Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

ہم تھے بے خبر

ایسی بات نہیں ہے کہ ہم بے خبر تھے اور ہمیں کسی سے یا کسی کو ہم سے عشق ہو گیا تھا

بات یہ ہے بیکار بیٹھے کبھی کبھی ایسی چیز پر نظر پڑ جاتی ہے جس کی کبھی پروہ ہی نہ کی ہو یا جسے کبھی قابلِ التفات ہی نہ سمجھا ہو ۔ میں بیکار تو کبھی نہیں ہوا البتہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔ آج صبح سویرے ہی گرمی نے ایسا تپایا (گھر کے اندر صبح 4 بجے درجہ حرارت 33.7 سیلسِئس یا سینٹی گریڈ تھا) ۔ ناشتہ کر کے ساڑھے 7 بجے فارغ ہوا ۔ باہر گیا کہ اخبار اُٹھا لاؤں اور اس میں گُم ہو جاؤں مگر ایسی قسمت نہ تھی

8 بجے بجلی حسبِ معمول بھاگ گئی جو ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ غائب رہتی ہے ۔ 9 بجے بجلی صاحبہ تشریف لائیں تو کمپیوٹر چلا کر ڈاک دیکھی مگر کچھ نہ پایا ۔ اپنا بلاگ کھول کر اس پر بیزار سی نظر ڈالنا شروع کی تو ایک جگہ لکھا پایاmeter.asp

وقت گذارنے کی خاطر کمپیوٹر کا حسابدان (calculater) کھولا اور حساب لگانے لگا
مئی 2005ء ۔ 26 دن ۔ یکم جون 2005ء تا 31 مئی 2013ء ۔ 2922 دن ۔ جون 2013ء ۔ 10 دن ۔ کُل 2958 دن
2958 دنوں میں 302859 لوگوں نے میرے بلاگ کی کوئی نا کوئی تحریر پڑھی
چنانچہ ایک دن میں اوسط 102 سے زائد قارئین نے میرے بلاگ کو پڑھا
گویا ہم بھی ہوگئے پھنے خان

طرزِ عمل

جنگ ہمیشہ آدمیوں کے درمیان ہوتی ہے ۔ جذبے یا تصوّر کو نہ تو ہلاک کیا جا سکتا ہے اور نہ یرغمال بنایا جا سکتا ہے

مُشکل دور عقدہ کُشائی مانگتا ہے نہ کہ نہ ختم ہونے والی مُشکلات کی تکرار

جو یقین رکھے کہ وہ بچ نہیں سکتا ۔ عام طور پر نہیں بچتا

کیا نیکی ابھی بھی زندہ ہے ؟

آدمی کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی اور لمحہ بھر کیلئے ہوتے ہیں مگر یاد رہ جاتے ہیں

واقعہ
دس بارہ سال قبل میں اور چھوٹا بھائی راولپنڈی میں کچھ سودا سلف لینے گئے ۔ پرانی سبزی منڈی کے باہر بازار تلواڑاں میں ہم نے کار کھڑی کی اور پرانی سبزی منڈی میں داخل ہوئے ۔ ہم جا رہے تھے کہ ایک کار پیچھے سے آئی ۔ سب حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ کار کیوں اس بھیڑ والے بازار میں آئی ہے ۔ چھابڑی والوں کو مشکل پڑی تھی ۔ چلانے والا نوجوان تھا اور گو آہستہ مگر کار کو دھنساتا ہی چلا جا رہا تھا ۔ میں ایک دم ایک طرف ہوا مگر اس نے خیال نہ کیا اور پہیہ میری ٹانگ سے ٹکرایا ۔ دوسری طرف چھابڑی تھی جس سے میری ٹانگ زخمی ہو گئی ۔ میں ٹانگ کو دیکھ رہا تھا کہ نوجوان نے کار کا شیشہ کھول کر کہا “اندھے ہو ۔ نظر نہیں آتا”۔ میں نے اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا ۔ کچھ دیر بعد ایک سفید ڈاڑھی والے صاحب نے آ میرا راستہ روکا اور بولے ” تم کون ہوتے ہو میرے بیٹے کو تھپڑ مارنے والے ۔ میں تمہیں مزا چکھاتا ہوں”۔ میرا بھائی بیچ میں آ گیا ۔ کچھ لوگ جوشاہد تھے وہ بھی بیچ میں آ گئے تو میں بچ گیا

