Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

تازہ خبر ۔ آخر کار

پاکستان کي فضائی حدود ميں غير قانونی طور پر داخل ہو نے والے غير ملکی فوجی جہاز کو پاکستانی ہوائی فوج نے جبری کراچی ايئر پورٹ پر اُتار لیا ہے

فوجی طيارہ بگرام ايئر بيس سے متحدہ عرب امارات کے المکتوم ايئر پورٹ جارہاتھا ۔ ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف 124 اور پرواز نمبر وی ڈی اے 1455 ہے

ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹو رسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں ۔ مذکورہ غيرملکی فوجي مال بردار طيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پر کراچی ميں اتارا گيا اور اس کی چيکنگ کی جارہی ہے.

واہ پاکستانی

مندرجہ ذیل کھک بول (blank verse) مجھے بذریعہ برقیہ وصول ہوئے ہیں

ملک میں صدر شیطانی
وزیر اعظم ملتانی
آرمی چیف کیانی
اسپیکر ہے زنانی
وزیر خارجہ حنا ربانی
ہر طرف بے ایمانی
نہ بجلی ہے نہ پانی
اس حکومت کی عجب کہانی
عوام کو ہے شاباش
کیونکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر بھی دل ہے پاکستانی

اے وطن

ہمارا ایک عزیز جوان مع
اپنی بیوی کے لندن سے آیا تھا ۔ اُس کی
بیوی جس کے والدین پاکستان سے ہی ہجرت کر کے لندن گئے تھے پہلی
بار پاکستان آئی تھی ۔ وہ ہمارے پاس اسلام آباد صرف ڈھائی دن کیلئے آئے تھے ۔ خیال ہوا کہ انہیں اس قلیل وقت میں پورے پاکستان کی سیر کرائی جائے ۔ حُسنِ اتفاق کہ لوک ورثا عجائب گھر کے احاطے میں ملکی گھریلو صنعت و حرفت کے نمونوں کی نمائش لگی تھی جس میں چاروں صوبوں اور آزاد جموں کشمیر میں تیار ہونے والی نادر اشیاء کے نمونے رکھے گئے تھے ۔ میری بیٹی نے تجویز دی کہ انہیں فیصل مسجد ۔ سید پور گاؤں ۔ دامنِ کوہ ۔ پیر سوہاوہ اور لوک ورثاء کی سیر کرائی جائے تو پورا پاکستان سمجھ میں آ جائے گا ۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے مہمان بہت خوش اور متاءثر نظر آئے بالخصوص دُلہن جو پہلی بار پاکستان آئی تھی

اپنے نوکیا ای 5 سے لی گئی تصاویر جن سے میری بات کچھ واضح ہو جائے گی

کتنے بدقسمے ہیں میرے وہ ہموطن جو اللہ کی نعمتوں سے بھرپور اس وطن کی قدر نہیں کرتے ۔ اس میں بسنے والے ذہین محنت کشوں کی پیروی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا خون کرتے ہیں
.
.

اے وطن ۔ پیارے وطن ۔ پاک وطن

تو دل افروز بہاروں کا تر و تازہ چمن

تو مہکتے ہوئے پھولوں کا سہانا گلشن

تو ہے نواریز انادل کا بہاریں مسکن

رنگ و آہنگ سے معمور ترے کوہ و دمن

اے وطن ۔ پیارے وطن ۔ پاک وطن

اے وطن ۔ پیارے وطن ۔ پاک وطن

میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار

میرا سینہ تیری حُرمت کا ہے سنگین حصار

میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار

میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہءِ تن

اے وطن ۔ پیارے وطن ۔ پاک وطن

اے وطن ۔ پیارے وطن ۔ پاک وطن

عوام کے غمخوار

مُسلم لیگ میں سچے مسلمان کتنے ہیں معلوم کرنا بہت مُشکل کام ہے ۔ مُلک میں وفاقی اور 3 صوبوں کی حکومتیں جس جماعت کے پاس ہیں اُس کا نام ہے پاکستان پیپلز پارٹی یعنی پاکستانی عوام کی جماعت ۔ اس حکومت کی عوام دوستی کے جھنڈے ہر طرف گڑے ہیں ۔ اس کی کارستانیوں میں سے ایک چھوٹی سی بات جس کا اثر عوام کی بہت سی ضروریات پر پڑتا ہے وہ ہے پٹرولیم مصنوعات جن کی قیمت میں اضافے سے 65 فیصد پاکستانی شدید متاثر ہوتے ہیں

12 اکتوبر 1999ء کو جب مسلم لیگ کی حکومت ختم کی گئی تو پٹرول کی قیمت فی لیٹر 22 روپے 30 پیسے تھی ۔ 25 مارچ 2008ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اقتدار سنبھالنے پرپٹرول کی قیمت فی لیٹر 62 روپے 81 پیسے تھی جو اپریل 2012ء میں 103 روپے 68 پیسے ہو چکی ہے یعنی پی پی پی کی حکومت کے 4 سالہ دور میں پٹرول کی قیمت میں 40 روپے 87 پیسے اضافہ ہو چکا ہے جبکہ پرویز مشرف کے ساڑھے 8 سال میں 40 روپے 51 پیسے اضافہ ہوا تھا

