Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

دل تھام کے بیٹھو اب میری باری آئی

وجہ تسمیہ ۔ ٹیگ کا مطلب وہ دھاتی چیز ہوتا ہے جو کسی چیز کے سرے کو محفوظ کرنے کے لئے یا لٹکانے یا کسی چیز میں سوراخ کرنے کے لئے لگائی گئی ہوتی ہے ۔ اسی حوالے سے دفتروں میں استعمال ہونے والی چھوٹی سی ڈوری کو ٹیگ کہا جاتا ہے ۔
ٹو ٹیگ کا مطلب نشان لگانا ہوتا ہے لیکن جو ڈوری یا دھاگہ عیسائی یا ہندو اپنی محبت کا نشان لگانے کے لئے ایک دوسرے کو باندھتے ہیں اسے بھی ٹیگ کا نام دے دیا گیا ۔حارث بن خرم ۔ شعیب اور شبّیر صاحبان نے مجھے نشان لگا دیا ۔ میں نے سوچا اگر نہ لکھا تو نوجوان ناراض نہ ہو جائیں ۔

پچاس سال پہلے ۔ میں گارڈن کالج راولپنڈی میں ایف ایس سی کا طالب علم تھا ۔ اس سال اللہ کے فضل سے میں نے تقریری مقابلہ میں اپنی زندگی کی پہلی تقریر پر پہلا انعام جیتا تھا ۔ میں طلباء ۔ طالبات اور استادوں سب میں قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا ۔ جو لڑکے لڑکیاں خود پریکٹیکل صحیح نہیں کر پاتے تھے وہ استاد سے کہلوا کر مجھ سے کرواتے تھے ۔

دس سال پہلے ۔ میں ترپن سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لینے کی وجہ سے فارغ تھا چنانچہ میں نے اپنی ذاتی تعلیم و تربیت اور ایک ویلفیئر سوسائٹی کے لئے بھرپور کام کیا

ایک سال پہلے ۔ میں ماشاء اللہ ایک پیاری سی بچی کا دادا بن گیا ۔

پچھلے چھ ماہ میں ۔ اس کھاتہ یا روزنامچہ کی بدولت بہت سے نوجوانوں سے تعلقات بنے جن سے میں بہت کچھ سیکھ رہا ہوں ۔ البتہ قدیر احمد رانا ۔ جہانزیب اشرف اور حارث بن خرّم صاحبان تو مجھے سب کچھ سکھا کر ہی دم لیں گے ۔

محبوب مشاغل ۔ اچھے قاریوں کی آواز میں تلاوت اور صوت القرآن چینل سے ترجمہ سننا ۔ تلاوت زیادہ تر شیخ محمد عبدالباسط عبدالصمد ۔ شیخ عبدالرحمان السدیس ۔ شیخ محمود الحسری اور شیخ سعود الشریم کی سنتا ہوں ۔ کتابوں ۔ رسائل ۔اخبارات اور انٹرنیٹ پر مضامین اور خبریں پڑھنا ۔ کمپیوٹر پر الٹے پلٹے تجربے کرنا ۔

جنہیں ملنا چاہتا ہوں ۔ ذاکر نائک ۔ اسرار احمد ۔ بل گیٹس ۔ نوم چومسکی اور قدیر احمد رانا ۔

حالیہ خوشی کے متحرک ۔ کسی کی مدد کرنا ۔ اپنی پوتی کے متعلق باتیں سننا ۔ اس کی وڈیوز دیکھنا ۔ اس کی تصویریں دیکھنا ۔اپنے بچوں کی کامیابی ۔

خواہشات ۔ تمنّا ہے کہ دنیا میں کچھ کام کر جاؤں ۔ اگر کچھ ہو سکے تو خدمت اسلام کر جاؤں ۔ خیال رہے اس میں انسانیت کی خدمت شامل ہے ۔

