یومِ آزادی 14 اگست کیوں ؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم یوم آزادی پاکستان 14 اگست کو کیوں مناتے ہیں جبکہ بھارت میں 15 اگست کو منایا جاتا ہے؟

آزادی کی تاریخ کا جس مِیٹنگ میں اعلان کیا گیا تھا اُس میں ہی قائد اعظم محمد علی جناح صاحب نے اِستدلال پیش کیا کہ پاکستان کا نظریہ ہندوستان کے نظریہ سے بالکل مختلف ہے ۔ دیگر پاکستان کو ہندوستان میں سے علیحدہ کیا جا رہا ہے ۔ اس لئے پاکستان کا اعلان ہندوستان کی آزادی سے پہلے ہونا چاہیئے

قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کی وکالت میں ساری دنیا میں مانی جاتی تھی ۔ عدالت میں اُن کے دلائل کے نتیجہ میں متعدد بار قانون تبدیل کرنا پڑا تھا

چنانچہ آزادی کے بارے میں دیئے گئے دلائل کے نتیجہ میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان بننے کا اعلان 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو 11 بج کر 57 منٹ پر کیا جائے گا اور ہندوستان کی آزادی کا اعلان اسی رات کے دوران 12 بج کر 5 منٹ پر کیا جائے گا

وہ منظر آج بھی میری نظروں کے سامنے گھومتا ہے کہ جب 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات اعلانِ آزادی ہونا تھا تو  بوڑھے ۔ جوان اور میرے جیسے بچے جاگتے رہے تھے ۔ ریڈیو  پر لاہور کا سٹیشن لگا لیا گیا تھا

رات کے عین 11 بج کر 57 منٹ پر آواز آئی

یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے

صرف ہمارا گھر ہی نہیں پورا محلہ ” نعرہءِ تکبیر ۔ الله اكبر اور پاکستان زندہ باد“ کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا

یہ بھی بتا دوں کہ پہلے ریڈیو لاہور کا اناؤنسر کہا کرتا تھا ”یہ آل انڈیا ریڈیو لاہور ہے“۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ آزادی سے قبل ہندوستان میں سرکاری طور پر دن پچھلی رات 12 بجے کے بعد شروع ہوتا تھا اور ابھی تک بھارت اور پاکستان میں یہ طریقہ رائج ہے

چنانچہ 14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی منانے کا فیصلہ جناب قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کی ایماء پر حکومتِ برطانیہ نے ہندوستان کو آزادی دینے سے پہلے کیا تھا

میری یادیں مارچ  1947ء سے پہلے کی

1946ء میں میں اور چند ہمجماعت لڑکے  کھیل کر واپس آ رہے تھے ۔ راستہ میں ایک ہندو لڑکے نے ایک ہندو دکاندار سے پانی مانگا تو دکاندار نے پانی کا گلاس دے دیا اور اس نے گلاس سے منہ لگا کر پانی پی لیا ۔ پھر ایک مسلمان لڑکے نے پانی مانگا تو دکاندار نے کہا چلُو کرو اور گلاس سے ڈیڑھ فٹ اونچائی سے لڑکے کے چلُو میں پانی پھینکنا شروع کیا جس سے لڑکے کے کپڑے بھیگ گئے اور وہ ٹھیک طرح پانی بھی نہ پی سکا

ایک دن ایک ہندو آدمی فُٹ پاتھ پر جا رہا تھا کہ ایک مسلمان لڑکا بھاگتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا تو ہندو چیخا ”کپڑے بڑھشٹ کری گیا“ مطلب کہ کپڑے پلِید کر گیا ہے اور اس لڑکے کو کوسنے لگا ۔

کچھ دن بعد وہی ہندو گذر رہا تھا کہ راستہ ميں کھڑی ایک گائے نے پیشاب کیا جس سے اس کا پاجامہ بھيگ گيا تو وہ بولا “پاپ چڑی گئے پاپ چڑی گئے“ یعنی گناہ جھَڑ گئے

