رمضان کریم

آپ کو اور آپ کے اہل و عیال کو  رمضان کريم مبارک

الله الرحمٰن الرحيم سب کو اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے

روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ الله کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے

الله سُبحانُهُ و تعالٰی ہمیں تمام عمر قرآن الحکیم میں دیئے گئے تمام احکامات پر خلوصِ نیّت سے عمل کی توفیق عطاء فرمائے

ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطاء فرمائے

اور ہمیں حِلم ۔ برداشت ۔ درگذر اور صبر کی عادت سے نوازے ۔ آمین ثم آمین

میری دعا جو میں نے 21 جون 2015ء کو شائع کی تھی

جاہ و جلال کی طلَبِ نہیں ۔ مُجھے صرف اِتنا کمال دے
رمضان سے ہُوں میں مُستفید ۔ ایسی سَوچ و اِستقلال دے
میرے ذہن میں تیری فِکر ہو ۔ میری سانس میں تیرا ذِکر ہو
مُجھے مال و  زَر کی ہوَّس نہیں ۔ مُجھے بَس رِزقِ حَلال دے
میرا ہر قدم تیری راہ میں ہو ۔ میرا ہر عمَل تیری رَضا میں ہو
تیرا خَوف میری نجات ہو ۔ سَبھی خَوف دِل سے نکال دے
اپنی راہ پہ مجھے یُوں ڈال دے کہ زمانہ میری مثال دے
تیری رحمتوں کا نزُول ہو ۔ میرے دِل کو ہَردَم سکُون مِلے
تیری بارگاہ میں اِے خدا ۔ میری رَوز و شَب ہے یہی دعا
تو رحِیم ہے تو کرِیم ہے ۔ مُجھے مُشکلوں سے نکال دے

ہماری پاکستان آمد

کرنل عبدامجید (جن کے بیوی بچوں کے ساتھ  ہم جموں چھاؤنی میں رہ رہے تھے) کے چھوٹے بھائی جموں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے ۔ وسط نومبر 1947ء میں وہ چھاؤنی آئے اور بتایا کہ شیخ محمد عبداللہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ امن ہو جائے گا ۔ جموں کے تمام مسلمانوں کے مکان لوٹے جا چُکے ہیں اور تمام علاقہ ویران پڑا ہے

4 ہفتے بعد ایک جیپ آئی اور ہمارے خاندان کے 6 بچوں یعنی میں ۔ میری 2 بڑی بہنیں ۔ 2 سیکنڈ کزنز اور اُن کی پھوپھو کو جموں شہر میں نیشنل کانفرنس کے صدر کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کے گھر لے گئی ۔ وہاں قیام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ 6 نومبر کو مسلمانوں کے قافلے کے قتل عام کے بعد خُون سے بھَری ہوئی بسیں چھاؤنی کے قریب والی نہر میں دھوئی گئی تھیں ۔ اس وجہ سے ہم نے نہر میں خُون اور خُون کے لوتھڑے دیکھے تھے ۔ مسلمانوں کے قتل کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور نیشنل کانفرنس کے مسلمانوں کے عِلم میں بھی وقوعہ کے بعد آیا

وہاں کچھ دن قیام کے بعد ہمیں دوسرے لاوارث بچوں اور لاوارث زخمی عورتوں کے ساتھ مدراسی فوجیوں کی حفاظت میں 18دسمبر 1947ء کو سیالکوٹ پاکستان بھیج دیا گیا

میں لکھ چکا ہوں کہ میرے والدین فلسطین میں تھے اور ہم دادا ۔ دادی اور پھوپھو کے پاس تھے ۔ ہمارے بغیر ڈھائی ماہ میں ہمارے بزرگوں کی جو ذہنی کیفیت ہوئی اُس کا اندازہ اِس سے لگایئے کہ جب ہماری بس سیالکوٹ چھاؤنی آ کر کھڑی ہوئی تو میری بہنوں اور اپنے بچوں کے نام لے کر ہمارے سیکنڈ کزنز کی والدہ میری بہن سے پوچھتی ہیں “بیٹی تم نے ان کو تو نہیں دیکھا”۔ میری بہن نے کہا “چچی جان میں ہی ہوں آپ کی بھتیجی اور باقی سب بھی میرے ساتھ ہیں”۔ لیکن اُنہوں نے پھر وہی سوال دُہرایا

