Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

ہنسنا رونا منع ہے

اپنے ہی لوگوں کی مٹی پلید جیسے ہمارے ملک میں حکومت اور اس کے ادارے کرتے ہیں ایسا یورپ اور امریکہ تو کیا لبیا اور سعودی عرب میں بھی نہیں ہوتا ۔ ان ملکوں میں بعض اوقات انسانی جان بچانے کيلئے کئی ادارے بیوقوف بن جاتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقع ۔

چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا ۔

ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ۔ ہیلو ۔

ایم ڈی ۔ ابو گھر میں ہیں ؟

بچہ ہلکی آواز میں ۔ ہاں ۔

ایم ڈی ۔ میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟

بچہ ۔ نہیں ۔

ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ۔ آپ کی امی ہیں ؟

بچہ ۔ ہاں ۔

ایم ڈی نے التجا کی ۔ بیٹا اپنی امی سے بات کرا دیں ۔

بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ۔ نہیں ۔

ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ۔ آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟

بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ۔ ہاں پولیس مین ۔

ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ۔ میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟

بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ نہیں ۔ وہ مصروف ہیں ۔

ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ۔ پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟

بچہ ۔ وہ ابو ۔ امی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں ۔

اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ۔ بیٹا یہ کیسا شور ہے ؟

بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ ہیلی کاپٹر اترا ہے

ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟

ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ۔ سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اتری ہے ۔

ایم ڈی کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ۔ کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟

بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ۔ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں ۔

انسانيت کے عَلَمبرداروں کی منافقت

کيتھولک لوگوں نے حضرت مريم کی يہ تصوير بنائی ہے ۔ اس ميں اُنہيں پورا جسم اور بال ڈھانپے ہوئے دکھايا ہے جيسا کہ عيسائی اُنہيں ديکھنا چاہتے ہيں ۔ اگر اسی طرح کا لباس مسلم خاتون پہنے تو اسے حقير سمجھا جاتا ہے ۔

عيسائی بيوائيں اکثر اپنا جسم اچھی طرح ڈھانپتی ہيں ۔ يہ ان کا خاوند سے خلوص اور قابلِ تعريف فعل سمجھا جاتا ہے ۔

جب مسلم خواتين اپنے پيدا کرنے والے سے خلوص کے اظہار ميں اپنا جسم ڈھانپتی ہيں تو اسے لائقِ مذمت کہا جاتا ہے ۔

يمِش عيسائی خواتين جسم کے علاوہ سر کے بال بھی ڈھانپتی ہيں تو اُنہيں پارسا سمجھا جاتا ہے اور لوگ ان کے عقيدہ سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی عزت کرتے ہيں اور وہ کسی حقوقِ خواتين تنظيم کا نشانہ بھی نہيں بنتيں ۔

يہودی مذہبی خواتين اپنے سر کے بال سکارف يا مصنوعی بالوں سے ڈھانپتی ہيں ۔ کسی ملک ميں ايسی کوئی تجويز نہيں کہ ايسی يہودی خواتين پر پابندی لگائی جائے اسلئے کہ اُن کا مذہب اُنہيں اس کی اجازت ديتا ہے ۔

جب مسلم خواتين اپنے دين کے مطابق اپنے سر کے بال ڈھانپتی ہيں تو انہيں کيوں معاشرے کی پِسی ہوئی کہا جاتا ہے اور اُن کے اس فعل کو بذريعہ قانون کيوں ممنوع قرار ديا جاتا ہے ؟

کيا جو کپڑا مسلم خواتين استعمال کرتی ہيں وہ اس کپڑے سے گھٹيا ہوتا ہے جو عيسائی يا يہودی خواتين استعمال کرتی ہيں ؟

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی 

سالگرہ مبارک

اللہ کريم سُبحانہُ و تعالٰی ميرے بيٹے زَکَرِيّا کی سالگرہ مبارک کرے اور اُسے عُمدہ صحت اور دونوں جہانوں ميں اعلٰی کاميابی بخشے ۔ آمين ثم آمين

پاکستان کے پہلے اليکشن جيسے جمہوری اور آزادانہ انتخابات پھر آج تک نہ ہوئے يہ انتخابات پاکستان بننے سے کچھ پہلے منعقد ہوئے تھے ۔ پاکستان قائم ہو جانے کے بعد پہلے جمہوری انتخابات سن 1970 عيسوی ميں آج کے دن منعقد ہوئے تھے ۔ اسی دن قبل دوپہر اللہ کے فضل و کرم سے ميرا پہلا بچہ اور بڑا بيٹا پيدا ہوا ۔ دو تين عزيزوں نے بذريعہ تار انتخابات کے حوالے سے تجويز کيا کہ نام انتخاب رکھا جائے ۔ ميرے والد صاحب نے زَکَرِيّا تجويز کيا اور خاندان ميں سب نے يہی نام پسند کيا ۔ 