فروری 1947ء میں ایک دن سکول میں آدھی چھٹی کے دوران میرے ہم جماعت 2 برہمن لڑکے رنبِیر اور کِیرتی کُمار  میرے پیچھے سے آئے ۔ رنبِیر جو مجھ سے 3 سال بڑا تھا قائداعظم محمد علی جناح کو گالیاں دے رہا تھا ۔ میرے منع کرنے پر اُس نے جیب سے چاقو نکالا اور اُسے میرے پیچھے شانوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبانے لگا ۔ اچانک نویں جماعت کےکچھ مسلمان لڑ کے آ گئے اور وہ چلا گیا۔ میں نے گرم سُوٹ پہنا ہوا تھا ۔ میرا کوٹ پر شانوں کے درمیان  کٹ گیا لیکن مجھے گزند نہ پہنچی

دو دن بعد ہمارا خالی پیریڈ تھا ۔ ہم کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رنبیر کے دوست کیرتی کمار نے مسلمانوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ میرے منع کرنے پر کیرتی کمار نے کہا ”ہم تم مُسلوں کو ختم کر دیں گے“ اور مجھ پر پَل پڑا اور ہم گُتھَم گُتھا ہو گئے ۔ شور سُن کر ساتھ والے کمرے سے ٹیچر آ گئے تو کیرتی کمار نے مجھے چھوڑا

ثقافت کا ایک اہم حصہ ۔ لَوری

ميرے چھوٹے بہن بھائیوں کو سُلانے کيلئے ميری پیاری امّی جی (اللہ اُنہيں جنت الفردوس ميں جگہ دے) یہ لَورياں سناتی تھيں

الله تُوں بَيلی وی تُوں

قادر تُوں کريم وی تُوں

دِتا ای تے پالِيں وی تُوں

الله الله ۔ الله الله

الله الله ۔ الله الله

الله الله کريا کرو

خالی دَم نہ بھَريا کرو

مدد تيری يا رسول

دِل وِچَوں غم ہٹاؤ حضور

الله الله ۔ الله الله

الله الله ۔ الله الله

الله ہی الله کيا کرو

دُکھ نہ کِسی کو ديا کرو

جو دُنيا کا مالک ہے

ياد اُسی کو کيا کرو

الله الله ۔ الله الله

 الله الله ۔ الله الله

نام ھنا يا حَلْو يا اُوت اُوت

اَنا جِبلَک جَوزً کُوت کُوت

يا حبِيبی يا مُحَمد صَلّ اللهُ علَيهِِ وَ سَلّم

الله الله ۔ الله الله

الله الله ۔ الله الله

(سو جا پیارے ننھے مُنے میں تمارے لئے بطخ کے چوزوں کا جوڑا لاؤں گی)

دُنیا کا رویّہ

رُسے ساہنُوں یاد نہیں کردے

تے راضِیاں وی بھُل جانا اے

مِٹی دا اَیہہ جُسا جس دن

اے مٹی وِچ رَل جانا اے

کِیہ کھویا ، کِیہ کھَٹیا ای

کِیہ لُٹیا ای، کِیہ وَٹیا ای

عَملاں والا کھاتہ تیرا

وِچ قبرِیں کھُل جانا اے

کاہدی آکڑ، کاہدی پھُو پھاں

چھَڈ دے بَندیا کرنی تُو تاں

جِیویں لُون کھُرے وِچ پانی

سَبھ اَوہداں گھُل جانا اے

پَیسہ پَیسہ لائی رکھی

جِند اپنی کملائی رکھی

اِک کفنی وِچ ہوکے رُخصت

کِیہ تیرا مُل رہ جانا اے

چَنگا کر ۔ تے مَندڑا چھَڈ دے

مَن اَندرَوں کھوٹ نُوں کڈھ دے

تِن دیہاڑے جِندڑی تیری

دِن چَوتھے تُوں ٹُر جانا اے کلام ۔ طارق اقبال حاوی

ہمارے دادا جان

آج 2 جون ہے ۔ آج سے 71 برس قبل میرے دادا جان (اللہ جنت نصیب کرے) اِس دارِ فانی سے رُخصت ہو ئے تھے ۔ ہم دادا جان کو میاں جی اور دادی جان کو بے بے جی کہتے تھے

