Daily Archives: September 17, 2009

تربیت

خاور صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تعلیم و تربیت کی بات کرتے ہوئے لکھا کہ تعلیم کے فروخت مراکز تو کھُل چُکے ہیں اور والدین اپنی اولاد کیلئے تعلیم خرید رہے ہیں مگر تربیت کہاں سے آئے کہ تربیت کے فروخت مراکز ابھی نہیں کھُلے ۔ اس پر مجھے یاد آیا وہ وقت جسے عصرِ حاضر کے جدید تعلیم یافتہ لوگ شاید دورِ جاہلیت کہتے ہوں کہ روشن خیالی نام کی صفت اُس زمانے میں ایجاد نہ ہوئی تھی

ہر سکول و کالج میں خواہ وہ راولپنڈی میں تھا یا لاہور میں ۔ ملتان میں تھا یا اٹک میں روزانہ سکول یا کالج کی پڑھائی کا وقت شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے میدان میں جسمانی تربیت [P.T=Physical training] ہوتی تھی ۔ جس طالب علم کی جسمانی تربیت کی حاضریاں 70 فیصد سے کم ہو ں وہ سالانہ امتحان نہیں دے سکتا تھا ۔ اگر وہ روزانہ کی جسمانی تربیت سے بچنا چاہتا تو صرف ایک طریقہ تھا کہ روزانہ عصر کے بعد ایک گھنٹہ کیلئے ہاکی یا فٹ بال کھیلے اور اپنا نام متعلقہ ٹیم میں درج کرائے

ہر سکول یا کالج میں ہفتہ میں ایک بار اخلاقی تربیت کا سبق بھی ہوا کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی گاہے بگاہے اساتذہ موقع پا کر اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتے رہتے تھے

پھر ایک دور آيا [عوامی دور] جس میں سب کچھ عوامی قرار دیا گیا مگر ہوتا وہ شاہی گیا ۔ تمام سکول و کالج قومیا لئے گئے اور وہاں پر اپنے من پسند لوگ تعینات کئے گئے ۔ مالدار لوگوں کے بچوں کی درسگاہیں الگ اور عام لوگوں کے بچوں کی الگ ہونا شروع ہوئیں ۔ پيسے والوں کے بچوں نے کلرکوں کچھ دے دلا کر اپنی حاضریاں لگوانی شروع کر دیں ۔ جسمانی تربیت صرف غریبوں کے بچوں کا مقدر بن کے رہ گئی ۔ ايک طرف بڑے لوگوں کے بچوں کیلئے انگریزی ناموں والے سکول کھلنے لگے جن میں میدان تھا ہی نہیں کہ جسمانی تربیت ہوتی ۔ کچھ میرے جیسے لوگوں نے شور مچایا تو جسمانی تربیت کو نصاب سے ہی باہر کر دیا گیا

اخلاقی تربیت ایسے غیرمحسوس طریقہ سے غائب کی گئی کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا