Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

سچائی ۔ تلخ ہوتی ہے اور خوفناک بھی

پرویز مشرف دور میں پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ 11ستمبر 2001ء کے بعد کئی اہم فیصلے کورکمانڈروں کو اعتماد میں لئے بغیر کئے گئے۔ پرویز مشرف نے پاکستان کے فوجی اڈے امریکہ کو دینے اور ڈرون حملوں کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی خود ہی کرلیا تھا ۔ شاہد عزیز کہتے ہیں کہ بطور چیف آف اسٹاف جیکب آباد اور پسنی ایئر بیس امریکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں وہ بالکل بے خبر تھے

یہ دونوں اڈے بدستور امریکہ کے پاس ہیں

ذرا سوچئے کہ ان دونوں اڈوں پر اترنے والے ہوائی جہازوں کے مسافروں کو کسی ویزے کی ضرورت نہیں
وہ ایئرپورٹ سے کالے شیشوں والی گاڑیوں میں بیٹھ کر کہیں بھی جاسکتے ہیں اور ہماری فوج یا پولیس ان کی کسی گاڑی کو روک کر ان سے ویزا طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی
پرویز مشرف دور کے یہی وہ فیصلے ہیں جن کے باعث آج پاکستان دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے

تفصیل یہاں کلِک کر کے پڑھیئے

خبر ہو یا افواہ ؟

آجکل ذرائع ابلاغ کی چاندی ہے ۔ ایک خبر اِدھر سے اُٹھائی دو افواہیں اُدھر سے مل گئیں اور چھاپ دیا مضمون ۔ عوام تو سنسنی خیز خبروں کے شوقین بن ہی چکے ہیں ۔ دھڑا دھڑ کمائی ہو رہی ہے ۔ قوم و ملک تباہ ہوتے ہیں اس کا کسی کو ہوش نہیں ۔ خبر ہو یا افواہ پہلے یہ سوچنا چاہیئے کہ اسے آگے بڑھانے سے کوئی اجتماعی فائدہ ہو گا ؟ اگر فائدہ نہیں ہو گا تو پھر آگے پہنچانے میں نقصان کا خدشہ بہرحال ہوتا ہی ہے

دُشمن کی مربوط سازشوں کی وجہ سے اس وقت ہمارا ملک ایک بھیانک دور سے گذر رہا ہے ۔ نہ صرف ہمارے حکمران اس کے ذمہ دار ہیں بلکہ ہم من حیث القوم بھی ذمہ دار ہیں ۔ ہماری قوم کی اکثریت جلد سے جلد مالدار بننے کی لالچ میں آ کر باہمی اخوت کھو بیٹھی اور بالآخر بالواسطہ یا بلاواسطہ دُشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگی ۔ سچ کو جھوٹ سے ملا کر ہم اپنی قوم یا ملک کی کوئی خدمت نہيں کرتے بلکہ جان بوجھ کر نہیں تو انجانے میں دُشمن کا کام آسان اور ملکی اداروں کا کام مشکل بناتے ہیں اور عوام جو دہشتگردی کا پہلے ہی سے شکار ہیں اُن کی بے کلی میں اضافہ کرتے ہیں

یہ افواہیں پھیلا کر دشمن کا کام آسان کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ محنت اور جانفشانی سے حقائق کی تلاش کرنا ہر محبِ وطن پاکستانی پر فرض ہے ۔ بالخصوص ذرائع ابلاغ کا یہ فرض ہے کہ کوئی خبر اچھی طرح چھان بین کئے بغیر نہ چھاپیں اور غلط اطلاعات لانے والے نامہ نگاروں کا محاسبہ کریں ۔ اس کے ساتھ ہی ہر محبِ وطن اپنے کردار کا محاسبہ کرے اور کوئی خبر [افواہ] سن کر آگے نہ بڑھائے جب تک اُسے سو فیصد یقین نہ ہو جائے کہ یہ حقیقت ہے اور اسے دوسرے تک نہ پہنچانے سے اجتماعی نقصان کا خدشہ ہے

میری تمام خواتین اور حضرات سے گذراش ہے کہ میرے لئے نہیں ۔ قوم کیلئے نہیں ۔ دین کیلئے بھی نہیں ۔ صرف اور صرف اپنے اور اپنے بچوں کی خاطر ذاتیات ۔ جعلی دل لگیاں اور احساسِ برتری کی کوششیں چھوڑ کر خِرد کو کام میں لائیں اور بغیر سو فیصد ثبوت کے کوئی بات سُن کر آگے نہ بڑھائیں بلکہ بات سچی بھی ہو تو پہلے سوچیں کہ اسے آگے بڑھانے سے کوئی اجتماعی فائدہ ہے ؟ اگر نہیں ہے تو فقط یہ جتانے کی خاطر کہ میں یہ جانتا یا جانتی ہوں بات آگے نہ بڑھائیں ۔ اپنے لکھنے کا شوق تاریخ بیان کر کے یا کسی اور علم کی افزائش سے پورا کریں یا پھر صاف نظر آنے والے سچے واقعات رقم کریں

ایک اور عادت جو عام ہو چکی ہے کہ جب تک اپنے آپ پر نہ بن جائے ہر بات سے لاپرواہی برتی جاتی ہے ۔ ہم سب کا فرض ہے کہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑائے بغیر گرد و پیش پر نظر رکھیں اور اگر کوئی چیز غیر معمولی نظر آئے تو فوری طور پر اپنے شہر کے ریسکیو 15 یا 115 یا جو بھی متعلقہ ادارہ ہو اُسے تحمل کے ساتھ مطلع کر دیں