میاں جی اور بے بے جی  نے حج اُس زمانہ میں کیا جب مکہ مکرمہ سے منیٰ ۔ عرفات اور واپسی پیدل اور مکہ مکرمہ سے مدینہ اور واپسی اُونٹ پر ہوتی تھی

بعد دوپہر اور رات کو میں میاں جی کے بازو اور ٹانگیں سہلایا کرتا تھا۔ (عام زبان میں دبانا کہتے ہیں) اس دوران میاں جی مجھے اچھی اچھی باتیں اور اپنی تاریخ بتایا کرتے تھے ۔ میں نے اُنہیں ایک فقرہ متعدد بار کہتے سُنا تھا ” نیکی کر اور دریا میں ڈال”۔ ایک دن میں نے پُوچھا کہ میاں جی اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟

میاں جی نے بتایا۔” نیکی کرو اور بھول جاؤ۔ اپنی نیکی نہ یاد رکھو نہ جتاؤ”۔ مجھے بات پوری طرح اُس وقت واضح ہوئی جب بعد میں قرآن شریف کی تفسیر کا مطالعہ کیا کہ یہ اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے کہ کسی پر احسان کر کے جتاؤ نہیں ۔ بڑی عمر کو پہنچنے پر دوسرے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ میاں جی اِس کی عملی مثال تھے۔ وہ ہر کسی سے حتیٰ کہ بغیر جان پہچان کے بھی بھلائی کرتے تھے احسان سمجھ کر نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ۔ اس لئے برادری کے تمام بزرگ اور شہر کے لوگ ان کی بہت عزّت کرتے تھے اور اہم کاموں میں ان سے مشورہ لیتے تھے۔ نیکی کر دریا میں ڈال انسانیت کا ایک عمدہ پہلو ہے۔ ایک طرف تو وہ پچھلے وقتوں کے لوگ اور ایک آجکل کے ہم لوگ کہ بھلائی کرنے کا تو سوچتے بھی نہیں ۔ بلاوجہ کے احسان جتاتے رہتے ہیں اور دوسروں کو اذیّت دینے کے نِت نئے طریقے سوچتے رہتے ہیں

عیدالاضحٰے کی پیشگی مبارک

کُلُ عَام اَنتُم بَخَیر

الله سُبحانُہُ و تعالٰی سب مسلمانوں کو اپنی شريعت پر قائم کرے اور شيطان کے وسوسوں سے بچائے
جنہوں نے حج ادا کیا ہے الله کریم اُن کا حج قبول فرمائے
جنہوں نے سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کی سُنّت کی پيروی کرتے ہوئے قربانی کرنا ہے ۔الله عِزّ و جَل اُن کی قربانی قبول فرمائے
الله کریم ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
الله الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ہمارے مُلک کو ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ فرمائے اور امن کا گہوارہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین

ذوالحجہ

ذوالحجہ کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ اِس مہینے کی برکات حاصل کیجئے

ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک ۔ ہر نماز کے بعد ايک بار مندرجہ ذیل تکبیرات کہنا چاہئیں البتہ عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر يہ ورد رکھنا چاہیئے

اللهُ اکبر اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَهَ  اِلْله وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ  لَهُ الّمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلْله اللهُ اکبر اللهُ  اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلْله و اللهُ اکبر ا اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر کبِیراً والحمدُ للهِ کثیِراً و سُبحَان اللهِ بکرۃً و أصِیلا
اللّھم صلی علٰی سیّدنا محمد و علٰی آل سیّدنا محمد و علٰی اصحاب سیّدنا محمد و علٰی ازواج سیّدنا محمد و سلمو تسلیماً کثیراً کثیراً