Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ زبان

نادان کی زبان اُس کی مالک

اور

عقلمند اپنی زبان کا مالک

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے میڈیا بنجمن کا اوباما سے سوال

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

پاکستان میں سزائے موت ختم کرنے کی خواہش مند این جی اوز اور وکلاء کمیونٹی بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کا ساتھ دینے کے جرم میں تھوک کے حساب سے موت کی سزائیں دینے کی کارروائی پر خاموش ہیں اور صرف حکمران ہی نہیں سیاستدان، انسانی حقوق کے ادارے اور ظلم ، زیادتی، ناانصافی کے خلاف بڑھ چڑھ کر لکھنے، بولنے اور تڑپنے والے دانشور، قلمکار اور کالم نگار بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں ۔ کچھ سیاسی و مذہبی تعصب کے سبب، کسی کو بھارت کاخوف دامن گیر اور کوئی فوج سے بغض و عناد کی وجہ سے خوش ہیں کہ ”ہَور چُوپو“۔

پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور قتل و غارت گری کے مرتکب کسی مستند جاسوس کو عدالتی سزا ملے تو بھارتی حکومت باضابطہ احتجاج کرتی ہے ۔ توہین رسالت کے مرتکب افراد کی مدد کو امریکہ برطانیہ اور دنیا جہاں کے ادارے آتے ہیں اور پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا جذبہ انسانی ہمدردی عود کر آتا ہے ۔ مگر ڈھاکہ میں ہزاروں سیاسی قیدیوں، معمر افراد کو عمر قید اور موت کی سزا دینے اور سڑکوں پر عوام کو گولیوں سے بھوننے پر کسی کو اعتراض نہیں ۔ کوئی اپنے اردگرد موجود بھارتی شردھالوؤں اور نام نہاد ترقی پسندوں سے مرعوب ہے اور کسی کو امریکہ و یورپ کی ناپسندیدگی کا خدشہ ہے

بنگلہ دیش میں ان دنوں دارورسن کا موسم ہے ۔ 1971ء میں اپنے وطن کو متحد رکھنے، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کا ساتھ دینے کے جُرم میں مولانا دلاور حسین سعیدی، مولانا غلام اعظم، محمد قمر الزمان اور احسن مجاہد کو سزائے موت سنائی گئی ہے اور درجن بھر افراد عمر قید کے مستحق ٹھہرے۔ جیلیں سیاسی قیدیوں سے بھر چکی ہیں۔ فوج کے 70 کے قریب میجر جنرل سے میجر تک کے افسروں کو نام نہاد بغاوت کی آڑ میں ذبح کرنے کے علاوہ ان کی بیوییوں، بچیوں، ماؤں، بہنوں کی آبروریزی اور قتل کے واقعات ہو چکے ہیں تاکہ فوج کو بھارت مخالف عناصر سے پاک کیا جاسکے مگر پاکستان میں کسی کو ان واقعات کا تفصیلی علم ہے نہ مظلوموں سے ہمدردی اور نہ پاکستان سے وفاداری کے تقاضے نبھانے والوں کی کوئی فکر ۔ کیوں؟ اس لئے کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہ فلسفے اور تصور سے ہم نے توبہ کرلی ہے اور ایک طرف آرام سے بیٹھ کر دہی کھانے میں مگن ہیں

مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی منتخب حکومت کے خاتمے اور فوجی مداخلت پر بھی ہمارا رویہ کم و بیش یہی رہا ۔ جن لوگوں کو 12 اکتوبر اور 3 نومبر کے اقدامات پر آرٹیکل 6 یاد آتا ہے اور وہ جنرل پرویز مشرف کو فوجی مداخلت پر سزائے موت سنانے کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں بھی جنرل عبدالفتاح السیسی کے اقدام پر مذمت تو کیا لب کشائی کی توفیق نہیں ہوئی ۔ غلام اعظم اور مرسی کا قصور اس کے سوا کیا ہے کہ ” اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں“۔

واقعی پاکستان کبھی ایسا تھا مولانا ظفر علی خان کے الفاظ ”اخوت اس کو کہتے ہیں۔ چبھے کانٹا جو کابل میں تو دہلی کا ہر اک پیر و جواں بے تاب ہو جائے “۔
ترکی کی فوجی حکومت نے سابق وزیراعظم عدنان میندریس کو سزائے موت سنائی تو اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ، صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا خط لے کر انقرہ پہنچ گئے کہ ”سزائے موت پر عمل نہ کیا جائے“۔
اخوان المسلمون کے مرشد سیّد قطب کو کرنل جمال عبدالناصر نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا اور سولی پر لٹکایا تو پاکستان کے حکمران، سیاستدان، دانشور، قلمکار اور صحافی تڑپ اٹھے۔ اخبارات میں اداریئے، مضامین اور کالم شائع ہوئے اور اس اقدام کی مذمت کی گئی