محبوب کھلونے ۔ پرسنل کمپیوٹر اور عمارتوں ہوائی جہازوں کاروں اور اسلحہ کے سکیلڈ ماڈل

پسندیدہ خوراک ۔ ماشاء اللہ بیوی ۔ بیٹی اور دونوں بہو بیٹیوں کے ہاتھ کی پکی ہوئی بریانی ۔ پلاؤ ۔ کوفتے ۔ پزّا ۔ لزانیا ۔ ششلک ۔ کشری ۔ محشی ۔ کیک ۔ بسیسا اور بسبوسا ۔ دونوں بیٹوں کی لائی ہوئی چاکلیٹ ۔ آئس کریم کیک ۔ موز (موس) کیک ۔

پسندیدہ ٹی وی شو ۔ میں ٹی وی کا شوقین نہیں مگر جب دیکھوں تو یہ دیکھتا ہوں ۔ ڈاکٹر اسرار ۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک ۔ نیشنل جیوگرافک چینل اور ٹام اینڈ جیری یا اسی طرح کے کارٹون ۔

پسندیدہ فلمیں ۔ عرصہ دراز گذرا فلم بینی چھوڑے اس لئے نام یاد نہیں رہے ۔ صرف وہ فلمیں پسند تھیں جن میں اداکاری ۔ فلمنگ ۔ ہدائتکاری اور تھیم سب عمدہ ہوں ۔

پسندیدہ گلوکار جو تھے ۔ نورجہاں ۔ محمد رفیع ۔ لتا منگیشکر ۔ ثریّا ملتانیکر ۔ احمد رشدی ۔

پسندیدہ گانے ۔ گانے سننا چھوڑے شائد چالیس سال ہو گئے ۔ بچپن اور نوجوانی میں چند گانے پسند تھے جو احباب کے حکم پر گانے بھی پڑتے تھے ۔

سو برس کی زندگی میں ایک پل
تو اگر کر لے کوئی اچھا عمل
تجھ کو دنیا میں ملے گا اسکا پھل
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل
غم کو سینے سے لگانا سیکھ لے
غیر کو اپنا بنانا سیکھ لے
درد سہہ کر مسکرانا سیکھ لے
چھوڑ خودغرضی وفا کی راہ چل
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل
ایک ہی آدم کی سب اولاد ہیں
کچھ توخوش ہیں اورکچھ ناشادہیں
جرم ان کا کیا ہے جو برباد ہیں
تو زمانے کے اصولوں کو بدل
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل
دوسروں کے واسطے زندہ رہو
جان بھی جائے تو ہنس کر جان دو
معصیت کے واسطے شرمندہ نہ ہو
چھوڑ خودغرضی خدا کی راہ چل
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل

لو دھن کا گھر لوٹنے والو لوٹ لو دل کا پیار
پیار وہ دھن ہے جس کے آگے ہر دھن ہے بیکار
انسان بنو کر لو بھلائی کا کوئی کام
دنیا سے چلے جاؤ گے رہ جائے گا بس نام
کیوں تم نے لگائے ہیں یہاں ظلم کے ڈیرے
پیتے ہو غریبوں کا لہو شام سویرے
دھن ساتھ نہ جائےگا بنے کیوں ہو لٹیرے
خود پاپ کرو نام ہو شیطان کا بدنام
لاکھرں یہاں شان اپنی دکھاتے ہوئے آئے
دم بھر کے لئے ناچ گئے دھوپ میں سائے
وہ بھول گئے تھے کہ یہ دنیا ہے سرائے
آتا ہے کوئی صبح تو جاتا ہے کوئی شام

جائے گا جب جہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہو گا
دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہو گا
یہ ٹھاٹھ باٹھ تیرا یہ آن بان تیری
رہ جائے گی یہیں پر یہ ساری شان تیری
اتنی ہی ہے مسافر بس داستان تیری

کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو
خدا کرے کسی دل کا قرار بن کے رہو
ہمارا کیا ہے ہم تو مر کے جی لیں گے
یہ زہر تم نے دیا ہے تو ہس کے پی لیں گے
تمہاری راہ چمکتی رہے ستاروں میں
دیار حسن میں حسن دیار بن کے رہو

When I kneel by the side of my mother
As my evening prayer I recite
There O LORD ! make me child again
Just for tonight

اگر مجھے ایک سو ملین ڈالر مل جائیں تو میں ایک ایسا مدرسوں کا نظام بناؤں جس میں فیسیں طلباء و طالبات کے لواحقین کی مالی حیثیت کے مطابق ہوں ۔ ان میں سائنس اور دینی تعلیم دونوں کا بہت عمدہ بندوبست ہو اور ان کے لئے زبردست کمپیوٹرائزڈ لائبریری ہو تا کہ طلباء اور طالبات کو زیادہ کتابیں نہ خریدنا پڑیں اور وہ سائنس میں ترقی کرنے کے ساتھ اچھے باعمل مسلمان بن سکیں ۔میں پناہ کہاں لوں گا ۔ اللہ تعالی جہاں پناہ دے گا مجھے کچھ پتہ نہیں ۔

جو پوشاک پہننا پسند نہیں ۔ چمکیلے یا شوخ رنگ کے کپڑے ۔ کالی یا لال قمیض ۔ لال پتلون ۔ سبز جوتے اور بے ڈھنگے فیشنی ۔

میری بری عادتیں ۔ غیبت نہ کرنا ۔ کسی کا مذاق نہ اڑانا اور دوسروں کو ایسا کرنے سے منع کرنا ۔ شور سے گبھرانا ۔ بدی کو دور کرنے کی کوشش ۔ ناچ گانے والی محفلوں میں نہ جانا ۔

جنہیں میں نشان لگانا چاہتا ہوں ۔ تین درجن کے قریب نفوس نشان زدہ ہو چکے ۔ میں نے مشکل سے یہ چنے ہیں
اے ڈبلیو کے
ثاقب سعود

ضیاء احمد
فہیم شیخ
بد تمیز

کس سے کریں شکوہ اور کس سے مانگیں انصاف ؟

Clipping from today’s newspaper

Meanwhile, a top official of the federal government confirmed that an official report received from the Punjab government reveals that SP Khalid Abdullah was related to a top “personality” of the Lahore High Court that was the major reason behind non-registration of an FIR against him on charges of abduction and rape of Sonia.

Reportedly, the DIG had also told the inquiry committee that he was helpless to provide succour to Asim and Sonia as SP Abdullah had even sent ten applications to different government institutions on different trumpeted charges of corruption to launch inquiries against him to force him stay silent in this important case.

The DIG had told the inquiry committee that he had also sent a report to the IG for Abdullah’s transfer that was never accommodated because of the power and influence he enjoyed for being related to one of the top “personality” of the Lahore High Court.

