Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

غیرمطمئن قوم

انڈا ٹوٹنے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ
اگر انڈا باہر سے لگائی گئی طاقت سے ٹوٹے تو ایک ممکنہ زندگی ضائع ہو جاتی ہے
اگر انڈا اندر سے لگائی گئی طاقت سے ٹوٹے تو ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے
یعنی صحتمند تبدیلی اندر سے جنم لیتی ہے

ہمارا یہ حال ہے کہ خود تو بدلتے نہیں ساری دنیا کو بدلنے کے نعرے لگاتے ہیں اور اسی بہانے سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے ہو کر جن کی بہتری کے دعوے کرتے ہیں اُنہی کیلئے زحمت کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچا کر عوام پر مالی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں

دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ کیسا بھی ماحول ہو ہم کبھی اس سے مطمئن یا خوش نہیں ہوتے یعنی روتے رہنا ہماری عادت بن چکی ہے
گیلپ انٹرنیشنل نے دنیا بھرمیں خوش رہنے والے ممالک کی فہرست جاری کی ہے ۔ 138 قوموں میں سے پہلی 10 خوش رہنے والی اقوام میں سے 9 کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے ۔ متحدہ عرب امارات کا 15واں، کینیڈا کا 16واں، آسٹریلیا کا 18واں، دنیا میں سب سے زیادہ خوش سمجھے جانے والے امریکیوں کا 24واں اور چین کا 31 واں نمبر ہے اور پاکستان کا 117 نمبر ہے

یہ سوالات پوچھے گئے تھے کل دنیا کی بنیاد پر جتنوں نے ان سوالات کے جواب ہاں میں دیئے وہ سامنے لکھے ہیں
1 ۔ کیا کل آپ نے اپنے آپ کو آرام میں پایا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 72 فیصد
2 ۔ کیا کل آپ سے اچھا سلوک کیا گیا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 85 فیصد
3 ۔ کیا کل آپ نے کچھ سیکھا یا کوئی دلچسپ کام کیا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 43 فیصد
4 ۔ کیا ان چیزوں کا احساس آپ کو کل کے اکثر حصہ میں ہوا ؟ ۔ ۔ 73 فیصد
5 ۔ پُر لُطف کیا تھا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 72 فیصد

زندگی کی مثبت سوچ رکھنے والوں میں سرِ فہرست مندرجہ ذیل 10 ممالک ہیں
۔ ۔ نام ملک ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں کہنے والے ۔ ۔ ۔ ۔ نام ملک ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں کہنے والے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نام ملک ۔ ۔ ہاں کہنے والے
1 ۔ پاناما ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 85 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2 ۔ پراگوئے ۔ ۔ ۔ ۔ 85 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3 ۔ السالوے ڈور ۔ 84 فیصد
4 ۔ وینزولا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 84 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 ۔ ترِینِیداد و توبَیگو ۔ ۔ ۔ 83 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6 ۔ تھائی لینڈ ۔ ۔ ۔ ۔ 83 فیصد
7 ۔ گوآٹے مالا ۔ ۔ 82 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8 ۔ فِلِیپِینز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 82 فیصد ۔ ۔ ۔ ۔ 9 ۔ اِیکوے ڈور ۔ ۔ ۔ ۔ 81 فیصد
10 ۔ کوسٹا رِکا۔ ۔ 81 فیصد

پاکستان ۔ ۔ ۔ 36 فیصد

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ خوشی

زندگی کی خوشی کا انحصار سوچ کے معیار پر ہے

دماغ اتنا بالغ نہیں ہوتا کہ اُسے اُس کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خواب پورے ہوں تو زیادہ مت سویئے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Martin Luther King & Gandhi “

مذہب اور عصر

اسلام کی عظمت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کا آخری پیغام ہے بلکہ اس کی عظمت یہ بھی ہے کہ اسلام بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی۔ اس کے قدیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے عقائد ازلی و ابدی ہیں ۔ اس کی عبادات کا نظام مستقل ہے اور اس کا اخلاقی بندوبست دائمی ہے

