Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

ذہنی غلامی


ميں محمد بلال صاحب کا مشکور ہوں کہ اُنہوں نے قارئين کی سہولت کيلئے مندرجہ بالا عکسی عبارت کو يونی کوڈ ميں لکھ ديا ہے

غلامی سے آزادی تک

وہ ایک آزاد باپ کی غلام بیٹی تھی، بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کرنے والی فکر انگیز تحریر
ڈاکٹر طاہر مسعود

“پاپا“ آج مس نے مجھے ایک ”ایڈوائس“ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ جب بھی تمہیں واش روم جانے کی ”پرمیشن“ لینی ہو تو انگلش میں کہنا ”Miss May I go to washroom?“
”مس کی ایڈوائس پہ تم نے ان سے کیا کہا۔“
“مس نے جیسا کہا میں نے Same کیا”
”گڑیا۔۔۔۔ تمہاری اردو تو گلابی اردو ہے“
”یہ گلابی اردو کیا ہوتی ہے؟“
”جس میں دوسری زبانون کے الفاظ شامل ہوں ۔ تم اردو کے ساتھ انگریزی ملا کر بولتی ہو ۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔“
”کیوں اس سے کیا ہو جائے گا؟“
“اس سے زبان خراب ہوتی ہے۔ کیا تم نے کسی انگریز یا امریکی کو دیکھا ہے کہ وہ انگریزی بولتے ہوئے اردو یا پھر کسی دوسری زبان کے الفاظ ملاتا ہو؟”
”انہیں اردو نہیں آتی ہو گی“
“ہمارے پاس جو لوگ اردو میں انگریزی کے الفاظ ملاتے ہیں کیا انہیں انگریزی آتی ہے۔ بس انگریزی کے چند الفاظ انہوں نے سیکھ لیے ہیں جنہیں اپنی گفتگو میں دہراتے رہتے ہیں”
”مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟“
“گڑیا فرق یہ پڑتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے اردو میں انگریزی الفاظ ملانے سے ہماری قومی زبان بگڑ رہی ہے ۔ دیکھو! ملاوٹ بری چیز ہے۔ جیسے دودھ، مسالے اور دوسری چیزوں میں ہم ملاوٹ پسند نہیں کرتے بالکل اسی طرح زبان بھی خالص ہونی چاہیئے”
”لیکن ہماری مس تو کہتی ہیں کہ اردو کے بہت سے ورڈز انگریزی سے آئے ہیں“
“ہاں یہ صحیح ہے، اردو بہت سی زبانوں سے مل کر بنی ہے، لیکن جب یہ ایک زبان بن گئی تو اب اس کی اپنی ایک گرامر ہے اور اپنے اصول و قواعد ہیں۔ اب مثلاً دیکھو ٹیلی وژن، ریڈیو اسٹیشن، کالج وغیرہ انگریزی کے الفاظ ہیں، جب یہ اردو میں آگئے تو اب یہ اردو ہی کے الفاظ بن گئے۔ اب ان الفاظ کو واحد سے جمع بنائیں گے تو اردو طریقے سے بنائیں گے۔ مثلاً کالج سے کالجز، اسٹیشن سے اسٹیشنز نہیں بنے گا بلکہ کالجوں اور اسٹیشنوں استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جو لفظ بحالتِ مجبوری انگریزی سے اردو میں آگیا وہ انگریزی کا نہیں رہا اردو کا ہو گیا”
“پاپا! آپ بہت Difficult باتیں کررہے ہیں
“اب دیکھو تم نے Difficult کا لفظ استعمال کیا ۔ اس کی جگہ تم مشکل کا لفظ بھی بول سکتی تھیں۔ جب کسی لفظ کو تم اردو میں ادا کر سکتی ہو تو اس کی جگہ انگریزی لفظ استعمال کرنا اچھی بات ہے”
