تحریک آزادی کا کھُلا اعلان

مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے کسی قسم کا جواب نہ ملنے پر جس مسلح تحریک کا نوٹس مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ نے مہاراجہ ہری سنگھ کو دیا تھا وہ 23 اگست 1947ء کو نیلا بٹ سے شروع ہوئی اور ستمبر میں گلگت اور بلتستان میں پروان چڑھی اور پھر اکتوبر میں مظفرآباد ۔ پونچھ ۔ کوٹلی ۔ میرپور اور بھِمبَر تک پھیل گئی ۔
یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی مہاراجہ ہری سنگھ کی دستخط شدہ جس قانونی دستاویز کا بھارت بہت ڈھنڈورہ پیٹتا ہے اُسے کئی بھارتی اور برطانوی مصنفین مشکوک یا متنازعہ قرار دے چکے ہیں ۔ بھارتی محقّق ارون دھاتی رائے تو اسے بالکل غلط قرار دیتا ہے ۔ بھارتی حکومت کہتی ہے کہ اس دستاویز پر 26 اکتوبر 1947ء کو دستخط ہوئے تھے ۔
بھارتی مصنف پریم شنکر جھا کہتے ہیں کہ اس دستاویز پر 25 اکتوبر 1947ء کو دستخط ہوئے تھے ۔ اُس وقت کے جموں کشمیر کے وزیرِ اعظم مہر چند مہاجن کہتے ہیں کہ 27 اکتوبر 1947ء کو دستخط ہوئے تھے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پر ہری سنگھ نے کبھی دستخط ہی نہیں کئے تھے ۔ 23 اگست کو ملمانوں کی مسلح تحریک  شروع ہوتے ہی گاندھی ۔ نہرو اور پٹیل نے ہری سنگھ کے پاس پہنچ گئے تھے اور اُسے بھارت کے ساتھ الحاق کیلئے مجبور کیا ۔ ہری سنگھ نے اپنی تائی (سابق مہاراجہ پرتاب سنگھ کی بیوی جس نے ہری سنگھ کو گدی پر بٹھایا تھا) کے سختی سے منع کرنے پر اُس نے ہاں نہیں کی تھی ۔ گاندھی ۔ نہرو اور پٹیل کے واپس جانے کےکچھ عرصہ بعد راجہ ہری سِنگھ رُوپَوش ہو گیا اور اسے کے نابالغ بیٹے کرن سنگھ کو گدی پر بٹھا دیا گیا جس کے اختیار میں کچھ نہ تھا

گِلگِت بَلتِستان کی آزادی

گِلگِت کا علاقہ انگریزوں نے پَٹے پر لیا ہوا تھا اور اسکی حفاظت گِلگِت سکاؤٹس کے ذمہ ہوا کرتی تھی جو سب مسلمان تھے ۔ گِلگِت سکاؤٹس کے صوبیدار میجر بابر خان آزادی کے متوالے تھے ۔ جموں کشمیر کے راجہ نے گِلگِت سے 50 کلومیٹر دور بونجی کے مقام پر چھاؤنی اور ریزیڈنسی بنائی ہوئی تھی جہاں چھَٹی جموں کشمیر اِنفنٹری کے فوجی تعینات ہوتے تھے ۔ چھَٹی جموں کشمیر اِنفنٹری کے مسلمان آفیسروں میں کرنل عبدالمجید جموں میں ہمارے ہمسایہ تھے ۔ کرنل احسان الٰہی ۔ میجر حسن خان جو کیپٹن ہی جانے جاتے رہے ۔ کیپٹن سعید درّانی ۔ کیپٹن محمد خان ۔ کیپٹن محمد افضل اور لیفٹیننٹ غلام حیدر شامل تھے ۔ پَٹے کی معیاد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کی آزادی معرضِ وجود میں آ گئی اور انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنا شروع کر دیا چنانچہ جموں کشمیر کے مہاراجہ ہَری سِنگھ نے گھنسار سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کر کے بونجی بھیجا ۔ یہ تعیناتی چونکہ نہائت عُجلت میں کی گئی تھی اسلئے گورنر گھنسار سنگھ کے پاس علاقہ کا انتظام چلانے کے کوئی اختیارات نہ تھے سو وہ صرف کاغذی گورنر تھا ۔