بھارت پاکستان اور امريکہ

 بيٹھے بيٹھے ميرے ذہن ميں آيا ۔ سوچا قارئين کی نذر کيا جائے 

بھارت کے گائک نے گايا

دَم مارو دَم م م م

مِٹيں سارے غم م م م

بولو صبح شام

ہری کرِشن ہری رام  

ہماری موجودہ حکومت کہتی ہے 

ڈَم ڈما ڈَم م م م 

مِٹے سارے غم م م م

کھاؤ صبح شام

ہری مرچ ہرا بادام 

امريکی حکومت کہتی ہے  

بَم مارو بَم م م م

مٹيں سارے مُسلِم م م م

کرتے جاؤ اعلان

امن امان ۔ امن امان ۔

يورپ ميں مذہبی منافقت

عيسائی راہبہ [نَن] اپنا جسم حتٰہ کہ سر کے بال اور گردن بھی پوری طرح ڈھانپتی ہے کيونکہ يہ انجيل ميں لکھا ہے ۔ اُسے جرمنی کے سکولوں ميں پڑھانے کی اجازت ہے

ايک مسلم خاتون اپنا اسی طرح اپنا جسم اور سر کے بال ڈھانپتی ہے کيونکہ يہ قرآن ميں لکھا ہے ۔ اُس کا جرمنی  کے  سکولوں ميں پڑھانا ممنوع ہے ۔

ايک فرانسيی دُلہن اپنے مذہب کے مطابق سر پر دوپٹہ ليتی ہے ۔ اُسے مدبّر سمجھا جاتا ہے اور اُسے فرانس کے رجسٹری آفس ميں شادی کرانے کی اجازت ہے ۔
 
ايک مسلم عورت سر پر دوپٹہ ليتی ہے ۔ اُسے معاشرہ کی پِسی ہوئی کہا جاتا ہے اور اُسے فرانس کی رجسٹری ميں شادی کرانے کی اجازت نہيں

کمال تو يہ ہے کہ فرانس ميں مسلم لڑکيوں يا خواتين کو اپنے دين کی پيروی ميں تو سر ڈھانپنے کی اجازت نہيں ليکن فيشن کے طور پر سر ڈھانپنے کی اجازت ہے ۔

اب ناروے ميں بھی عام مقامات پر بُرقعہ يا نقاب اوڑھنے پر پابندی لگانے پر غور شروع ہو گيا ہے ۔ اگر مجوّزہ قانون منظور ہو گيا تو پردہ پر پہلی سرکاری پابندی ہو گی ۔

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی

ننھے پھولوں سے متأثر ہو کر

ننھے بچے ننھے پھولوں سے بھی زيادہ خوش کُن اور نازک ہوتے ہيں ۔ ميری پوتی مِشَيل ماشاء اللہ سوا دو سال کی ہوگئی ہے ۔ اس عمر ميں بچے بڑی مزيدار باتيں اور حرکتيں کرتے ہيں ۔ مِشَيل کے والدين [زکريا اور عنبرين] شايد چاہتے ہيں کہ اُسے سيدھا ہی يونيورسٹی ميں داخل کرايا جائے ۔ دو سال کی عمر سے بھی پہلے مِشَيل کو وہ کچھ سيکھانا پڑھانا شروع کر ديا جو پانچ چھ سال کے بچے کو سکھايا يا پڑھايا جاتا ہے ۔ اس ميں سے ايک نظم کا واقعہ جو مِشَل کو ياد کرائی گئی

It is an egg
Bird came out of egg

چند دن بعد مِشَيل نے سوچا کوئی تجديد ہونا چاہئيے اور اس نے بنا ديا

It is an egg
Dad came out of egg

ليکن مِشَيل کے ايک ہم عمر بچے نے سوچا کہ تصديق کی جائے کہ بڑے لوگ صحيح بھی کہتے ہيں يا غلط ۔ چنانچہ اُس نے باورچی خانہ ميں جا کر انڈے توڑ توڑ کر ديکھنا شروع کيا کہ پرندہ اس ميں کہاں چھُپا ہوا ہے