Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

ناقابلِ فراموش اور دعا کی درخواست

وہ 4 اگست کو مصر کے شہر قاہرہ میں پیدا ہوئی ۔ اُس کے والد صاحب کے آباؤ اجداد جس علاقہ میں رہتے تھے وہ 6 سال قبل پاکستان بن چکا تھا ۔ اُن کے دل میں پاکستان کی محبت نے زور کيا اور وہ سب کچھ چھوڑ کر 1953ء ميں پاکستان آ گئے
وہ پاکستان کی کوئی زبان نہ بول سکتی تھی اور نہ سمجھ سکتی تھی
اُردو پڑھ لکھ نہ سکنے کی وجہ سے اسے چوتھی جماعت میں داخل کیا گیا
اس نے محنت کی اور چند ماہ میں تھوڑی بہت اردو بولنے لکھنے لگی ۔ وہ سب امتحانات ميں کامياب ہوتی چلی گئی اور 1964ء ميں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کی سند حاصل کر لی ۔ مگر اُردو بولتے ہوئے وہ ٹ ۔ چ ۔ ڈ ۔ ڑ ۔ چھ صحیح طرح نہیں بول سکتی تھی
وہ کم گو ۔ شرميلی اور صورت و سيرت کے حُسن سے آراستہ ہے

21 جون 2011ء کو شام 7 بجے اچانک اس کا خون کا دباؤ 186 ۔ 76 اور نبض 37 ہو گئی ۔ دل کی دھڑکن بہت تيز ہو گئی ۔ ہاتھ پاؤں سرد ہو گئے اور ٹھنڈے پسينے آنے لگے ۔ ايمرجنسی میں ايک رات ہسپتال گذاری ۔ طبيعت سنبھلنے پر واپس آ گئی ۔ چند دن بعد پھر ہسپتال کے سخت نگہداشت کے کمرے ميں 2 دن رہنا پڑا جہاں ہر قسم کے ٹيسٹ کئے گئے ۔ علاج شروع ہے مگر ابھی تک حال تسلی بخش نہيں ہے ۔ علاج کی خاطر زندگی ميں پہلی بار اُسے روزے چھوڑنا پڑ رہے ہيں جس کا اُسے بہت دُکھ ہے

نيک دل خواتين و حضرات سے التماس ہے کہ اُس کی جلد مکمل شفا يابی کيلئے دعا کريں

46 سال قبل 14 اگست کو اُس کی منگنی ميرے ساتھ کر دی گئی اور ہمارا ملنا ممنوع قرار دے ديا گيا ۔ گو پہلے بھی ہم کوئی خاص ملتے نہ تھے مگر يہ پابندی مجھے محسوس ہوئی
ميں لڑکيوں کے ساتھ روکھا پيش آيا کرتا تھا اور گفتگو ميں بھی روکھا پن ہوتا تھا مگر منگنی کے بعد غير محسوس طور پر ميری عادت بدلنے لگی
10 نومبر 1967ء کو ہماری شادی ہوئی ۔ وہ میرے گھر آئی تو اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ میرے دل میں اس کے لئے قدر اور محبت جاگی اور بڑھتی چلی گئی ۔ محبت و اُلفت کا يہ انداز نہ افسانوں ميں ملتا ہے نہ ناولوں ميں ۔ ايک راحت بخش مٹھاس ۔ ايک اطمينان بخش احساس ۔ ہمدردی جو الفاظ ميں بيان نہ کی جاسکے
اُس نے سُرخی پاؤڈر کا استعمال [make-up] ہميشہ غير ضروری سمجھا
اس کے ہاتھ سے پکے کھانے پاکستانی ہی نہیں چین ۔ مصر ۔ اٹلی اور ترکی کےبھی بہت اچھے اور مزے دار ہوتے ہيں۔ گلاب جامن ۔ رس ملائی ۔ سموسے اور کچھ عربی ميٹھے بھی بہت عمدہ بناتی ہے
کبھی کسی سے ناراض نہيں ہوتی ۔ دوسرا زيادتی کرے تو اس کا اثر بھی” رات گئی بات گئی” کے مصداق ہوتا ہے
پتہ چلے کہ عزيز و اقارب ميں کوئی آپس ميں ناراض ہيں تو صُلح کرا ديتی ہے ۔ اس کام کی ماہر سمجھی جاتی ہے
اپنے ملازمين اور دوسرے مساکين سے اُس کا برتاؤ نہائت مُشفقانہ رہا ہے
کوئی مزدور ۔ پلمبر ۔ اليکٹريشن يا مالی جو بھی گھر پر کام کرنے آئے ۔ اُجرت کے ساتھ اُسے شربت يا چائے بسکٹ يا کيک کے ساتھ۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانا دينا اپنا فرض سمجھتی ہے ۔ پچھلے جمعہ ميں نے پلمبر کو کام کيلئے بُلايا تھا ۔ پہلے اُسے جامِ شيريں کا گلاس ديا ۔ پھر چائے کے ساتھ کچھ نہ تھا تو دودھ سويّاں اُسی وقت بنا کر ديں ۔ دوپہر کو کھانا اور جاتے وقت چائے پلا کر بھيجا