اس کے جدید ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے زمانے یعنی اپنے عصر سے متعلق رہتا ہے۔ اس کے مسائل و معاملات پر نگاہ رکھتا ہے ۔ اس کے چیلنجوں کا جواب دیتا ہے اور اس طرح اپنے پیروکاروں کو ایمان و یقین کی دولت سے کبھی محروم نہیں ہونے دیتا۔ اسلام دائمی طور پر زمانوں کے درمیان پُل کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔ چنانچہ اسلام کے دائرے میں ایک زمانہ دوسرے زمانے سے متصل منسلک اور مربوط رہتا ہے اور زمانی تسلسل برقرار رہتا ہے۔ یوں اسلام کی فکری کائنات میں قدیم اور جدید کے درمیان خلیج حائل نہیں ہوتی

کہنے کو عیسائیت بھی ایک الہامی مذہب ہے لیکن عیسائیت نہ اپنے عقائد کو اصل حالت میں محفوظ رکھ سکی ۔ نہ اس کے دائرے میں عبادات کا نظام اپنی حقیقی صورت میں باقی رہا اور نہ ہی عیسائیت ایک وقت کے بعد خود کو عصر سے مربوط کر سکی ۔ نتیجہ یہ کہ عصر سے عیسائیت کا تعلق ٹوٹ کر رہ گیا۔ عیسائیت کی تاریخ میں جدید و قدیم کے درمیان خلیج حائل ہو گئی اور عیسائیت ماضی کی چیز بن کر رہ گئی۔ عیسائیت نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے پر اسلامی علوم سے زبردست فائدہ اٹھایا۔ امام عزالیؒ نے عیسائیت کے علم کلام پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ ابن رُشد مغرب میں مستقل حوالہ بن کر رہ گئی

مسلم سائنسدانوں کے نظریات ڈیڑھ دو صدی تک مغرب کی جامعات میں پڑھائے جاتے رہے۔ اس صورت حال کا مفہوم یہ ہے کہ عیسائیت نے اسلامی فکر سے استفادہ کر کے خود کو عصر سے مربوط کیا۔ خود کو اس کے چیلنجوں کا جواب دینے کے قابل بنایا لیکن مغرب میں جدید علوم بالخصوص سائنس کا آغاز ہوا تو عیسائیت ان کے ساتھ صحت مند تعلق استوار کرنے میں ناکام ہو گئی۔ ابتدا میں چرچ نے جدید سائنسی نظریات کو کفر قرار دے کر مسترد کر دیا۔ کئی سائنس دانوں کو کافرانہ فکر رکھنے کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن جدید علوم کا سفر جاری رہا اور انہیں عوام میں پذیرائی حاصل ہونے لگی تو عیسائیت نے اپنا رویہ یکسر تبدیل کر لیا۔ عیسائیت نے اپنے عقائد کو سائنسی نظریات کے مطابق بنانا شروع کر دیا اور اس طرح ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف نکل گئی۔ اگر چہ یہ عیسائیت کی جانب سے خود کو عصر سے مربوط کرنے کی کوشش تھی مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی بلکہ اس سے عیسائیت کے وقار اور عظمت کو ناقابل تلافی
نقصان پہنچا ۔ یہاں تک کہ جدید فکر نے عیسائیت کو یکسر رد کر دیا اور عصر سے عیسائیت کا تعلق ٹوٹ کر رہ گیا

ہندو ازم دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ 6000 سال پرانی ہے۔ ہندوﺅں کی مقدس کتابوں ویدوں، مہابھارت اور گیتا میں الہامی شان ہے۔ ہندو ازم کے پاس ایک خدا کا تصور ہی، رسالت کا تصور ہے۔جنت، دوزخ کا تصور ہے۔ لیکن ہندو ازم کی گزشتہ ایک ہزار
سال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ہندو ازم اس طویل مدت میں خود کو عصر سے مربوط نہیں کر سکا۔ مسلمانوں نے بھارت پر ایک ہزار سال حکومت کی اور اس عرصے میں ہندو ازم اسلامی تہذیب کے اثرات قبول کرتا رہا۔ مسلمانوں کے بعد انگریز آگئے اور 200 سال تک بھارت پر راج کرتے رہے۔ اس عرصے میں ہندوﺅں کے موثر طبقات کی کوشش یہ رہی کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے خود کو مغربی تہذیب اور قانون و سیاست سے ہم آہنگ کرتے رہیں

راجہ رام موہن رائے ہندوﺅں کے سرسید تھے مگر راجہ رام موہن رائے کی تحریک سرسید کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیاب ہوئی۔ ہندو راجہ رام موہن رائے اور ان جیسے لوگوں کی تحریکوں کے زیر اثر زیادہ سے زیادہ جدید ہوتے گئے مگر اس جدیدیت کا ہندو ازم کے بنیادی تصورات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہندو ازم کوئی اور چیز تھا اور جدیدیت کوئی اور شے

