Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

محبت میں ؟ یا ۔ سیاست میں ؟

سُنا تھا کہ ” محبت اور جنگ“ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے (All is fair in love and war)لیکن عملی طور پر دیکھا یہ ہے کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے ۔ زیرِ نظر ہیں 2 نو آموز سیاستدان ۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سابق کمانڈو اور عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ۔ پہلے بات عمران خان کی

عمران خان فرماتے ہیں کہ نواز شریف ۔ الیکشن کمیشن ۔ اعلٰی عدالتوں اور جنگ جیو گروپ نے دھاندلی کر کے 11 مئی 2013ء کو ہونے والے الیکشن میں عمران خان کو ہرا دیا

کچھ غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو تو اپنی جیت کا جشن منانا چاہیئے کہ اُنہوں نے قومی اسمبلی میں ملک کی تیسری بڑی پارٹی کی حیثیت حاصل کر لی ۔ جن نشتوں سے ہارے ہیں اگر وہاں دھاندلی ہوئی تھی تو وہاں دھاندلی کیوں نہ ہوئی جہاں تحریکِ انصاف جیتی ؟ عجب بات یہ ہے کہ ملک میں حکومت تو پیپلز پارٹی کی تھی تو دھاندلی نواز شریف نے نواز شریف نے کیسے کی ؟ اور جس کی حکومت تھی اُس کی زیادہ تر نشستیں تو عمران خان لے گیا

کیا 11 مئی 2014ء کو ڈی چوک کے پاس تیرہ چودہ ہزار کا جلسہ کرنے سے یہ مبینہ دھاندلی ختم ہو جائے گی یا اس سے موجودہ حکومت بھاگ جائے گی یا بھگا دی جائے گی ؟ اس جلسے پر تحریکِ انصاف کی اور حکومت کی وساطت سے عوام کا جو روپیہ خرچ ہوا کیا وہ قومی نقصان نہیں ؟

عمران خان شاید سیاست ۔ میڈیا ۔ الیکشن کمیشن اور اعلٰی عدالتوں کو اُسی طرح چلانا چاہتے ہیں جس طرح کرکٹ چلاتے تھے کہ جب جاوید میانداد دو ورلڈ ریکارڈ بنانے کو تھا تو بغیر وجہ میچ ڈکلیئر کر دیا اور پھر جب جاوید میانداد کا کھیل عروج پر تھا اُسے ٹیم سے علیحدہ کر دیا ۔ کہیں عمران خان کی کپتانی میں فرق نہ آ جائے

اب بات سابق آمر پرویز مشرف کی ۔ ملک سے بھاگنے کیلئے عارضہ قلب کا بہانہ کارساز نہ ہونے کے بعد 6 مئی کو جو میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر لائی گئی ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے
” پرویز مشرف کی ریڑھ کی ہڈی کے دو مُہروں میں فریکچر ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور صرف دبئی ۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں ممکن ہے ۔ اسلئے سندھ ہائیکورٹ پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے“۔

1 ۔ رپورٹ میں سرِ فہرست اور سب سے سِنیئر ہیں دبئی کے ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ریڑھ کی ہڈی کے ماہر مانے جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک سے باہر جانا ضروری ہے ۔ ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ہفتے میں 3 دن دبئی میں اور 3 دن کراچی میں علاج اور آپریشن وغیرہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ پرویز مشرف ڈاکٹر امتیاز ہاشمی سےکراچی میں علاج اور آپریشن کروا سکتے ہیں ۔
حال ہی میں میرے ایک قریبی عزیز کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ڈاکٹر امتیاز ہاشمی نے کراچی میں کیا تھا ۔ مریض کو لاہور میں ڈاکٹروں نے ڈاکٹر امتیاز ہاشمی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ مریض وقت لینے کے بعد لاہور سے کراچی پہنچا تھا

2 ۔ اگر ریڑھ کی ہڈی کا کوئی آپریشن ممکن ہے تو پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے ۔ کیوں ؟ آگے پڑھیئے