15 سال قبل اُس نے 12 ماہ پر محيط قرآن و سُنت کا زِيرک کورس کيا اور بچيوں اور خواتين کو قرآن شريف ناظرہ اور ترجمہ و تفسير کی تعليم شروع کی ۔ محلہ ميں لوگوں کی ذاتی ملازمائيں ۔ اُن کی بيٹياں اور اعلٰی تعليم يافتہ اور اعلٰی عہدوں پر فائز لوگوں کی بيوياں اور بيٹياں بھی قرآن شريف و ترجمہ پڑھنے آتی رہی ہيں
وہ میری ہر خوشی میں شامل رہی اور میرے غم میں میری ڈھارس بندھائی
ہمیشہ اس نے میرے آرام کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا ۔ جب ہم کراچی ميں رہائش پذير تھے تو 10 جنوری 2005ء کو ميرے شياٹيکا کے شديد درد ميں مبتلا ہونے کے دوران 3 ماہ اور پھر 28 ستمبر 2010ء کو حادثہ ميں ميرے زخمی ہونے سے لے کر ہپيٹائٹس سی ميں مبتلا ہونے اور بحالی صحت تک 8 ماہ ميری خوراک ۔ علاج ۔ آرام اور خوشی کا جس طرح خيال رکھا شايد ہی کوئی بيوی اپنے خاوند کا اس طور خيال رکھ سکتی ہو گی
وہ مجھ سے 2 دن کم 5 سال چھوٹی ہے
اُس کا نام والدين نے نوال رکھا جس کا مطلب ہے تحفہ ۔ عطيہ ۔ ھديہ ۔ اُس نے ميرے لئے اپنے نام کو سچ ثابت کيا ہے
[اُوپر والی تصوير شادی کے چند دن بعد کی ہے اور نيچے والی 28 ستمبر 2010ء کے حادثہ کے 20 دن بعد ميری پٹی کھُلنے کے بعد کی ۔ ساتھ ميرا بڑا بيٹا زکريا بيٹھا ہے]

رمضان کريم مبارک

سب مُسلم بزرگوں بہنوں بھائیوں بھتیجیوں بھتیجوں بھانجیوں بھانجوں پوتيوں پوتوں نواسيوں نواسوں کو اور جو اپنے آپ کو اِن میں شامل نہیں سمجھتے اُنہیں بھی رمضان کريم مبارک

اللہ الرحمٰن الرحيم آپ سب کو اور مجھے بھی اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے

روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185
اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے٣اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو
‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے فرمايا ہے کہ ماہ رمضان کی فضيلت سورت ۔ 97 ۔ القدر ميں بيان فرمائی ہے

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے
اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حُکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اُترتے ہیں
یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے

معمل میں عاملِ بے عمل

ایک دلچسپ واقعہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی ۔ 1984ء کاواقعہ ہے۔ میں غلام اسحاق خان صاحب، صاحبزادہ یعقوب خان ، ایچ یو بیگ صاحب اور جنرل عارف کے ساتھ پنسٹیک [PINSTECH] میں میٹنگ میں حصہ لینے گیا۔ میٹنگ کے بعد ہمیں نیو لیبز [New Labs] کا دورہ کرایا گیا وہاں ہاٹ لیب [Hot Lab] تھی جہاں تابکار اشیاء کا استعمال ہوتا تھا اور حفاظتی شیشے کے اندر ایسی اشیاء رکھی ہوئی تھیں اور باہر سے ایک مینوپلیٹر [Manipulator] کے ذریعے ان اشیاء کو ہلایا جا سکتا تھا ۔ یہ آلہ بس آپ پُتلی کے کھیل کی طرح سمجھ لیں جس میں ڈوریوں کی مدد سے پتلی کو نچایا جاتا ہے جبکہ اس آلہ میں دونوں ہاتھوں میں گرفت ہوتی ہے جن کی مدد سے شیشے کے پیچھے اندر کرین کی طرح اشیاء کو پکڑا جا سکتا ہے اور جائے مقررہ پر رکھا جا سکتا ہے ۔