“مجھے اردو لفظ معلوم ہوں گے تبھی تو Use کروں گی”
یہ لفظ Use بھی انگریزی ہے۔ اردو ميں اس کے لیے استعمال کا لفظ ہے۔ تمہیں چاہیے کہ اردو کتابیں اور رسالے پڑھا کرو
””پاپا! میں تو ٹی وی دیکھتی ہوں اور ٹی وی میں ساری ڈسکشن اسی طرح ہوتی ہے
”ڈسکشن نہیں گفتگو یا پھر تبادلہ خیال کہو۔ میرے خدا! تمہیں اردو کب آئے گی“
”میری اردو بہت ویک ہے پاپا “
“بہت سے لوگ فخر سے یہ بات کہتے ہیں ۔ انہیں انگریزی نہ جاننے پر شرمندگی ہوتی ہے لیکن اردو نہ آنے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ یہ غلامی کی نشانی ہے”
”تو کیا ہم لوگ غلام ہیں۔ انگریزی بولنے سے آدمی غلام ہو جاتا ہے؟“
”انگریزی بولنے سے نہیں، انگریزی بول کر فخر کرنا اور اردو نہ جاننے پر شرمندگی محسوس نہ کرنا ذہنی غلامی کی نشانی ہے“
”کیا انگلش ڈریس پہننے سے بھی آدمی غلام ہو جاتا ہے؟“
”کیوں نہیں، جب ہمارا اپنا لباس موجود ہے تو ہم انگریزوں کا لباس کیوں پہنیں۔ کیا انگریز ہمارا لباس پہنتے ہیں؟“
”پاپا ۔ آپ تو بہت کنزرویٹیو ہیں “
”نہیں بیٹا ۔ میں وہ آزاد ہوں جو غلاموں میں پیدا ہو گیا ہے“
”غلاموں کو آزاد کرنے کا کیا طریقہ ہے پاپا“
”اپنی زبان، اپنا لباس اور اپنی ثقافت اختیار کرنے سے آدمی آزاد ہو جاتا ہے“
”پھر تو ہم کبھی آزاد نہیں ہوں گے“
”نہیں وہ دن ضرور آئے گا۔ آج نہیں تو کل“
”ہماری آپ کی زندگی میں تو ایسا نہیں ہو سکے گا“
”نہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ خدا مایوسی کو پسند نہیں کرتا“
تو پھر خدا ہماری Help کیوں نہیں کرتا؟”“
”جو اپنی مدد آپ نہیں کرتے خدا بھی ان کی مدد نہیں کرتا“
ہمیں اپنی Help خود کیسے کرنی چاہیے؟”“
”جو بات صحیح ہے، ہم اسے اختیار کرلیں، اس پر ڈٹ جائیں۔“
” It means آپ آزاد ہیں اور میں غلام ہوں۔ آزاد باپ کی غلام بیٹی”
”جس دن تم نے میری باتوں پر عمل کیا، تم بھی آزاد ہو جاؤ گی“
پاپا ۔ مجھے اسی سوسائیٹی میں Survive کرنا ہے”“
”تم عقل مند ہو، اپنی عمر سے بڑی باتیں کر لیتی ہو۔ تم چاہو تو تمہیں آزاد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ معاشرہ بھی نہیں“
”چلیے آج سے میں انگریزی میں باتیں نہیں کروں گی“
انگریزی بولنے اور پڑھنے سے میں تمہیں منع نہیں کر رہا۔ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے۔ اس میں سارے علوم کا خزانہ موجود ہے۔ اسے سیکھنا ضروری ہے، لیکن انگریزی کو برتر اور اردو کو کم تر سمجھنا بری بات ہے
”ابو ۔ آپ نے آج مجھے بہت اچھی باتیں بتائیں۔ میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی۔“
“ہاں پھر تو تم بھی آزاد ہو جاؤ گی۔ آزاد باپ کی آزاد بیٹی”

” ہونا ” اور ” سمجھنا ” ۔ بہتر کيا ؟

ميں آنکھ کی جراحی کے بعد 3 دن کمرہ بند [Room arrest] اور 4 دن گھر بند [House arrest] رہا ۔ نہ پڑھنے کی اجازت اور لکھنے کی تھی تو کيا کرتا ؟ ميں جسے بچپن سے پڑھنے اور لکھنے کی عادت ہے لمحہ بھر کيلئے سوچيئے کہ کيا حال ہوا ہو گا ميرا ؟ شکر ہے کہ دماغ پر پابندی نہ تھی ۔ چنانچہ کئی واقعات و مشاہدات پر غور جاری رہا ۔ آج ان ميں سے ايک مسئلہ جو ہر گھر [يا گھرانے] کا مسئلہ ہو سکتا ہے سپُردِ قلم کر رہا ہوں

اپنے ہموطنوں کی اکثريت کو ماہرِ نفسيات کے پاس جانے کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں صرف پاگل کو يا اُسے جسے کسی مقدمہ ميں سزا ہونے سے بچانا ہو يا اُس سے جان چھڑانا ہو تو ماہرِ نفسيات کے پاس لے جاتے ہيں

صبح ناشتے کی ميز پر بيوی نے خاوند سے کہا “آج ذرا وقت پر آ جايئے گا ۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے”
خاوند بيوی کی بات ياد رکھتے ہوئے چھٹی ہوتے ہی گھر کی راہ ليتا ہے ۔ گھر ميں داخل ہوتا ہے تو بيوی گويا ہوتی ہے “ہاتھ منہ دھو کر آ جايئے ۔ چائے تيار ہے”
خاوند ہاتھ منہ دھو کر کھانے کی ميز پر پہنچتا ہے تو بيوی کھانے کی چيزوں والی طشتری آگے بڑھاتی ہے ۔ خاوند کچھ اپنی تھالی ميں رکھ ليتا ہے تو بيوی سُرعت سے پيالی ميں چائے اُنڈيل کر چينی ہلانے لگتی ہے
خاوند مُسکرا کر کہتا ہے ” کوئی وقت کا پابند ڈاکٹر لگتا ہے”
ڈاکٹر کے مطب پہنچنے پر خاوند تختی پر نظر ڈالتا جس پر تحرير ہے ماہر دماغی امراض ۔ وہ دل ہی دل ميں پريشان ہوتا ہے کہ ميری بيوی کو ايسی ضرورت کيوں پيش آئی ؟
ڈاکٹر کے پاس پہنچ کر جب خاوند اور بيوی بيٹھ جاتے ہيں تو بيوی ڈاکٹر سے مخاطب ہوتی ہے “يہ ميرے خاوند ہيں ۔ ہماری شادی کو 10 سال گذر چکے ہيں ۔ چند دنوں سے يہ عجيب سی بات کرنے لگے ہيں ۔ مجھے کہتے ہيں کہ ميں تمہيں اپنی بيوی سمجھتا ہوں”
ڈاکٹر ” آپ ان کی بيوی ہيں نا ۔ تو اس ميں کيا بُرائی ہے ؟”
بيوی “ڈاکٹر صاحب ۔ آپ ميری بات نہيں سمجھ پائے ۔ ديکھيں نا ۔ يہ مجھے کہتے ہيں کہ يہ مجھے بيوی سمجھتے ہيں ۔ ميں تو ان کی بيوی ہوں پھر وہ ايسا کيوں کہتے ہيں ؟”
اسی دوران ڈاکٹر صاحب کسی کو ٹيليفون پر کہتے ہيں “آپ زيادہ مصروف تو نہيں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا مطب ميں آ جايئے آپ کے مہمان آئے ہيں”
چند منٹ بعد مطب کے پچھلے دروازے سے ايک خاتون داخل ہوتی ہيں ۔ ڈاکٹر صاحب اُنہيں کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کر کے سامنے بيٹھے جوڑے ميں بيوی کو مخاطب کرتے ہيں ” يہ ميری بيوی ماہرِ نفسيات ہيں ۔ آپ ان سے اپنے لئے وقت لے ليجئے ”
پھر خاوند سے مخاطب ہو کر کہتے ہيں ” آپ کی بيگم صاحبہ کو نفسياتی مشورے کی ضرورت ہے”

کوئی اچھا موقع پا کر خاوند اپنی بيوی سے کہے ” ميں آپ کو اپنی بيوی سمجھتا ہوں”
اسی طرح ہر بيوی اچھا موقع پا کر اپنے خاوند سے کہے ” ميں آپ کو اپنا خاوند سمجھتی ہوں”