اچانک مجھے اپنی پھوپھو جی نظر آئیں ۔ میں جلدی سے بس سے اُترا اور پھوپھو جی سے لِپٹ گیا ۔ وہ حیران ہوکر بولیں ” کون ہو ؟ ” پھر  میرا  سر پکڑ کر کچھ دیر چہرہ دیکھنے کے بعد اُن کی آنکھوں سے آبشاریں پھوٹ پڑیں اور اُنہوں نے مجھے اپنے سینے سے چِمٹا لیا

پاکستان پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دادا کا جوان بھتیجا جموں میں گھر کی چھت پر بھارتی فوجی کی گولی سے شہید ہوا ۔ میرے دادا کے ایک بھائی اور دوسرے عزیز و اقارب 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے اور آج تک اُن کی کوئی خبر نہیں

جب ہمارے بزرگ پولیس لائینز جموں میں تھے تو چند مسلمان جو 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے وہ چھُپتے چھپاتے کسی طرح 7 نومبر کو فجر کے وقت پولیس لائینز پہنچے اور قتل عام کا حال بتایا ۔ یہ خبر جلد ہی سب تک پہنچ گئی اور ہزاروں لوگ جو بسوں میں سوار ہو چکے تھے نیچے اُتر آئے

وہاں مسلم کانفرنس کے ایک لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ نصیرالدین موجود تھے اُنہوں نے وہاں کھڑے سرکاری اہلکاروں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا “پولیس لائینز کی چھَت پر مشِین گنیں فِٹ ہیں اور آپ کے فوجی بھی مُستعِد کھڑے ہیں اُنہیں حُکم دیں کہ فائر کھول دیں اور ہم سب کو یہیں پر ہلاک کر دیں ۔ ہمیں بسوں میں بٹھا کے جنگلوں میں لے جا کر قتل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں یہیں قتل کر دیا جائے اس طرح آپ کو زحمت بھی نہیں ہو گی اور آپ کا پٹرول بھی بچےگا ”۔

چنانچہ 7 اور 8 نومبر کو کوئی قافلہ نہ گیا ۔ اِسی دوران شیخ عبداللہ (جو نیشنل کانفرنس کے صدر تھے لیکن کشمیر چھوڑ دو کا نعرہ لگانے کی وجہ سے 1931ء سے جیل میں تھے) کو جیل سے نکال کر وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ اس نے نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کو شہروں سے ہٹا کر ان کی جگہ مدراسی فوجیوں کو لگایا جو مسلمان کے قتل کو ہم وطن کا قتل سمجھتے تھے

ہمارے دادا ۔ دادی ۔ پھوپھو اور ہمارے سیکنڈ کزنز کی والدہ ۔ دادی اور نانی 9 نومبر 1947ء کے قافلہ میں سیالکوٹ چھاؤنی کے پاس پاکستان کی سرحد تک پہنچے ۔ بسوں سے اُتر کر پیدل سرحد پار کر کے سیالکوٹ چھاؤنی پہنچے اور ضروری کاروائی کے بعد وہ وہاں سے سیالکوٹ شہر چلے گئے

تعلقات

سُوۡرَةُ  49 الحُجرَات میں الله سُبحانُهُ و تعالٰی کے 3 فرمان جن سے عام طور پر واسطہ پڑتا ہیں اور ہم انہیں نظر انداز کرتے  ہوئے گناہ کے مرتکِب ہوتے ہیں  

وَاِنۡ طَآٮِٕفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ‏ ﴿۹﴾  اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ‌وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ ﴿۱۰﴾  يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا خَيۡرًا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُنَّ خَيۡرًا مِّنۡهُنَّ‌ۚ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‌ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ‌ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۱﴾اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ  پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ﴿۹﴾  مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ﴿۱۰﴾  اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں ﴿۱۱﴾

