Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

بہترین دوست

دو گہرے دوست اکٹھے صحرا نوردی پر نکلے ۔ وہ ایک صحرا میں سے گذر رہے تھے ۔ سفر کی سختیوں نے چڑچڑا پن پیدا کر دیا تھا ۔ کسی بات پر بحث ہو گئی اور تکرار ہونے پر ایک نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا ۔ تھپڑ کھانے والے نے ریت پر لکھا

“آج میرے دوست نے مجھے تھپڑ مارا”۔

چلتے چلتے وہ ایک نخلستان میں پہنچے ۔ دونوں مٹی سے اٹے ہوئے تھے ۔ اُنہوں نے پانی میں نہانے کا سوچا ۔ جس نے تھپڑ کھایا تھا وہ پہلے جھیل میں گھُسا اور دلدل میں دھنسنے لگا ۔ جس نے تھپڑ مارا تھا اُس نے آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑا اور اُسے دلدل سے نکلنے میں مدد کی ۔ دلدل سے باہر نکل کر وہ ایک پتھر پر کچھ کندہ کرنے لگ گیا ۔ دوسرا حیران ہو کر دیکھتا رہا ۔ جب وہ لکھ چکا تو اُس نے پوچھا کہ “جب میں نے تمہیں تھپڑ مارا تھا تو تم نے ایک منٹ میں ریت پر لکھ دیا تھا ۔ اب تم نے پتھر پر یہ لکھنے میں اتنی محنت کی ہے ۔ آج میرے دوست نے میری جان بچائی ؟”

تھپڑ کھانے اور دلدل میں پھنسنے والے نے جواب دیا “جب ہمیں کوئی تکلیف پہنچائے اُسے ریت پر لکھنا چاہیئے کہ جب ہوا چلے تو وہ مٹ جائے ۔ لیکن جب کوئی ہمارے ساتھ اچھائی کرے تو اسے پتھر پر کندہ کرنا چاہیئے کہ کبھی مِٹ نہ سکے”

Click on “Reality is Often Bitter” or write the following URL in browser and open http://iabhopal.wordpress.comto see that worship is only for one God as written in the Qur’aan and in the Bible

چھوٹی سی معذرت

بلاگرز و قارئین ۔ السلام علیکم
بروز ہفتہ 30 مئی 2009ٗء کو میں نے اپنے بااعتماد ساتھی 133 میگا ہرٹز رفتار کی ٹرانسفر بس ۔ 533 میگا ہرٹز رفتار اور 512 میگا بائیٹ رَیم والے پینٹیم تھری کو رُخصت دے دی ۔ اب اس کی جگہ 200 گیگا ہرٹز رفتار اور 2 گیگا ہرٹز رفتار کی 2 گیگا بائیٹ رَیم والے پینٹیم فور نے لے لی ہے ۔ کل یعنی منگل 2 جون سے میری اس کے ساتھ جنگ جاری ہے ۔ میں اُسے اپنی پسند پر ڈھالنا چاہ رہا ہوں اور وہ اپنی مرضی سے چلنا چاہ رہا ہے

میں 30 مئی سے 2 جون تک 4 دن بے کمپیوٹرا تھا ۔ اس دوران میں نے جو تبصرہ کسی کے بلاگ پر کیا یا اپنے بلاگ پر کسی قاری کے تبصرے کا جواب لکھا ان میں غلطیوں کا پایا جانا بہت حد تک ممکن ہے اور ابھی غلطیوں کا سلسلہ چلے گا کیونکہ سب سے اچھا اور برینڈڈ کومپیک کا کلیدی تختہ لایا ہوں جس کی سات چابیوں پر لکھا کچھ ہے اور لکھتی کچھ اور ہیں ۔ اسے آج تبدیل کرنے کی کوشش کروں گا
ان سب خامیوں کیلئے میں معذرت خواہ ہوں

Click on “Reality is Often Bitter” or write the following URL in browser and open http://iabhopal.wordpress.com

to see that worship is only for one God as written in the Qur’aan and in the Bible

منزِل اپنی دُور

میں بچپن ہی سے مووی فلمیں دیکھنا خاص پسند نہ کرتا تھا ۔ مجھ سے چھوٹا بھائی مووی فلمیں دیکھنے کا بہت رسیا تھا ۔ اُس نے کہا تو میں نے سوچا کہ نہ کی تو کہے گا پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا ۔ سو دیکھنے چلا گیا ۔ مووی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہا اُس کا ایک گانا بڑا ذو معنی تھا جو اپنے مُلک کے دورِ حاضر پر درست بیٹھتا ہے

منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور
لیکن اپنی جیون گاڑی ہے چلنے پر مجبور
گھائل من ہے سانس ہے باقی ۔ پِیا مِلن کی آس
آنکھوں میں برسات ہے پھر بھی بُجھی نہ من کی پیاس
پیار کی خاطر اس دنیا میں سب کچھ ہے منظور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