پھر جو جواب ملے اس سے ميرے علم ميں اضافہ فرمانا نہ بھولئے گا

اصل بات يہ ہے کہ بيوی يا خاوند ہونے کے بعد بيوی يا خاوند سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ بصورتِ ديگر مياں بيوی کے تعلقات مياں بيوی کے تمام عملی تقاضے پورے نہيں کريں گے

دماغ تيز کرنے کا آسان طريقہ

سائنس کی ترقی کے باعث دنيا بہت آگے نکل گئی ہے ليکن قدم قدم پر يہ احساس ہوتا ہے کہ ہم سے پہلے والے ہم سے زيادہ باعِلم تھے ۔ ہمارے سکول کے زمانہ ميں [1953ء تک] بلکہ آج سے 4 دہائياں قبل [1972ء] تک جو طالب عِلم سبق ياد نہ کرے يا بھُول جائے اساتذہ اُسے سزا کے طور پر ايک ورزش کرنے کا حُکم ديتے تھے جو ايک سے 3 منٹ تک ہوتی تھی ۔ اب سائنس کی بہت زيادہ ترقی کے بعد معلوم ہوا ہے کہ جسے ہم سزا سمجھتے رہے وہ دراصل ايک اہم طِبی نُسخہ تھا

ميں اگر کہوں کہ ياد داشت [memory] اور اِنہماک [concentration] کو ايک سادہ ا ور آسان ورزش سے بہتر کيا جا سکتا ہے تو شايد اسے مذاق سمجھا جائے ليکن يہ مذاق نہيں بلکہ مسلمہ حقيقت ہے

يہ ورزش بالخصوص اُن لوگوں کيلئے مفيد ہے جن کی ياد داشت کمزور ہو يا وہ خود فکری [autism] يا الزائمر [Alzheimers] بيماری ميں مُبتلاء ہوں ۔ جس کی بھی ياد داشت ايسی نہ ہو جيسا کہ ہونا چاہيئے وہ اس سادہ ورزش سے مستفيد ہو سکتا ہے

ای ای جی سکينز [Electroencephalography scans] سے معلوم ہوا کہ يہ ورزش دماغ کے داہنے اور بائيں حصوں کو ہم عصر [synchronise] کر کے غور و فکر اور ياد داشت کو بہتر بناتی ہے

يہ آسان اور تيز اثر والی ورزش کمزور ياد داشت [poor memory] ۔ انہماک کی کمی[lack of concentration] ۔ اُجڈ پَن [clumsiness] اور تلوّن مزاجی [emotional instability] ميں بہتری پيدا کرتی ہے

ورزش کے اہم نقاط

کان کی لَو [ear lobe] ميں دباؤ کے نقاط [acupressure points] کے ذريعہ اعصابی [neural pathways] رويّوں کو تحريک ديتی ہے
دماغ کی کارکردگی بہتر کرنے اور قرار [calmness] کو بڑھانے کيلئے داہنے اور بائيں حصوں کو ہم عصر [Synchronise] کرتی ہے
بوڑھوں ۔ جوانوں ۔ بچوں ۔ والدين ۔ اولاد ۔ کوئی بھی کسی بھی عمر ميں ہو کی ذہانت کو تيز کرتی ہے
ايسپرجر سِنڈرَوم [, Asperger’s syndrome] ۔ خود فکری [autism] ۔ سيکھنے ميں مشکلات اور اطوار کے مسائل ميں مدد ديتی ہے
ورزش آسان اور قليل وقت ليتی ہے ۔ صرف ايک سے 3 منٹ روزانہ کافی ہوتا ہے