بھیانک یادیں

نیچے نقل کردہ مضمون پڑھتے ہوئے میری آنکھوں سے برسات شروع ہو گئی اور جیسے کلیجہ اُچھل کر حلق میں پھنس گیا ۔ کم عمری میں دیکھے مناظر اور سُنی آوازیں ذہن میں اس طرح سے چل پڑیں جیسے میں اُسی (1947ء کے) دِل دہلا دینے والے دور میں دوبارہ پہنچ گیا ہوں جب 3 ماہ ہر لمحہ موت سر پر مڈلاتی رہتی تھی ۔ جب کھانے کو کچھ یا پانی مل جائے تو الله کا لاکھ شکر بجا لاتے کہ نامعلوم پھر کب ملے ۔ اسی لئے فلسطین والوں کیلئے میرا دل تڑپتا ہے ۔ 10 سال کی عمر ہوتے ہی اچانک ایسے ہولناک ماحول میں گھِر جانے کے بعد میری کیفیت صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو ایسے ماحول میں گھِرا ہو

کاش 1947ء کے بعد پیدا ہونے والے میرے ہموطن اس مُلک پاکستان کی قدر کو پہچانیں اور سوچیں کہ جو مُلک اُن کے برزگوں نے اپنی جان و مال اور بیٹیوں کی عزتوں کی قربانی دے کر بنایا تھا ۔ اب اس کی نگہداشت اور ترقی اُن کے ذمہ ہے


یہ 1977ء کی بات ہے۔ سرہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی کے عرس کی تقریبات اختتام پذیر ہوئیں تو اگلے روز قریباً 100 پاکستانی زائرین پر مشتمل وفد سر ہند سے قریباً 20 کلومیٹر پر واقع ایک قصبہ براس کی طرف روانہ ہوا جہاں ایک روایت کے مطابق بعض انبیائے کرام مدفون ہیں۔ زائرین کے لئے 2 بسیں مخصوص کی گئی تھیں ۔ بس اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی تو پاکستانی وفد کے قائد مسٹر جسٹس (ریٹائرڈ) صدیق چودھری  نے اپنے خالص دیہاتی لہجے میں گفتگو کا آغاز کیا۔ جسٹس صاحب قیام پاکستان کے بعد مغویہ عورتوں کے لئے قائم شدہ کمیشن کے رُکن تھے اور اس عرصے میں انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرائض انجام دیئے تھے۔

وہ بتا رہے تھے ”اس وقت تم سڑک کے دونوں جانب جو ہرے بھرے کھیت دیکھ رہے ہو ۔ 1947ء میں یہاں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کے سروں کی سرخ فصلیں کاٹی گئی تھیں۔ تم نے عورت کے کئی روپ دیکھے ہوں گے مگر اس کی بےچارگی اور مظلومیت کا رخ شاید اس طرح نہ دیکھا ہو جس طرح میں نے دیکھا ہے۔ جب مجھے پتہ چلتا کہ کسی گاؤں میں مسلمان عورتیں درندوں کے قبضے میں ہیں تو میں پولیس کے چند سپاہیوں کے ساتھ خون کے پیاسے افرا د کے درمیان میں سے گزر کر ان تک پہنچتا مگر کئی بار یوں ہوا کہ مغویہ ہمیں دیکھ کر ہمارے ساتھ چلنے کی بجائے اس وحشی کے پہلو میں جا کھڑی ہوتی جس نے اس کے والدین کو قتل کردیا تھا اور اسے اٹھا کر اپنے گھر ڈال لیا تھا لیکن جب ہم اسے یقین دلاتے کہ اب وہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے اس غنڈے سے ڈرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تو وہ ہمارے ساتھ چلنے پر رضا مند ہوتی اور پھر مغویہ عورتوں کے کیمپ میں پہنچ کر وہ اپنے بچے کچھے کسی عزیز کے گلے لگ کر ہچکیاں لے لے کر روتی“۔

