Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

غیر معمولی دن

آج کا دن غیر معمولی ہے کیونکہ

یہ دن ہماری زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا
اور نہ ہی یہ دن پھر کبھی آئے گا
سو يہی دن ہے ہمارے پاس
ہمارے لئے بہتر يہی ہے کہ اس دن کو بہترین طریقہ سے گذاریں
نہ کسی کی بد دعا لیں نہ کسی کی خفگی کا سامنا کریں
محنت سے اپنا کام کریں اور دوسروں کو اپنا کام کرنے دیں

ہمارے بے بس حکمران

نمائندہ جنگ کو خصوصی ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ، اطلاعات کے مطابق بلیک واٹر کراچی، حیدرآباد لاہور، ملتان جھنگ، سرگودھا، فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر قتل عام کا پروگرام رکھتی ہے اوراس مقصدکیلئے بلیک واٹر کے ہیڈ کواٹر نے 12 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کردیاہے،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عید کے دنوں میں بلیک واٹر کے ارکان نے جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے بعض شہروں جن میں کبیر والا باگڑ سرگانہ چھ کسی، جہانیاں، سمہ سٹہ، دینا پور جنگل منڈیالہ، بہاول پور، حمد پور، لودھراں، جام پور، مکیسی سیفن، خانیوال، ملتان، راجن پور، بدین، سکرنڈ، باندی، رانی پور، تلہار، حیدرآباد اور کوٹری کے بہت ہی خفیہ انداز میں دورے کئے ہیں، کہا جارہا ہے کہ جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے ان علاقوں میں بلیک واٹر کے کارکنوں کو مقامی اور با اثر افراد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے لسانی گروپوں کے ارکان کی اعانت حاصل رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں بلیک واٹر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے اہم شخصیات بھی خوفزدہ ہیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسی کے نام پر قائم کیا گیا یہ امریکی ادارہ کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے سکھر تک خون ریزی کرانا چاہتا ہے تاکہ امریکی حکمرانوں کیلئے پاکستان پر گرفت کرنے میں مزید آسانیاں ہوں۔

عید الفطر مبارک


کُلُ عام انتم بخیر
سب قارئین اور ان کے اہلِ خانہ کو عید الفطر کی خوشیاں مبارک

آیئے ہم سب مل کر مکمل خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم کے حضور عاجزی سے اپنی دانستہ اور نادانستہ غلطیوں کی معافی مانگیں اور استدعا کریں کہ
مالک و خالق و قادر و کریم رمضان المبارک میں ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرمائے
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے
ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے
اور اسے صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین

افزائش کا اصول

جب تک گھوڑے کو پابندیوں کا عادی نہ بنایا جائے وہ ناکارہ ہوتا ہے
گیس یا بھاپ اس وقت تک انجن چلانے کے قابل نہیں ہوتی جب تک اسے دبایا نہ جائے
پانی سے بجلی پیدا نہیں کی جاسکتی جب تک اسے سرنگوں میں سے گذرنے پر مجبور نہ کیا جائے
زندگی اسی وقت سُدھر سکتی ہے جب اسے پابند ۔ مرکوز اور اچھے نظام کے تابع کیا جائے

تربیت

خاور صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تعلیم و تربیت کی بات کرتے ہوئے لکھا کہ تعلیم کے فروخت مراکز تو کھُل چُکے ہیں اور والدین اپنی اولاد کیلئے تعلیم خرید رہے ہیں مگر تربیت کہاں سے آئے کہ تربیت کے فروخت مراکز ابھی نہیں کھُلے ۔ اس پر مجھے یاد آیا وہ وقت جسے عصرِ حاضر کے جدید تعلیم یافتہ لوگ شاید دورِ جاہلیت کہتے ہوں کہ روشن خیالی نام کی صفت اُس زمانے میں ایجاد نہ ہوئی تھی

ہر سکول و کالج میں خواہ وہ راولپنڈی میں تھا یا لاہور میں ۔ ملتان میں تھا یا اٹک میں روزانہ سکول یا کالج کی پڑھائی کا وقت شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے میدان میں جسمانی تربیت [P.T=Physical training] ہوتی تھی ۔ جس طالب علم کی جسمانی تربیت کی حاضریاں 70 فیصد سے کم ہو ں وہ سالانہ امتحان نہیں دے سکتا تھا ۔ اگر وہ روزانہ کی جسمانی تربیت سے بچنا چاہتا تو صرف ایک طریقہ تھا کہ روزانہ عصر کے بعد ایک گھنٹہ کیلئے ہاکی یا فٹ بال کھیلے اور اپنا نام متعلقہ ٹیم میں درج کرائے

ہر سکول یا کالج میں ہفتہ میں ایک بار اخلاقی تربیت کا سبق بھی ہوا کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی گاہے بگاہے اساتذہ موقع پا کر اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتے رہتے تھے