ورزش کا طريقہ

احتياط ۔ کھانے کے بعد 2 گھنٹے کے اندر ورزش نہ کيجئے ۔ آرام دہ کپڑے پہن ليجئے ۔ خواتين زيور وغيرہ اُتار ديں
1 ۔ دونو پاؤں کے درميان اپنے شانے کی چوڑائی جتنا فاصلہ رکھ کر سيدھے اس طرح کھڑے ہو جايئے کہ پاؤں کے انگُوٹھوں کا رُخ سامنے کی طرف ہو
2 ۔ داہنے کان کی لَو کو بائيں ہاتھ کے انگُوٹھے اور شہادت کی اُنگلی کے درميان اس طرح پکڑيئے کہ انگُوٹھا سامنے کی طرف ہو
3 ۔ بائيں کان کی لَو کو داہنے ہاتھ کے انگُوٹھے اور شہادت کی اُنگلی کے درميان اس طرح پکڑيئے کہ انگُوٹھا سامنے کی طرف ہو
4 ۔ سيدھے کھڑے رہتے ہوئے جس قدر ہو سکے سانس کو اندر کھينچيئے پھر سامنے کی طرف ديکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اس طرح نيچے ہوتے جايئے کہ صرف گھُٹنوں سے ٹانگيں اکٹھی ہوتی جائيں ۔ نيچے جاتے ہوئے سانس باہر نکالتے جايئے ۔ اس طرح جس قدر نيچے ہو سکيں ہو جائيے مگر رہيئے پاؤں کے بل ہی
5 ۔ سانس اندر کھينچتے ہوئے آہستہ آہستہ اُوپر اُٹھيئے اور سيدھے کھڑے ہو جايئے
6 ۔ سانس باہر نکالتے ہوئے پہلے کی طرح نيچے ہوتے جائيں ۔ اس طرح کان چھوڑے بغير اور اپنی جگہ سے ہِلے بغير اس ورزش کو 14 سے 21 بار 2 سے 3 منٹ ميں دہرايئے

3 ہفتوں ميں اس ورزش کے خاطر خواہ نتائج سامنے آنا شروع ہو جائيں گے

اس ورزش کی وڈيو اور مزيد معلومات کيلئے يہاں کلِک کيجئے

معلومات فراہم کرنے پر ميں ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب کا مشکور ہوں

اقبال مندی اور محنت پسندی

اقبال مندی

الپ ارسلاں سے یہ طغرل نے پوچھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ قومیں ہیں دنیا میں جو جلوہ فرما
نشاں ان کی اقبال مندی کے ہیں کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کب اقبال مندان کو کہنا ہے زیبا
کہا ملک و دولت ہو ہاتھ انکے جب تک ۔ جہان ہو کمر بستہ ساتھ انکے جب تک

جہاں جائیں وہ سر خرو ہو کے آئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظفر ہم عناں ہو جدھر باگ اٹھائیں
نہ بگڑیں کبھی کام جو وہ بنائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ اکھڑیں قدم جس جگہ وہ جمائیں
کریں مس کو گر مس تو وہ کیمیا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر خاک میں ہاتھ ڈالیں طلا ہو

محنت پسندی

مگر بیٹھ رہنے سے چلنا ہے بہتر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ ہے اہلِ ہمت کا اللہ یارو
جو ٹھنڈک میں چلنا نہ آیا میسر ۔ ۔ تو پہنچیں گے ہم دھوپ کھا کھاکے سر پر
یہ تکلیف و راحت ہے سب اتفاقی ۔ ۔ ۔ ۔ چلو اب بھی ہے وقت چلنے کا باقی

ہوا کچھ وہی جس نے یاں کچھ کیا ہے ۔ ۔ ۔ لیا جس نے پھل بیج بو کر لیا ہے
کرو کچھ کہ کرنا ہی کچھ کیمیا ہے ۔ ۔ ۔ مثل ہے کہ کرتے کی سب بدیا ہے
یونہی وقت سو سو کے ہیں گنواتے ۔ ۔ ۔ ہو خرگوش کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے

یہ برکت ہے دنیا میں محنت کی ساری ۔ جہاں دیکھئے فیض اسی کا ہے جاری
یہی ہے کلیدِ درِ فضلِ باری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی پر ہے موقوف عزت تمہاری

اقتباس از مسدسِ حالی
مصنف ۔ خواجہ الطاف حسين حالی

آنکھ کی جراحی

اِن شاء اللہ ميں آج شام ماہر امراضِ چشم و جراح کے پاس جاؤں گا ۔ جيسا کہ مجھے بتايا گيا ہے رات 8 بجے ميری اُس آنکھ کی ليزر سے جراحی کی تياری شروع ہو گی جس کی بينائی 28 ستمبر 2011ء کے حادثہ کے بعد 1.5 سے 5.75 ہو گئی تھی ۔ جراحی کے بعد رات ساڑھے 10 بجے مجھے گھر واپس آنے کی اجازت دے دی جائے گی ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی شفاء دينے والا ہے