جسٹس صاحب نے بتایا ”میری آنکھوں نے وہ خُوں آشام مناظر دیکھے ہیں کہ ایک وقت میں انسانیت سے میرا اعتماد اُٹھ گیا تھا۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران میری ملاقات ان بچیوں سے بھی ہوئی جو پورے پورے گاؤں کی ملکیت تھیں۔ میں نے کیمپوں میں دھنسی ہوئی آنکھوں اور پھولے ہوئے پیٹ دیکھے ہیں۔ یہ اس وقت ہم جس علاقے سے گزر رہےہیں۔ یہاں مسلمان عورتوں کے برہنہ جلوس گزرتے رہے ہیں۔ مگر میں تمہیں ایک واقعہ ضرور سناؤں گا“۔ جسٹس صاحب نے کہا ”مجھے اطلاع ملی کہ ایک سیّد زادی کو ایک بھنگی نے اپنے گھر میں ڈالا ہوا ہے۔ میں پولیس کے سپاہیوں کے ساتھ اس گاؤں میں پہنچا اور دروازہ توڑ کر گھر داخل ہوا تو میں نے دیکھا صحن میں ایک بچی کھانا پکا رہی تھی اور ایک طرف جائے نماز بچھی تھی ۔ اتنے میں ایک دوسرے کمرے سے ایک ادھیڑ عمر کا کالا بھجنگ شخص نکلا اور ہمارے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ یہ وہی بھنگی تھا جس کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ اس نے ایک سید زادی کو اغوا کر کے گھر میں ڈال رکھا ہے۔ اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔ میں نے آگے بڑھ کر ایک زور دار مکا اس کے منہ پر رسید کیا جس سے وہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔ اس کے منہ سے خون جاری ہوگیا تھا۔ وہ تھوڑی دیر بعد اٹھا اور اپنی قمیض کے دامن سے اپنا منہ پونچھتے ہوئے اس نے کھانا پکاتی ہوئی لڑکی کی طرف اشارہ کر کے نحیف سی آواز میں پوچھا ۔ تم اسے لینے آئے ہو؟ اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھی۔ وہ سیدھا لڑکی کی طرف گیا اور کہا ۔ بیٹی میرے پاس تمہیں الوداع کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس پوٹلی میں بس ایک دوپٹہ ہے۔ اور پھر دوپٹہ اس کے سر پر اوڑاتے ہوئے اس کی آنکھیں چھلک پڑیں اور پھر وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا“۔

ہماری پاکستان آمد

کرنل عبدامجید (جن کے بیوی بچوں کے ساتھ  ہم جموں چھاؤنی میں رہ رہے تھے) کے چھوٹے بھائی جموں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے ۔ وسط نومبر 1947ء میں وہ چھاؤنی آئے اور بتایا کہ شیخ محمد عبداللہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ امن ہو جائے گا ۔ جموں کے تمام مسلمانوں کے مکان لوٹے جا چُکے ہیں اور تمام علاقہ ویران پڑا ہے

4 ہفتے بعد ایک جیپ آئی اور ہمارے خاندان کے 6 بچوں یعنی میں ۔ میری 2 بڑی بہنیں ۔ 2 سیکنڈ کزنز اور اُن کی پھوپھو کو جموں شہر میں نیشنل کانفرنس کے صدر کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کے گھر لے گئی ۔ وہاں قیام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ 6 نومبر کو مسلمانوں کے قافلے کے قتل عام کے بعد خُون سے بھَری ہوئی بسیں چھاؤنی کے قریب والی نہر میں دھوئی گئی تھیں ۔ اس وجہ سے ہم نے نہر میں خُون اور خُون کے لوتھڑے دیکھے تھے ۔ مسلمانوں کے قتل کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور نیشنل کانفرنس کے مسلمانوں کے عِلم میں بھی وقوعہ کے بعد آیا

وہاں کچھ دن قیام کے بعد ہمیں دوسرے لاوارث بچوں اور لاوارث زخمی عورتوں کے ساتھ مدراسی فوجیوں کی حفاظت میں 18دسمبر 1947ء کو سیالکوٹ پاکستان بھیج دیا گیا

