Daily Archives: March 9, 2007

اور اب کُلہاڑا چل گیا

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔ محترم جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے عہدے کی میعاد 2011 عیسوی میں ختم ہونا تھی ۔ 

ذرائع کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے پہلے صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ لیکن جسٹس افتخار چوہدری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔


ایک ماہ پہلے کی خبر

پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جج میں احساس تحفظ ضروری ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ جج کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ انتظامیہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں بھی دے گا تو اسے برطرف نہیں کیا جا سکے گا اور اس کی مخالفانہ رائے اس کی کسی بلاجواز سزا کا سبب نہیں بنے گی۔

یہ مشترکہ اعلامیہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے پڑھ کر سنایا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطاب کر رہے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ججوں کے عہدے کی مقررہ معیاد کی ضمانت ہونی چاہیے تاکہ وہ ان مقدمات میں بھی اپنی دیانتدارانہ رائے دے سکیں جن میں ریاست کا کوئی اہم حصہ فریق ہو۔ تاہم انہوں نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا۔

کہانی اور مکالمہ

دو ماہ پیشتر ٹماٹر جو دس بارہ روپے کے کلو گرام بِک رہے تھے دو ہفتوں میں بڑھ کر سو روپے فی کلو گرام ہو گئے ۔ ہمارے بادشاہ سلامت الیکشن مہم کے ایک جلسہ سے خطاب کر چکے تو اُن کی توجہ ٹماٹروں کی قیمت کی طرف دلائی گئی ۔ ارشاد ہوا ۔ اگر مہنگے ہیں تو نہ کھائیں ۔ کچھ اور کھا لیں ۔ مجھے یاد آیا کہ مڈل سکول کی انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ملکہ کے محل کے باہر عوام اکٹھے ہو گئے ۔ ملکہ نے پوچھا یہ کیوں آئے ہیں ۔ وزیر نے بتایا کہ کہتے ہے کھانے کو روٹی نہیں ہے تو ملکہ نے کہا ان کو کہیں کہ کیک یا بسکٹ کھا لیں ۔ اس پر سب طلباء ہنستے تھے کہ ایسی بیوقوف ملکہ بھلا ہو سکتی ہے ۔ اب ثابت ہوا کہ بادشاہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

ایک مفروضہ مکالمہ جسے اگر ہمارے موجودہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان سمجھ لیا جائے تو حقیقت معلوم دیتا ہے ۔

“جناب مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ذرائع روزگار کم ہیں ۔ حالات سے تنگ آ کر لوگ خودکُشیاں کر رہے ہیں “

“ہم نے عوام کی سہولت کیلئے انڈر پاس بنائے ہیں”

“وہ کراچی میں کلفٹن والا انڈر پاس جس میں پانی بھر گیا تھا یا وہ راولپنڈی والا جس کے بننے سے پہلے محلہ چوہدری وارث سے لیاقت باغ 10 منٹ میں پہنچتے تھے اور انڈر پاس میں سے گذر کر 20 منٹ میں پہنچتے ہیں کیونکہ کل راستہ پہلے سے تنگ ہوگیا ہے یا اسلام آباد کا انڈر پاس جو 2005 میں مکمل ہونا تھا اور ابھی بن رہا ہے اور ایک وزیر کے پلازہ کی خوبصورتی کو بچانے کیلئے اس کو موجودہ سڑک سے دور بنایا جا رہا ہے ۔ نتیجتاً خرچہ 245 کی بجائے 490 ملین روپے ہو گیا ہے ؟”

“ہم دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بنائیں گے”

” کیا آپ نے کراچی کی 15 منزلہ عمارت میں آگ لگنے کا حال نہیں سنا کہ اُوپر کی 5 منزلیں جلتی رہیں اور فائر بریگیڈ والے حسرت سے دیکھتے رہے کہ ان کے پاس بلند جگہ میں لگی آگ بجھانے کا بندوبست نہ تھا ؟ یا اسلام آباد کے اس پلازہ کا ذکر ہے جس میں ہوٹل سنیما اور امیر و کبیر لوگوں کیلئے شاپنگ سنٹر بنیں گے اور جو رہائشی علاقہ اور ہسپتال کے درمیان بنایا جا رہا ہے جس کے خلاف ہسپتال کے سربراہ اور علاقہ کے رہنے والے سخت احتجاج کر رہے ہیں “

“تم لوگ تو اُلٹی بات کرتے ہو ۔ ہم تو اس عالی شان عمارت کی بات کر رہے ہیں جو کراچی کے پاس جزیرے پر بنے گی”

“اچھا اچھا وہ جزیرہ جہاں سے غریب پاکستانیوں کو زبردستی نکال کر جزیرہ غیر ملکیوں کو بیچ دیا گیا ہے”