Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

لبرٹی حملہ نااہلی تھا یا ملی بھگت

سری لنکا کے کھلاڑیوں پر حملہ کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر میں جو کچھ سن چکا تھا دل و دماغ اسے ماننے کیلئے تیار نہ تھا ۔ میں آج دو پہ اور پھر سہ پہر کو یعنی دو بار لکھتے لکھتے ڈر کر رُک گیا کہ قارئین کہیں مجھ پر حملہ کر کے میرا منہ ہی نہ نوچ ڈالیں ۔ اب کہ جیو ٹی نے وہ وڈیو چلا دی ہے جس سے میری سنی ہوئی باتیں درست ثابت ہو گئی ہیں تو لکھنے کی ہمت ہوئی ہے ۔

گذشتہ رات سلمان تاثیر اور رحمان ملک سمیت سرکاری اہلکاروں نے بلند بانگ دعوے کئے تھے اور حملہ آور 12 بتائے تھے ۔ اُن کی کارکردگی کا پول لاہور والوں کے سامنے تو کل ہی کھُل گیا تھا اور مجھے بھی کسی نے بتا دیا تھا ۔ حملہ آور جو کُل 8 تھے اور تین تین اور دو کی ٹولیوں میں حملہ آور ہوئے تھے ۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کل صبح 8 بج کر 42 منٹ پر حملہ شروع ہوا اور 25 منٹ جاری رہا ۔ اس کے بعد حملہ آور بڑے اطمینان سے ٹہلتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک قریبی سڑک پر جا کر موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فرار ہوئے ۔ جب تیسری ٹولی موٹر سائکل پر روانہ ہوئی اس وقت 9 بج کر 44 منٹ ہوئے تھے

لاہور کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ رحمان ملک کی زیرِ نگرانی ہوا ہے ورنہ ایسے ہو ہی نہیں سکتا کہ حملہ ہونے کے بعد پولیس اور ایجنسیاں پورے علاقے کو چاروں طرف سے نہ گھیر لیتیں اور نہ حملہ آور اس آسانی سے فرار ہو سکتے تھے ۔ خیال رہے کہ حملہ سے ایک دن قبل یعنی پیر کے روز رحمان ملک لاہور میں سلمان تاثیر کے ساتھ خصوصی میٹنگ گر کے آئے تھے

نجومی کون ہے ؟

فرانس کے حکمران لوئی ششم [1423ء تا 1483ء] ۔ جو علم نجوم پر بہت یقین رکھتا تھا ۔ کو ایک دِن کسی نجومی نے بتایا کہ ملکہ کا اگلے آٹھ دِنوں میں انتقال ہو جائے گا۔ جب واقعی ایسا ہو گیا تو بادشاہ گھبراگیا کہ نجومی تو انتہائی خطرناک ہے یا تو اس نے اپنی پیش گوئی سچ ثابت کرنے کیلئے خود ملکہ کو قتل کیا ہے یا پھر وہ اس طرح کی پیش گوئیاں بیان کرتا ۔ وہ مستقبل میں اُسکی بادشاہت بھی ختم کرسکتا ہے

بادشاہ نے نجومی کو گرفتار کرواکر قلعہ کی چھت سے اُلٹا لٹکا کر نیچے پھینکنے کا حکم دیا ۔ آخری لمحات میں نجومی سے پوچھا ”مرنے سے پہلے اتنا بتاجاؤ کہ میں یعنی بادشاہ کب تک زندہ رہوں گا“

نجومی نے انتہائی ادب سے جواب دیا “حضور ۔ میری موت آپ سے صرف تین دِن پہلے لکھی ہے“

حُکم پر تعمیل روک دی گئی اور بادشاہ اگلے کئی برس خود سے زیادہ اُس نجومی کی حفاظت کرتا رہا اور پھر بادشاہ کے انتقال کے کئی برس بعد تک نجومی قہقہے لگا کر یہ قصہ سناتا کہ

”طاقت کے حصول سے زیادہ اُسے برقرار رکھنے کی خواہش اور طاقت چھِن جانے کا ڈر حکمرانوں سے غلطیوں کا سبب بن جایا کرتا ہے”

یہ واقع کچھ دن قبل ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام “میرے مطابق” میں سنایا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں نجومی کون ہے اور اُس نے آصف علی زرداری سے کیا کہہ رکھا ہے ؟

سری لنکا کے کھلاڑوں پر حملہ ۔ ایک تجزیہ

میں قارئین کا شکرگذار ہوں جنہوں نے میری صبح کی تحریر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ میں صبح کچھ سودا سلف لینے گیا تھا ۔ واپس پہنچا تو میری ایک بھتیجی آئی بیٹھی تھی جو اسلام آباد ہی میں رہتی ہے ۔ اُس نے بتایا کہ” لاہور میری بھانجی کے گھر کے قریب فائرنگ ہو رہی ہے”۔ قذافی سٹیڈیم کے قریب میرا ایک پھوپھی زاد بھائی بھی رہتا ہے ۔بھانجی سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ اُس کا خاوند بچی کو صبح سکول چھوڑنے نکلا تو کوئی 15 منٹ بعد دو گرینیڈ چلنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی متواتر فائرنگ شروع ہو گئی جو کہ 25 منٹ جاری رہی ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے”۔ اس کے بعد ہم ٹی وی دیکھنے لگ گئے ۔

اب تک جو کچھ مختلف ٹی وی چینلز پر دکھایا اور کہا گیا ہے اس سے مندجہ ذیل عمل واضح ہوتے ہیں

1 ۔ حملہ آور 25 منٹ منظر پر موجود رہے اور پوری تسلی سے کاروائی کرتے رہے ۔ پھر فرار ہو گئے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ کوئی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور نہ ایسے واقعات سے نبٹنے کی کوئی تیاری تھی ۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ حکومت کا کہیں وجود ہی نہیں ہے

2 ۔ پنجاب میں اپنے ہی پیدا کردہ بحران پر غور کرنے کیلئے گورنر ہاؤس میں روزانہ رات گئے تک اجلاس ہوتے رہے مگر اس میں کرکٹ ٹیموں اور شائقین کی حفاظت کے بندوبست کا ذکر تک نہ آیا

3 ۔ صدر ۔ گورنر پنجاب اور اُن کے حواری صوبائی اسمبلی کے ارکان کی جوڑ توڑ اور سرکاری اہلکاروں کی اُکھاڑ پچھاڑ میں اس قدر محو تھے کہ اُن میں سے کسی کو لاہور میں ہونے والے کرکٹ میچ کی سکیورٹی کا خیال ہی نہ آیا

4 ۔ سب کچھ ہو جانے کے بعد بیان دیئے جا رہے ہیں کہ حملہ آوروں کو جلد زندہ یا مردہ گرفتار کر لیا جائے گا ۔ کسی مسکین غریب کی شامت آئی لگتی ہے ۔ جو حکومتی اہلکار 25 منٹ کی کاروائی ڈالنے والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے وہ غائب ہو جانے والوں کو کہاں سے پکڑ لائیں گے ؟
5 ۔ حسب سابق اسلحہ کے ساتھ کچھ خودکُش حملہ میں استعمال ہونے والی جیکٹیں برآمد کی گئی ہیں ۔ کیا یہ قرینِ قیاس ہے کہ جو جیکٹیں استعمال ہی نہ کرنا تھیں کیونکہ پہنی ہوئی نہ تھیں وہ حملہ آور ساتھ کیوں لائے تھے ۔ کیا اپنا بوجھ بڑھانے کیلئے یا پولیس کو تحفہ دینے کیلئے ؟ نمعلوم کب تک ہمارے نااہل حکمران ہمیں اور اھنے آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے

6 ۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جن شخص کو سلمان تاثیر نے زرداری کی منظوری سے پنجاب کا انسپیکٹر جنرل پولیس لگایا ہے یہ وہی شخص ہے جو اُن دنوں گوجرانوالہ کا ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس تھا جب نانو گورایہ نے ٹھگی کا بازار گرم کر رکھا تھا اور یہ صاحب اس لوٹ مار کے حصہ دار بھی تھے ۔ یہ تو گیدڑ کو چوزوں کی رکھوالی پر لگانے کے مترادف ہے

7 ۔ اگر ممبئی حملوں سے اب تک کے بھارتی حکومت کے وزراء اور دوسرے اہلکاروں کے بیانات پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کام بھارتی حکومت کے علاوہ کسی کا نہیں ہے لیکن ہماری حکومرانوں کے پاجامے اور پتلونیں خراب ہوئی جا رہی ہیں

زرداری کے چہیتے کی عمدہ انتظامی اہلیت

صدر آصف زرداری نے 25 فروری کو پنجاب میں غیر آئینی اور غیرقانونی گورنر راج قائم کر دیا تھا جس کے بعد زرداری کے چہیتے گورنر سلمان تاثیر نےلاہور کے انسپیکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری سمیت تمام اعلٰی عہدیداروں کو تبدیل کر دیا

اس عمدہ کار کردگی کا نتیجہ آج صبح سامنے آیا جب پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم میچ کھیلنے کیلئے قذافی سٹیڈیم جا رہی تھی تو گلبرگ کے علاقے لبرٹی چوک کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔ پولیس اور نامعلوم مسلحہ افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔

اس فائرنگ کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق اور 6 سری لنکن کھلاڑیوں اور 3 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد علاقے میں کھُلے عام فائرنگ کرتے پھر تے رہے

حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ دو قبضہ گروپوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ ہے اور اس کا سری لنکن ٹیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس بیان کا غلط ہونا یوں ثابت ہو جاتا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم کی گاڑی پر فائرنگ کے کچھ دیر بعد میچ کیلئے آنے والے امپائرز کی وین پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں امپائرز کے رابطہ افسر عبد السمیع زخمی ہو گئے

کیا یاد کرا دیا

میرے وطن کے عضوء عضوء میں زخم لگانے والے سنگ دلوں نے ذہن اتنا پراگندہ کر دیا ہے کہ دعا کیلئے ہاتھ اُٹھا تا ہوں تو الفاظ ہی کوسوں دُور بھاگ جاتے ہیں اور ذہن اُن کو کھینچنے میں معذور دکھائی دیتا ہے کہاں بچپن ۔ لڑکپن اور جوانی کی باتیں اور ولولے ۔ وہ تو قصہ پارینہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ تانیہ رحمان صاحبہ نے میرے لڑکپن کی محبوب غزل یاد دلا دی ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ تانیہ رحمان صاحبہ کا شکریہ ادا کروں یا عرض کروں کہ مجھے یادِ ماضی دِلا کر تڑپایا کیوں ؟

اے جذبہ دل گر ميں چاہوں ہر چيز مقابل آجائے
منزل کیلئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے

اے دل کی خلِش چل يوں ہی سہی چلتا تو ہوں انکی محفل ميں
اس وقت مجھے چونکا دينا ۔ جب رنگ پہ محفل آجائے

اے رہبرِ کامل چلنے کو تيار تو ہوں ۔ پر ياد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دينا جب سامنے منزل آجائے

ہاں ياد مجھے تم کر لينا ۔ آواز مجھے تم دے لينا
اس راہِ محبت ميں کوئی درپيش جو مشکل آجائے

اب کيوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
ميں چاہتا ہوں اے جذبہ غم ۔ مشکل پہ مشکل آجائے

شاعر ۔ بہزاد لکھنوی

ٹیلیفون کس کا؟

کل اسلام آباد میں یہ سوال انتہائی اعلٰی سطح پر پوچھا جا رہا تھا اور قیافہ آرائی کا بازار گرم تھا

“وہ ٹیلیفون کس کا تھا ؟ ”

بدھ 25 فروری کو گورنر راج نافذ کر کے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نہ صرف تالے لگا دیئے گئے تھے بلکہ اس کے اردگرد پولیس اور رینجرز تعینات کر دیئے گئے تھے ۔ کل سہ پہر واشنگٹن سے کسی نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا ۔ اُس کے بعد چند منٹوں کے اندر پنجاب اسمبلی کی عمارت کو کھول دیا گیا اور اور اسمبلی کے اسپیکر جنہوں نے کل بھی اسمبلی کی عمارت سے باہر زمین پر بیٹھ کر اجلاس کیا تھا اُن کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی

کوئی کہتا ہے کہ یہ ٹیلیفون کسی امریکی اہلکار کا تھا لیکن زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیلیفون پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کا تھا جو آج کل امریکہ میں ہیں ۔ اگر کوئی قاری حقیقت سے واقف ہے تو واضاحت کرے

جذبہ عشق

سُنا تھا
جذبہ عشق ہو باقی تو کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے ۔
یہ صرف لڑکا لڑکی کے درمیان جو وقتی اُبال ہوتا ہے وہ بات نہیں ہے بلکہ انسان کسی بھی کام کو خلوصِ نیّت سے کرنے لگے تو راستے کھُلتے چلے جاتے ہیں ۔
میں نے کل “چور چوری سے جائے” کے تحت ایک سکول کا ذکر کیا تھا ۔ یہ واقعہ میں نے کسی تیسرے شخص سے سُنا تھا ۔ اتفاق سے اس سکول کے متعلقہ ایک شخص سے گذشتہ شام ملاقات ہو گئی ۔ علیک سلیک اور حال احوال کے بعد میں نے پوچھا “وہ سکول کا کیا قصہ ہے ؟” جو اُنہوں نے بتایا اُس کا خلاصہ یہ ہے

“اس سکول کی مالکہ بینظیر بھٹو کی سہیلی تھیں ۔ اس کی درخواست پر بینظیر بھٹو نے ان کے سکول کیلئے متذکرہ گرین بیلٹ میں سے زمین تحفہ کے طور دلوا دی یعنی سرکاری قیمت پر ۔ زرداری نے نئے چیئرمین سی ڈی اے کو ٹارگٹ دیا ہے کہ دو ارب روپیہ مہیا کرے ۔ چنانچہ متذکرہ سکول سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمین کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لگا کر بقایا رقم ادا کریں جو کہ شاید ڈھائی کروڑ روپیہ فی کنال بنتی ہے ۔ اگر زمین 20 کنال ہے تو سکول والوں کو 50 کروڑ روپیہ ادا کرنا ہو گا “