غلام اسحاق خان صاحب نے اس محکمہ کے سربراہ سے کہا کہ وہ ذرا اس کو چلا کر دکھا دیں ۔ ان صاحب کا رنگ زرد ہو گیا اور کہا کہ وہ نہیں جانتے اور ٹیکنیشن جو یہ کام جانتا ہے اس کو آج آنے سے منع کر دیا تھا۔ غلام اسحاق خان صاحب ششدر رہ گئے اور مسکرا کر کہا کہ انہوں نے لاتعداد مرتبہ کہوٹہ میں ورکشاپوں کا دورہ کیا ہے وہاں تو محکمے کا سربراہ اپنے محکمے کے تمام آلات استعمال کر سکتا ہے۔ یہ میں نے پہلے دن سے ہی ہدایت کی تھی کہ محکمے کے سربراہ کا اپنے محکمے کے آلات سے پوری طرح واقف ہونا لازمی ہے۔تمام سائنسدانوں اور انجینئروں سے درخواست ہے اور نصیحت ہے کہ وہ اپنے محکمے میں استعمال ہونے والے آلات و ایکوپمینٹ سے پوری طرح آگاہی حاصل کریں اور اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کی نگاہ میں باوقار اور باعزت رہیں۔ آپ کی عزت جب ہی ہوتی ہے جب دوسروں کو علم ہو کہ آپ اپنے کام سے پوری طرح واقف ہیں اور ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں

قسمت اور قانون

آج سے 17 سال 4 ماہ قبل 23 مارچ 1994ء کا واقعہ ہے کہ ايک امريکی رونلڈ اَوپس نے دِل شِکنی سے مغلوب ہو کر خود کُشی کا فيصلہ کيا جس کا واضح اظہار اُس کے چھوڑے ہوئے خط ميں تھا ۔ اُس نے ايک 10 منزلہ عمارت کی چھت سے چھلانگ لگائی ۔ چھلانگ لگاتے ہوئے رونلڈ اَوپس نے غور نہ کيا کہ آٹھويں منزل سے نيچے عمارتی کام ہو رہا ہے اور ايک مضبوط جال لگايا گيا ہے کہ کوئی مزدور گر کر زخمی يا ہلاک نہ ہو

مزدوروں نے ديکھا کہ ايک آدمی اُوپر سے جال پر سر کے بل گرا ۔ وہ اُسے اُٹھا کر ہسپتال لے گئے جہاں اُسے مردہ بتايا گيا ۔ پوليس کے ڈاکٹر نے لاش کا معائنہ کرکے بتايا کہ اس کی موت سر ميں بندوق کی گولی لگنے سے ہوئی ہے

عمارت کی کھڑکيوں کا معائنہ کرنے پر پوليس نے ديکھا کہ نويں منزل پر ايک کھڑکی کا شيشہ گولی لگنے سے ٹوٹا ہوا ہے ۔ گولی چلنے والے کمرے ميں بوڑھے مياں بيوی رہتے تھے ۔ وقوعہ کے وقت وہ آپس ميں جھگڑ رہے تھے ۔ خاوند کے ہاتھ ميں بندوق تھی اور وہ بيوی کو مارنے کی دھمکی دے رہا تھا ۔ انہوں نے بتايا کہ يہ جھگڑا اُن کا آئے دن کا معمول ہے اور وہ اسی طرح اپنی بيوی کو دھمکی ديتا ہے اور بندوق کا گھوڑا بھی دبا ديتا ہے کيونکہ بندوق ميں کوئی کارتوس نہيں ہوتا ۔ مگر اس دن انہيں ٹھا کی آواز آئی جس پر وہ بھی حيران تھے

ہوا يہ تھا کہ بندوق سے درست نشانہ تو ليا نہیں گيا تھا اسلئے گولی اُس کی بيوی کو لگنے کی بجائے کھڑکی کا شيشہ توڑتی ہوئی رونلڈ اَوپس کے سر ميں پيوست ہو گئی ۔ اس طرح اس بوڑھے پر قتل کا مقدمہ بن گيا ۔ مقدمہ کے دوران مياں بيوی کا اٹل مؤقف تھا کہ اُنہوں نے کبھی بندوق ميں کارتوس نہيں ڈالے اور اُن کے عِلم ميں نہيں کہ بندوق ميں کارتوس کہاں سے آ گيا ۔ اس لئے رونلڈ اَوپس کی ہلاکت صرف ايک حادثہ ہے

قسمت کا چکر

پوليس نے تفتيش جاری رکھی ۔ اتفاق سے پوليس کو ايک ايسا آدمی ملا جس نے بتايا کہ اُس نے وقوعہ سے چند روز قبل بوڑھے جوڑے کے بيٹے کو بندوق ميں کاتوس ڈالتے ديکھا تھا ۔ اس بوڑھےجوڑے کا بيٹا رونلڈ اَوپس ہی تھا ۔ مزيد تفتيش سے معلوم ہوا کہ ماں نے اپنے بيٹے کی مالی امداد بند کر دی تھی ۔ بيٹا اپنے باپ کی عادت جانتا تھا کہ جب اُس کے ماں باپ جھگڑتے ہيں تو باپ خالی بندوق کی نالی اُس کی ماں کی طرف کر کے ہلاک کرنے کی اداکاری کرتا ہے ۔ وہ اپنی ماں سے بدزن تھا اور اسے ہلاک کرنے کيلئے اُس نے بندوق ميں کارتوس ڈال ديا کہ جب اُس کا باپ اگلی بار جھگڑے گا تو اس کی ماں ہلاک ہو جائے گی ۔ ليکن ايسا نہ ہوا

جب رونلڈ اَوپس نے خود کُشی کے لئے دسويں منزل سے چھلانگ لگائی تو اُسے معلوم نہ تھا کہ آٹھويں منزل پر مضبوط جال لگا ہے ۔ اگر وہ گولی سے ہلاک نہ ہوتا تو زندہ بچ جاتا ۔ دوسری صورت ميں اگر خودکشی کيلئے چھلانگ لگانے کے وقت رونلڈ اَوپس کے والدين کا جھگڑا نہ ہوتا يا نشانہ خطا نہ جاتا پھر بھی رونلڈ اَوپس زندہ رہتا

قانون

رونلڈ اَوپس نے اپنی والدہ کو قتل کرنے کی نيت سے بندوق ميں کارتوس ڈالا تھا ۔ اُس کی والدہ تو ہلاک نہ ہوئی وہ خود ہلاک ہو گيا ۔ قانون کے مطابق اگرچہ رونلڈ اَوپس نے اپنی ماں کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی مگر گولی ماں کی بجائے خود اُسے لگی اور وہ ہلاک ہو گيا ۔ چنانچہ اس کيس کو خود کُشی قرار ديا گيا

قومی حميت ابھی باقی ہے

خواجہ الطاف حسين حالی صاحب کے مندرجہ ذيل اشعار ميں نے بہت پہلے نقل کر کے مسؤدہ محفوظ کيا اور شائع کرنے کی فہرست ميں لگا ديا تھا ۔ ان کو شائع کرنے کی تاريخ آئی تو بلا وجہ خيال ہوا کہ ملتوی کيا جائے ۔ اس طرح دو بار ملتوی کيا اور بات مہينوں پر جا پڑی

پچھلے ہفتے ان کو شائع کرنے کی حتمی تاريخ 27 جولائی 2011ء مقرر کر دی ۔ سُبحان اللہ ۔ اللہ کا کرنا ديکھيئے کہ آج کا دن ان کيلئے ميرے خالق و مالک نے مُلک ميں وقوع پذير ہونے والے واقعات کے حوالے سے موزوں بنا ديا ہے ۔ سُبحان اللہ

نہیں قوم میں گرچہ کچھ جان باقی ۔ ۔۔ ۔ ۔ نہ اس میں وہ اسلام کی شان باقی
نہ وہ جاہ وحشمت کے سامان باقی ۔ ۔ ۔ پر اس حال میں بھی ہے اک آن باقی
بگڑنے کا گو ان کے وقت آگیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس بگڑنے میں بھی اک ادا ہے
بہت ہیں ابھی جن میں غیرت ہے باقی ۔ ۔ ۔ ۔ دلیری نہیں پر حمیت ہے باقی
فقیری میں بھی بوئے ثروت ہے باقی ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ تہی دست ہیں پر مروت ہے باقی
مٹے پر بھی پندار ہستی وہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکاں گرم ہے آگ گو بجھ گئی ہے

