Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

الله کا بندہ ہونے کے آٹھ اہم عمل

احترام  (Respect) ۔ دوسروں سے وہی سلوک کرنا جس کی خود توقع رکھتے ہوں

قدر دانی (Appreciation) ۔ زندگی میں جو بھی اچھی چیز ملے اس کیلئے احسان مند ہونا

مسرّت (Happiness) ۔ زندگی کے ہر لمحے سے لُطف اَندَوز ہونا یعنی بشاش چہرہ

درگذر (Forgiveness) ۔ ہر موقع پر غصہ پر قابو رکھنا

اشتراک (Sharing) ۔ دینے کی خوشی بغیر وصولی کی توقع کے

 دیانت (Honesty) ۔ ہر وقت سچ بولنا

سالمیت (Integrity) ۔ خواہ کچھ بھی ہو خالص طور پر صحیح عمل کرنا

ہمدردی (Compassion) ۔ دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے اس کی تکلیف کو کم کرنا

دنیا اور آخرت ۔ دونوں ہی جنّت 

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے دکھ بھلا دیں

اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یاد رکھیں

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے نقصان بھلا دیں

اور جو فائدے پائے ان سب کو یاد رکھیں

اگر ہم لوگوں میں عیب ڈھونڈنا چھوڑ دیں

اور ان میں خوبیاں تلاش کر کے یاد رکھیں

کتنی آرام دہ ۔ خوش کن اور اطمینان بخش

یہ دنیا بن جائے اس معمولی کوشش سے

اور اللہ کی مہربانی سے آخرت میں بھی جنّت مل جائے

نئے سال کے لئے مشورے

روزانہ چوتھائی پارہ قرآن شریف مع ترجمہ سمجھ کر پڑھیئے

اگر اپنے لئے نہیں تو دوسروں کے لئے مُسکرایئے

دوسروں کی بات ہمہ تَن گوش ہو کر سنیئے

بچوں کی نئی دریافت چوکسّی سے دیکھیئے

اپنی ناشادگی کا الزام دوسروں پر نہ رکھیئے

دوسروں کی تعریف کُشادہ دِلی سے کیجئے

جو مُشکِل میں ہو اُس کی حوصلہ اَفزائی کیجئے

دوسروں پر تنقید کم کیجئے

اچھے کام میں برغبت حصّہ لیجئے 

اپنے عمل کی ذمہ داری لیجئے

اثر و رسوخ کے سامنے نہ جھکيئے اور تعصّب سے بچیئے

دعا زیادہ مانگیئے اور پریشان کم ہویئے

دوسروں کے درگذر میں تاخیر نہ کیجئے اور خود ترسی سے باز رہیئے 

جو کام بھی کیجئے  بہترین طریقہ سے کیجئے

زندگی اس طرح گذاریئے کہ کبھی پچھتانا نہ پڑے

اپنی حیثیت کو قبول کیجئے اور دوسروں کی نقل نہ کیجئے

ناکامی کو تربیت کا موقع سمجھیئے

جسم اور دماغ دونوں سے بھرپور کام لیجئے

جو دوسرے کے پاس پسند آۓ اس پر خوش ہویئے ۔ چھِیننے کی خواہش نہ کیجئے

ہنسنا رونا منع ہے

چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا

ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ۔ ہیلو ۔

ایم ڈی ۔ ابو گھر میں ہیں ؟

بچہ ہلکی آواز میں ۔ ہاں ۔

ایم ڈی ۔ میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟

بچہ ۔ نہیں ۔

ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ۔ آپ کی امی ہیں ؟

بچہ ۔ ہاں ۔

ایم ڈی نے التجا کی ۔ بیٹا اپنی امی سے بات کرا دیں ۔

بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ۔ نہیں ۔   

 ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ۔ آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟

بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ۔ ہاں پولیس مین ۔

ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ۔ میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟

بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ نہیں ۔ وہ مصروف ہیں ۔

 ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ۔ پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟

بچہ ۔ وہ ابو ۔ امی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں ۔

اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ۔ بیٹا یہ کیسا شور ہے ؟

 بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ ہیلی کاپٹر اترا ہے

ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟

ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ۔ سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اتری  ہے ۔

ایم ڈی کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ۔ کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟ بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ۔ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں ۔