Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

مکّر کٹّیاں نیں چھاواں ۔۔۔۔۔

ہوسٹن (امریکہ) میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر امان اللہ خان کی کتاب سے کچھ پنجابی شعر نقل کر رہا ہوں۔ یہ افغانستان اور عراق کی صورت حال کی غمازی کرتے ہیں۔ میں شاعری کے اسلوب سے واقف نہیں ہوں پھر بھی نیچے اردو میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

مکْر کُٹیاں نیں چھاوان

پیا لگدا حشر دیہاڑا سی ۔ ہر پاسے چیک چہاڑا سی
اینج لگدا سی بغداد نئیں ۔۔۔ فیر ہویا کی سی۔ یاد نئیں
اج چار دوالے کیہڑے نیں ۔ میرا فوٹو لیندے کیہڑے نیں
اے لتاں کس نے کٹیاں نیں ۔ جتھے ہتھ سن اوتھے پٹیاں نیں
او ویلے یاد پئے آوندے نیں ۔ میرے اتھرو وگدے رہندے نیں
جیڑے گھرسن سارے ڈھے گئے نیں ۔ ہن کھنڈرای باقی رہ گئے نیں
کوئی جا کے اج لیا دیوے ۔۔۔ مینوں پورا کوئی بنا دیوے

اردو ترجمہ حاضر ہے۔ میں شاعر نہیں ہوں۔ غلطیاں درگذر کیجئےگا۔

پُر فریب ہیں سائے

وہ لگتی حشر کی گھڑی تھی ۔ ہر سو چیخ پکار۔ وہاں پڑی تھی
یوں لگتا تھا کہ بغداد نہیں ۔۔۔ پھر ہوا کیا تھا۔ کچھ یاد نہیں
آج چاروں طرف میرے کون ہیں ۔ یہ فوٹو میرا لیتے کون ہیں
یہ ٹانگیں کس نے کاٹی ہیں ۔ ہاتھ جہاں تھے وہاں بھی پٹیاں ہیں
وہ واقعات ہیں اب یاد آنے لگے۔ میرے آنسو بھی ہیں بہنے لگے
جو گھر تھے سارے گرچکے ۔ اب کھنڈر ہی باقی رہ گئے ہیں
کوئی جا کے مجھےلادیوے ۔ مجھے پورا تو کوئی بنا دیوے

کاش ۔ ۔ ۔ مجھے بتا ئے کوئی ۔ ۔ ۔ ؟

کیا ہم حکمرانوں کے زر خرید غلام ہیں ؟ ہماری روشن خیال اعتدال پسند حکومت۔ جو سوائے سانس لینے کے ہر چیز اور ہر کام پر ہم سے بھاری بھر کم ٹیکس وصول کرتی ہے۔ کے دور میں حکمران خود تو عالی شان عمارتوں میں رہتے اور سات سات کروڑ روپے کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور ٹیکس دینے والے مسکینوں کو پولیس۔ رینجرز اور دیگر ایجنسیوں کے آگے ڈال دیا ہے تا کہ جب وہ حکمرانوں کی ناز برداریاں کرتے کرتے تنگ آ جائیں تو اپنا غصہ ان مسکینوں پر نکالیں۔ چاہے دن ہو یا رات کے دو بجے ان گھروں میں گھس جائیں اور جس سے جو جی میں آئے کریں اور جسے چاہیں اٹھا کر لے جائیں اور ان کو نامعلوم جگہ پر بند کر کے نا کردہ گناہ قبول کرانے کے لئے ان کا حلیہ بگاڑ دیں۔ پھر اگر ان کے لواحقین عدالت سے انصاف کی بھیک مانگیں تو کمال ڈھیٹائی سے کہہ دیں کہ ہم ان بندوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ کیا یہی ہے وہ روشن خیال اسلام جس کا ذکر ہمارے صدر صاحب آئے دن کرتے رہتے ہیں ؟ یہ قانون کے نام نہاد محافظ اس وقت کہاں تھے جب پٹرول پمپوں اور کے ایف سی کو آگ لگائی جا رہی تھی اور لوگوں کو گاڑیوں میں سے زبردستی نکال کر گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ؟