تیرا پیار ہے سچا بندے ۔ آنسو نہ چھلکا
گھُٹ گھُٹ کر مر جا تو پگلے ۔ بات نہ من پر لا
دھِیرے دھِیرے رِستے رہنا ۔ زخموں کا دستور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

ہماری نااہلیوں کی وجہ سے منزل دور ہی ہوتی جا رہی ہے

ملک بچانا ہے تو کچھ کیجئے

ہمارا مُلک اس وقت آفات میں گھِرا ہوا ہے ۔ ہر چند اس کی وجہ قسمت نہیں ہے بلکہ ہماری بحثیت قوم کوتاہیاں ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم کوتاہ اندیشی کی وجہ سے اختیار کردہ اپنی ذاتی خودغرضیاں چھوڑ کر باہمی مفاد کا سوچیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں ۔ باعِلم اور باعمل بزرگوں کی نصیحت ہے کہ سورت الشمس اور آیت کریمہ کی تلاوت کم از کم 70000 بار کی جائے ۔ ویسے جتنی زیادہ بار کی جائے اتنا ہی بہتر ہو گا ۔ میری تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اپنے مُلک کی خاطر بلکہ اپنے خاندان اور بالخصوص خود اپنی خاطر بھی ان کا وِرد کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی یہی ترغیب دیجئے ۔ اور ہر گھرانہ 2000 بار سورت الشمس اور 2000 بار آیت کریمہ پڑھے اس کے ساتھ ساتھ ہر بُرے کام سے بچنے کی پوری کوشش کیجئے

سُورة ۔ 91 ۔ الشَّمْس
وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا 0 وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا 0 وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا 0 وَالسَّمَاء وَمَا بَنَاهَا 0 وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا 0 وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا 0 فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا 0 قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا 0 وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا 0 كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا 0 إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا 0 فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا 0 فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا 0 وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا 0

ترجمہ
سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی 0 اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے 0 اور دن کی جب اُسے چمکا دے 0 اور رات کی جب اُسے چھپا لے 0 اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا 0 اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا 0 اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا 0 پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی 0 کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا 0 اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا 0 ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا 0 جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا 0 تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو 0 مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا 0 اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں 0

سُورة ۔ 21 ۔ آیت ۔ 87 کا جزو ۔ المعروف ۔ آیت کریمہ
لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

عاشق کا انتقام

محبت بے عقل نہیں ہوتی جبکہ عشق اندھا ہوتا ہے ۔ محبت کرنے والا محبوب کی خوشنودی چاہتا ہے جبکہ معشوق کی بے رُخی پر عاشق معشوق کو قتل کرنے پر تُل جاتا ہے ۔ بعض اوقات عاشق کا یہ زہر کسی اور کیلئے تریاق ثابت ہوتا ہے ۔ تین دہائیوں سے زائد قبل کراچی یونیورسٹی میں ایم اے انگلش لٹریچر کی ایک طالبہ کو ایک لڑکے رفیق مُنشی سے عشق ہو گیا ۔ یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد وہ آپس میں ملتے رہے ۔ شادی کے وعدے وعید بھی ہوئے ۔ وہ کراچی کے ایک کالج کی لیکچرر تعینات ہو گئی اور رفیق مُنشی کینُوپ میں ملازم ہو گیا ۔ ایک دن رفیق مُنشی اچانک غائب ہو گیا

چار سال بعد رفیق مُنشی پھر کراچی میں نمودار ہوا ۔ ماضی کے برعکس اب وہ مالدار تھا اور ایک خوبصورت امریکن لڑکی اس کی دوست بن چکی تھی لیکن وہ اس کے پاس آتا رہا ۔ گو اُس کے دل میں رفیق مُنشی کی دوسری دوست کھٹکتی تھی مگر عشق چلتا رہا اور انتقام کی آگ بھی سُلگتی رہی ۔ ایک دن رفیق مُنشی دفتر جاتے ہوئے اپنی الماری بند کرنا بھول گیا ۔ اُس نے دیکھا کہ اس الماری میں بہت سے ڈالر اور کافی کاغذات پڑے ہیں ۔ ان کاغذات میں بہت اہم مُلکی راز تھے جنہیں وہ افشاء کرنے سے ڈرتی تھی مگر وہ اُس کے ذہن پر سوار ہوگئے ۔ وہ نفسیاتی مرض کا شکار ہو گئی ۔ اپنے علاج کیلئے وہ نفسیات کی ماہر ایک ڈاکٹر کے پاس گئی لیکن اسکے سامنے کچھ اُگلنے کو تیار نہ تھی