وہاں سے ہم دوسرے بازار میں چلے گئے اور ایک دکان سے خریداری کر رہے تھے کہ وہی سفید داڑھی والے صاحب آئے اور معافی مانگتے ہوئے بولے ” مجھ سے غلطی ہوئی ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بیٹے کی گاڑی نے آپ کو ٹکر ماری تھی ۔ میں نے بیٹے سے پوچھا کہ ” اُنہوں نے تمہیں کیوں تھپڑ مارا ؟ تواس نے بتایا ۔ مجھے معاف کر دیجئے ۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا”۔

واپسی پر ہم دونوں بھائی کہہ رہے تھے کہ نیکی ابھی زندہ ہے

اُلجھن سے نکلیئے

آزادی کا مطلب جو چاہو سو کرو نہیں ہے ۔ آزادی کا مطلب دستِ نگر نہ ہونا ہے

ایک حکومت بننے سے آزادی کی ضمانت نہیں مل جاتی اور نہ ہی کوئی بہتری از خود آتی ہے ۔ بہتری کیلئے خلوصِ نیت سے لگاتار محنت ضروری ہے

کسی کو قصور وار ٹھہرانے کا فیصلہ اور مسئلے کا حل ایک ہی چیز نہیں ہیں ۔ مسئلے کا حل اپنے بہتر عمل اور دوسروں کی بہتری کی طرف مدد میں ہے

ہم قوم کو سُست ۔ بیوقوف یا کرپٹ ہونے پر بُرا کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم خود بھی اس میں شامل ہیں

برادری نظام ۔ دوسری اور آخری قسط

پہلی قسط 24 مئی 2013ء کو لکھی تھی
میرے دادا کے دور میں دو بہت کٹھن معاملات بطور چوہدری اُن کے سامنے آئے ۔ ایک بھتیجی کی طلاق اور ایک دوسری بھتیجی کی شادی کا ۔ پہلی بھتیجی کی شادی ہونے کے بعد اس کا خاوند گھر سے بھاگ گیا اور کچھ دن بعد اس کا خط اس کے سسرال میں موصول ہوا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کو ہمیشہ اپنی بہن سمجھتا رہا اسلئے اُسے اپنی بیوی نہیں سمجھ سکتا اور اسے طلاق دے رہا ہے ۔ پنچائت بلائی گئی جس میں فیصلہ ہوا کہ لڑکے کے والدین کا تین ماہ کیلئے حقہ پانی بند کیا جائے اور تین ماہ ختم ہونے سے پہلے وہ مطلقہ لڑکی کی شادی کا مناسب بندوبست کریں ورنہ اُنہیں برادری سے نکال دیا جائے گا ۔ یہ واقعہ میرے والد صاحب کی طالب علمی کے زمانہ کا ہے

میرے نانا کے تین بھائی اور ایک بہن تھی جو میری دادی تھیں ۔ جب میری والدہ پیدا ہوئیں تو میری دادی نے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کو چُن لیا ۔ جب میرے والد نے میٹرک کرنے کے بعد میرے دادا کا کاروبار سنبھالا تو میرے دادا کی بھابھی نے اپنے خاوند کو کہا کہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرو ۔ میرے دادا سے بات کرنے پر اُنہیں معلوم ہوا کہ میری دادی اپنے بیٹے کا رشتہ اپنی بھتیجی سے طے کر چکی ہے ۔ اس پر میرے دادا کے بھائی جو میرے دادا سے بڑے تھے نے کہا کہ ہمارے فلاں رشتہ دار کے بیٹے کا کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے وہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے ۔ تم اس لڑکے کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ طے کرا دو جو کہ میرے دادا نے کرا دیا ۔

