Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

آئی کیو ؟

حاصل تقسیم ذہانت (Intelligence Quotient) المعروف آئی کیو کا گفتگو میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اسے کہیں جدید تعلیم کہیں سائنس اور کہیں آزاد خیالی سے جوڑا جاتا ہے

میں لڑکپن اور جوانی میں قرآن شریف پڑھتا تو سوچ میں پڑھ جاتا کیونکہ مجھے کچھ یوں سمجھ آتی کہ عقل اور ذہانت کا معیار یہ ہے کہ کوئی کتنا اللہ کے فرمان کو سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے

میں اسی ادھیڑ بُن میں لگا رہتا کہ ذہانت کا معیار اللہ کے فرمان کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے یا کہ کوئی ریاضی ۔ طبیعات یا کیمیاء کے امتحان میں کتنے زیادہ نمبر لیتا ہے ؟ گو ان مضامین میں میرا شمار اپنی جماعت کے چاروں حصوں کے 200 لڑکوں میں سے صرف چند بہترین میں ہوتا تھا

وقت گذرتا گیا اور اللہ کی مہربانی سے عُقدے کھُلتے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص سکول ۔ کالج اور پھر یونیورسٹی کے سب امتحانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے کامیاب ہوا اور ڈاکٹر یا انجیئر بن گیا مگر بعض اوقات سادہ سی بات بھی اس کی سمجھ میں نہ آتی ۔ یہی نہیں اگر سوائے اس کے کہ جو اس نے پڑھا تھا اُسے کوئی سوال ان مضامین کی حدود میں بھی پوچھو تو بیگانہ لگے ۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک نو دس سالہ بچہ بیٹھا تھا وہ مسکرانے لگا ۔ اُسے پوچھا تو اس نے بتا دیا کہ ”آپ یہ کہہ رہے ہیں اور اس سے یہ ایسے ہو جائے گا“۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے ایک استاذ صاحب نے ایک بار کہا تھا ”پڑھائی میں محنت کچھ اور چیز ہے اور ذہانت کچھ اور“۔

کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں نظامِ تعلیم ناقص ہے ۔ لیکن اس کا اثر تو ہر ایک پر ہوتا ہے خواہ وہ ذہین ہو یا نہ ہو ۔ میں نے اوپر جو تجربہ بیان کیا ہے اس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جرمن انجیئر بھی جن کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے

بات اسی پر پہنچتی ہے کہ ذہین آدمی حقائق کو پہچانتا ہے اور ان کی تہہ کو پہنچتا ہے ۔ وہ ایک طرف اگر سائنس میں نئی دریافتیں کر سکتا ہے تو دوسری طرف اللہ کو بھی درست طریقے سے پہچانتا ہے ۔ اور قرآن شریف اللہ کا کلام ہے ۔ اللہ خالق و مالک ہے ۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ انسان کو کیا بنایا ہے ۔ اسلئے ذہانت کیلئے لازم ہے اللہ کو درست پہچانے ۔ آج کی یونیورسٹیوں کا راگ الاپنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس سائنس کی بنیادیں استوار کیں وہ اپنے مذہب کے بھی عالِم تھے ۔ میں اس سلسلے میں سر الیگزنڈر فلیمنگ کا واقعہ بیان کر چکا ہوں

ماشاء اللہ

جہلم کی دو سال کی اس بچی کی صلاحیت (talent) ملاحظہ کیجئے ۔ اس بچی کا نام عائشہ بٹ ہے ۔ اس کا خاندان کشمیر کالونی جہلم میں رہائش رکھتا ہے

کیا ہم بھی اپنے بچوں کو شروٰع سے ہی ایسی تعلیم دے سکتے ہیں ؟
اس وڈیو کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا ۔ عائشہ بٹ پر کلک کر کے آپ بھی دیکھیئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ بھلائی

اگر تم سے کوئی بھلائی کی اُمید رکھے
تو اسے مایوس مت کرو

کیونکہ

لوگوں کی ضرورت کا تم سے وابستہ ہونا
تم پر اللہ کا خاص کرم ہے

قول علی رضی اللہ عنہ

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”پانچ چیزیں جو پاکستان میں درست چل رہی ہیں

مخلوق ۔ 1 ۔ پرندے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

‏” تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟“
سچ فرمایا اللہ عظیم و سُبحانُہُ و تعالیٰ نے

میرے خالق و مالک ۔ جدھر دیکھتا ہوں جو دیکھتا ہوں تیری ہی نعمتیں ہیں ہر طرف
چند جھلکیاں پرندوں کی

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کیا مُشکل ؟

بااختیار عہدہ چھوڑنا اس سے بہت زیادہ مشکل ہے
کہ
اس دنیا کو مع اس کی لذتوں کے چھوڑ دیا جائے

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ پونے 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”امریکا کی انسانیت اور جمہوریت کے نام پر مہمات کے پس پردہ کیا عزائم ہیں

