جاہ و جلال کی طلَبِ نہیں ۔ مُجھے صرف اِتنا کمال دے
رمضان سے ہُوں میں مُستفید ۔ ایسی سَوچ و اِستقلال دے
میرے ذہن میں تیری فِکر ہو ۔ میری سانس میں تیرا ذِکر ہو
مُجھے مال و زَر کی ہوَّس نہیں ۔ مُجھے بَس رِزقِ حَلال دے
میرا ہر قدم تیری راہ میں ہو ۔ میرا ہر عمَل تیری رَضا میں ہو
تیرا خَوف میری نجات ہو ۔ سَبھی خَوف دِل سے نکال دے
اپنی راہ پہ مجھے یُوں ڈال دے کہ زمانہ میری مثال دے
تیری رحمتوں کا نزُول ہو ۔ میرے دِل کو ہَردَم سکُون مِلے
تیری بارگاہ میں اِے خدا ۔ میری رَوز و شَب ہے یہی دعا
تو رحِیم ہے تو کرِیم ہے ۔ مُجھے مُشکلوں سے نکال دے
میری دعا جو میں نے 21 جون 2015ء کو شائع کی تھی
Leave a reply