محمد رياض شاہد صاحب نے سوہنا پاکستان کے عنوان کے تحت سکھوں کے متعلق لکھا تھا ۔ اُن کی تحرير پڑھتے پڑھتے مجھے کچھ پرانے واقعات ياد آئے ۔ ميں نے وعدہ کيا تھا لکھنے کا ۔ الحمدللہ آج وعدہ پورا ہونے جا رہا ہے
آدھی صدی قبل جب ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں زيرِ تعليم تھا ميں لاہور سے راولپنڈی روانہ ہونے کے کيلئے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے اڈا پر پہنچا جو اُن دنوں ريلوے سٹيشن کے سامنے ہوتا تھا ۔ ميں نے پہلے سے نشست محفوظ کروائی ہوئی تھی مگر وہاں پہنچ کر مجھے کہا گيا “ذرا رُک جائيں”۔ بس چلنے کا وقت ہو گيا ۔ ميں نے دبے الفاظ ميں احتجاج کيا ۔ بس کے اندر سے آواز آئی “کيا بات ہے ؟” کنڈکٹر نے کہا ايک سواری ہے جس نے پہلے سے ٹکٹ ليا ہوا ہے”۔ پھر آواز آئی “کون ہے ؟” مجھے کنڈکٹر نے سامنے کيا ۔ ميں نے ديکھا کہ پوری بس سکھ عورتوں اور مردوں سے بھری ہے ۔ ايک بزرگ سکھ نے اپنے سے بڑے بزرگ سکھ سے کہا “کوئی گل نئيں جے اک سفر وچ تريمت نال وچھوڑا ہوے”۔ وہ صاحب اپنی بيوی کے ساتھ بيٹھے تھے ۔ مطلب تھا کہ اپنی بيوی کو پيچھے عورتوں ميں بھيج ديں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے پھر کسی اور بزرگ نے اُن کی محبت پر جملہ کسا مگر کوئی اثر نہ ہوا ۔ چند منٹ چہ مے گوئياں ہوئيں پھر ايک عورت نے کہا “کوئی گل نيئں اپنا وير اے “۔ پھر اپنے ساتھ والی عورت کو پيچھے بھيجتے ہوئے کہا ” آ وير ايتھے بہہ جا ۔ ساری واٹ کھلا تے نئيں رہنا”۔ ميں خاموش کھڑا رہا ۔ پھر بس ميں کافی ہلچل ہوئی ۔ ايک جوان نے اُٹھ کر کسی کو اِدھر سے اُدھر کسی کو اُدھر سے اِدھر کيا سوائے اُس بزرگ ترين جوڑے کے سب عورتوں کو اکٹھا کر کے آگے ايک نشست ايک مرد کے ساتھ خالی کرا دی جہاں ميں بيٹھ گيا ۔ وہ سفر بڑا ہی اچھا کٹا سارا راستہ لطيفے سنتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا ۔ اُس زمانہ ميں لاہور سے اسلام آباد بس 7 گھنٹے ميں پہنچتی تھی
ميں پاکستان آرڈننس فيکٹری ميں اسسٹنٹ ورکس منيجر تھا اور واہ چھاؤنی ميں اپنی بہن بہنوئی کے ساتھ رہتا تھا ۔ 1964ء ميں سکھ ياتری پنجہ صاحب حسن ابدال آئے ۔ حسن ابدال کے ايک تاجر جو کسی زمانہ ميرے والد صاحب کے ملازم تھے سے رابطہ کيا کہ ہميں اس دوران پنجہ صاحب کی زيارت کا موقع مل جائے اُس نے ہم تينوں کيلئے اجازت نامہ حاصل کر ليا ۔ ہم پوليس کے ڈی ايس پی کی مدد سے پنجہ صاحب ميں داخل ہوئے تو اندر بہت اچھا گھريلو ماحول اور ميلے کا سا سماں پايا ۔ اندر داخل ہوتے ہی ہمارا تعارف سکھوں کے سربراہ سے کرايا گيا ۔ ميرے بہنوئی نے بتايا کہ ياتريوں کی موجودگی ميں آنے کا مقصد ان کے رسم و رواج سے واقف ہونا تھا ۔ اُس نے پہلے وہاں قريب موجود ايک خاندان سے ہمارا تعارف کرايا اور پھر ان سے کہا “کون جوان ان مہمانوں کو اچھی طرح سب کچھ دکھائے گا ؟” اُن ميں سے ايک راضی ہو گيا اور ہميں پوری قلعہ نما عمارت کے اندر پھرايا اور تمام سرگرميوں کی تفصيل بھی بتائی۔ آخر ميں ہمارے ساتھ اپنے پورے خاندان کی تصوير کچھوائی
ميں سرکاری کام سے 1966ء اور 1967ء ميں ڈوسل ڈورف جرمنی ميں تھا ۔ ميرے ساتھ ہمارے ادارے کے 3 اور انجنيئر بھی تھے ۔ ايک شام ميں اور ايک ساتھی انجيئر ڈوسل ڈارف کے مصروف علاقہ ميں جا رہے تھے کہ تين سکھ آتے ہوئے دکھائی ديئے ۔ ميرا ساتھی سُست رفتار تھا اور پيچھے رہ گيا تھا دوسرے ميں نے جرمنوں کی طرح کپڑے پہنے ہوئے تھے جبکہ ميرے ساتھی نے انگريزی سوٹ اور ٹائی پہن رکھی تھی اور رنگ بھی سانولا تھا ۔ سکھوں نے ميرے ساتھی کو روک کر پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو ۔ اس نے پاکستان بتايا تو کہنے لگے کونسے شہر سے ؟ اس نے راولپنڈی بتايا تو اُنہوں نے اُسے گلے لگا ليا اور بولے “فير تے تُسی اپنے بھرا ہوئے”۔ بڑے خوش اُس سے پھر ملنے کا وعدہ لے کر چلے گئے ۔ وہ لوگ راولپنڈی سے 1947ء ميں جالندھر جا چکے تھے
سکھ اور ہندو ميں واضح فرق يہ ہے کہ سکھ ايک رب کو مانتے ہيں ۔ نہ تو بتوں کی پوجا کرتے ہيں اور نہ کسی ديوی ديوتا کو مانتے ہيں ۔ چند گورو ہيں جنہيں وہ اپنا رہبر سمجھتے ہيں ۔ گورو کا مطلب اُستاد يا رہبر ہوتا ہے ۔ اپنے مُردے جلاتے نہيں دفن کرتے ہيں ۔ ہمارے نبی سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی عزت کرتے ہيں ۔ ميں نے بچپن ميں سکھوں ميں ايک عجيب بات ديکھی کہ اپنے علاقہ ميں رہنے والے يا اپنے سکول ميں پڑھنے والے مسلمانوں کو بھائی کہہ ليں گے مگر ہندو کو نہيں
پاکستان بننے سے پہلے سکول ميں ميری جماعت ميں کُل 16 بچے تھے ۔ جن ميں 10 لڑکے اور 6 لڑکياں ۔ 4 لڑکے اور ايک لڑکی مسلمان ۔ ايک لڑکا سکھ ۔ 5 لڑکے ہندو تھے ۔ لڑکيوں ميں ايک سکھ ۔ ايک عيسائی اور 3 ہندو ۔ سکھ لڑکی کی مسلمان لڑکی کے ساتھ دوستی تھی اور سکھ لڑکے کی ہم 4 مسلمان لڑکوں کے ساتھ ۔ سکھ لڑکا صاف کہا کرتا تھا “يہ مٹی کے بتوں کو پوجنے والے کسی کے دوست نہيں”
سکھوں کو برہمنوں نے بيوقوف بنا کر 1947ء ميں مسلمانوں کا قتلِ عام کروايا تھا اس ڈر سے کہ سکھ اعتقاد کے لحاظ سے مسلمانوں کے قريب ہيں ۔ اگر مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تو پورا پنجاب نہيں تو کم از کم امرتسر چندی گڑھ پاکستان ميں چلا جائے گا اور ساتھ جموں کشمير بھی ۔ بعد ميں سکھوں کو سمجھ آ گئی تھی اور اُنہوں نے پاکستان يا مسلمان دُشمنی چھوڑ دی تھی ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ بينظير بھٹو کے دورِ حکومت ميں سکھ تحريکِ آزادی کے متعلق جو معلومات پاکستان کے خُفيہ والوں کے پاس تھيں وہ بھارت دوستی کی خاطر بھارت کو پہنچا دی گئيں جس کے نتيجہ ميں بھارتی حکومت نے سکھوں کا قتلِ عام کيا اور خالصہ تحريک کا زور ٹوٹ گيا جس کے نتيجہ ميں بھارت نے يکسُو ہو کر پوری قوت کے ساتھ تحريک آزادی جموں کشمير کو کُچلنا شروع کيا