میں لکھ چکا ہوں کہ میرے والدین فلسطین میں تھے اور ہم دادا ۔ دادی اور پھوپھو کے پاس تھے ۔ ہمارے بغیر ڈھائی ماہ میں ہمارے بزرگوں کی جو ذہنی کیفیت ہوئی اُس کا اندازہ اِس سے لگایئے کہ جب ہماری بس سیالکوٹ چھاؤنی آ کر کھڑی ہوئی تو میری بہنوں اور اپنے بچوں کے نام لے کر ہمارے سیکنڈ کزنز کی والدہ میری بہن سے پوچھتی ہیں “بیٹی تم نے ان کو تو نہیں دیکھا”۔ میری بہن نے کہا “چچی جان میں ہی ہوں آپ کی بھتیجی اور باقی سب بھی میرے ساتھ ہیں”۔ لیکن اُنہوں نے پھر وہی سوال دُہرایا

اچانک مجھے اپنی پھوپھو جی نظر آئیں ۔ میں جلدی سے بس سے اُترا اور پھوپھو جی سے لِپٹ گیا ۔ وہ حیران ہوکر بولیں ” کون ہو ؟ ” پھر  میرا  سر پکڑ کر کچھ دیر چہرہ دیکھنے کے بعد اُن کی آنکھوں سے آبشاریں پھوٹ پڑیں اور اُنہوں نے مجھے اپنے سینے سے چِمٹا لیا

پاکستان پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دادا کا جوان بھتیجا جموں میں گھر کی چھت پر بھارتی فوجی کی گولی سے شہید ہوا ۔ میرے دادا کے ایک بھائی اور دوسرے عزیز و اقارب 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے اور آج تک اُن کی کوئی خبر نہیں

جب ہمارے بزرگ پولیس لائینز جموں میں تھے تو چند مسلمان جو 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے وہ چھُپتے چھپاتے کسی طرح 7 نومبر کو فجر کے وقت پولیس لائینز پہنچے اور قتل عام کا حال بتایا ۔ یہ خبر جلد ہی سب تک پہنچ گئی اور ہزاروں لوگ جو بسوں میں سوار ہو چکے تھے نیچے اُتر آئے

وہاں مسلم کانفرنس کے ایک لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ نصیرالدین موجود تھے اُنہوں نے وہاں کھڑے سرکاری اہلکاروں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا “پولیس لائینز کی چھَت پر مشِین گنیں فِٹ ہیں اور آپ کے فوجی بھی مُستعِد کھڑے ہیں اُنہیں حُکم دیں کہ فائر کھول دیں اور ہم سب کو یہیں پر ہلاک کر دیں ۔ ہمیں بسوں میں بٹھا کے جنگلوں میں لے جا کر قتل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں یہیں قتل کر دیا جائے اس طرح آپ کو زحمت بھی نہیں ہو گی اور آپ کا پٹرول بھی بچےگا ”۔

چنانچہ 7 اور 8 نومبر کو کوئی قافلہ نہ گیا ۔ اِسی دوران شیخ عبداللہ (جو نیشنل کانفرنس کے صدر تھے لیکن کشمیر چھوڑ دو کا نعرہ لگانے کی وجہ سے 1931ء سے جیل میں تھے) کو جیل سے نکال کر وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ اس نے نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کو شہروں سے ہٹا کر ان کی جگہ مدراسی فوجیوں کو لگایا جو مسلمان کے قتل کو ہم وطن کا قتل سمجھتے تھے

ہمارے دادا ۔ دادی ۔ پھوپھو اور ہمارے سیکنڈ کزنز کی والدہ ۔ دادی اور نانی 9 نومبر 1947ء کے قافلہ میں سیالکوٹ چھاؤنی کے پاس پاکستان کی سرحد تک پہنچے ۔ بسوں سے اُتر کر پیدل سرحد پار کر کے سیالکوٹ چھاؤنی پہنچے اور ضروری کاروائی کے بعد وہ وہاں سے سیالکوٹ شہر چلے گئے