سمجھتے ہیں عزت کو دولت سے بہتر ۔ ۔ ۔ فقیری کو ذات کی شہرت سے بہتر
گلیمِ قناعت کو ثروت سے بہتر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ انہیں موت ہے بارِ منت سے بہتر
سر ان کا نہیں در بدر جھکنے والا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ خود پست ہیں پر نگاہیں ہیں بالا
مشابہ ہے قوم اس مریضِ جواں سے ۔ کیا ضعف نے جس کو مایوس جاں سے
نہ بستر سے حرکت نہ جبنش مکاں سے ۔ اجل کے ہیں آثار جس پر عیاں سے
نظر آتے ہیں سب مرض جس کے مزمن ۔ نہیں کوئی مُہلک مرض اس کو لیکن

بجا ہیں حواس اس کے اور ہوش قائم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طبعیت میں میل خور و نوش قائم
دماغ اور دل چشم اور گوش قائم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جونی کا پندار اور جوش قائم
کرے کوئی اس کی اگر غور کامل ۔ ۔ ۔ ۔ عجب کیا جو ہو جائے زندوں میں شامل
عیاں سب پہ احوال بیمار کا ہے ۔ کہ تیل اس میں جو کچھ تھا سب جل چکا ہے
موافق دوا ہے نہ کوئی غذا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہزالِ بدن ہے زوالِ قویٰ ہے
مگر ہے ابھی یہ دیا ٹمٹماتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بجھا جو کہ ہے یاں نظر سب کو آتا

اقتباس از مسدسِ حالی
مصنف ۔ خواجہ الطاف حسين حالی

بجلی کا بل زيادہ کيوں ؟

ہمارے موجودہ حکمران اتنے زيادہ عوامی اور حق پرست ہيں کہ ارد گرد وقوع پذير ہونے والے بھيانک مناظر سے عوام کی توجہ ہٹانے کيلئے گھر بيٹھے بٹھائے اُن پر بجلی کے بلوں کے ذريعہ اُنہيں مدہوش رکھتے ہيں تاکہ ان کی صحت پر ارد گرد کے ماحول کا بُرا اثر نہ ہو

اخبارات ميں چھپ رہا تھا مگر جب ہفتہ قبل بجلی کا بل ماہِ جون کا آيا تو يہی سوچتے رہے کہ ہم سے کوئی غلطی ہو گئی ہے کيونکہ حکمران تو غلطی کر نہيں سکتے ۔ يہ الگ بات ہے کہ اُنہيں نہ کوئی کرايہ دينا پڑتا ہے اور نہ گيس ۔ ٹيليفون يا بجلی کا بل اور نہ پٹرول کی قيمت ۔کھانے پينے سميت اُن کے سب اخراجات عوام کی جيبوں سے نکالے پيسوں سے ادا ہو جاتے ہيں ۔ 3 دن مدہوش رہنے کے بعد خيال آيا کہ وجہ پچھلے بِلوں ميں تلاش کی جائے

موازنہ ۔ حال اور ماضی
اطلاع ۔ مندرجہ ذيل قيمتيں بشمول ٹيکس اور سرچارج ہيں

بجلی کے يونٹ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی 2005ء ۔ ۔ ۔ جولائی 2008ء ۔ ۔ ۔ جولائی 2011ء
پہلے 100 يونٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 284.51 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 354.20 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 533.45 روپے
بعد کے 200 يونٹ ۔ ۔۔ 775.34 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 938.40 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 1612.10 روپے
بعد کے 400 يونٹ ۔ ۔۔ 2263.20 ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ 2838.00 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 5005.52 روپے
بعد کے 300 يونٹ ۔ ۔۔ 1697.40۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2128.50۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4684.74 روپے
بعد کے 100 يونٹ ۔ ۔۔ 680.40۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 709.50۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1561.58 روپے
1100يونٹ کی قيمت ۔ 5700.85۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4968.60۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13397.39 روپے

