سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی
آجکل کچھ لوگ بڑے کرّ و فر سے دین اسلام پر رائے زنی کرتے ہیں ۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کہتے کیا ہیں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہ دین اسلام پر رائے دینے کا استحقاق رکھتے ہیں
کسی بھی چیز کا استحقاق رکھنے کیلئے کچھ شرائط ہوتی ہیں ۔ عام طور پر سُنا یا پڑھا ہو گا کہ فلاں رُکن اسمبلی نے تحریکِ استحقاق پیش کی ۔ اس شخص کو یہ استحقاق ایک بنیادی شرط پوری کرنے پر ملتا ہے اور وہ شرط ہے کہ انتخابات میں حصہ لے کر جیتے پھر رُکن بننے کاحلف اُٹھائے
اسی طرح کسی مریض کے علاج یا میڈیکل سائنس کے معاملات پر رائے دینے کا استحقاق صرف اُس شخص کو ہے جسے ہم ڈاکٹر کہتے ہیں کیونکہ اس نے بنیادی شرط یعنی میڈیکل سائنس کی مطلوبہ سند حاصل کر کے اپنی رجسٹریشن مجاز ادارے میں کرائی ہوتی ہے ۔ یہی صورتِ حال انجنیئرنگ پر رائے دینے یا انجیئرنگ کا کام کرنے کی ہے اور قانون دان کی بھی
کبھی میڈیکل سائنس پر انجينئر کی رائے یا انجنیئرنگ پر ڈاکٹر کی رائے معتبر نہیں مانی جاتی ۔ نہ کسی قانون کی سند رکھنے والے کی رائے میڈیکل سائنس یا انجنیئرنگ سائنس کے اصول و ضوابط پر معتبر مانی جاتی ہے خواہ اُس کے پاس قانون کی سب سے اُونچی سند ہو ۔ نہ قانونی باريکيوں پر کسی بڑے سے بڑے ڈاکٹر یا انجنیئر کی بات کوئی سُنے گا ۔ بس ايک دين ہی ہے جس پر ہر نيم خواندہ و ناخواندہ رائے زنی کرنا اپنا فطری و بنيادی یا جمہوری حق سمجھتا ہے
بلاشبہ دين آسان ہے ليکن پہلے دين کا فہم تو حاصل کيا جائے ۔ جس کو دين کا مکمل فہم حاصل ہے وہ عالِمِ دین ہے یعنی ایسا شخص جس نے دین میں مطلوبہ تعلیم حاصل کی ہوتی ہے ۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہند وپاکستان میں بغیر متذکرہ شرط پوری کئے کسی داڑھی والے کو امام مسجد بنا دیا جاتا ہے جو کہ درست نہیں ہے ۔ امام مسجد دین کا سند یافتہ شخص ہی ہونا چاہیئے ۔ بہر کیف امام مسجد نہیں بلکہ عالِمِ دین دينی معاملات ميں رہنمائی کرنے کا حق رکھتا ہے جس کیلئے امام مسجد ہونا ضروری نہیں ہے البتہ پاکستان میں ایسے امام مسجد ہیں جو دین پر رائے کا استحقاق رکھتے ہیں یعنی دین کی مطلوبہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور دین کا فہم رکھتے ہیں
اللہ کريم کا ارشاد ہے ”ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ “ (سورت 39 ۔ الزُّمَر ۔ آیت 9) يعنی کيااہلِ علم اور بے علم برابر ہوسکتے ہيں؟ مطلب یہی ہے نہيں ہوسکتے ۔ اسی طرح ايک اور ارشادِ باری تعالٰی ہے ” فَاسْأَلُوا أَھْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ “(سورت 16 النّخل ۔ آیت 43) ترجمہ ۔ پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو
نبي پاک ﷺ کے دور اقدس ميں ہر چند کہ صحابہ کرام اہل زبان تھے ليکن قرآن شریف کے فہم کے لئے رسول اللہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے اور ان کے منتخب تربيت و تعليم يافتہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے رجوع کرتے تھے جنہيں دربار ِ رسالت سے اذن تھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کے وصال کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے بعد تابعین پھر تبع تابعين ہر دور ميں لوگوں کی دينی رہنمائی کے لئے اپنے اپنے دور کے علما کرام سے رجوع کرتے رہے حالانکہ قرآن و حديث ان کی اپنی زبان ميں موجود تھے
جو شخص دین پر رائے زنی کا شوق رکھتا ہے وہ اپنا شوق ضرور پورا کرے ليکن پہلے دين کے فہم کے لئے مکمل وقت دے کر اسے صحيح معنوں ميں سمجھے ۔ جو حضرات اپنے شُبہات کو واقعی دور کرنا چاہتے ہيں اوراپنی غلط فہميوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہيں تو اس سلسلے ميں کم از کم قرآن شریف مع ترجمہ اور تفسیر انہماک کے ساتھ نیک نیتی سے مطالعہ کر لیں ۔ ایسا کرنے کے بعد اِن شاء اللہ اُنہیں بہت کچھ خود ہی سمجھ آ جائے گا اور اعتراض کی حاجت باقی نہیں رہے گی
وما علينا الا البلاغ المبين