مجھے 2001ء یا 2002ء میں کمر میں شدید درد اُٹھا ۔ میں نے عام ڈاکٹر کو دکھایا ۔ اُس نے درد کی گولیاں کھانے کو اور بیلاڈونا پلاسٹر کمر پر لگانے کا کہا ۔ میں 6 ماہ سے زائد یہ علاج کرتا رہا اور مُڑنے ۔ بیٹھنے اور اُٹھنے میں بہت احتیاط شروع کر دی ۔ میں 2004ء میں کراچی چلا گیا ۔ 10 جنوری 2005ء کو اچانک میری کمر اور ٹانگ میں شدید درد شروع ہوا جو ناقابلِ برداشت تھا ۔ مجھے آغا خان ہسپتال لیجایا گیا جہاں درد کو کم کرنے کا ٹیکہ ہر گھنٹہ بعد لگایا جاتا رہا اور ایم آر آئی کرایا گیا ۔ وہاں کے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ آپریشن کیا جائے ۔ میں مزید 2 اچھے نیورولوجِسٹس (Neurologists) کی رائے لینا چاہتا تھا ۔ سو ہسپتال سے فارغ ہونے کے کچھ دن بعد مجھے کراچی کے مشہور نیورو فزیشن کے پاس لیجایا گیا جو اُن دنوں پی ای سی ایچ ایس میں کلنک کرتے تھے ۔ اُنہوں نے آپریشن نہ کرانے کا کہا اور درد کم ہونے کے بعد کچھ ورزشیں کرنے کا کہا جو میں آج تک کرتا ہوں

میں نے 20 فروری 2005ء کو درد کم ہوتا محسوس کیا تو اُسی دن اسلام آباد پہنچ گیا ۔ میری بڑی بہن اور سب سے چھوٹا بھائی ڈاکٹر ہیں ۔ بہن پیتھالوجسٹ اور بھائی سرجن ہے ۔ بھائی اپنے ایک ساتھی نیوروسرجن جو راولپنڈی میڈیکل کالج میں پروفیسر اور ہیڈ آف نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ تھے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بہترین نیوروسرجن سمجھے جاتے تھے کے پاس لے گیا ۔ اُس نے ایم آر آئی کا مطالعہ کر کے کہا
” بھائی جان ۔ آپ نے بہت اچھا کیا کہ آپریشن نہیں کرایا ۔ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کا ایک مُہرا کبھی فریکچر ہوا ہو گا جس کے درست ہونے پر اُس کے اندر باہر کیلسیم (Calcium) جم گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ کی سپائینل کورڈ (Spinal cord) دب رہی ہے جو درد کی وجہ ہے ۔ آپ کو آئیندہ کچھ احتیاطیں کرنا ہیں ۔ نیوروفزیشن کی بتائی ہوئی ورزشیں کریں اور میتھی کوبال 500 (Methycobal 500) ایک گولی دن میں 3 بار کھاتے رہیں ۔ اس سے آپ کے اعصاب (nerves) مضبوط ہوں گے اور درد کم ہو گا”۔

اس نیوروسرجن کے مطابق مہرہ فتیکچر ہونے کی صورت میں ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔ آپریشن کے بعد بہتری کی اُمید 40 فیصد بھی نہیں ہوتی البتہ ٹانگیں بے کار ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر فریکچر ہونے کے فوراً بعد بھی پتا چل جاتا تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا صرف احتیاط کرنے سے صورتِ حال آج سے بہتر ہو سکتی تھی

میں باقاعدہ میتھی کوبال کھا رہا ہوں اور ورزش بھی کرتا ہوں جو فرش پر لیٹ کر کرنا ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر کی ہدائت کے مطابق سونے کیلئے میں نے ارتھوپیڑِک گدیلہ اور تکیہ (orthopaedic mattress and pillow) کراچی ہی میں خرید لیا تھا پھر فروری میں اسلام آباد آنے پر یہاں بھی خرید لئے تھے
انگوٹھے کے سوا میرا داہنا پاؤں ہر وقت سُن (numb) رہتا ہے ۔ اگر میری داہنی ٹانگ پر وزن پڑے تو میں گِر جاتا ہوں ۔ کبھی انگوٹھا بھی اور ٹانگ کا نیچلا حصہ سُن ہو جاتا ہے ۔ کبھی کبھار پوری ٹانگ اور کمر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے لیکن ناقابلِ برداشت نہیں ہوتا ۔ میں ایسی صورت میں فرش پر لیٹ جاتا ہوں اور ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ایک خاص ورزش کرتا ہوں ساتھ درد کم کرنے کی کوئی اچھی دوائی بھی کھاتا ہوں
اس حال میں 9 سال اور 4 ماہ گذر گئے ہیں ۔ اللہ کا شکر گذار ہوں کہ بہتوں سے بہتر حال میں ہوں

ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟

میں موزیلا فائرفاکس استعمال کرتا ہوں ۔ ونڈوز ایکس پی سروس پیک 2 دوبارہ انسٹال کی ہے
میں جی میل کھولتا ہوں تو موزیلا فائرفاکس میں کھُلتی ہے
آئندہ سہولت کیلئے جی میل کا آئیکون ڈیسک ٹاپ پر محفوظ کرتا ہوں تو وہ انٹرنیٹ ایکسپلورر کا بن جاتا ہے

کمپیوٹر آپریشن کے ماہرین سے درخواست ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں
ایسا کیوں ہو رہا ہے
اور
اس کیسے درست کیا جائے ؟

بلاگ ۔ سالگرہ ۔ فوائد اور نقصانات

آج اللہ کے فضل و کرم سے میرے اس بلاگ کو شروع ہوئے 9 سال ہو گئے ہیں
میں نے اپنا یہ بلاگ 2005ء میں بنایا اور اس پر پہلی تحریر 5 مئی 2005ء کو شائع کی اور الحمدللہ میں آج تک 2033 تحاریر لکھ چکا ہوں
اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ نے جب تک توفیق دی یہ بلاگ چلتا رہے گا
گذشتہ 9 سالوں میں میرے بلاگ پر لکھی مختلف تحاریر کو 331453 قارئین کے پڑھا اور 12338 قارئین نے اپنے مفید خیالات سے نوازہ ۔ حوصلہ افزائی کیلئے میں ان سب کا شکر گذار ہوں

فوائد
1 ۔ اچھے لوگوں سے تعارف ہوا
2 ۔ کچھ سے ملاقات بھی ہوئی
3 ۔ بہت سی بھتیجیاں اور بھتیجے بنے جن میں سے کچھ بلاگنگ کو خیر باد کہہ گئے ہیں لیکن اُن کی ذرہ نوازی ہے کہ مجھ سے کبھی کبھی رابطہ کرتے ہیں
4 ۔ نئی باتیں سیکھیں
5 ۔ ہمدرد یا مددگار ملے
6 ۔ لکھنے کیلئے بہت کچھ پڑھا جس سے عِلم میں اضافہ ہوا
7 ۔ وقت اچھا گذرا ۔ یعنی کسی کی چُغلی یا غیبت یا شیطان کی کوئی اور بات سُننے کا وقت کم ملا

کند ذہن ہوں ۔ ہو سکتا ہے کوئی فائدہ لکھنا بھول گیا ہوں ۔ یاد دِلا دیں تو نوازش ہو گی
:lol:

نقصانات

مجھے تو کوئی نظر نہیں آیا
دوسرے بلاگران اس سلسلہ میں میرے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں

اُردو زبان کی ابتداء اور ارتقاء

میں نے ایک بلاگ پر تبصرہ لکھتے ہوئے اُردو کی ابتداء اور ارتقاء کی مختصر نشان دہی کی جس پر صاحبِ بلاگ نے تو کچھ نہ کہا لیکن مبصرین نے میرا ریکارڈ لگا دیا

میں پچھلے 20 سال سے اُردو زبان کی ابتداء اور ارتقاء کے متعلق جیسے کیسے ممکن ہوا مصدقہ معلومات کیلئے سرگرداں رہا ہوں اور اللہ کے فضل سے اہلِ عِلم نے میری اعانت بھی فرمائی ہے ۔ میں حاصل کردہ معلومات کو بہت پہلے قارئین تک پہنچانا چاہتا تھا لیکن یہ ایک پُرمغز محنت طلب کام تھا جس کیلئے بوجوہ میں اپنے آپ کو تیار نہ کر پا رہا تھا

اُردو زبان کے متعلق بہت کچھ جو زبان زدِ عام ہے حقیقت کے منافی ہے ۔ عصرِ حاضر میں جس زبان کو ہم اُردو کہتے ہیں اسے نہ کسی نے تخلیق (manufacture) کیا اور نہ یہ چند سالوں میں معرضِ وجود میں آئی ۔ گیارہویں صدی میں اس کی ابتداء لاہور میں ہوئی اور اسے اُنیسویں صدی میں اُردو کا نام دیا گیا ۔ ان 900سالوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا گیا جن میں سب سے پہلا نام ” لاہوری“ تھا ۔ اس کے بعد اسے ریختہ ۔ ہندوی ۔ ہندوستانی ۔ گجراتی ۔ دکنی ۔ دہلوی جیسے ناموں سے بھی موسوم کیا گیا