مسلمانوں کی تاریخ میں عصر کا سوال سب سے پہلے امام غزالیؒ کے زمانے میں اٹھا۔ اس زمانے میں یونانی علوم مسلمانوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے تھے اور سوال پیدا ہو رہا تھا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے کیا تعلق ہے ؟ امام غزالیؒ نے تن تنہا اس سوال کا جواب دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ یونانی علوم پر انہی کے اصولوں کی روشنی میں تنقید لکھی اور ان علوم کے داخلی تضادات کو نمایاں کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی غزالیؒ نے یہ بھی دکھا دیا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی اصولوں سے کیا تعلق ہے ؟ غزالی کی تنقید نے مسلمانوں کو یونانی علوم کے اثرات سے محفوظ کر دیا

مسلمانوں کی تاریخ میں زمانہ یا عصر کا سوال دوسری مرتبہ اُنیسویں اور بیسویں صدی میں اہم بن کر سامنے آیا۔ برصغیر میں اقبال پہلی شخصیت تھے جو اس سوال سے نبرد آزما ہوئے۔ انہوں نے اپنی بے مثال شاعری میں اس سوال کی جزیات تک کو کھول کر بیان کر دیا اور بتا دیا کہ اسلام کا جواب اس سلسلے میں کیا ہے ؟ اقبال عصر کے چیلنج سے گھبرائے نہیں بلکہ انہوں نے چیلنج سے قوت کشِید کی اور اسے اپنے لئے قوتِ محرکہ بنا لیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

اقبال نے جو کام شاعری میں کیا مولانا مودودیؒ نے وہی کام نثر میں کیا۔ اس طرح کے کاموں میں شاعری پر نثر کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس میں بات کو زیادہ کھول کر بیان کیا جا سکتا ہے۔ اور اسے زیادہ سے زیادہ دلائل سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے کام کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے کام کی روشنی میں اسلام بیسویں صدی میں اسی طرح متعلق (relevant) نظر آیا جس طرح غزالیؒ یا ان سے پہلے کے زمانے میں تھا

اس کام کی اہمیت دوسرے مذاہب کی تاریخ کی روشنی میں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جنہوں نے یا تو عصر کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے یا اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہوگئے۔ ظاہر ہے یہ دونوں مثالیں عصر کے ہاتھوں مذہب کی شکست کی مثالیں ہیں

تحریر ۔ شاہ نواز فاروقی
یہ تحریر میں نے اخبار جسارت میں پڑھی تھی لیکن وہاں سے ہٹا دی گئی ہے اور اب یہاں موجود ہے

ہمارے ذہن کب آزاد ہوں گے ؟

ہمارے اربابِ اختيار انگريزی دانی پر تُلے رہتے ہيں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ انگريزی کے بغير ترقی نہيں ہو سکتی ۔ ہم لوگ “اپنے ملک پر انگریزوں کے قبضہ سے پہلے کے نظام” کو کوستے اور “ہمارے لئے انگریزوں کے قائم کردہ تعلیمی نظام” کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ۔ زیادہ تر تو کہتے ہیں کہ مسلمان مقبرے بناتے رہے اور انگریز یونیورسٹیاں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم نظام کے مطابق مسجد ہی علم کا گھر ہوا کرتی تھی ۔ مسجد ہی میں دین اور دنیاوی علم سیکھائے جاتے تھے ۔ جس مسجد میں اعلٰی تعلیم اور تحقیق کا کام ہوتا تھا اسے جامعہ یعنی یونیورسٹی کہا جاتا تھا ۔ حکومتِ وقت ان مساجد کے نام جاگیریں کر دیتی تھی تا کہ جامعات خود کفیل ہوں ۔ حاکم تحائف بھی دیتے تھے اور جو دولتمند طالب علم آتا وہ اپنی خوشی سے بھاری معاوضہ دیتا جسے فی زمانہ ہم فِیس کہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نویں سے چودہویں صدی کے مسلمان سائنس دان دینی عالم بھی تھے ۔ ماضی قریب میں یونانی طِب کے معروف ماہر حکیم اجمل خان (1868ء تا 1927ء) نے بھی پہلے مسجد میں تعلیم حاصل کی جس میں اسلامی تعلیم مع حفظِ قرآن اور عربی شامل تھے ۔ پھر اپنے خاندانی علم یونانی طِب کی طرف راغب ہوئے ۔ خیال رہے کہ ہندوستان میں 1857ء میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی ۔ لیکن حکیم اجمل خان نے انگریزوں کے بنائے نصاب کے مطابق تعلیم حاصل نہیں کی تھی