اب ملاحظہ ہو آج کا ڈان کا اداریہ۔

BRUTAL POLICE HANDLING

IMAGES of the police and Rangers brutally handling civilians in Karachi’s strike-ridden suburbs on Wednesday were flashed across the world on TV screens, and shamed the nation. The footage showed the Rangers beating up unarmed youth, forcibly entering people’s homes by knocking down their front doors with kicks and the rifle. Thursday’s national newspapers, too, carried pictures showing law enforcement personnel posing with their ‘catch’. A Rangers man in military boots stood on the legs and buttocks of a youth, surrounded by several other young people who were blindfolded, handcuffed and forced to lie flat on the ground with faces down. The camera caught other gun-wielding officers looking unashamedly proud of their accomplishment. This was not Iraq or Palestine under occupation, but a street in Malir.No one can condone hooliganism, stone throwing or burning of petrol stations and vehicles by protesters, as seen in Karachi on Monday and Tuesday; but excessive highhandedness with which the law enforcement personnel brutalized unarmed civilians on Wednesday must also be viewed with a sense of shame. Such a gung-ho style of law enforcement can only strengthen elements harbouring ulterior motives, or those wishing to extract political mileage out of anti-establishment feelings fostered by the growing number of educated, unemployed youth. As it is, many in our urban sprawl are condemned to live without basic amenities, social services or security of life and property. They cannot be blamed for venting their anger at a situation that leaves them with little hope or dignity. The Sindh government must rethink its handling of the law and order situation obtaining in the province, especially when local elections are just round the corner.

نیکی کر دریا میں ڈال

آج 2 جون ہے۔ آج سے ٹھیک آدھی صدی قبل میرے دادا جان (اللہ جنت عطا کرے) اس دار فانی سے رخصت ہوے۔ میرے دادا اور دادی نے حج اس زمانہ میں کیا جب مکہ مکرمہ سے منی۔ عرفات اور واپسی پیدل اور مکہ مکرمہ سے مدینہ اور واپسی اونٹ پر ہوتی تھی۔بعد دوپہر اور رات کو میں دادا جان کے بازو اور ٹانگیں سہلایا کرتا تھا۔ (عام زبان میں دبانا کہتے ہیں) اس دوران دادا جان مجھے اچھی اچھی باتیں اور اپنی تاریخ سنایا کرتے۔ ایک فقرہ وہ عموما کہتے ” نیکی کر اور دریا میں ڈال؛ ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا کہ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ دادا جان نے بتایا۔” یعنی نیکی کرو اور بھول جاؤ۔ اپنی نیکی نہ یاد رکھو نہ جتاؤ۔” پھر بھی بات مجھےپوری طرح واضح نہ ہوئی۔ بعد میں ‍قرآن شریف کے تفسر کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ یہ اللہ سبحانہ و تعالی کا حکم ہے کہ کسی پر احسان کر کے جتاؤ نہیں۔ بڑی عمر کو پہنچنے پر دوسرے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ دادا جان اس کی عملی مثال تھے۔ وہ ہر کسی سے حتہ کہ بغیر جان پہچان کے بھی بھلائی کرتے تھے احسان سمجھ کر نہیں بلکہ فرض سمجھ کر۔ اس لئے برادری کے تمام بزرگ اور شہر کے لوگ ان کی بہت عزّت کرتے تھے اور اہم کاموں میں ان سے مشورہ لیتے تھے۔ نیکی کر دریا میں ڈال انسانیت کا ایک عمدہ پہلو ہے۔

ایک طرف تو وہ پچھلے وقتوں کے لوگ اور ایک آجکل کے ہم لوگ کہ بھلائی تو کرنے کا سوچتے بھی نہیں اور دوسروں کو دکھ دینے۔ ان سے ان کے بیٹے ۔ بھائی ۔ خاوند ۔ باپ چھیننے کے لئے ہر وقت تیار۔ آپ سب نے سنا یا پڑھا ہو گا گہ کراچی کی عبادت گاہ میں دھماکہ اور اس کے بعد نہ صرف دو پٹرول پمپ اور کے ایف سی جلائے گئے بلکہ شریف لوگوں کو گاڑیوں میں سے نکال کر ان کی گاڑیاں جلائی گئیں۔ کیا ہم لوگ بھڑیوں سے بھی بد تر ہو گئے ہیں ؟

پھول کی فریاد

یہ نظم میں نے آٹھویں جماعت میں اُردو کی کتاب ”مرقع ادب“ میں پڑھی تھی

کیا خطا میری تھی ظالم تُو نے کیوں توڑا مجھے
کیوں نہ میری عمر ہی تک شاخ پہ چھوڑا مجھے
جانتا گر  اِس ہَنسی کے دردناک انجام کو