اُن دنوں لیفٹنٹ کرنل امتیاز آئی ایس آئی سندھ کا سربراہ تھا ۔ بات اُس تک پہنچی ۔ اُس نے کوشش کی اور اللہ کی نُصرت شاملِ حال ہوئی اور پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کی بہت بڑی سازش قبل از وقت ناکام ہو گئی ۔ لیفٹنٹ کرنل امتیاز کو تمغہ بصالت دیا گیا ۔ رفیق مُنشی امریکی خُفیہ ایجنسی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا ۔ امریکی خُفیہ ایجنسی نے دو خوبصورت لڑکیوں سمیت پانچ امریکیوں کو پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنے کا کام سونپا تھا ۔ ان دو لڑکیوں میں سے ایک رفیق منشی کی معشوقہ بنی ہوئی تھی ۔ یہ امریکی ایجنٹ پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کر رہے تھے اور پاکستان کی مختلف نیوکلیئر انسٹا لیشنز [Nuclear installation] کے رفیق مُنشی سمیت 12 ملازمین کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے تھے ۔ آئی ایس آئی کے کاؤنٹر سیبوٹاج [counter-sabotage] کے نتیجہ میں پانچوں امریکی اور 12پاکستانی گرفتار کر لئے گئے ۔ امریکیوں کو مُلک سے نکال دیا گیا ۔ صدر ضیاء الحق نے ٹیلیفون کر کے امریکہ کے صدر سے احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں امریکہ نے آئیندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر وعدہ لے لیا کہ یہ خبر ذرائع ابلاغ کو نہیں دی جائے گی

رفیق مُنشی کو پھانسی اور باقی پاکستانیوں کو عمر قید کی سزا ہوئی ۔ رفیق مُنشی کا تعلق سندھ کے ایک بڑے سیاستدان سے تھا ۔ اُس سیاستدان نے ضیاء الحق پر دباؤ ڈال کر اور ضیاء الحق کی حکومت کی سیاسی حمائت کا وعدہ کر کے رفیق مُنشی کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کروا لی

متذکرہ بالا لیفٹنٹ کرنل امتیاز ریٹائرڈ بریگیڈیئر امتیاز ہی ہے جو بعد میں آئی بی کا سربراہ بھی رہا اور جسے بینظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی قید میں ڈال دیا تھا اور تین سال کی قید کاٹ کر عدالت کے حُکم پر رہا ہوا تھا ۔ پھر پرویز مشرف نے بھی اسے قید میں ڈال دیا تھا اور ہائی کورٹ کے حُکم سے پانچ سال بعد رہا ہوا تھا

یہ خلاصہ ہے ۔ تفصیل انگریزی میں ہے جو یہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہے

ایک غیرمرئی طاقت ؟ ؟ ؟

پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی کے بعد چندگھنٹوں اور بعض اوقات آدھ گھنٹہ کے اندر رحمان ملک یا اُس کے کسی ترجمان کی طرف سے بیت اللہ محسود کے اس میں ملوّث ہونے کے اقرار کا اعلان ہو جاتا ہے اور بنیاد طالبان کی دہشتگردی قرار دی جاتی ہے ۔ لاہور میں لبرٹی چوک حملہ کی تحقیقات کے مطابق پنجاب حکومت کا عندیہ تھا کہ اس میں بھارت کی خُفیہ ایجنسی را کے ملوّث ہونے کے شواہد ملے ہیں ۔ اس بیان کے ایک دن بعد رحمان ملک نے کہا کہ وہ پنجاب کے وزیر کا ذاتی بیان ہے اور تحقیقات کے مطابق یہ حملہ بیت اللہ محسود نے کرایا ہے ۔ کل لاہور میں شاہراہ فاطمہ جناح پر ہونے والے دہشتگرد حملہ کے چند گھنٹے کے اندر وفاقی حکومت کی طرف سے بیان آیا کہ اس حملے کی ذمہ داری بیت اللہ محسود نے قبول کر لی ہے

مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ بیت اللہ محسود ایک بہت بڑی غیرمرئی طاقت ہے جو جب چاہے جہاں چاہے جو چاہے کر سکتی ہے ۔ اگر بیت اللہ محسود انسان ہے تو کیا دنیا کی کسی بہت بڑی طاقت کی سرپرستی اور منصوبہ بندی کے بغیر ایسا ممکن ہو سکتا ہے ؟

