Daily Archives: May 24, 2007

ضرورت ہے ایک قصائی کی

سُنیئے جنابِ والا
کیا کہتا ہے منادی والا
منادی سُنیئے غور سے
پھر بات کیجئے کسی اور سے
ضرورت ہے ۔ ضرورت ہے
ضرورت ہے ۔ ایک قصائی کی
وردی جو اُتارے اک سپاہی کی
نہ یہ بات ہے حیرانی کی
نہ یہ بات ہے پریشانی کی

پچھلے چھ سات سال میں بڑے بلند بانگ دعوے کئے گئے مگر وردی کوئی نہ اُتروا سکا اور اب ۔ ۔ ۔ وردی والے نے وردی کو کھال کا درجہ دیدیا ہے ۔ اگر ایک دکان میں کوئی کرایہ دار 45 سال رہے اور دکان کا مالک اس قابل نہ ہو کہ اُس کرایہ دار کو دکان سے بے دخل کر سکے تو مالک صرف کرایہ دار کی باتیں سُن سکتا ہے اُسے کہہ کچھ نہیں سکتا ۔ جو شخص 45 سال وردی پہنے رکھے اور کوئی اس کی وردی اُتروا نہ سکے تو اُس سے اور کیا اُمید ہو سکتی ہے ۔ ویسے تو ہمارے ملک میں [مع وردی والے کے] انسان کی کھال اُدھیڑنے والے بہت ہیں مگر ہم نے بچپن سے اب تک قصائی کو کھال اُتارتے دیکھا ہے ۔