متذکرہ بالا لڑکے کی ماں جس نے دوسری بھتیجی کو طلاق دی تھی اور دادا نے جس بھتیجی کی شادی کرائی اس کی ماں آپس میں بہنیں تھیں ۔ اُن کے خاندان نے میرے دادا کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ۔ صحت کے علاوہ میرے دادا کی سُبکدوشی کی وجہ یہ تھی

برادری نظام میں کبھی کبھی دلچسپ واقعات بھی ہوتے ۔ جب میرے دادا نے چوہدری کی ذمہ داری سے سُبکدوشی اختیار کی تو جس شخص کو چوہدری بنایا گیا وہ متذکرہ بالا طلاق دینے والے لڑکے کا چھوٹا بھائی تھا کیونکہ میرے دادا سے پہلے اُن کے والد برادری کے چوہدری تھے اور اُن کے عزیز و اقارب ہی میرے دادا کے خلاف شور کئے ہوئے تھے ۔ وہ اُنہی دنوں سوڈان میں اپنا کارو بار اپنے بڑے بیٹے کے حوالے کر کے وطن واپس آئے تھے ۔۔ یہ واقعہ پاکستان بننے سے چند سال پہلے کا ہے ۔ بہرکیف چوہدری بننے کے بعد بھی وہ اپنے قریبی عزیزوں کو درست نہ کر سکے

غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے اُن کے خاندان کے ساتھ ہمارے خاندان کی بول چال بند ہو گئی ۔ کچھ سال بعد شائد 1950ء کی بات ہے اُنہوں نے کسی ذریعہ سے والد صاحب کو مع بیوی بچوں کے اپنے گھر ضیافت پر بُلوایا ۔ جب ہم سب کھانا کھا چکے تو انہوں نے اپنی پگڑی اُتار کر میرے والد صاحب کے سر پر رکھ دی اور کہا “بھائی ۔ یہ پگڑی آپ ہی کے سر پر اچھی لگتی ہے ۔ آپ یہ ذمہ داری سنبھالیں ۔ مجھے حالات معلوم نہ تھے ۔ آپ لوگ سچے ہیں اور میرے خاندان والے جھوٹے ۔ انہوں نے مجھے بہکا دیا تھا”۔

میں جب انجنیئرنگ کالج میں فرسٹ ایئر میں تھا تو جن صاحب نے چوہدری کی پگڑی میرے والد کے سر پر رکھی تھی اُن کی پوتی کی شادی ہونا تھی ۔ اُنہوں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ آ کر سارا بندوبست کریں ۔ اُن دنوں والد صاحب کی صحت ٹھیک نہ تھی سو اُنہوں نے معذرت کی ۔ انہوں نے کہا “اجمل کو بھیج دیں” ۔ والد صاحب نے کہا “اجمل ابھی بچہ ہے” تو اُنہوں نے کہا “جس کا دادا برادری کا بہترین چوہدری تھا اور باپ بھی چوہدری ہے وہ انتظام اچھا کر سکتا ہے ۔ آگے دو چھٹیاں اکٹھی آ رہی ہیں ۔ ہم اس کی سہولت کی خاطر شادی ان چھٹیوں میں رکھ دیتے ہیں”۔ والد صاحب نے حُکمنامہ جاری کر دیا اور مجھے وہاں اپنے انتظامی جوہر دکھانا پڑے لیکن میری کامیابی کا سبب وہ بزرگ ہی تھے