کہا جاتا ہے کہ جراحی کے بعد 3 سے 7 دن ميں شفاء ہو جاتی ہے ۔ حقيقت کا علم تجربے سے ہی ہو گا

کمپيوٹر تو کئی دن چلا نہيں سکوں گا کيونکہ دوسری منزل پر ہے ۔ ميں نے کئی تحارير محفوظ کی ہوئی ہيں جو ميرے نوکيا ای 5 موبائل فون کے ذريعہ شائع ہو سکتی ہيں بشرطيکہ ايک آنکھ کے استعمال کی اجازت ہو ۔ اس کے علاوہ ہفتہ يا 2 ہفتے اور کچھ نہيں کر سکوں گا

اصل دُشمن

قساد بازاری کيوں ؟
ہم ہر روز بلاناغہ 3 ارب روپے کے نوٹ چھاپ رہے ہيں يعنی سال کے 365 دنوں ميں 10 کھرب 95 ارب [1095000000000] روپے کے نوٹ ۔ اس کا اثر يہ ہوتا ہے کہ روپے کی قدر کم ہوتی جاتی ہے اور عام استعمال کی اشياء مہنگی ہوتی چلی جاتی ہيں ۔ تو قساد بازاری [inflation] کيوں نہ ہو ؟ گيلپ پاکستان 27 جنوری 2011ء کے مطابق پاکستان کی کُل آبادی کے تين چوتھائی کی روزانہ آمدن 200 روپے يا اس سے کم ہے ۔ درميانے درجے کے لوگ غريب اور غريب غريب تر ہوتے چلے جاتے ہيں
يہ نوٹ کون چھپواتا ہے ؟ وہی اصل دُشمن ہے

لوڈ شيڈنگ کيوں ؟
ہمارے قومی پاور کنٹرول سينٹر کے مطابق ملک ميں بجلی پيدا کرنے کی صلاحيت 18167 ميگا واٹ ہے جو کے ملک کی کُل طلب سے 10 فيصد زيادہ ہے ۔ چنانچہ مسئلہ بجلی پيدا کرنے کا نہيں بلکہ يہ ہے کہ پيپکو کا 2 کھرب 50 ارب [250000000000] روپيہ وفاقی حکومت ۔ فاٹا ۔ کے ای ايس ای ۔ حکومتِ بلوچستان و سندھ اور نجی اداروں کے ذمہ واجب الادا ہے ۔ اور پيپکو کے ذمہ واپڈا ۔ آئی پی پيز اور تيل اور گيس کے اداروں کا 1 کھرب 40 ارب [140000000000] روپيہ واجب الادا ہے ۔ ان واجبات کی عدم ادائيگی بجلی کمپنيوں کو پيداروار کم کرنے پر مجبور کرتی ہے اور پھر دھڑا دھڑ لوڈ شيڈنگ ہوتی ہے ۔ مُلکی صنعت تباہ ہوتی ہے اور مُلک مزيد خسارے ميں جاتا ہے
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ سال 09-2010 کی رپورٹ کے مطابق واپڈا میں ایک سال کے دوران 90 ارب [90000000000] سے زائد کی کرپشن ہوئی اور 60 کروڑ [600000000] روپے سے زائد رقم قواعد و ضوابط کے برعکس خرچ ہوئی ۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کے آڈٹ کئے بغیر ٹھیکے میں ايک ارب 17 کروڑ [1170000000] روپے سے زائد رقم ادا کی گئی ۔ 29 کروڑ [290000000] روپے کی لگژری گاڑیاں خریدی گئیں جن کی اصل قيمت سے 17 کروڑ [170000000] زائد خرچ کئے گئے ۔ ٹھیکیدارکو قواعد کے برعکس انشورنس کی مد میں 22 کروڑ [220000000] کی ادائیگی کی گئی
اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی اصل دُشمن ہے