حکومت پٹرول پر فی لیٹر 46 روپے 18 پیسے ٹیکس لے رہی ہے یعنی عوام فی لیٹر 46 روپے 18 پیسے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہے ہیں

حکومت بلاواسطہ ٹیکسوں کا 50 فیصد، ڈومیسٹک جنرل سیلز ٹیکس کا 47 فیصد، درآمدی جنرل سیلز ٹیکس کا 36 فیصد اور امپورٹ ڈیوٹی کا 11 فیصد پٹرولیم مصنوعات پرٹیکس لگا کر حاصل کرتی ہے

موجودہ حکومت نے صرف 2010 ۔ 2011ء میں پٹرولیم پراڈکٹس پر5کھرب 3 ارب 50 کروڑ کے ٹیکس وصول کئے جس کی کچھ تفصیل یہ ہے ۔ ڈومیسٹک جنرل سیلز ٹیکس ایک کھرب 53 ارب 30کروڑ ۔ درآمدی جنرل سیلز ٹیکس ایک کھرب 10ارب 50کروڑ ۔ درآمدی ڈیوٹی 21 ارب 40کروڑ اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 5 ارب 10کروڑ جبکہ دیگر 5 ٹیکسوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں

یوں پٹرولیم پراڈکٹس پر (سوائے ود ہولڈنگ ٹیکس) 2010 ۔ 2011ء میں 503 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس وصول کئے گئے اس طرح ملک کا نصف بلاواسطہ (indirect) ٹیکس ریونیو پٹرولیم پراڈکٹس سے حاصل ہوتا ہے

رانا بھگوان داس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سال 2002 ۔ 2009ء (7 سال) میں اُس وقت کی حکومت نے 10 کھرب 23 ارب روپے پٹرولیم پراڈکٹس پرٹیکس کی مد وصول کئے تھے یعنی سالانہ 146 ارب سے کچھ زائد جبکہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم پراڈکٹس پرٹیکس کی مد 503 ارب روپے سے زائد وصول کئے

بشکریہ ۔ جنگ

کاش ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ابھی تو یہ حال ہے کہ سڑک پر کھڑا میرے جیسا چھ فٹا انسان بھی گاڑی والے کو نظر نہیں آتا

میرے خالق و مالک ۔ وہ دن کب آئے گا جب اس گورے اجنبی کی طرح میرے ہموطن بھی اپنی گاڑی روک کر معصوم جانوں کو بچانے کا اہتمام کریں گے ؟
میں شاعر نہیں ہوں ۔ میرے دل نے جو کہا میں لکھ رہا ہوں

کاش کہ میرے وطن میں آزادی کا وہ دور آئے
جب میرے ہموطن ہر جان کو قیمتی سمجھیں

جب ہر ہموطن دوسرے کا بھی اچھا سوچے
جب میرے وطن میں کوئی سچ کو نہ ترسے

جب کوئی بھی جبیں نہ خوف سے تر ہو
انسان کی اپنی ہر سانس پر اپنا حق ہو

جب ہر چھوٹے بڑے کا اپنا اپنا قد ہو
جب ظُلم کا ہر کلمہ اور ہر وار رَد ہو

پیارے دیس کے پیارے لوگو
اب تو مدہوشی سے جاگ اُٹھو
کہیں دیر زیادہ نہ ہو جائے اور
اپنے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے

لڑکپن کی باتيں قسط 2 ۔ وطن

ميں قسط 1 ميں اپنے ہی مقرر کردہ اُن اصولوں کو نقل کر چکا ہوں جن کا ميری کاميابی ميں کچھ حصہ تو ضرور رہا ہو گا ۔ لڑکپن ميں وطن سے ميرے لگاؤ کی ايک جھلک ان اشعار ميں ملتی جو ميں نے اپنی عام استعمال کی بياض پر نقل کئے ہوئے تھے

وطن وہ مرکزِ صِدق و صَفا حريمِ جمال ۔ وطن وہ کعبہءِ عِلم و ہُنر عروجِ کمال
وطن کہ سرمہ چشم طلب ہے خاک اسکی ۔ وطن شہر نغمہ نکہت ديارِ حُسن و خيال
وطن جہاں ميری اُمنگوں کا حُسنِ تاباں ہے ۔ وطن کہ جہاں ميری شمع وفا فروزاں ہے
وطن جہاں ميری يادوں کے ديپ جلتے ہيں ۔ وطن جو يوسف بے کارواں کا کنعاں ہے

ميرے خلوصِ سُخن پہ جو اعتبار آئے ۔ روِش روِش پہ چمن ميں کوئی پکار آئے
ہميں بھی باغِ وطن سے کوئی پيام آئے ۔ ہميں بھی ياد کرے کوئی جب بہار آئے

ديارِ شوق سے تيرا اگر گذر ہو صبا ۔ گُلوں سے کہنا کہ پيغمبر بہار ہوں ميں
ميرے نفس سے ہيں روشن چراغِ لالہ و گُل ۔ چمن کا روپ ہوں ميں حُسنِ لالہ زار ہوں ميں

چمن چھُٹا تو گُل و ياسمن کی ياد آئی ۔ پہنچ کے دشت ميں صبحِ چمن کی ياد آئی