جو ہم چھوڑیں اور غیر اپنائیں

تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی جو مشرقی ثقافت تھی اس کو ہم فرسودہ جان کر چھوڑ رہے ہیں اور غیر جو نہ صرف اسلام بلکہ ہر باعمل مسلمان کے دشمن ہیں وہ ہماری ثقافت کے اجزاء پر یکے بعد دیگرے تحقیق کر کے اسے انسانی صحت کے لئے مفید ثابت کر رہے ہیں ۔ اس وقت ذکر صرف معانقہ یعنی بغل گیر ہونے کا ۔ صرف چند دہایاں پہلے جب دو مسلمان عزیز یا دوست ملتے تو بڑے جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے معانقہ کرتے یعنی بغلگیر ہوتے اور ان کے چہرے بشاش ہو جاتے ۔ ہماری نام نہاد ترقی کا یہ عالم ہے کہ اب دو عزیز یا دوست ملتے ہیں تو دور ہی سے صرف ایک ہاتھ ایک دوسرے کے کندھے کے پچھلی طرف لگا کر کے سمجھتے ہیں معانقہ ہو گیا ۔ اگر صحیح طرح معانقہ کیا جائے تو جسم میں ایک تازگی آ جاتی ہے ۔ ہم نمعلوم کس وجہ سے یہ چھوٹی چھوٹی صحتمند عادتیں چھوڑتے جارہے ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق بغل گیر ہونے سے صحت زیادہ بہتر رہتی ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنامیں کی جانے والی تحقیق میں 38 جوڑوں پر بغل گیری کی عادت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق خوشی یا گرم جوشی سے بغل گیر ہونے سے جسم میں ایک ایسے ہارمون میں اضافہ ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے جس کی بدولت دل کی بیماریوں کے امکانات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں پہلے مرحلے میں جوڑوں کو الگ الگ کمروں میں رکھا گیا اور ان کا بلڈ پریشر اور ہارمون کا لیول نوٹ کیا گیا ۔ بعد میں انہیں بیس سیکنڈ تک ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہونے کے لئے کہا گیا۔ اس کے بعد ایسے ہارمون میں اضافہ دیکھا گیا جو دل کی بیماریوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ ایسے جوڑے جن کے درمیان ایک خوشگوار اور پیار کا تعلق ہوتا ہے ان میں ایسے ہارمون کا لیول زیادہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر بغل گیری سے خواتین میں مردوں کی نسبت ان ہارمونز کا لیول زیادہ نوٹ کیا گیا ہے۔

سونیا ناز کا خاوند عاصم زندہ ہے

Asim claims SP Abdullah forced him to go into hiding after taking bribe for his release and warning he and his family would pay dearly if he appeared before 2 years

In a dramatic development, Asim Yousaf, husband of Sonia Naz, Wednesday emerged from hiding to reveal a shocking plethora of how, when, what, where and why related to the case.

On the run for eight months, Yousaf told The News in an exclusive interview that he had, in fact, been in hiding following a warning of dire consequences from the prime accused in the scandal, SP Abdullah, as a price for his freedom.

“I paid him Rs1.4million for my release (this is apart from the Rs2.2 million he ended up paying initially, to a notorious gang allegedly in cahoots with the Faisalabad Police and another Rs0.2 lakhs to Jamshed Chisti for the same reason). SP Abdullah had premised my freedom on the condition that I would excommunicate myself from my family members for two years,” he said.

تفصیلات پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے اور پڑھئے
Sonia’s missing husband is back By Rauf Klasra

آؤ بچو سنو کہانی

ہم بہن بھائی جب چھوٹے چھوٹے تھے دادا جان سے کہتے کہانی سنائیں ۔ وہ کہتے آؤ سنو کہانی ایک تھا راجہ ایک تھی رانی دونوں کی ہوگئی شادی ختم ہوئی آج کی کہانی ۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے

لیکن میں آج وہ کہانی کہنے لگا ہوں جو آپ نے پہلے کبھی سنی نہیں ہو گی ۔ ویسے کہانی شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے ۔ شادی سے پہلے تو صرف ہوائی قلعے ہوتے ہیں ۔ایک درخت ہوتا ہے جو بہت جلد بڑا ہو جاتا ہے بہت بڑی جگہ گھیر لیتا ہے اور اس کی جڑیں بھی زیر زمین دور دور تک پھیل جاتی ہیں ۔ ایک علاقہ میں لوگ ٹھیک ٹھاک رہ رہے تھے ۔ ایک آدمی یہ کہہ کر ان کی زمین پر آیا کہ وہ ان کی زمین کی پیداوار بڑھا دے گا اور وہ اطمینان کی زندگی گذار سکیں گے ۔ اس نے متذکرہ درخت وہاں بو دیا اور ساتھ ہی اپنا مکان بنا کر رہنے لگا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ درخت بہت بڑا ہو گیا اور بجائے پیداوار بڑھنے کے اس کے سائے اور جڑوں کی وجہ سے وہاں پیداوار کم ہو گئی ۔

اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ اس شیطانی درخت کی ایک شاخ درخت لگانے والے کے گھر میں گھس گئی ۔ اس نے وہ شاخ کٹوا دی ۔ اس کی جگہ دو شاخیں اگ کر اس کے گھر میں گھس گئیں ۔ اس نے وہ کٹوا دیں تو تین چار شاخیں ان کی جگہ اگ کر اس کے مکان میں گھس گئیں اور ساتھ ہی درخت کی جڑوں نے اس کے مکان کی بنیادیں ہلا دیں جس سے درخت لگانے والا نیم پاگل ہو گیا ۔

جناب اس درخت کا نام ہے دہشت گردی ۔ اگر زمین فلسطین ہے تو درخت لگانے والا اسرائیل اور اگر زمین عراق ہے تو درخت لگانے والا امریکہ ۔

بچو کہانی پسند آئی ؟ اپنی رائے ضرور بھیجنا ۔

سچا تے ستھرا

کل کے اخباروں میں پرویز مشرف کا بیان چھپا تھا کہ اس نے اسرائیل سے رابطہ کرنے سے پہلے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور فلسطین کے سربراہ محمود عباس کو اعتماد میں لیا تھا ۔آج کی خبر یہ ہے ۔ فلسطینی انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل سے وزیر خارجہ کی سطح پر ملاقات سے پہلے پاکستان کے صدر مشرف نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اعتماد میں لیا تھا۔ اب شاہ عبداللہ کی طرف سے تردید باقی رہ گئي ۔

بی بی سی نے آٹھ لوگوں کے بیانات رقم کئے ہیں

کراچی کے چار ہیں جن میں سے ایک جماعت اسلامی کے ہیں ۔ ان چاروں نے اسرائیل سے بات چیت کے خلاف بیان دیا ہے ۔

لاہور کے تین میں سے ایک نے اسرائیل سے بات چیت کے خلاف بیان دیا ہے اور دو نے اس کے حق میں بیان دیا ہے ۔

سرحد سے اے این پی کے نمائندہ نے اسرائیل سے بات چیت کے حق میں بیان دیا ہےزندہ باد کراچی ۔

Is it NAB or nab
The National Accountability Bureau (NAB) on Friday said it would inquire into the incident of humiliation of a rape victim, Sonia Naz, at the hands of a top military officer of its Lahore bureau where she had reportedly gone to seek justice against SP Khalid Abdullah. However, NAB said before proceedings further, it needed to know the name of the military officer, who according to Sonia, had humiliated and thrown her out of his office, where she had gone to lodge a formal complaint against the alleged corruption of the police officer.

Sonia in her interview with The News had alleged that after being hounded by SP Khalid Abdullah she had even gone to the office of NAB to seek justice as she had proof of corruption of the Faisalabad police and Excise department and that her husband was wrongly implicated in the case without any investigation and proper evidence. Sonia said a military officer who had met her there instead of taking her case seriously, humiliated her. Sonia alleged that the military officer had rather claimed that SP Abdullah was a very powerful police officer and she should go home instead of pursuing cases against him.

Now NAB has said the available complaint and personal visit record of Lahore office for the last six months does not show any such entry, which could establish the aforesaid person’s visit. NAB said it is “a neutral and transparent organisation that believes in good governance”. It urged the national press to verify facts before presenting “unsubstantiated” material before its valued readers. NAB said it would appreciate if the exact date and time of event were indicated, enabling the bureau to inquire into the incident.

Rauf Klasra responds: In her written affidavit given to The News, Sonia Naz has not only given the name of the concerned NAB military officer, who allegedly humiliated her in Lahore office of the NAB, but also his description.