امداد کی درخواست

اسلام آباد میں رہائشی ایک بچی کی جان بچانے کیلئے اس کا جگر تبدیل ہونا ضروری ہے ۔ ایک ڈونر تو تیار ہے لیکن آپریشن کے اخراجات 55000 ڈالر بتائے گئے ہیں جو کہ بچی کا خاندان اکٹھے نہیں کر سکتا

ان کی امداد کے کارِ ثواب میں حصہ کی خواہشمند خواتین اور حضرات اس تحریر پر تبصرہ کی صورت میں یا بذریعہ ای میل مطلع کریں تو انہیں بذریعہ ای میل بچی کی والدہ کا بنک اکاؤنٹ نمبر اور دیگر کوائف بھیج دیئے جائیں گے

مطلع اس ای میل ایڈریس پر کیجئے ajmalbhopal@hotmail.com

کيا ميں بھول سکتا ہوں ؟

کيا ميں بھول سکتا ہوں ستمبر 1965ء سے دسمبر 1971ء کے اپنے تجربوں کو ؟

ستمبر 1965ء
جب ميں نے سب پاکستانيوں کو جذبہ جہاد ميں سرشار ديکھا تھا
جب لاہوريئے پلاؤ کی ديگيں پکوا کر محاذ پر اپنے فوجی بھائيوں کو پہنچاتے تھے
جب گورنر کے صرف ايک بار کہنے پر گوالوں نے دودھ ميں پانی ملانا چھوڑ ديا تھا اور بازاروں ميں تمام اشيائے ضرورت ارزاں ملنے لگيں تھیں
جب ميں خندق کھودنے لگا تو کارکنوں نے مجھے پکڑ ليا اور کہا ”آپ کا جو کام ہے وہ ہم نہيں کر سکتے ۔ يہ کام ہم کر سکتے ہيں ہميں کرنے ديں“۔
خطرے کا سائرن بجنے پر کارکن ورکشاپوں سے باہر نہ نکلے ۔ میں نے اندر جا کر اُنہیں باہر نکلنے کا کہا تو جواب ملا ”سر مرنا ہوا تو باہر بھی مر جائیں گے ۔ ہمیں کام کرنے دیں ہماری فوج کو اسلحے کی ضرورت ہے“۔
جب اپنے ملک کے دفاع کيلئے ميں نے 15 يوم دن رات کام کيا تھا اور اس دوران روزانہ صرف ايک وقت کھانا کھايا تھا اور میں اکیلا نہیں تھا
جب ہر پاکستانی صرف پاکستانی تھا ۔ نہ بنگالی ۔ نہ مہاجر ۔ نہ سندھی ۔ نہ بلوچ ۔ نہ پٹھان ۔ نہ پنجابی بلکہ صرف اور صرف پاکستانی

پھر ناجانے کس کی بُری نظر یا جادو کام کر گیا اور ۔ ۔ ۔

ملک میں ایک جاگیردار وڈیرے نے مزدروں کو روٹی کپڑا اور مکان کا لالچ دے کر ایسا اُبھارا کہ دنیا بدل گئی
خاکروبوں نے سرکاری کوٹھیوں پر نشان لگانے شروع کئے کہ یہ میری ہو گی یہ تیری ہو گی
سکول کالج کے اساتذہ اور سرکاری محکموں کے افسروں کی بے عزتی کرنا آزادی کا نشان بن گیا
کالجوں میں داخل لڑکوں نے پڑھائی پر جلوسوں کو ترجیح دی ۔ ٹوٹی ٹریفک لائیٹس ۔ سٹریٹ لائیٹس اور گھروں یا دکانوں کے شیشے اُن کی گذرگاہ کا پتہ دیتے

دسمبر 1971ء
دسمبر 1971ء میں بھارت نے پھر پاکستان پر حملہ کر دیا
کارکنوں کے ساتھ مل کر خندقیں کھودنے کی پیشکش کی تو جواب ملا ”آپ خود کھودیں یا ٹھیکے پر کھدوائیں ۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے”۔
دوسرے دن صبح اکثر کارکنوں نے یہ کہہ کر کام کرنے سے انکار کر دیا کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے ۔ اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی تو ان کا ایک نام نہاد نمائندہ بولا ”افسر دولتمند ہیں ۔ مر جائیں گے تو بیوی بچوں کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ ہم مر گئے تو ہمارے بچوں کا کیا بنے گا ۔ آپ کام کریں ہم ورکشاپ کے اندر نہیں جائیں گے“۔

فی زمانہ تو حالات مزید دِگرگوں ہو چکے ہیں

يا اللہ ۔ وہ ستمبر 1965ء والے دن پھر سے لادے
یا اللہ ۔ میرے ہموطنوں کو عقلِ سلیم عطا فرما دے
يہ تيرے اس کمزور بندے ہی کی نہيں تيرے بہت سے بندوں کی التجاء ہے