مزید ۔ کل سُنا تھا کہ حکومت مطلوب دہشتگردوں پر انعام رکھ رہی ہے ۔ آج کے اخبارات میں 21 ناموں کا اشتہار شائع ہوا ہے ۔ ان میں فضل اللہ اور مُسلم خان ہیں مگر بیت اللہ محسود نہیں ہے ۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ انعام صوبہ سرحد کی حکومت نے رکھے ہیں ۔ تو کیا وفاقی حکومت کے وڈیرے صرف غریب عوام سے نچوڑی ہوئی دولت کو غیرملکی سیر و سیاحت ۔ موج میلا ۔ 500 ڈالر فی گھنٹہ پر لیموسِین لینے اور بھارتی رقاصاؤں پر ایک نشست میں 12000 ڈالر لُٹانے کیلئے ہیں ؟ بحرحال صورتِ حال اب زیادہ مشکوک ہو گئی ہے ۔ اس سے میری آج صبح کی تحریر اہم ہوتی نظر آتی ہے ۔ میں نے اس میں جن بڑوں کی بات کی تھی وہ میرے جیسے بے اختیار ۔ کم مایہ اور کم عِلم لوگ نہیں ہیں

رات گئے کی ایک خبر جو آج کچھ آن لائین اخبارات کی زینت بھی بن گئی ہے نے میرے شُبہات کو واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں سب کچھ سی آئی اے اور اس کی ایماء پر اور معاونت سے بھارت کی ” را ” کر رہی ہے جس کے دو بڑے مقاصد ہیں ۔ ایک ۔ پاکستان کی بے مثال فوج کو اپنوں سے اُلجھا کر کمزور اور اپنوں میں بے اعتماد کیا جائے ۔ دو ۔ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے اسے مکمل کٹھ پُتلی بنایا جائے ۔ ان دو عوامل کے پیچھے انتہائی رذیل مقصد ہے ۔ میرے شُبہات کے پسِ منظر میں پچھلے سات سال کی خاص خبریں ہیں جو اس طرح شروع ہوتی تھیں ” ۔ ۔ ۔ ۔ ٹی وی کو ایک وڈیو موصول ہوئی ہے جس کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے کہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” یا ” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویب سائیٹ جہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے احکامات یا بیانات شائع کئے جاتے ہیں پر لکھا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”

ملاحظہ ہو ایک ویب سائیٹ پر رات گئے ترکی زبان میں شائع ہونے والی ایک خبر

Updated at 0545 PST on May 28, 2009
دبئی. . . .. .تحریکِ طالبان پنجاب نامی گروپ نے لاہور خودکش حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ترکی زبان میں کیا جانے والا یہ دعویٰ ترکش جہادی ویب سائٹس کے ذریعے سامنے آیاہے۔ویب سائیٹس کی نگرانی کرنے والے امریکی گروپ کے مطابق، تحریکِ طالبان پنجاب کا کہنا ہے کہ لاہور میں برائی کی جڑ پر کیا گیا حملہ سوات کے مجاہدین کے لئے ایک ادنیٰ سا تحفہ ہے۔انہوں نے پاکستانی مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ جہادیوں کے حملوں سے بچنے کے لئے ان علاقوں سے دور رہیں ۔جہاں دشمن انکی موجودگی کا فائدہ اٹھا رہا ہے

میں اور میرے تمام عزیز و اقارب دعا گو ہیں کہ اللہ دُشمنوں کے ناپاک ارادوں سے ہمارے پیارے وطن کو محفوظ رکھے اور ہمارے حُکمرانوں کو سمجھ عطا فرمائے کہ وہ اپنی عیاشیاں چھوڑیں اور مُلک دُشمن سازشوں میں شریک بنے رہنے سے انکار کر کے وطن اور قوم کیلئے کام کرنا شروع کریں ۔ آمین ۔ ہم صرف دعا ہی نہیں اپنے پیارے مُلک کیلئے جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے کر رہے ہیں اور اِن شاء اللہ کرتے رہیں گے

میری تمام قارئین سے بھی استدعا ہے کہ وہ خود بھی اپنے چھوٹے چھوٹے باہمی جھگڑے چھوڑ کر دُعا اور دوا دونوں کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کی ترغیب دیں

کون کِس کا ؟

ایک بڑوں کی محفل میں حامد میر کی تحریر ” آستین کے سانپ” پر تبصرہ ہو رہا تھا تو بات یہاں پہنچی کہ کون کس کا آدمی ہے ؟ خلاصہ یہ ہے
صوفی محمد جماعتِ اسلامی میں تھا لیکن کچھ سال قبل جب اُس نے پہلی بار آئین کے خلاف بات کی تھی تو اُسے جماعت اسلامی سے خارج کر دیا گیا تھا
بیت اللہ محسود ۔ “سی آئی اے” اور ” را ” کا
فضل اللہ ۔ “سی آئی اے” کا
رحمن ملک ۔ “سی آئی اے” اور ” ایم آئی 6 ” کا
الطاف حسین ۔ ” ایم آئی 6 ” اور ” را ” کا
میں نے پوچھا ” اور زرداری ؟”
جواب دیا گیا ” آپ خود سمجھدار ہیں “