گرجا جسے انگریزی میں چرچ کہتے ہیں بھی کسی زمانہ میں تعلیم کا گھر تھا ۔ جب سرمایہ داروں کی حکمرانی ہو گئی تو گرجا سے علم کی روشنی چھین لی گئی تھی ۔ یقین نہ آئے تو تیرہویں سے اٹھارہویں صدی کے عیسائی سائنس دانوں کی سوانح کا مطالعہ کیجئے

اب ملاحظہ ہو ایک تاریخی حقیقت جو شائد صرف چند ایک پاکستانیوں کے علم میں ہو گی ۔ ہندوستان کے گورنر جنرل کی کونسل کے پہلے رُکن برائے قانون لارڈ میکالے (Lord Macaulay) کے برطانیہ کی پارلیمنٹ کو 2 فروری 1835ء کے خطاب سے اقتباس
” میں ہندوستان کے طول و عرض میں گیا ہوں ۔ میں نے ایک بھی آدمی نہیں دیکھا جو گداگر ہو یا چور ہو ۔ ایسی خشحالی میں نے اس ملک میں دیکھی ہے ۔ لوگوں کے اخلاق بہت بلند ہیں ۔ ایسے اعلٰی معیار کے لوگ ہیں کہ ہم انہیں کبھی مغلوب نہیں کر سکتے جب تک ہم اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کو نہیں توڑ دیتے جو کہ ان کی روحانی اور ثقافتی اساس ہے ۔ چنانچہ میں تجویز کرتا ہوں کہ ان کے قدیم تعلیمی نظام کو تبدیل کر دیا جائے کیونکہ اگر لوگ سمجھیں کہ وہ سب کچھ جو غیرملکی اور انگلش ہے وہ ان کے اپنے نظام سے بہتر ہے تو خوداعتمادی اور فطری ثقافت کو چھوڑ دیں گے اور وہ وہی بن جائیں گے جو ہم بنانا چاہتے ہیں یعنی ایک صحیح معنوں میں مغلوب قوم“ ۔
Macaulay

اگر ترقی انگريزی پڑھنے سے ہو سکتی ہے تو پھر جرمنی ۔ فرانس ۔ چين ۔ جاپان ۔ ملائشيا وغيرہ نے کيسے ترقی کی ؟ وہاں تو ساری تعليم ہی ان کی اپنی زبانوں ميں ہے ۔ بارہويں جماعت ميں ہمارے ساتھ 5 لڑکے ايسے تھے جو کہ خالص انگريزی سکول سينٹ ميری (Saint Marry) ميں پڑھ کے آئے تھے ۔ ان ميں سے 3 لڑکے بارہويں کے امتحان ميں فيل ہوگئے ۔ اور باقی دو بھی انجنيئرنگ يا ميڈيکل کالج ميں داخلہ نہ لے سکے ۔ جب کہ ہمارے کالج کے اُردو ميڈيم والے 12 لڑکوں کو انجنيئرنگ کالجوں ميں داخلہ ملا ۔ ميڈيکل کالجوں ميں بھی ہمارے کالج کے کئی لڑکوں اور لڑکيوں کو داخلہ ملا جو سب اُردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے ۔ کمال یہ کہ ان میں 2 لڑکے انگریزی کے مضمون میں بھی فیل ہوئے تھے

ہماری قوم کی پسماندگی کا اصل سبب ہر دوسرے تيسرے سال بدلتے ہوئے نظامِ تعليم کے علاوہ تعليم کا انتہائی قليل بجٹ اور ہمارے ہاں اساتذہ کی تنخواہيں باقی سب اداروں سے شرمناک حد تک کم ہونا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور ميں سوائے غیر ملکی ملکیت میں چلنے والے تعلیمی اداروں کے سب تعليمی ادارے قوميا کر ان ميں سياست کی پنيری لگا دی گئی اور ملک ميں تعليم کا تنزل تیزتر ہو گيا ۔ پھر انگريزی اور بين الاقوامی معيار کے نام پر مہنگے تعليمی ادارے بننا شروع ہوئے اور سرکاری تعلیمی ادارے یتیم بنا دیئے گئے