اس سلسلے میں قبل ازیں مندرجہ ذیل 4 تحاریر لکھ چکا ہوں

پنجابی کوئی زبان نہیں
پنجابی قوم نہیں
اُردو سپیکنگ
ڈرتے ڈرتے

آج ایک تحقیق کے نچوڑ کا عکس پیش کر رہا ہوں
اور
پاکستان بننے سے بہت پہلے تحقیق کے بعد اُردو کی ابتداء اور ارتقاء کے متعلق لکھی گئی ایک مستند کتاب کے صفحات 5 تا 21 کا عکس بھی پیش کر رہا ہوں

ان سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُردو نے پنجاب کے مرکز لاہور میں جنم لیا بلکہ 22 جون 2012ء کو شائع کردہ میرا یہ مؤقف بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ گیارہویں بارہویں تیرہویں صدی عیسوی میں پنجاب اُس علاقہ کا نام تھا جس میں موجودہ پاکستانی اور بھارتی پنجاب ۔ موجودہ سندھ علاوہ دیبل ۔ موجودہ خیبرپختونخوا ۔ دہلی اور آگرہ وغیرہ بھی شامل تھے اور ان علاقوں میں معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی زبان بولی جاتی تھی

متذکرہ دستاویزات کے مطالعہ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ نہ تو اُردو زبان دہلی میں پیدا ہوئی اور نہ ہی اس کا پیشکار کوئی لشکر تھا اور اُردو نام اسے دو سو سال قبل ہی دیا گیا

punjab-mein-urdu

دوسرے عکس کو کھولنے کیلئے اُردو کا ارتقاء پر کلک کیجئے

پرویز مشرف ۔ قابلِ رحم یا قابلِ ملامت

ملک میں پہلی بار کسی کو ملک کا آئین ملیامیٹ کرنے کی پاداش میں عدالت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر کچھ لوگ سراپا احتجاج ہیں جن کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف دیانتدار اور ملک و قوم کا خیر خواہ تھا اُس کے ساتھ ظُلم ہو رہا ہے ۔ مُلک و قوم کے ساتھ اُس نے جو کیا اُس کا خمیازہ تو ملک و قوم یہی نہیں کہ صرف دہشتگردی ۔ ڈرون حملوں ۔ بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں بلکہ مستقبل میں خدا نخواستہ قحط کی صورت میں بھی بھگتنے کا بندوبست کرنے میں پرویز مشرف نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی

پرویز مشرف کی مالی دیانتداری (لُوٹ مار) کی جھلک بعد میں ۔ پہلے پرویز مشرف کے جھوٹ ۔ قوم و مُلک کو داؤ پر لگانے والی خودغرضی ۔ وسیع اور دیر پا قومی نقصانات پہنچانے کے چند نمونے

حکومت پر قبضہ کے وقت پرویز مشرف نے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ کشمیر آزاد کرانا چاہتا تھا اور نوازشریف نے کشمیر کا سودا کردیا ۔ اسلئے نوازشریف کو حکومت سے نکالا گیا ۔ لیکن خود عباس سرفراز خان نامی شخص کو وزیر امور کشمیر بنا دیا جس کے کاروباری مفادات بھارت سے وابستہ تھے

” آپ تینوں میں سے ہر ایک انفرادی طور پر اس بات کا مجاز ہو گا کہ حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لئے احکامات جاری کرے۔ میں آپ تینوں کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں، جنرل محمود، جنرل عزیز اور شاہد عزیز آپ“۔ جنرل مشرف نے میٹنگ ختم کرتے ہوئے ہمیں اس سلسلے میں با اختیار کیا اور ذمہ دار ٹھہرایا
”یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی وجہ سے آپس میں آپ لوگوں کا رابطہ نہ ہو سکے یا کوئی دشواری پیش آجائے تو پھر بھی کارروائی میں رُکاوٹ نہ پڑے“۔
یہ کہہ کر وہ (مشرف) کھڑے ہو گئے۔ شاید یہ بات اس لئے بھی کہی ہو کہ کوئی ایک شخص آخری وقت پر پیچھے ہٹنا چاہے تو بھی کارروائی نہ رکے۔ ہم سب نے انہیں الوداع کہا اور اپنے گھروں کو لوٹ آئے
(مشرف کی) سری لنکا جانے سے پہلے یہ آخری ملاقات تھی۔ فیصلہ یہ تھا کہ اگر اُن (مشرف) کی غیر موجودگی میں نواز شریف صاحب اُنہیں فوج کے سربراہ کی کرسی سے ہٹانے کی کارروائی کریں تو فوری طور پر حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ کئی دنوں سے اُن (مشرف) کے گھر پر اس سلسلے کی ملاقاتیں جاری تھیں۔ ان ملاقاتوں میں میرے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمود، کمانڈر 10 کور ۔ لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، سی جی ایس (بعد میں جنرل بنے)۔ میجر جنرل احسان، ڈی جی ایم آئی (بعد میں جنرل بنے)۔ بریگیڈئیر راشد قریشی، ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیف کے پرنسپل سٹاف افسر موجود ہوتے

