ہمیشہ اچھے لوگوں سے دوستی رکھیئے
اچھے دوست اچھے دنوں میں سرمایہ
اور
برے دنوں میں محافظ ہوتے ہیں
قول علی رضی اللہ عنہ
ہمیشہ اچھے لوگوں سے دوستی رکھیئے
اچھے دوست اچھے دنوں میں سرمایہ
اور
برے دنوں میں محافظ ہوتے ہیں
قول علی رضی اللہ عنہ
اِس آدمی نے آر پی پی میں خُورد بُرد کے خلاف درخواست گذاران خواجہ آصف اور فیصل صالح حیات کو پچاس پچاس کروڑ روپے کی پیشکش کی
یہ آدمی آصف علی زرداری اور راجہ پرویز اشرف کا باہمی دوست ہے
ڈی جی ایچ آر نَیب کوثر اقبال ملک جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نَیب کامران فیصل مرحوم کوپچھلی تاریخ میں رپورٹ تبدیل کرنے کا کہا تھا اس آدمی کا بہترین دوست ہے
آر پی پی میں خُورد بُرد کا 575 ارب روپیہ جس کی تفتیش کامران فیصل مرحوم نے کی تھی سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا آدمی یہی ہے
اس آدمی کا نام ہے اقبال زیڈ احمد
اور یہ ایل پی جی ۔ ایل این جی اور آئل اینڈ گیس کا بادشاہ ہے
اس سلسلہ کی 2 تحاریر ”گفتار و کردار“ اور ”پارسل“ لکھ چکا ہوں
سوال ہے کہ ” تعلیم یافتہ ذہین اور زِیرک جوان مُلک کیوں چھوڑ جاتے ہیں ؟“
محاورہ ہے ”گھر کی مرغی دال برابر“۔ ہونا چاہیئے تھا ”گھر کی دال باہر کی مُرغی کے برابر“۔
اپنے مُلک کے حکومتی نظام کو پَرکھیں تو گھر کی مُرغی دال سے بھی بہت کمتر درجہ میں چلی جاتی ہے ۔ 30 سالہ سرکاری اور 5 سالہ غیرسرکاری ملازمت میں میرے ساتھ کئی حوصلہ شکن واقعات پیش آئے ۔ بات سمجھنے کیلئے اُمید ہے کہ صرف ایک واقعہ کافی ہو گا
پس منظر
پاکستان نے 1966ء میں جرمن مشین گن المعروف مشین گن 42 بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کی منصوبہ بندی ۔ نشو و نما اور پیداوار (Planning, development and production) کیلئے مجھے مقرر کیا گیا ۔ منصوبہ بندی کے دوران زمینی حقائق (ground realities) کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جرمن مشین گن کی نالی کے سوراخ (Barrel bore) میں جھَریاں (grooves) بنی تھیں جن پر سخت کروم پلیٹنگ (hard chrome plating) کی جاتی تھی جس سے اس کی برداشتی زندگی (endurance life) زیادہ سے زیادہ 16000 کارتوس تک ہو جاتی تھی ۔ اگر سخت کروم پلیٹنگ نہ کی جائے تو برداشتی زندگی زیادہ سے زیادہ 6000 رہ جاتی تھی ۔ سوراخ میں کروم پلیٹنگ کرنا نہائت مشکل کام ہوتا ہے اور اس میں جرمنی کی ایک دوسری کمپنی مہارت رکھتی تھی جسے نالیاں تیار کرنے کے بعد بھیج دی جاتی تھیں ۔ مشین گن کی تیار نالیاں (finished barrels) کروم پلیٹنگ کے بعد 30 فیصد تک ناکارہ (reject) ہو جاتی تھیں ۔ سب سے بڑی بات کہ یہ کمپنی سوراخ میں کروم پلیٹنگ کی ٹیکنالوجی بیچنے کو تیار نہ تھی
