ستمبر 1947ء کے دوسرے ہفتہ میں جموں میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ اس کرفیو میں ہندوستان سے آئے ہوئے مہاراشٹریہ سیوک سنگ (آر اسی ایس) ۔ ہِندو مہا سبھا اور اکالی دَل کے مسلح دستے بغیر روک ٹوک پھِرتے تھے مگر مسلمانوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی ۔ ہمارے گھر کے قریب ہندوؤں کے محلہ میں 2 اُونچی عمارتوں پر نابھہ اور پٹيالہ سے آئی ہوئی بھارتی فوج نے مشین گنیں نصب کر لیں تھیں
آنے والی رات کو دونوں عمارتوں کی چھتوں سے ہمارے گھر کی سِمت میں متواتر فائرنگ شروع ہو گئی
ہمارا گھر نشانہ بننے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے گھر کی زمین سے 30 فُٹ اُونچی چھت پر پاکستان کا بہت بڑا جھنڈا 15 فُٹ اُونچے پائپ پر لہرا رہا تھا
اگلے دن 10 سال سے ہمارا کرائے دار ہندو جس پر میرے دادا جان کے کئی احسان بھی تھے ہمارے گھر آیا اور کہنے لگا
”میں نے سوچا کہ کرفیو کی وجہ سے آپ کی زمینوں سے دودھ نہیں آیا ہوگا اسلئے میں اپنی گاؤ ماتا کا دودھ بچوں کے لئے لے آیا ہوں“۔
دودھ اُبال کر ہمیں پینے کو کہا گیا مگر اُس وقت کسی کا کچھ کھانے پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا
دوسرے دن صبح دیکھا کہ دودھ خراب ہو گیا تھا اسلئے باہر نالی میں پھینک دیا ۔ تھوڑی دیر بعد باہر سے عجیب سی آواز آئی ۔ جا کر دیکھا تو ایک بلی تڑپ رہی تھی اور تڑپتے تڑپتے وہ مر گئی
دراصل وہ برہمن ہمدرد بن کر ہم سب کو خطرناک زہر والا دودھ پلا کر مارنے آیا تھا