مندرجہ بالا اقتباسات جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک؟‘‘ سے لئے گئے جو یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کا مارشل لاء اپنی نوکری بچانے کے لئے لگایا تھا

دراصل پرویز مشرف جموں کشمیر کو کسی ذاتی فائدے کی خاطر پکا بھارت کے حوالے کرنا چاہتا تھا ۔ پرویز مشرف نے بھارت سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے پاکستان کو بھی داؤ پر لگا دیا تھا ۔ یہاں کلک کر کے پڑھیئے ”پاکستان کو تباہ کرنے کا منصوبہ”۔

پرویز مشرف نے مزید بتایا تھا کہ اسمبلیاں برقرار ہیں اورپارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آجائے گی لیکن خود وردی والا چیف ایگزیکٹِو بن بیٹھا اور اسمبلیاں برخواست کردیں

پرویز مشرف کے وزیر خارجہ عبدالستار نے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کی حمایت شروع کردی ۔ جس سے ثابت ہوا کہ پرویز مشرف دراصل امریکہ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کرنا چاہتا تھا

پرویز مشرف نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پاک فوج اور پاک سر زمین کو نہتے افغان مسلمانوں پر حملہ کے لئے امریکہ اور نیٹو افواج کو پیش کر دیا

پرویز مشرف نے بغیر آرمی کمانڈرز کے مشورہ کے امریکی ڈرونز کو پاکستان میں جاسوسی کی خاطر اُڑنے اور میزائل حملوں کی اجازت دی

اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پرویز مشرف نے بغیر آرمی کمانڈرز سے مشاورت کے ایف بی آئی اور سی آئی اے کے جاسوسوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی

آرمی کمانڈرز کے مشورے کے بغیر پرویز مشرف نے سینکڑوں مسلمانوں اور پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا

پرویز مشرف کی شہ پر امریکیوں نے باجوڑ کے علاقہ میں واقع ایک مدرسہ پر حملہ کیا جس میں 85 بچے شہید کر دیئے گئے۔ اس پر جنرل مشرف نے کہا کہ یہ حملہ پاکستان آرمی نے کیا ۔ اس طرح پرویز مشرف نے امریکیوں کی نمک حلالی تو کر دی مگر یہ کہہ کر کہ یہ حملہ پاک فوج نے کیا، اپنی فوج کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا ۔ پرویز مشرف کے اس بیان کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد پاکستان کی فوج پر اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی لوگوں کی طرف سے پہلا حملہ درگئی میں ہوا جہاں ایک خود کش دھماکہ کے نتیجے میں 40 فوجی جوان شہید ہوئے

پرویز مشرف نے اگست 2006ء میں بلوچستان کے بگٹی قبیلے کے سردار اکبر بگٹی کو جو گورنر بھی رہ چکا تھا ہلاک کروا کر بلوچستان میں بغاوت کی بنیاد ڈالی

پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ذاتی عناد کی بناء پر کراچی میں 12 مئی 2007ء کو خون کی ہولی کِھلوائی جہاں درجنوں معصوموں کو شہید کیا گیا ۔ بجائے شرمندگی کے اُسی رات پرویز مشرف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک سیاسی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مُکے لہراتے ہوئے کہا ”دنیا نے میری طاقت کا اظہار دیکھ لیا“۔