پھر ایک دور آيا [عوامی دور] جس میں سب کچھ عوامی قرار دیا گیا مگر ہوتا وہ شاہی گیا ۔ تمام سکول و کالج قومیا لئے گئے اور وہاں پر اپنے من پسند لوگ تعینات کئے گئے ۔ مالدار لوگوں کے بچوں کی درسگاہیں الگ اور عام لوگوں کے بچوں کی الگ ہونا شروع ہوئیں ۔ پيسے والوں کے بچوں نے کلرکوں کچھ دے دلا کر اپنی حاضریاں لگوانی شروع کر دیں ۔ جسمانی تربیت صرف غریبوں کے بچوں کا مقدر بن کے رہ گئی ۔ ايک طرف بڑے لوگوں کے بچوں کیلئے انگریزی ناموں والے سکول کھلنے لگے جن میں میدان تھا ہی نہیں کہ جسمانی تربیت ہوتی ۔ کچھ میرے جیسے لوگوں نے شور مچایا تو جسمانی تربیت کو نصاب سے ہی باہر کر دیا گیا

اخلاقی تربیت ایسے غیرمحسوس طریقہ سے غائب کی گئی کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا

کیا مذاق صرف مسلمانوں کا اُڑانا جائز ہے ؟

نبیل نقوی صاحب لکھتے ہیں

یہ بات کافی اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان میں مسلمان ایمان کی روشنی سے سرشار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مذہبی جوش و جذبے کا تحت دوسروں کو جلا کر راکھ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی اس بارے میں محض تردید کافی نہیں ہو گی بلکہ انہیں اپنے ایمان کی باقاعدہ تجدید کرنی پڑے گی۔ ان حضرت مولانا نے ایمان کی تجدید کا پروسیجر نہیں بتایا کہ آخر ایمان کی تجدید کیسے کی جاتی ہے۔ شاید ان ملاؤں کو نذرانے سمیت حلوے کی دیگ پکوا کر بھیجنی پڑتی ہوگی

ایسی دیوانگی کو ایمان کی روشنی لکھنا تمام مسلمانوں کا ہی نہیں دین اسلام کا بھی مذاق اُرانے کے مترادف ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔ اگر مرتد المعروف مرزائیوں یا اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کچھ لکھا جائے تو طوفان برپا ہو جاتا ہے ۔ کیا مسلمانی کا يہی شیوہ ہے ؟

تجدیدِ دین کا معروف طریقہ جو بہت سادہ ہے کُتب میں موجود ہے ۔ ہر وقت دوسروں پر طنز کرنا بالخصوص جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں کیا مسلمان ہونے کی نشانی ہے ؟

قباحتیں

کچھ ایسی قباحتیں ہیں جو شاید غیرمحسوس طور پر ہماری خصلت بنتی جا رہی ہیں ۔ اچھی بات ہے کہ کم از کم رمضان مبارک میں مسجدوں میں رونق زیادہ ہوتی ہے لیکن جتنا نظم و ضبط ہمارے دین کا خاصہ ہے اتنا ہی کم ہم لوگ اس کی طرف توجہ دیتے ہیں

کسی دعوت پر جانا ہو تو ہم سج دھج کر اچھے سے اچھے کپڑے پہن کر جاتے ہیں ۔ کائنات کے مالک کے حضور پیش ہونے کیلئے کچھ حضرات نے ایسے کپڑے پہن رکھے ہوتے ہیں جو پہن کر وہ شاید کسی اور جگہ جانا پسند نہ کریں ۔ پھر آجکل کے فیشن کے مطابق تصویر والی بنیان جسے آجکل شرٹ کہا جاتا ہے پہن کر آ جاتے ہیں جسے پہننا ہی غلط ہے کُجا کہ مسجد میں پہن کر جائیں

کچھ حضرات کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا شوق ہے جس کے باعث بعد میں آنے والوں کو دقت ہوتی ہے ۔ جماعت کھڑے ہونے پر ان حضرات کو اگلی صفیں پُر کرنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے

کچھ مساجد ایسی ہیں جہاں لاؤڈسپیکر پر اذان سے قبل کچھ پڑھا جاتا ہے ۔ بالخصوص رمضان میں مغرب کی اذان سے قبل اگر کچھ پڑھا جائے اور کوئی اذان سمجھ کر روزہ کھول لے تو اس روزہ ٹوٹنے کا گناہ کس کے سر ہو گا ؟

رکوع یا سجدہ میں جاتے ہوئے کوہنیاں پھیلانا نامعلوم کونسی کتاب میں لکھا ہے مگر جب کسی کے پیٹ یا چھاتی یا منہ پر کُہنی لگتی ہے تو اس فعل کو کیا کہا جائے گا ؟