ہماری سیاسی، مذہبی، سماجی قیادت کی اس کوتاہ اندیشی، بے حمیتی اور بزدلی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ گیدڑوں کی طرح 100 سال جینے کی آرزو نے ہمیں اس حال کو پہنچا یا ہے ورنہ پاکستان ہمیشہ ایسا نہ تھا ۔ کابل میں سردار داؤد نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بیان دیا تو بھٹو صاحب نے ملک میں ہڑتال کرائی اور قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلا کر مذمت کی ۔ شیخ عبداللہ کی گرفتاری اور مقبول بھٹ کی پھانسی پر بھی تاریخی ہڑتال سب کو یاد ہے اورویت نام، فلسطین،افریقی ممالک میں حریت پسندوں کے حق میں مرثیے، نوحے اور رزمیہ
نظمیں کل کی باتیں ہیں ۔ تب ہم اسلامی اور عالمی برادری کا حصہ تھے اور حق کا علم بلند کرنے والوں کے ساتھ، ظلم ، جبر، ناانصافی اور استحصال کے خلاف۔ تب ہماری سب سنتے تھے۔ اب ہم حال مست ہیں اس لئے بولنے کے قابل نہ کوئی سننے کو تیار

ارشاد احمد عارف کی تحریر سے اقتباس

گھوڑ سوار ؟ ؟ ؟

Two legOne leg
Legs on ground
اگر کسی شخص کا بُت گھوڑے پر سوار بنایا گیا ہو تو ۔ ۔ ۔

گھوڑے کی اگلی دونوں ٹانگیں ہوا میں ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شخص جنگ کے دوران مارا گیا

گھوڑے کی اگلی ایک ٹانگ ہوا میں ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شخص جنگ میں کھائے ہوئے زخموں کی وجہ سے مرا تھا

گھوڑے کی چاروں ٹانگیں زمین پر ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شخص طبعی موت مرا تھا

بدلئے ۔ اِن اصولوں کو

آپا دھاپی چھوڑیئے
سیاست چمکانا چھوڑیئے
مُلا کی داڑھی نوچنا بیکار ہے

تبدیلی کے شیدائیو

اگر کچھ کرنا ہے تو
اِن اصولوں کو بدلیئے
جو اس سارے فساد کی جڑ ہیں
اور
دنیا کے ایک فیصد لوگوں نے بنائے ہیں

آپ کی عزتوں اور زندگیوں کے سوداگر یہ ایک فیصد لوگ
دنیا کے 90 فیصد لوگوں کو آپس میں دست و گریباں کئے ہوئے ہیں

یہاں پر کلِک کیجئے پھر تکون پر کلِک کر کے وڈیو کو چلایئےاور سمجھنے کی کوشش کیجئے
سپیکر آن کرنا نہ بھُولئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ بُرائی ۔ اچھائی

بُرائی کی مثال پہاڑ سے اُترنے کی ہے
ایک قدم اُٹھاؤ تو باقی اُٹھتے چلے جاتے ہیں

اچھائی کی مثال پہاڑ پر چڑھنے کی ہے
ہر قدم پچھلے قدم سے مُشکل لگتا ہے
لیکن ایک قدم چڑھنے پر مزید چڑھنے کو جی چاہتا ہے
اور آدمی بلندی (کامیابی) کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے

خود کُش دھماکہ یا ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

دو روز قبل کراچی کے علاقے گرومندر کے علاقہ میں دھماکے کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے صدر آصف علی زرداری کے چیف سیکیورٹی آفیسر بلال شیخ کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ گاڑی سے اُترے اور خود کُش بمبار نے اپنے آپ کو اُڑا لیا

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق
بلال شیخ کے سر اور منہ پر گہرے زخم ہیں
جسم کا بایاں حصہ بُری طرح متاثر ہوا
پیٹ کے اُوپری حصے پر گہرا کٹ (cut) موجود ہے
ٹانگوں پر گھٹنوں سے اُوپر زخم آئے ہیں

تاہم
بلال شیخ کے جسم سے بال بیئرنگ اور پَیلٹس نہیں ملے
دھماکے کے وقت بلال شیخ گاڑی سے نہیں اُترے تھے
بلال شیخ کے جسم پر بُلٹ پروف شیٹ سے بھی زخم آئے

رمضان کریم

سب مُسلم بزرگوں بہنوں بھائیوں بھتیجیوں بھتیجوں بھانجیوں بھانجوں پوتيوں پوتوں نواسيوں نواسوں کو اور جو اپنے آپ کو اِن میں شامل نہیں سمجھتے اُنہیں بھی رمضان کريم مبارک

اللہ الرحمٰن الرحيم آپ سب کو اور مجھے بھی اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے

روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے ۔ اللہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت سے نوازے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185

اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو
‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے رمضان کی فضيلت سورت ۔ 97 ۔ القدر ميں بيان فرمائی ہے

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے
اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حُکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اُترتے ہیں
یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے