آج 2 جون ہے ۔ آج سے 71 برس قبل میرے دادا جان (اللہ جنت نصیب کرے) اِس دارِ فانی سے رُخصت ہو ئے تھے ۔ ہم دادا جان کو میاں جی اور دادی جان کو بے بے جی کہتے تھے
میاں جی اور بے بے جی نے حج اُس زمانہ میں کیا جب مکہ مکرمہ سے منیٰ ۔ عرفات اور واپسی پیدل اور مکہ مکرمہ سے مدینہ اور واپسی اُونٹ پر ہوتی تھی
بعد دوپہر اور رات کو میں میاں جی کے بازو اور ٹانگیں سہلایا کرتا تھا۔ (عام زبان میں دبانا کہتے ہیں) اس دوران میاں جی مجھے اچھی اچھی باتیں اور اپنی تاریخ بتایا کرتے تھے ۔ میں نے اُنہیں ایک فقرہ متعدد بار کہتے سُنا تھا ” نیکی کر اور دریا میں ڈال”۔ ایک دن میں نے پُوچھا کہ میاں جی اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟
میاں جی نے بتایا۔” نیکی کرو اور بھول جاؤ۔ اپنی نیکی نہ یاد رکھو نہ جتاؤ”۔ مجھے بات پوری طرح اُس وقت واضح ہوئی جب بعد میں قرآن شریف کی تفسیر کا مطالعہ کیا کہ یہ اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے کہ کسی پر احسان کر کے جتاؤ نہیں ۔ بڑی عمر کو پہنچنے پر دوسرے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ میاں جی اِس کی عملی مثال تھے۔ وہ ہر کسی سے حتیٰ کہ بغیر جان پہچان کے بھی بھلائی کرتے تھے احسان سمجھ کر نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ۔ اس لئے برادری کے تمام بزرگ اور شہر کے لوگ ان کی بہت عزّت کرتے تھے اور اہم کاموں میں ان سے مشورہ لیتے تھے۔ نیکی کر دریا میں ڈال انسانیت کا ایک عمدہ پہلو ہے۔ ایک طرف تو وہ پچھلے وقتوں کے لوگ اور ایک آجکل کے ہم لوگ کہ بھلائی کرنے کا تو سوچتے بھی نہیں ۔ بلاوجہ کے احسان جتاتے رہتے ہیں اور دوسروں کو اذیّت دینے کے نِت نئے طریقے سوچتے رہتے ہیں