انگریز حُکمرانوں کی سازش اور مادہ پرستی کی وجہ سے برادری نظام میں خودغرضی عود آئی اور یہ نظام بدنام ہو گیا ۔ اس کے باوجود اگر یہ نظام بحال رہتا تو فعال بن سکتا تھا ۔ لیکن جدیدیت کے شوق نے جوانوں کو غلط راستے پر دھکیل دیا اور یہ نظام عملی طور پر ختم ہو گیا گو کہ برائے نام برادریاں ابھی چل رہی ہیں ۔ بہت سے جدیدیت کے پرستار راہی ءِ مُلکِ عدم ہو چکے ہیں جو باقی ہیں وہ اب صرف سُہانے وقتوں کی کہانیاں سُنا کر شائد اپنے دل کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو برادری نظام ایک فطری نظام تھا اور دین سے بھی اس کی قربت تھی جس کا اشارہ قرآن شریف میں ملتا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 35 اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 59مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب امر ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول [کے حکم] کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھا ہے

مسلمان کا مطلب کیا ہے ؟

دو پاکستانی لڑکیاں ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار حصول تعلیم کی غرض سے برطانیہ گئی تھیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار جن کی عمریں اب بالترتیب 34 سال اور 29 سال ہیں نے چند ہفتے قبل لیڈز (برطانیہ) میں سول پارٹنر شپ رجسٹرڈ کرالی یعنی ہم جنس شادی رچا لی
اخبار کے مطابق وہ برطانیہ میں شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی پہلی مسلمان ہم جنس پرست خواتین بن گئیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار نے حکومتِ برطانیہ کو پناہ (Asylum) کیلئے درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ
”پاکستان واپسی پر ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے“۔
مزید ریحانہ کوثر کا کہنا ہے کہ اس ملک (برطانیہ) نے ہمیں ہمارا حق دیا اور ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی ذاتی ہے ہم نجی زندگی میں کیا کرتے ہیں کسی اور کو اس میں مداخلت کا حق نہیں

عرضِ بلاگر
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ان عورتوں کو مسلمان کس بنا پر کہا گیا ؟

اگر بنیاد نام ہے تو ایک لڑکی کے نام کے ساتھ ”کمار“ لکھا ہے جو ہندوؤں کا نام ہے چناچہ وہ غیر مُسلم ہو سکتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ عرب ۔ افریقہ ۔ امریکہ اور یورپ میں بھی ایسے غیر مُسلم بستے ہیں جن کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ بارک حسین اوبامہ کو ہی لے لیجئے

فرض کیجئے کہ وہ مسلمان والدین کے گھروں میں پیدا ہوئیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ مسلمان کا بچہ بھی مسلمان ہو ؟
سیّدنا نوح علیہ السلام اور طوفان میں غرق ہونے والے اُن کے بیٹے کی مثال ہمارے سامنے ہے

میرے مطالعے اور تجربے کے مطابق مسلمان یا مُسلم اُسے کہا جاتا ہے جو اللہ کا مُسلم یعنی تابع ہو اور جو اللہ کے چند بڑے احکام میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کرے اور توبہ نہ کرے یا اس کی تکرار کرے وہ مسلمان نہیں ہوتا
ان عورتوں نے جس عمل کی بنیاد ڈالی ہے اس بناء پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سیّدنا لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا تھا ۔ ان میں سیّدنا لوط علیہ السلام کی بیوی بھی شامل تھی جس نے ایسے لوگوں کی صرف حمائت کی تھی

جب یہ عورتیں مسلمان ہی نہیں تو کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا کہ اُن کے معاملات میں مداخلت کرے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کردار

بند کمرے میں ہوں تو
جس طرح چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں سے آتی سورج کی کِرنیں سورج کے مزاج کا پتا دیتی ہیں

اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اُس کے کردار کو عیاں کرتی ہیں

اپنے کہے الفاظ اور حرکات جنہیں آپ معمولی سمجھتے ہیں اِن پر نظر رکھیئے یہی آپ کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں