Daily Archives: October 21, 2005

ہماری امداد کریں ناں۔۔۔

میرا نام صبا ہے۔ میں نویں جماعت میں پڑھتی ہوں۔ میری عمر اب چودہ سال ہے۔ اس زلزلے میں میرے امی ابو دونوں کا انتقال ہو گیا۔ ہم دو بہنیں ہیں۔ لاوارث ہیں۔ بس یہاں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ ابھی بچے رو رہے تھے، بھوکے ہیں سب۔ ہمیں کچھ مدد نہیں دے رہے۔ ایک گاوں میں رہنے والے دہات والوں کو ایک ٹینٹ دے دیتے ہیں، اور کہتےہیں کہ بس سب کو دے دی امداد۔ اس وقت میرے آس پاس بہت سارے بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سارا دن یہ بچے یوں ہی بیٹھے رہتے ہیں۔ کبھی کھانا مانگتے ہیں، کبھی روتے ہیں۔ سردی بھی بہت رہتی ہے۔ کچھ بچوں کو نمونیا ہو گیا ہے۔ تین، چار، پانچ سال کے چھوٹھ چھوٹے بچے ہیں جنہیں سردی کی وجہ سے نمونیا ہو گیا ہے۔ سارے جانور اور مویشی بھی مکانوں کے نیچے دب کر مر گئے۔ہماری امداد کریں ناں۔۔۔

یہ جو جہاز وغیرہ ہیں، یہ ہمارے سامنے فوجی رہتے ہیں ان کی مدد کرتے ہیں ، ادھر جا کر بیٹھتے ہیں ۔ ہمیں کچھ نہیں دیتے ۔ پل
بھی جو تھا ، دریا نیلم کے اوپر، وہ بھی گر گیا ۔ ہماری کچھ مدد کریں ناں۔۔۔

امدادی سامان جل کر راکھ ہو گیا

کراچی کے سٹی ریلوے سٹیشن پر زلزلے کے متاثرین کے لیے بھیجے جانے والے سامان میں آگ بھڑک اٹھی جس سے سارا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ سندھ بوائز اسکاؤٹ کی جانب سے کیمپ لگا کر یہ سامان جمع کیا گیا تھا جو ریل کے ذریعے راولپنڈی روانہ کیا جانا تھا۔ سٹی ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ دوپہر کو ریل کی بوگی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پوری بوگی جل گئی۔ پولیس کے مطابق بوگی میں زلزلے زدگان کے لیے بستر، لحاف، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان موجود تھا۔ اس کے علاوہ اس سامان میں ماچس کے پیکٹ بھی تھے جن کے جل جانے سے آگ نے اور زور پکڑ لیا۔

ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ ریلوے کی جانب سے یہ بوگی مفت میں سندھ اسکاوّٹس کو فراہم کی گئی تھی۔