سکھ یہاں کینیڈا میں بہت ہیں۔ اب جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں تو کچھ کم ہیں۔ لیکن چند سال پہلے جس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں مقیم تھا وہاں سکھوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ یہاں ایک کالج میں بھی چند ایک کورسز کیے وہاں بھی سکھوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ فطری طور پر یہ اچھے اور سادہ لوگ ہیں۔ کافی سٹوریاں ہیں میرے پاس۔ مناسب وقت پر موضوع کلام بناؤں گا۔ تحریر کا خیال دینے کا شکریہ
Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » سکھوں کی باتيں -- Topsy.com
بہت لطف آیا ہے یہ تحریر پڑھ کر۔ شکریہ۔
اچھا تو آپ کے ساتھ بھی ُواقعات ` پيش آتے ہيں وہ بھی کنڈيکٹروں شينڈکٹروں والے ، مجھے تو گمان ہو چلا تھا صرف ميرے ساتھ پيش آتے ہيں
اجازت ہو تو سکھوں کے واقعات متعلق سيريز شروع کر ليتے ہيں عثمان سے پہلے ميں ؟
يعنی کہ آپ ميرے گرائيں ہيں حسن ابدال کے پنجہ صاحب کا کيا چکر ہے اس پر بھی کبھی روشنی ڈاليں
بہت خوب تحریر ہے، شکریہ۔
اس دور میں جہاں یونیفارمیٹی کو ترقی کی دلیل سمجھا جاتا ہے، سکھوں کا اپنے لباس و وضع قطع پر اصرار ایک قابل تقلید مثال نظر آتا ہے۔
عثمان صاحب
آپ کی تحرير کا انتظار رہے گا
اسماء بتول صاحب
ميرے ساتھ کوئی کنڈکٹروں والا واقعہ پيش نہيں آيا يہ آپ کو کس نے کہا؟ راولپنڈی اسلام آباد ميں پلی بڑھی ہيں اور پنجہ صاحب کا مجھ سے پوچھ رہی ہيں
احمد عرفان شفقت صاحب
حوصلہ افزائی کا شکريہ
عدنان مسعود صاحب
سکھوں نے برطانوی حکومت سے منظور کروا ليا ہے کہ ان کی پگڑی کی تلاشی نہيں ہو گی ۔ ہمارے ہموطن تو اپنے کپڑے بھی اُتارنے کو تيار ہو جاتے ہيں
سکھوں میں پنجاب کی دلیری، مہمان نوازی اور کھل کر بات کرنے کی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمیںبھی کافی سکھوں سے واسطہ پڑ چکا ہے اور انہیں ہمیشہ اچھا ہی پایا ہے۔ ان میں بھی برے لوگ بھی ہوںگے مگر ابھی تک تو یہ لوگ اچھی طرح ہی ملے ہیں۔
افضل صاحب
ان کی جو بات مجھے اچھی لگی يہ ہے کہ لگی لِپٹی نہيں کرتے اور خوش باش رہتے ہيں
بہت لطف آیا ہے ۔ شکریہ۔
محمد رياض شاہد صاحب
حوصلہ افزائی کا شکريہ
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی ان کےساتھ کبھی واسطہ نہیں پڑا ہےلیکن سناہےکہ بڑے کھلےڈھولےسےبندےہیں۔
والسلام
جاویداقبال
انکل جی یہ جو باتیں ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت سے کتنی ہی مسلمان عورتیں ابھی تک سکھوں کی بیویاں ہیں اس بات مین کس حد تک سچائی ہے؟
ڈ ِ ف ر صاحب
جيسا کہ ہميں اخبارات اور دوسرے ذرائع سے معلوم ہوتا رہا تھا بہت سی عورتيں باز ياب کرا لی گئی تھيں ہوسکتا ہے کوئی ايک آدھ رہ گئی ہو جو پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے علم ميں نہ رہی ہو