وما علینا الالبلاغ

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کڑوی کسَیلی

سُنا ہے کہ صدر کا لباس پاکستان کے خزانے سے خریدا جاتا ہے
سُنا ہے کہ اسی لئے صدر نے 106 سوٹ اپنے لئے غیرممالک سے درآمد کئے ہیں
یہ تو سب جانتے ہیں کہ خزانے میں دولت پاکستان کے عوام سے ٹیکس وصول کر کے جمع کی جاتی ہے
سُنا ہے کہ صدر کے غیرملکی حسابات میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ دولت ہے اور غیرمنقولہ جائیداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے
مگر پھر بھی قوم کا ہمدرد صدر ایک سال میں 106 سوٹ درآمد کرتا ہے جبکہ آدھی قوم کو سال میں ایک نیا مقامی سوٹ بھی میسّر نہیں

سُنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکا کے کئی اڈے ہیں جن میں سے دو ہوائی اڈے جیکب آباد اور پسنی میں ہیں
سُنا ہے کہ ان اڈوں میں کوئی پاکستانی داخل نہیں ہو سکتا خواہ وہ کتنے ہی اعلٰی عہدے پر فائز ہو
وزیرِ دفاع کہتے ہیں کہ امریکا کا اس سلسلہ میں پاکستان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور یہ اڈے پچھلی حکومت نے دیئے تھے
یہ حقیقت تو منظرِ عام پر آ ہی چکی ہے کہ امریکیوں کی گاڑیوں کے پاکستان کے قانون کے خلاف شیشے کالے ہوتے ہیں اور ان کی چیکنگ کی کسی کو اجازت نہیں
یہ بھی اطلاعِ عام ہے کہ امريکی سفارتخانہ کی مقرر کردہ ایک سکیورٹی کمپنی کے قبضہ سے چوکھا ناجائز اسلحہ بھی براآمد ہوا

سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت یہ اڈے ختم کیوں نہیں کرتی ؟
اور بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کیا حکومتِ پاکستان کی دسترس سے باہر انہی خُفیہ اڈوں میں ہو رہی ہے ؟

مسیحا کے بھیس میں شقی القلب سوداگر

Imanae
لاہور کے ایک بڑے نام والے ہسپتال [Doctor’s Hospital] میں ایک ننھے فرشتے 3 سالہ بچی کو جسے ہاتھ پر گرم پانی پڑ جانے کی وجہ سے ہسپتال لایا گیا تھا کس طرح ڈاکٹروں نے موت کی نیند سُلا دیا ۔ یہاں کلک کر کے پڑھیئے پورا واقعہ ۔ پنجاب حکومت اخبار میں خبر پڑھنے کے بعد قانونی کاروائی شروع کر چکی ہے ۔ ہسپتال کے ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں

اگر کاریں کمپیوٹر ہوتیں ۔ ۔ ۔

چند سال قبل ایک کمپیوٹر ایکسپو “کامڈیکس” میں بِل گیٹس نے کمپیوٹر کی صنعت کا کاروں کی صنعت سے مقابلہ کرتے ہوئے کہا “اگر جی ایم موٹرز ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ کمپیوٹر کی صنعت کی طرح آگے بڑھتی رہتی تو آج ہم 25 ڈالر کی کار چلا رہے ہوتے جو 1000 میل فی گیلن چلتی”

بِل گیٹس کے اس جملے کا جی ایم موٹرز نے کیا جواب دیا یہاں کلِک کر کے پڑھیئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ وقت

میں کچھ عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ اس عنوان کے تحت ساری زندگی میرے مشاہدہ میں آنے والی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں لکھوں جو قابل غور و عمل ہوتی ہیں لیکن ان پر عام طور پر غور نہیں کیا جاتا یا انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ وجہ یہ ہے کہ بڑی باتوں پر تو عام طور پر آدمی نظر رکھتا ہے لیکن کسی کو تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی ناکامی ہوتی ہے وہ انہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ زمانہ کے ساتھ چلنے والے کئی لطیفے ۔ محاورے یا قول بھی آدمی کی رہنمائی کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح کسی چرند ۔ پرند یا زمین پر رینگنے والے کیڑے کی کوئی حرکت بھی بڑی سبق آموز ہو سکتی ہے

ایک بادشاہ نے اپنی انگوٹھی اُتار کر اپنے وزیر کو دی اور کہا “اس پر ایسا فقرہ لکھوا دو کہ اگر میں بہت خوش ہوں تو دیکھ کر غمگین ہو جاؤں اور غمگین ہوں تو دیکھ کر خوش ہو جاؤں”

وزیر نے لکھوا دیا ” وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا”

ایک لطیفہ

یہ لطیفہ آجکل موبائل فونوں پر گردش کر رہا ہے
ایک گرم مزاج آدمی چینی خریدنے کے لئے قطار میں لگا تھا ۔ قطار بہت لمبی تھی ۔ ایک گھنٹہ کھڑے رہنے کے بعد اُسے غُصہ آ گیا ۔ اُس نے پستول نکالا اور کہتا ہوا چلا گیا “یہ صدر زرداری نے کیا تماشہ بنایا ہے ۔ میں آج اُسے مار ڈالوں گا”۔ بعد میں واپس آ کر پھر قطار میں کھڑا ہو گیا ۔ ایک آدمی نے اسے پوچھا ” زرداری کو مار دیا ؟” بولا “نہیں ۔ وہاں اس سے بھی لمبی قطار لگی ہے”