دوسرا گورکھدہندہ کہ بجلی کی يونٹيں يکدم اتنی زيادہ کيسے ہو گئيں ؟

يونٹوں کی تعداد اسلئے ڈيڑھ گُنا ہو گئی ہے کہ پوٹينشل ڈِفرينس جسے عام زبان ميں وولٹيج کہا جاتا ہے وہ پچھلے ايک ماہ ميں 180 سے 150 وولٹ تک رہی جبکہ 240 سے 220 وولٹ تک ہونا چاہيئے ۔ مطلب يہ ہوا کہ پاور فَيکٹر جو 0.9 ہونا چاہيئے بہت کم رہا ۔ جتنا پاور فيکٹر کم ہو گا ميٹر اتنا ہی تيز چلے گا ۔ سادہ الفاظ ميں اگر کسی نے حقيقت ميں 1000 يونٹ کی بجلی استعمال کی تو 180 سے 150 وولٹيج ہونے کی وجہ سے ميٹر ريڈنگ 1335 سے 1600 يونٹ ہو گی ۔ اس کُليئے کے تحت ہمارے جون 2011ء کے بل ميں جو ہميں ہفتہ قبل موصول ہوا 1535 يونٹ لکھے گئے ہيں ۔ اگر وولٹيج درست يعنی 240 سے 220 تک ہوتی تو ہمارے يونٹ 1000 کے قريب ہوتے

بجلی کم سپلائی کيوں ؟

کيپکو کے ايم ڈی نے بتايا ہے کہ بجلی پيدا کرنے کی صلاحيت طلب کو پوراکر سکتی ہے ۔ پيداوار ميں کمی کا سبب واجبات نہ ادا کرنا ہے جو کہ کھربوں روپے ہيں جس کے نتيجے ميں کيپکو بجلی پيدا کرنے والے اداروں کو ادائيگی نہيں کر پاتی اور بجلی پيدا کرنے والے استداد کے مطابق پيداوار نہيں کر سکتے ۔ ايک عرصہ سے مندرجہ ذيل حکومتوں اور اداروں کے ذمہ 4 کھرب 23 ارب يعنی 423000000000 روپے کيپکو کا واجب الادا ہے جو عوام کی مصيبتوں کا اصل سبب ہے

وفاقی حکومت اور اس کے ماتحت ادارے ۔ 3 کھرب يعنی 300000000000 روپے
حکومت پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9 ارب ۔ يعنی 9000000000 روپے
حکومت سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 39 ارب يعنی 39000000000روپے
حکومت خيبر پختونخوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 39 ارب يعنی 39000000000روپے
کراچی اليکٹرک سپلائی کمپنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 36 ارب يعنی 36000000000روپے

پوشاکيں اور نيمِ دروں

سائنس بہت ترقی کر گئی ۔ انسان بہت پڑھ لکھ گيا اور جديد ہو گيا ۔ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طور طريقے ميں پرانے جاہليت کے زمانہ ميں چلے گئے ہيں

لگ بھگ 6 دہائياں پرانی بات ہے کہ بچوں کے رسالے ميں ايک کارٹون چھپا تھا کہ ايک آدمی ننگ دھڑگ صرف جانگيہ يا کاچھا يا چڈی پہنے ہوئے بيری [بير کا درخت] پر چڑھا تھا اور بير توڑ کے کھا رہا تھا
ايک راہگذر ا نے پوچھا “صاحب ۔ کيا ہو رہا ہے ؟”
درخت پر چڑھے آدمی نے جواب ديا “اپنے تو 2 ہی شوق ہيں ۔ پوشاکيں پہننا اور پھل فروٹ کھانا”

ہماری موجودہ حکومت کے بھی 2 ہی شوق ہيں ۔ “جمہوريت پہننا اور مفاہمت کھانا”
:lol:

ميری بات کا يقين نہ ہو تو يہ خبريں پڑھ ليجئے

جمعہ [22 جولائی 2011ء] کے روز قومی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ
کراچی ميں بدامنی برداشت نہیں کریں گے

President Zardari expressed concerned over the violent situation of the city

نيمِ دروں

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ فرماں روائے مغليہ شہنشاہِ محبت شاہجہان کی بيٹی محل کی کھڑکی سے باہر ديکھ رہی تھی ۔ اُس کی نظر ايک گدھے اور گدھی پر پڑی تو منہ سے نکل گيا “نيمِ دروں نيمِ بروں”
باپ نے پوچھا “بيٹی کيا ہوا ؟

بيٹی شاعرہ تھی شعر کہہ ديا
“در ہيبتِ شاہِ جہاں ۔ لَرزَد زمين و آسماں
اُنگُشت در دَنداں نہاں نيمِ درُوں نيمِ برُوں”

درست کہا تھا اُس نے ۔ عشرت العباد “درُوں”۔ اور ايم کيو ايم “برُوں”

[“دروں” معنی “اندر” اور “بروں” معنی “باہر”]