پاکستان ريلوے کا حال
1 ۔ کُل 540 ڈيزل انجن ہيں جن ميں سے 384 چلنے کے قابل نہيں
2 ۔ کُل 16433 بوگياں ہيں جن ميں سے 8005 چلنے کے قابل نہيں
3 ۔ امريکا نے150 انجن خريد کرنے کيلئے 40 کروڑ ڈالر يعنی لگ بھگ ساڑھے 35 ارب روپے کی پيشکش کی ہے مگر ريلوے کے وزير غلام احمد بلور نے 50 انجن بھارت سے کرايہ پر لينے کا فيصلہ کيا ہے
4 ۔ پاکستان ريلوے کا خسارہ 40 ارب روپيہ ہے
اس گڑبڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی اصل دُشمن ہے

پی آئی اے کا حال
1 ۔ فنی خرابی کے باعث 39 ميں سے 10 ہوائی جہاز اُڑنے کے قابل نہيں
2 ۔ مجموعی نقصان ايک کھرب [100000000000] روپے کو پہنچ رہا ہے
اس نا اہلی کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی اصل دُشمن ہے

حکومتی کارکردگی کا ايک اور سنگِ ميل
مختلف حکومتوں نے 1947ء سے 2008ء تک کُل 60 کھرب [6000000000000] روپے قرضہ ليا جبکہ موجودہ حکومت نے 2008ء سے شروع کر کے 3 سالوں ميں قرضہ 60 کھرب [6000000000000] روپے سے بڑھا کر 120 کھرب [12000000000000] تک پہنچا ديا ہے ۔ يعنی اس وقت پاکستان کا ہر مرد ۔ ہر عورت ۔ ہر بچہ اور ہر بچی 61000 روپے کا مقروض ہے ذرا سوچئے کہ اگر حکومتِ پاکستان اسی طرح قرض ليتی رہی تو نتيجہ کيا ہو گا ؟
اس عياشی کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی اصل دُشمن ہے

ماخذ ۔ ڈاکٹر فرخ سليم کا مضمون Enemy within و ديگر

لڑکپن ۔ بھَولپن يا ظالم دور

ايک پرانا مقولہ ہے ” جس نے جوانی ۔ دولت اور طاقت کی گرمی سہہ لی وہ کامياب ہو گيا”

ميرا مشاہدہ اور مطالعہ بتاتا ہے کہ اس “جوانی” کے پيچھے کارساز دور دراصل “لڑکپن” کا ہوتا ہے اور کسی بھی مرد يا عورت کيلئے يہ بہت اہم دور ہے ۔ عام طور پر لڑکا يا لڑکی اسی دور کے حالات و اثرات سے بنتے يا بگڑتے ہيں ۔ لڑکا لڑکی اسی دور ميں اچھی يا بُری عادات اپناتے ہيں جو بعد ميں اُن کی خصلت بن جاتی ہيں ۔ سگريٹ پينا ۔ چوری کرنا ۔ جھوٹ بولنا اسی دور کی عِلتيں ہيں ۔ اسی دور ميں عصمت لُٹنے کا زيادہ خدشہ ہوتا ہے ۔ اگر اس دور ميں درست رہنمائی مل جائے تو آدمی انسان بن جاتا ہے ۔ بصورتِ ديگر بھٹکنے کا ہر دم احتمال رہتا ہے اور جو بھٹکتے ہيں وہ اس دور کا پھل عام طور پر عمر بھر کاٹ رہے ہوتے ہيں ۔ اللہ جب چاہے کسی کو ھدائت دے دے وہ الگ بات ہے

بيٹی 10 سال کی ہو جائے تو سمجھدار مائيں اُسے اپنے بھائی کے کمرے ميں بھی نہيں سونے ديتيں اور دن کے وقت بھی اگر بہن بھائی کسی کمرے ميں الگ بيٹھے ہوں تو کسی نہ کسی بہانے جھانکتی رہتی ہيں ۔ دو بھائی اس عمر کے اس دور ميں عليحدہ کمرے ميں ہوں تو سمجھدار مائيں اُن پر بھی نظر رکھتی ہيں