پرویز مشرف نے جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشن جیسے اہم ترین ادارہ سے مشاورت کئے بغیر لال مسجد پر پاک فوج کے کمانڈوز کو آپریشن کرنے کا حکم دیا جہاں ہلاک ہونے والی بچیوں میں سے زیادہ کا تعلق مالاکنڈ اور دوسرے قبائلی علاقہ سے تھا چنانچہ اس کے بعد خودکش دھماکوں اور فوج پر حملوں کا ایک ایسا سلسلہ چل نکلا کہ اب تک ہمارے ہزاروں فوجی جوان اور افسر اپنے ہی لوگوں کی دہشتگری کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں

ایک بار پھر آئین کو پامال کرتے ہوئے 3 نومبر 2007ءکو پرویز مشرف نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو اس لئے نکال باہر کیا اوراُنہیں اُن کے گھروں میں بچوں سمیت قید کر دیا کیونکہ اُس وقت سپریم کورٹ کا ایک لارج بنچ جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین کی پیٹیشن پر مشرف کے وردی میں صدارت کا الیکشن لڑنے کے خلاف فیصلہ دینے والا تھا ۔ یہاں کلک کر کے پڑھیئے اس خلافِ آئین اقدام میں پرویز مشرف کا ساتھ دینے والوں کی تفصیل

اب پرویز مشرف کی مالی دیانتداری (لُوٹ مار) کی ایک ہلکی سی جھلک

اکتوبر 1999ء میں نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹ کر کاروبار سمیٹنے کے بعد پرویز مشرف نے اپنے اساسوں کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق پرویز مشرف کی ملکیت کچھ پلاٹ تھے ۔ نقد رقم قابلِ ذکر نہ تھی ۔ اپنی کتاب ”In The Line of Fire” میں پرویز مشرف نے اپنی خاندانی خاکساری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ملازمت شروع کرنے کے وقت اُس کے پاس دولت نہ تھی

اب صورتِ حال یہ ہے کہ صرف پاکستان میں پرویز مشرف اپنے ذاتی ملازمین کو ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ روپے ادا کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس کے اپنے شاہانہ رہائشی اور سفری اخراجات کہیں زیادہ ہیں

پرویز مشرف کی ذاتی غیر منقولہ جائیداد میں چک شہزاد (اسلام آباد) کا وسیع قلعہ نما محل ۔ متحدہ عرب امارات اور لندن میں مکانات سرِ فہرست ہیں ۔ مزید مکانات اور کئی پلاٹ بھی ہیں

2013ء میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے اقرار نامہ میں پرویز مشرف نے لکھا تھا کہ اُس کے صافی (Net) اثاثہ جات پچھلے سال کے 51 کروڑ 60 لاکھ 9 ہزار ایک سو 72 (516009172) روپے سے بڑھ کر 64 کروڑ 50 لاکھ 11 ہزار 4 سو 65 (645011465) روپے ہو گئے ہیں ۔ صرف ایک سال میں صافی آمدن میں اس 12 کروڑ 90 لاکھ 2 ہزار 2 سو 93 (129002293) روپے اضافہ کا ذریعہ نہیں بتایا گیا

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آر کے مطابق پرویز مشرف کی سالانہ آمدنی 15 لاکھ روپے ہے ۔ پھر ایک سال میں صافی اثاثہ جات میں تقریباً 13 کروڑ کا اضافہ کیسے ہوا ؟ مزید یہ کہ 2013ء تک 4 سال میں پرویز مشرف نے کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا ۔ ریٹائر ہونے سے قبل یعنی ملازمت کے دوران پرویز مشرف کا صرف تنخواہ میں سے انکم ٹیکس کٹتا رہا جو کہ زیادہ نہ تھا

پرویز مشرف کے مقامی بنکوں میں اکاؤنٹس کی جو فہرست سٹیٹ بنک آف پاکستان کی وساطت سے عدالت میں جمع کرائی گئی تھی کے مطابق بنک الفلاح ۔ حبیب میٹروپولٹن بنک ۔ مسلم کمرشل بنک ۔ الائیڈ بنک ۔ نیشنل بنک آف پاکستان اور میٹروپولٹن بنک میں 8 کروڑ روپے کے علاوہ ایک لاکھ 90 ہزار ڈالر بھی ہیں

غیر ممالک کے بنکوں میں جمع کرائی گئی تمام دولت کا تو پرویز مشرف ہی جانتا ہو گا ۔ صرف متحدہ عرب امارات میں پرویز مشرف کے جو اکاؤنٹ منظرِ عام پر آ چکے ہیں اُن کی تفصیل درج ذیل ہے