میں ہوا کے گُگُدانے سے نہ ہَنستا نام کو

شاخ نے آغوش میں کِس لُطف سے پالا مجھے

تُو نے مَلنے کے لئے بِستر پہ لا ڈالا مجھے

میری خُوشبُو سے  بسائے گا بچھونا رات بھر

صبح ہو گی تو مُجھ کو پھینک دے گا خاک پر

پَتیاں اُڑتی پھِریں گی ۔ مُنتشِر ہو جائیں گی

رَفتہ رَفتہ خاک میں مِل جائیں گی کھو جائیں گی

تُو نے میری جان لی دَم بھَر کی زِینت کے لئے

کی جَفا مُجھ پر فقط تھوڑی سی فرحت کے لئے

دیکھ میرے رنگ کی حالت بدل جانے کو ہے

پَتی پَتی ہو چلی  بے آب ۔ مر جانے کو ہے

پیڑ کے دو سبز پتے رنگ میرا اِن میں لال

جس کی رونق تھا میں بے رونق وہ ڈالی ہو گئی

حَیف ہے بچے سے ماں کی گود خالی ہو گئی

تِتلیاں بے چین ہوں گی جب مجھے نہ پائیں گی

غَم سے بھَنورے روئیں گے اور بُلبلیں چِلائیں گی

دُودھ شبنم نے پلایا تھا ملا وہ خاک میں

کیا خبر تھی یہ کہ ہے بے رحم گُلچیں تاک میں

مہر  کہتا ہے کہ میری کِرنوں کی محنت گئی

ماہ کو غم ہے کہ میری دی ہوئی سب رنگت گئی

دیدہ حَیراں ہے کیاری۔ باغباں کے دِل میں داغ

شاخ کہتی ہے کہ ہے ہے گُل ہوا میرا چراغ

میں بھی فانی تُو بھی فانی سب ہیں فانی دہر میں

اِک قیامت ہے مگر مرگِ جوانی دہر میں

شوق کیا کہتے ہیں تُو سُن لے سمجھ لے مان لے

دِل کِسی کا توڑنا اچھا نہیں ۔ تُو جان لے

نور پور شاہاں بم دھماکہ اور قانون کے محافظ

جس لڑکے نے جمعہ کی دوپہر کو ہمیں دھماکہ کی خبر سنائی وہ ہمارے ملازم کا بھتیجھا ہے اور ان کا اور ان کے احباب کے گھر نورپور شاہاں میں ہیں۔ اس کے اور کئی موقع کے گواہوں کے مطابق وہاں ایجنسیوں والے تو کیا پولیس والے بھی مزار کے اندر یا گرد موجود نہ تھے اور دور کسی ہوٹل میں بیٹھے کھا پی رہے تھے جب کہ یہ مزار پریزیڈنٹ ہاؤس۔ پرائم منسٹر ہاؤس اور ڈپلو میٹک انکلیو کے قریب ہے۔ دوسرے فی زمانہ جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے ہوں وہاں سخت سیکیوریٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اس سلسہ میں ڈان کا ایڈیٹوریل یہاں کلک کر کے پڑھئے۔

خود کش حملہ اور ہلاکو خان

نبیل صاحب نے لکھا۔

پاکستان میں بری امام کے مزار پر ایک اور خود کش دھماکہ ہو گیا۔ ایک زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ سنی لوگ بھی موجود ہوں گے۔ اب ان دانش فروشوں اور دین کے نام سیاست کی دکان چمکانے والوں کی یقینا باچھیں کھلی ہوں گی۔ پاکستان کے عوام اور مقتدر طبقے نے عشروں تک جہادیوں کو بہ صرف برداشت کیا بلکہ ان کی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ہم لوگوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ کبھی یہ لوگ ہم پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ شاید ہمیں بھی ایسے ہلاکو خان کا انتظار کرنا پڑے جو ان فدائین کو ٹھکانے لگا دے۔

نورپور شاہاں میرے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ دیگرمیں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ بی بی سی نے یہ شوشہ صرف فساد کی آک بڑھکانے کے لئے چھوڑا ہے کہ زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ وہاں لوگ بلا تمیز مسلک آتے ہیں اور اپنی بلحاظ فرقہ پہچان نہیں کرواتے۔ بی بی سی کا مسلم دشمن افواہیں پھیلانے کا کاروبار کوئی نیا نہیں ہے۔آج کے کمپلیکس دور میں جہاں کسی بھی چیز کی اصل صورت نظر آنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔ بات کرنا اور بات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں رہا کہ ایک عبارت یا خبر پڑھی اور بات سمجھ میں آ گئی۔ نیبیل صاحب اور باقی قارئین سے بھی گذارش ہے کہ آپ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کر کے بتائیں کہ اشخاص کے ایک گروہ پر ان کے گھر یا محلہ یا شہر میں آ کر ان پر ظلم و ستم شروع کر دیا جائے ان کے کمسن بچوں کو بھی بلا وجہ قتل کیا جائے۔ ان کی بہنوں بیویوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جائیں۔ ان کے پاس اپنے دفاع کا مناسب بندوبست بھی نہ ہو اور ان میں آپ بھی شامل ہوں تو کیا آپ یہی کہیں گے ” ایک اور ہلاکو خان آ جائے اور آپ کے مردوں کی گردنیں اڑا دے اور آپ کی جوان عورتوں کو داد عیش دینے کے لئے اٹھا کر لے جائے ؟ جموں کشمیر میں بھارتی فوج۔ چیچنیا میں روسی فوج۔ فلسطین میں امریکہ کی حمائت یافتہ اسرائیلی فوج اور افغانستان اور عراق میں امریکی اور حلیف فوجیں جو کچھ کر رہی ہیں کیا یہ سب ٹھیک ہے ؟ اور اگر آپ وہاں کے باشندے ہوتے اور آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو آپ کیا کرتے ؟

میں نے صرف نو دس سال کی عمر میں جو کچھ دیکھا اس کی چھوٹی سی جھلک میرے اس بلاگ کی سائیڈ بار میں “مائی لائف ان جمّوں اینڈ کشمیر پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ وقت بچانے کے لئے صرف “دی وائلینس سٹارٹس سے ٹو پاکستان ” تک پڑھ لیجئے۔ میں نے اس میں انتہائی قلب سوز واقعات کا ذکر اس لئے نہیں کیا تھا کہ کہیں میری اولاد کافروں سے اتنی نفرت نہ کرنے لگ جائے کہ جہاں کافر نظر آئے اس کا منہ نوچ لیں۔

عبدالقادر حسن نے جو کچھ لکھا وہ درست ہے۔ کل نور پور شاہاں میں جو دھماکہ ہوا وہ عبدالقادر حسن کا موضوع سخن نہیں تھا۔ جو طریقہ عبدالقادر حسن نے فتوی کا لکھا ہے وہ بھی صحیح ہے۔ فتوی دینے کے لئے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ اگر فتوی نہ دیا گیا تو کسی مسلم (با عمل مسلم) فرد یا گروہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ متّقی اور زاہد مسلم عالم فتوی دینے سے بہت کتراتے تھے کیونکہ نہ صرف ان کے فتوی کے نتیجہ میں جو کچھ ہو گا وہ ان کے نامہء عمال میں لکھا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالی بھی روز قیامت اس سے اس فتوی کی صحت کے متعلق سوال کریں گے ۔

عراق کے گورنر یزید بن عمر نے بن امیّہ کے آخری خلیفہ کے دور میں امام نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ کو مفتی و قاضی بننے کی پیشکش کی مگر انہوں نے قبول نہ کیا کہ حکومت کی ماتحتی میں وہ انسانی حقوق کی حفاظت نہ کر سکیں گے۔ گورنر نے انہیں ایک سو کوڑے اور سر پر دس مکّے مروائے۔ امام صاحب کا سر چہرہ وغیرہ پھول گیا مگر وہ پھر بھی نہ مانے۔ یزید بن عمر کی اچانک موت سے ان کی خلاصی ہوئی۔ بعد میں عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے سپریم کورٹ آف اپیل کے چیف جسٹس بننے کی پیشکش کی۔ انکار پر قید کر دیا پھر دس مکّوں اور سو کوڑوں کی سزا دی۔ آخری کوڑا جان لیوا ثابت ہوا۔

آج کے دور میں ایسے ملا پائے جاتے ہیں کہ حکومت نے ان سے محض امریکہ کی ھدائت پر ایک غلط فتوی لے لیا ہے تاکہ اس دور کے ہلاکو جارج واکر بش کا زرخرید چیلا پرویز مشرف مسلمانوں کو صفحہء ہستی سے مٹانے میں دل کھولکر ہلاکو کی مدد کر سکے۔

آج کے مسلمان کی حالت

خودی کی موت سے مغرب کا اندرون بے نور ۔۔۔۔۔ خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذّام
خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب ۔۔۔۔۔ بد ن عراق و عجم کا ہے بے عرق و عظّام
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر ۔۔۔۔۔ قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور ۔۔۔۔۔ کہ بیچ کھائے مسلمانوں کا جامہء احرام