استثنٰی تو ہر جگہ اور ہر صورت ميں ہوتا ہے ليکن بات عام طور سے 66 فيصد کے متعلق کی جاتی ہے ۔ مختلف ممالک ميں اور مختلف ادوار ميں جنسی اور نفسياتی لحاظ سے لڑکپن کے دورانيے ميں تھوڑا بہت فرق ہے ۔ ميرے مشاہدہ اور مطالعہ کے مطابق وطنِ عزيز ميں لڑکے کيلئے يہ دور 12 سال کی عمر 18 سال کی عمر تک ہوتا ہے اور لڑکی کيلئے 10 سال سے 19 سال کی عمر تک

اس دورانيے ميں لڑکا سمجھتا ہے کہ سب اُس کی طرف ديکھ رہے ہيں اور اُس کی خواہش بھی يہی ہوتی ہے ۔ لڑکی کا بھی يہی حال ہوتا ہے ايک اضافے کے ساتھ کہ کوئی اُسے محبت کی نظر سے ديکھے ۔ يہ خواہش تو کسی حد تک ہر انسان کے دل ميں ہوتی ہے ليکن لڑکپن ميں يہ خواہش لڑکی کے ذہن پر سوار ہو کر اچھے بُرے يا سچے جھوٹے کی تميز سے اُسے بے نياز کر ديتی ہے ۔ نتيجہ لڑکی کيلئے اچھا نہيں ہوتا

لڑکی کی ايک اور فطری کمزوری يہ ہے کہ ہر 4 ہفتوں ميں چند دن ايسے ہوتے ہيں کہ لڑکی جذبات سے مغلوب ہوتی ہے ۔ اگر اس دوران اُسے کسی لڑکے کا قُرب حاصل ہو جائے تو جلد زِير ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ لڑکيوں کو لڑکوں کی نسبت زيادہ متانت ۔ بُردباری اور احتياط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عمر کے اسی دور کی لغزش لڑکی کو خود کُشی کی طرف ليجاتی ہے

لڑکے اسی عمر ميں اپنی طرف توجہ مبزول کرانے کيلئے سگريٹ نوشی يا دوسری عِلت شروع کرتے ہيں اور پھر اس عِلت ميں پھنس کر رہ جاتے ہيں

يہ خيال رہنا چاہيئے کہ دودھ زمين پر گر جائے تو اُٹھايا نہيں جا سکتا اسلئے کوشش ہونا چاہيئے کہ دودھ گرنے نہ پائے

لڑکی خواہ کس عمر کی بھی ہو [بلکہ عورت کو بھی] چاہيئے کہ کسی بھی جگہ نامحرم لڑکے يا مرد کے ساتھ اکيلی نہ ہونے پائے ۔ نامحرم لڑکے يا مرد سے کسی دفتری يا اخلاقی مجبوری کے تحت تعلقات بڑھائے تو ايک ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر يعنی مناسب جسمانی اور سماجی فاصلہ قائم رکھے

لڑکا بھی اگر احتياط نہ کرے تو بعض اوقات لڑکی کے ہاتھوں خواہشات کا شکار ہو جاتا ہے ۔ گو اُسے نقصان لڑکی کی مانند نہيں ہوتا ليکن اُس کے غلط راہ پر چل نکلنے کا دروازہ کھُل جانے کا انديشہ ہوتا ہے يا بعض اوقات وہ نفسياتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ 8 سے 16 سال کے لڑکے کے لئے بھی ضروری ہے کہ کسی بھی جگہ نوجوان لڑکی کے ساتھ اکيلا نہ ہونے پائے

دينی اور سماجی حدود کو غير مسلموں نے ترقی اور آزادی کے نام پر توڑا اور عورت کو چکمہ دے کر مردوں کی جنسی تسکين کا کھلولنا بنا ديا ۔ دُور کے ڈھول سُہانے کے مصداق ہمارے ہاں بھی عورت کی اِس نام نہاد آزادی کا نعرہ کبھی کبھی سننے ميں آتا ہے ۔ حال يہ ہے کہ جنہيں ديکھ کر نقل کی کوشش کی جاتی ہے وہاں آج کے دور ميں سمجھدار عورتيں پرانے ادوار کو حسرت سے ياد کرتی ہيں اور چاہتی ہيں کہ عورت کا اصلی رُوپ واپس آ جائے ليکن عمارت کو گرانا تو آسان ہے مگر اُنہی بنيادوں پر دوبارہ بنانا بہت مُشکل ہوتا ہے