۔ ۔ ۔ بنک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اکاؤنٹ کا ٹائٹل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رقم
ایم ایم اے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے وی 77777 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی ڈالر 16 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4002000315 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ امریکی ڈالر 5 لاکھ 35 ہزر 3 سو 25
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4003006722 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ امریکی ڈالر 80 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ ۔ امریکی ڈالر 13 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4002000304 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ درہم ایک کروڑ 70 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4003006700 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ درہم 76 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4003006711 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ درہم 80 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4003006733 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ درہم 80 لاکھ
یونین نیشنل بنک ۔ ۔ 4003006744 ۔ ۔ مسٹر پرویز مشرف و مسز صہباء مشرف ۔ ۔ درہم 80 لاکھ

یعنی بنکوں میں کل نقد رقم درج ذیل ہوئی

۔ ۔ ۔ ۔ کرنسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رقم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مساوی پاکستانی روپے
امریکی ڈالر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کروڑ 16 لاکھ 25 ہزار 3 سو 25 ۔ ۔ ایک ارب 16 کروڑ 25 لاکھ 32 ہزار 5 سو
یو اے ای درھم ۔ ۔ 4 کروڑ 86 لاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ارب 36 کروڑ 8 لاکھ
پاکستانی روپیہ ۔ ۔ 8 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8 کروڑ

معلوم بنک اکاؤنٹس میں کل نقد رقم ۔ ۔ ۔ 2 ارب 52 کروڑ 33 لاکھ 32 ہزار 5 سو پاکستانی روپے کے برابر
غیر منقولہ جائیداد اور منقولہ جائیداد میں سے زیورات اور فرنیچر اس کے علاوہ ہیں

پرویز مشرف نے 8 سال حکومت کی اور اس کے بعد پاکستان سے باہر مہنگے ممالک میں رہائش رکھی جبکہ ایوب خان نے 10 سال اور ضیاء الحق نے 11 سال حکومت کی تھی ۔ ضیاء الحق تو دورانِ حکمرانی ہلاک ہو گیا ۔ ایوب خان نے حکومت چھوڑنے کے بعد باقی زندگی اسلام آباد میں اپنی ذاتی رہائشگاہ میں گذاری ۔ ایوب خان یا ضیاء الحق کے پاس پرویز مشرف کی متذکرہ بالا دولت کا 10 فیصد بھی نہیں رہا ہو گا

پرویز مشرف نے ایسے حالات پیدا کر دیئے تھے کہ پاک فوج جس کو دیکھ کر عوام کے سر فخر سے بلند ہو جاتے تھے، وہ عوام کا سامنا کرنے سے کترانے لگے ۔ جنرل شاہد عزیز کے الفاظ میں ’’پھر مشرف صاحب کے آخری دنوں میں فوج کو وہ وقت بھی دیکھنا پڑا کہ فوجی منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ گھر سے سول کپڑے پہن کر نکلتے اور وردی دفتر میں جا کر پہنتے۔ محفل میں تعارف کراتے تو اپنا عہدہ چھپاتے۔ نہ جانے یہ کالک ہمارے منہ سے کب دھلے گی“۔

پرویز مشرف نے قومی اداروں کو اپنی ذات کے لئے بار بار استعمال کیا اُسے پاک فوج سے تشبیہ دینا پاک فوج کی توہین ہے ۔ دراصل پرویز مشرف پاک فوج کے اُجلے نام پر ایک بدنما دھبہ تھا
ایسے شخص کو پاک آرمی کی عزت اور اَنا کا کیسے نشان سمجھا جا سکتا ہے ؟
ایسے شخص کا احتساب ہماری افواج کا احتساب کیسے ہو سکتا ہے ؟
جس نے مسلمانوں کے خلاف اسلام دشمنوں کی مدد کی ۔ اپنے ملک کی خودمختاری کو بیچا ۔ بلوچستان میں آگ لگائی ۔ پاکستان اور پاکستان آرمی کو بے انتہا نقصان پہنچایا ۔ اس ملک کی گلی گلی میں آگ و خون کا کھیل شروع کرایا ۔ خود بھی لوٹ مار کی اور اپنی ذات کی خاطر اربوں کی کرپشن کرنے والوں کے ساتھ این آر او کا معاہدہ کیا ۔ بار بار آئین شکنی کا مرتکب ہوا