 1500 مربع گز کے ہیں اور جغرافیائی وجہ سے بن جانے والے تھوڑے سے 500 مربع گز کے ہیں
اسلام آباد ہر سیکٹر کے 4 حصے ہوتے ہیں ۔ 1 ۔ 2 ۔ 3 اور 4

ہم سیکٹر ایف 8 کے حصہ 1 میں رہتے ہیں یعنی F–8/1 میں ۔ ہم پانی کی سپلائی کیلئے ہر 3 ماہ بعد 2300 روپے دیتے جو کہ باقاعدگی سے وصول کئے جا رہے ہیں لیکن ہمارے علاقے میں پچھلے 3 ماہ سے پانی نہیں آ رہا

جون 2016ء تک پانی کی سپلائی کیپِٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داری تھی ۔ جون 2016ء سے قبل کبھی سالوں بعد چند دِنوں کیلئے پانی کی سپلائی بند ہوتی تھی وہ بھی صرف دو تین گلیوں کی تو سی ڈی اے میں بھاگ دوڑ اُس وقت تک لگی رہتی تھی جب تک پانی کی سپلائی بحال نہ ہو جائے

سیاستدانوں کا شور تھا کہ اسلام آباد میں بھی مُنتخب لوکل گورنمنٹ ہونا چاہیئے ۔ چنانچہ 10 ماہ قبل انتخابات ہوئے اور اسلام آباد میونسپل کارپوریشن اور مضافاتی علاقوں کی یونین کونسلز بن گئیں ۔ اسلام آباد کے مکینوں کو پانی کی سپلائی یکم جولائی 2016ء سے نو مُنتخب میونسپل کارپوریشن نے اپنی عملداری میں لے لی ۔ اب ایف 8/1 میں پانی کی سپلائی پچھلے 3 ماہ سے بند ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کو پانی مہیاء کرنے والے تینوں ٹیوب ویل بند پڑے ہیں

سیاستدان 20 فٹ اُونچی سٹیج پر کھڑے ہو کر دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں اور عوام کیلئے آسمان سے چاند ستارے بھی توڑکر لے آئیں گے ۔ جب کرُسی مل جاتی ہے تو شکائت کے آٹھ دس دن بعد پیش رفت معلوم کرنے جائیں تو جواب ملتا ہے ”میں پتہ کر رہا ہوں“۔

ہمارے علاقے کا ممبر میونسِپل کارپوریشن اور ایم این اے اتفاق سے دونوں تحریکِ انصاف کے ہیں ۔ ایم این اے اسد عمر کا نام تو سُنا ہی ہو گا

شاید اسی قسم کا نیا پاکستان بنانے کا بار بار وعدہ کیا جا رہا ہے

نیا سکہ 10 روپے کا

ایک سال قبل سٹیٹ بینک کی جانب سے 5 روپے کا نیا سنہری سکہ جاری کیا گیا تھا
آج بروز پیر بتاریخ 24 اکتوبر 2016ء 10روپے کا نیا سکہ جاری کیا گیا ہے rs-10-issued-oct24-2016
اس پر بڑھتا ہوا ہلال (نیا چاند) اور 5 کونے والا ستارہ بنے ہوئے ہیں
اس کا قطر ساڑھے 25 مِلی مِیٹر ہے
اس کا وزن 5.5 ملی گرام ہے
سکے کا رنگ سنہری ہے