ہم اگر ان کا پلانٹ پاکستان میں لگاتے تو ہر وقت اُن کے رحم و کرم پر ہوتے ۔ مزید یہ کہ کسی خرابی کی صورت میں اُن کے ماہرین کو جرمنی سے بُلانا پڑتا ۔ اس طرح خرچہ بھی بہت ہوتا اور وقت بھی ضائع ہوتا ۔ میں نے جرمن انجنئیروں سے بات کی کہ وہ کیوں دوسری کمپنی کے محتاج بنے ہوئے ہیں اور اس کا کوئی بہتر حل نہیں نکالتے ؟ اُنہوں نے بتایا کہ 25 سے 30 فیصد بنی بنائی نالیاں بیکار ہونا اُنہیں بہت کھلتا ہے اسلئے وہ پچھلے 5 سال سے سوراخ کا ڈیزائین بدل بدل کر تجربے کر چکے ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی البتہ کوشش جاری ہے
میں نے الله سُبحانُهُ و تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت اور عِلم کو استعمال کرتے ہوئے سوراخ کا ایک ڈیزائن بنایا جس میں جھریوں کے کنارے ختم ہو گئے ۔ اس ڈیزائین کا نام میں نے پولی گون پروفائل (Polygon Profile) رکھا ۔ یہ ڈرائینگ میں نے جرمنی بھیجی کہ اس کے مطابق ایک کھونٹی (Mandrel) بنا کر بھیج دیں ۔ کچھ ماہ بعد اُنہوں نے کھونٹی بنا کر بھیجی اور اس سے بنی ہوئی چند نالیاں بھیجیں کہ ہم اُنہیں مشین گن میں لگا کر امتحانی فائرنگ (Test firing) کریں ۔ ہم نے خود بھی اس کھونٹی کے مطابق چند نالیاں بنائیں اور ان سب نالیوں کی امتحانی فائرنگ کروائی
امتحان لینے والے سینئر انسپکٹنگ آفیسر (ایس آئی او) میجر منیر اکبر ملک تھے جو مکینیکل انجنیئر تھے ۔ 2 روز بعد بہت خوش خوش آئے ۔ بڑے تپاک سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور بولے ” آپ کو تو سونے میں تولا جانا چاہیئے ۔ وَنڈر فُل وَنڈر فُل ۔ اچھا بتاؤ کتنے کارتوس فائر کئے ہوں گے ؟”۔ میں جو اس وقت شَشدر کھڑا تھا ڈرتے ڈرتے بولا ”12000 ؟” میجر صاحب بولے ”بس س س ؟؟؟ ادھر آؤ ۔ گلے ملو“۔ مجھے بھینچ کر فارغ ہوئے تو بولے ”18000 پلس“۔ اللہ کے فضل سے بغیر سخت کروم پلیٹنگ کے ہم نالی کی 3 گنا زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جو کرومیئم پلیٹِڈ سے بھی 2000 زیادہ تھی
جرمنی کی جس کمپنی سے پاکستان نے مشین گن بنانے کا لائسنس لیا تھا اُن کے سربراہ اور ٹیکنیکل چیف جرمنی کی حکومت کے متعلقہ وزیر کو ساتھ لئے پاکستان پہنچ گئے ۔ پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے چیئرمین جنرل اُمراؤ خان اُنہیں ساتھ لئے میرے پاس آئے اور مجھے کہا ” بھوپال یہ آپ کو لینے آئے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کے پاس تو کئی ایسے آدمی ہیں ۔ ہمارے پاس صرف ایک ہے وہ بھی آپ لیجائیں گے تو ہم کیا کریں گے ۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟“ میں کہا ” آپ نے درست کہا ہے ۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا“۔ میرا بنا ہوا ڈیزائین ہمیں لائسنس دینے والی کمپنی نے بھی اپنا لیا اور جرمن افواج کو میرے بنائے ڈیزائین کی مشین گن سپلائی ہونے لگی
اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے
میں نے کمانڈنٹ آئی ڈی اے (Inspection Depot Armament) کے نام معرفت سینئر انسپکٹنگ آفیسر خط لکھا ۔ جس میں ساری روئیداد لکھ کر درخواست کی کہ چیف انسپکٹر آرمامنٹ سے اس ڈرائینگ کی منظوری حاصل کی جائے ۔ کمانڈنٹ آئی ڈی اے نے اس خط کو زبردست قسم کی سفارش (recommendation) کے ساتھ آگے بھیجا ۔ ہفتہ بعد ایس آئی او ”جاہل نالائق” اور پتہ نہیں کیا کیا بولتے ہوئے بڑے پریشان میرے دفتر میں داخل ہوئے ۔ میں نے کھڑے ہو کر پوچھا ”خیریت ؟ کیا ہوا ؟ کسے گالیاں دے رہے ہیں ؟“۔ جواب ملا ”وہی جاہل جو آجکل چیف انسپکٹر آرمامنٹ ہے“۔ پھر ایس آئی او نے بتایا کہ ڈرائینگ اس اعتراض کے ساتھ واپس آ گئی تھی کہ صرف جرمنی کی کمپنی جن سے لائسنس لیا ہے کی ڈرائینگ کی منظوری دی جائے گی
ایک طرف میری محنت یا عزت تھی اور دوسری طرف ملک و قوم کا مفاد ۔ میں نے وہ ڈرائینگ جرمنی بھیج دی کہ اپنی طرف سے مجھے بھیجیں ۔ 2 ہفتے بعد جرمنی سے ایک انجنیئر پاکستان آ گیا ۔ وہ مجھے ملنے آیا اور کہا ”یہ ڈیزائین آپ نے بنایا ہے تو اسے اپنے نام سے کیوں رجسٹر نہیں کراتے ؟” میں نے بڑی مشکل سے اسے سمجھایا تو اُس نے اپنی کمپنی کے نام سے بنی ہوئی وہی ڈرائینگ مجھے دے کر کہا ” کاش آپ جرمنی میں پیدا ہوئے ہوتے”۔
سال کے آخر میں میرے باس نے میری سالانہ رپورٹ میں لکھا
Not yet fit for promotion
پی پی پی اور ایم کیو ایم کے عوام کے ہمدرد اور خدمتگار ہونے کے دعووں پر مبنی لمبی لمبی تقاریر سُنتے کان سائیں سائیں کرنے لگے ہیں اور ٹی وی چینلز پر عوام کے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے ضیاع سے بار بار چلنے والے اشتہار دیکھ دیکھ کر آنکھیں دُکھنے کو آئی ہیں
ان کے کرتوتوں کی ایک ادنٰی سی مثال کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں واقع گورنمنٹ منیبہ میموریل اسکول ہے جس پر حکمرانوں کی پروردہ مافیا نے ایک سرکاری حُکمنامے کے تحت 12 روز قبل قبضہ کر لیا تھا اور حکمرانوں کو احساس نہیں کہ 11 روز سے اسکول بند پڑا ہے اور سالانہ امتحانات آئیندہ ماہ ہیں ۔ طلباء کا پورا سال برباد ہو جائے گا
طلباء گزشتہ 11 دن سے اسکول کے باہر روزانہ احتجاج کر رہے تھے ۔ منگل 29 جنوری کو طلباء نے ا سکول کے گیٹ کے باہر فرش پر دریاں بچھا کر کلاسیں لیں ۔ اس موقع پر اسکول کے تمام طلباء ، اساتذہ اور ان کے والدین بھی موجود تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اسی طرح پڑھیں گے۔ آخر طلباء نے سکول کے صدر دروازے پر لگا تالا توڑ دیا تاہم تا لا ٹوٹنے کے بعد جب وہ اندر پہنچے تو انہیں سخت دکھ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لینڈ مافیا اسکول کا فرنیچر اور ضروری اشیاء اور اسکول کے دروازے کھڑکیاں بھی نکال کر لے جا چکی تھی اور عمارت کا کچھ حصہ بھی توڑ دیا تھا ۔ اساتذہ نے طلبہ سے کہا کہ وہ روزانہ آئیں اور فرش پر ہی تعلیم حاصل کریں۔ وہ فرنیچر کی پرواہ کئے بغیر دریوں پر تدریسی عمل جاری رکھیں گے
اگر آپ ایک خوشی کو لے کر بار بار خوش نہیں ہو سکتے
توپھر
ایک دُکھ کو لے کر بار بار کیوں روتے ہیں ؟
میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء میں ورڈ پریس نے اسے 10 بہترین بلاگز میں سے ایک قرار دیا تھا اور بلاگ ابھی تک اپنی حثیت بحال رکھے ہوئے ہے ۔ 2012ء کی رپورٹ دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ”
قدر و قیمت کا محاورہ تو سب نے سُن رکھا ہو گا لیکن بہت کم ہوں گے جنہوں نے اس کے معنی پر غور کیا ہو گا (شاید اسلئے کہ پچھلی 4 دہائیوں سے ہمارے تعلیمی ادارے غور کرنے کی تربیت سے عاری ہیں)۔ کسی چیز کی ایک تو قیمت ہوتی ہے جسے جنسِ مبادلہ کہا جا سکتا ہے اور ایک قدر ہوتی ہے ۔ قدر کا تعلق قیمت سے نہیں ہوتا بلکہ قیمت سے مبرّا دوسرے اوصاف سے ہوتا ہے جو قیمت سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں ۔ قدر قیمت کے برابر ۔ قیمت سے کم یا قیمت سے زیادہ ہو سکتی ہے اور بعض اوقات قیمت سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جس کے پاس زر کی فراوانی ہو وہ بیش قیمت چیز کی بھی قدر نہ کرے
آمدم بر سرِ مطلب ۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد پاکستانی ایک روپیہ بھارت کے ایک روپے کے برابر تھا ۔ چند سال بعد پاکستانی روپے کی قدر بڑھنے لگی اور ایک دہائی بعد پاکستانی ایک روپیہ بھارت کے ایک روپیہ 15 پیسے کے برابر ہو گیا اور یہ تناسب کم از کم 1969ء تک قائم رہا ۔ البتہ کھُلے بازار میں (open market) ایسا وقت بھی آیا تھا کہ ایک پاکستانی روپے کے بھارتی ایک روپیہ 30 پیسے تک مل جاتے تھے
پاکستان بننے سے قبل سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں ہندوستان کا روپیہ اُن کے مقامی سکوں کی طرح چلتا تھا ۔
پاکستان بنا تو اس کی جگہ پاکستانی روپے نے لے لی ۔ پہلی ایک دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر اتنی بڑی کہ ایک پاکستانی روپے کا سوا سعودی ریال ملتا تھا اور خلیجی ریاستوں میں اس سے بھی زیادہ درہم ملتے تھے
آجکل ہر طرف ڈالر کا رَولا ہے ۔ ماضی میں پاکستانی روپیہ بھی امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کی طرح قابلِ قدر تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے کرنسی نوٹ پر گورنر بینک دولتِ پاکستان کی طرف سے لکھا ہوتا تھا ”میں وعدہ کرتا ہوں کہ حاملِ ھذا کو جس دارالاِجراء سے وہ چاہے عندالطلب مبلغ ۔ ۔ ۔ روپیہ ادا کروں گا“۔ دیکھیئے 1972ء سے پہلے کے 10 اور 100 روپے کے نوٹ

یہاں ”جس دارالاجراء سے وہ چاہے“ کا مطلب ہے کہ جس مُلک کی کرنسی میں وہ مانگے ۔ یہی وجہ تھی کہ اُس دور میں یعنی 1971ء تک اگر کسی غیر ملک میں جانا ہو تو غیر ملکی زرِ مبادلہ ڈالر یا پاؤنڈ وغیرہ حاصل کرنے کا کوئی چکر نہیں ہوتا تھا ۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ مشرق وسطہ میں دُکاندار اپنے مال کے عوض روپے کے نوٹ پوری قیمت پر لے لیتے تھے ۔ یورپ میں خاص خاص دُکاندار بھی ایسا ہی کرتے تھے اور کسی بنک میں جا کر روپے دے کر اس کے بدلے بغیر کسی نقصان کے مقامی کرنسی حاصل کی جا سکتی تھی
یہ سلسلہ بوجوہ 1972ء میں ختم ہو گیا اور پاکستانی کرنسی پر تحریر امتیازی وعدہ بھی چھپنا بند ہو گیا ۔ موجودہ کرنسی کے نوٹ دیکھیئے جن میں سے 100 اور 500 روپے کے نئے نوٹوں کی تصاویر نچے دی گئی ہیں

ان پر لکھا ہے ”حاملِ ھذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا“۔ اس میں ایک تو صرف روپے ہی ادا کرنے کا وعدہ ہے اور دوسرے واضح نہیں کہ کون ادا کرے گا ؟
اگر مُلک کے حکمران مُلک کی آمدن سے کم خرچ کریں تو کرنسی کی قدر بڑھتی ہے ۔ ایسی کرنسی کو مضبوط کرنسی کہا جاتا ہے ۔ کرنسی کی قدر کے ساتھ اس کی قیمت بھی بڑھنے لگتی ہے جیسا کہ پاکستان بننے کے بعد 2 دہائیوں تک ہوا ۔ اگر مُلک کے حکمران مُلک کی آمدن سے زیادہ خرچہ کریں تو کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنے سے کرنسی کی قیمت گرتی جاتی ہے ۔ حکمران مُلک کو جتنا زیادہ نقصان پہنچائیں گے کرنسی کی قیمت اتنی ہی
تیزی سے گرے گی ۔ پاکستانی روپیہ قیمت کے لحاظ سے تو اب بھی 100 پیسے کے برابر ہے ۔ نظر ڈالتے ہیں اس کی قدر کے سفر پر
پاکستان بننے سے لے کر 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت بننے تک ساڑھے 23 سال (باوجود امریکی ڈالر کی قدر بڑھنے کے) ایک امریکی ڈالر 4.75 روپے کے برابر رہا
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے 1972ء میں اچانک روپے کی قیمت کم کر دی اور ایک امریکی ڈالر 11 روپے کا ہو گیا ۔ پھر چند ماہ بعد دوبارہ تبدیلی کر کے ایک امریکی ڈالر 9.90 روپے کا کر دیا گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 48 پیسے رہ گئی
ضیاء الحق کی حکومت کے دوران 1988ء تک 11 سال میں ایک امریکی ڈالر 17 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 28 پیسے رہ گئی
بینظیر بھٹو کی حکومت کے پہلے دور میں 1990ء تک 2 سال میں ایک امریکی ڈالر 22 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 21.6 پیسے رہ گئی
نواز شریف کی حکومت کے پہلے دور میں 1993ء تک ایک امریکی ڈالر 25.69 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 18.5 پیسے رہ گئی
بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوسرے دور میں 1996ء تک ایک امریکی ڈالر 40.22 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 11.8 پیسے رہ گئی
نواز شریف کی حکومت کے دوسرے دور میں 1999ء تک ایک امریکی ڈالر 51.75 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 9 پیسے رہ گئی
پرویز مشرف کی حکومت میں 2008ء تک ایک امریکی ڈالر 62 روپے کا ہو گیا ۔ یعنی روپے کی قدر 7.6 پیسے رہ گئی
آصف علی زرداری کی پونے 5 سالہ دورِ حکومت میں ایک امریکی ڈالر 97.75 روپے کا ہو گیا ہے ۔ یعنی روپے کی قدر 4.8 پیسے سے بھی کم رہ گئی ہے
یعنی 1971ء میں جس چیز کی قیمت ایک روپیہ تھی وہ چیز اب کم از کم 21 روپے کی ہے
* * * * * * * * * * * ذہین آدمی وہ نہیں ہوتا
جو صرف یہ جانتا ہو کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے
* * * * * * * ذہین آدمی وہ ہوتا ہے
جو کچھ اچھا دیکھے تو اُسے اختیار کرے
اور
جو کچھ بُرا دیکھے اُس سے اجتناب کرے