ہوا یوں کہ چھٹی جموں کشمیر اِنفینٹری کی رائفل کمپنی کے کمانڈر میجر حسن خان کو اپنی کمپنی کے ساتھ گلگت کی طرف روانگی کا حُکم ملا ۔ یکم ستمبر 1947ء کو وہ کشمیرسے روانہ ہوا تو اُس نے بآواز بلند پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور پوری کمپنی نے اُس کا ساتھ دیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب سارے جموں کشمیر میں دفعہ 144 نافذ تھی اور اس کے باوجود جموں شہر میں آزادی کے متوالے مسلمان جلوس نکال رہے تھے جس میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے تھے ۔ میجر حسن خان کی کمپنی جب اَستور پہنچی تو شہری مسلمانوں کی حمائت سے نیا جوش پیدا ہوا اور آزادی کے متوالوں نے دل کھول کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ اس کمپنی نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اور باقی آزادی کے متوالوں کو ساتھ ملاتے اپنا سفر جاری رکھا ۔ گلگت پہنچنے تک گلگت سکاؤٹس بھی ان کے ساتھ مل چکے تھے ۔ بھارتی فوجوں کے 27 اکتوبر 1947ء کو جموں میں زبردستی داخل ہونے کی اطلاع گلگت بلتستان میں 30 اکتوبر 1947ء کو پہنچی ۔ 31 اکتوبر کو صوبیدار میجر بابر خان نے بونجی پہنچ کر گلگت سکاؤٹس کی مدد سے گورنر گھنسار سنگھ کے بنگلہ کا محاصرہ کر لیا ۔ گورنر کے ڈوگرہ فوجی محافظوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک سکاؤٹ شہید ہو گیا ۔ گھنسار سنگھ کو حسن خان اور اس کے ساتھیوں کی استور میں نعرے لگانے کا علم ہو چکا تھا ۔ اُس نے 31 اکتوبر کوصبح ہی ٹیلیفون پر چھٹی اِنفینٹری کے کمانڈر کرنل عبدالمجید کو ایک سِکھ کمپنی فوراً بونجی بھجنے اور خود بھی میجر حسن خان کو ساتھ لے کر بونجی پہنچنے کا کہا ۔ کرنل عبدالمجید خود بونجی پہنچا اور میجر حسن خان کو اپنی کمپنی سمیت بونجی پہنچنے کا حکم دیا مگر سکھ کمپنی کو کچھ نہ کہا ۔ کرنل عبدالمجید کے بونجی پہنچنے سے پہلے گلگت سکاؤٹس کی طرف سے گھنسار سنگھ تک پیغام پہنچایا جا چکا تھا کہ ہتھیار ڈال دو ورنہ مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ کرنل عبدالمجید نے میجر حسن خان اور صوبیدار میجر بابر خان سے گھنسار سنگھ کی جان کی ضمانت لے لی اور گھنسار سنگھ نے گرفتاری دے دی

اللہ کا نام

اللہ کا نام بہت زیادہ لیا جائے یا کم ۔ اپنا اثر ضرور رکھتا ہے

دنیا میں بعض اشیاء ایسی ہیں کہ ان کا نام لینے سے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے

پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے اُس خالقِ کائنات کا نام ” الله “ لیا جائے اور اس میں اثر نہ ہو

خود خالی نام میں بھی برکت ہے

سچا کون ؟

والد صاحب نے کہا ” انسان کو کسی کی عدم موجودگی میں وہی بات کرنا چاہیئے جو وہ اس کے منہ پر بھی دہرا سکے“۔
بات معمولی سی تھی مگر میں نے اس پر عمل بڑا مشکل پایا ہے

ہاں جب کبھی اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق ملی ہے اس وقت زندگی بڑی ہلکی اور آسان محسوس ہوئی ہے

قدرت اللہ شہاب

تہذیب و تمدّن

انگریز تو خیر اپنے مادری لہجے میں انگریزی بولنے پہ مجبور ہے لیکن جاپانی ، جرمن، اطالوی، فرانسیسی ، روسی اور چینی انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں تو اپنے فطری لہجے کو انگلستانی لہجے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے

غلامی کے دَور نے احساسِ کمتری کی یہ وراثت صرف ہمیں عطا کی ہے۔ اگر ہم اپنے قدرتی لہجے میں انگریزی زبان بولیں تو اسے بڑا مضحکہ خیز لطیفہ سمجھ لیا جاتا ہے قدرت اللہ شہاب

پاکستانی اور غیر زبان

” آپ پاکستانی ہو کر انگریزی میں درخواست کیوں لکھتے ہیں ؟“ اُس نے میری جواب طلبی کی
میں نے معذرت کی ” مجھے عربی نہیں آتی اس لئے درخواست انگریزی میں لکھنا پڑی“۔
” آپ کی زبان کیا ہے؟“ افسر نے پوچھا
” اُردو“ میں نے جواب دیا

” پھر انگریزی کے ساتھ آپ کا کیا  رشتہ ہے؟“ افسر نے طنزیہ پوچھا

میرے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ تسلیم کروں کہ انگریزی کے ساتھ میرا فقط غلامی کا رشتہ ہے

(قدرت اللہ شہاب)

کیا ہم اِس بوڑھی عورت سے بہتر ہیں ؟

ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگا کرتی تھی 

 ایک شخص نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی کمانے والا نہیں ہے ؟

بوڑھی عورت بولی کہ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ 5 سال قبل بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا تھا۔ جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے گیا تھا ، وہ خرچ ہوگئی تھی اِس لئے بھیک مانگ رہی ہوں 

 اس شخص نے پوچھا ” کیا بیٹا کچھ نہیں بھیجتا؟

 بوڑھی عورت نے کہا ” بیٹا ہر ماہ رنگ برنگا کاغذ بھیجتا ہے جو میں گھر میں دیوار پر چپکا دیتی ہوں“۔ 

۔ ہر ڈرافٹ  50 ہزار روپے کا تھا وہ شخص بوڑھی عورت کے گھر گیا تو دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کئے ہوئے تھے 

وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے 

 اس شخص نے اُسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھائی تو وہ پہلے خوش ہوئی پھر پریشان ہو گئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے

 ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے 

ہمارے پاس قرآن مجید ہے۔ ہم اسے فرفر پڑھتے ہیں ۔ چُومتے اور اُونچی جگہ پر رکھتے ہیں جبکہ اِس کا فائدہ صرف اِس صورت میں اُٹھا سکیں گے کہ ہم اِس کے معنی سمجھ کر ا قرآن مجید اپنی عملی زندگی میں لے آئیں ۔ تَب ہی ہماری دُنیا اور اس کے بعد کی زندگی دونوں بہتر ہوں گی

بہت بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہماری غفلت کی وجہ سے اس میں چھُپے انعامات سے ہم محروم ہیں

الله سبحانه و تعالیٰ ہمیں قرآن مجید میں لکھے  الله سبحانه و تعالیٰ کے احکامات کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے

 آمین یارب العالمین ۔