قصّہ میری گُمشُدگی کا

میں آٹھ نو دِن بلاگ سے غیرحاضر رہا ۔ کچھ حضرات کو میری صحت بارے فکر ہوئی اور اُنہوں نے میری خیریت دریافت کی ۔ ان میں سب سے پہلے دُبئی والے شعیب صاحب نے تشویش کا اِظہار کیا ۔ میں اِن حضرات کا تہہ دل سے ممنون ہوں اور اللہ کا بھی شکرگذار ہوں جس نے مجھے یہ بے لوث چاہنے والے بخشے ۔ اس دوران مجھے 16 سے 19 فروری تک ایک پینٹیم 2 کمپیوٹر کی مرافقت حاصل ہو سکی جس پر آدھی ونڈوز ایکس پی نصب تھی چنانچہ میں صرف انگریزی کی ای میل پڑھ کے جواب دے سکا ۔ اپنے بلاگ پر قارئین کے تبصرے میں نے بغیر پڑھے شائع کئے مگر ان کے جواب نہیں لکھ سکتا تھا ۔12 فروری کو میری بیوی کے بڑے بھائی [میرے خالہ زاد] کے بیٹے کی منگنی تھی ۔ 12 آدمیوں نے جانا تھا ۔ ایک وین کرایہ پر لی گئی ۔ ہم لوگ صبح 7 بجے روانہ ہوئے اور گُوجرانوالہ کے راستے 12 بجے دوپہر سیالکوٹ پہنچے ۔ لڑکے کے ماموں کے گھر جا کر تازہ دم ہوئے اور ایک بجے لڑکی والوں کے گھر پہنچے ۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کوٹھی کے پائیں باغ میں سب نے باجماعت نمازِ ظُہر ادا کی پھر کھانا کھایا جس کے بعد رسم ہوئی ۔ میں اور میرے دو ہم زُلف خواتین والے کمرہ میں نہیں گئے اسلئے معلوم نہیں کہ رسم میں کیا ہوا ۔ لاہور سے میری بیوی کی بہن اور بہنوئی بھی آئے ہوئے تھے ۔ لاہور میں 18 فروری کو میری بیوی کے چھوٹے بھائی کی بیٹی کی شادی تھی چنانچہ ہم واپس اسلام آباد آنے کی بجائے 4 بجے بعد دوپہر اُن کے ساتھ لاہور چلے ۔ راستہ میں گوجرانوالہ میں اُن کی بیٹی کے ہاں قیام کیا اور لاہور ڈیفنس میں اُن کے گھر رات 10 بجے پہنچے ۔
13 فروری کو ہم نے ہونے والی دُلہن اور اُس کے گھر والوں سے کینال ویو جا کر ملاقات کی ۔ وہ لوگ برطانیہ سے آئے ہوئے ہیں اور ہونے والی دُلہن کی خالہ کے گھر ٹھیرے ہوئے ہیں ۔ دوپہر کا کھانا اُن کے ساتھ کھایا پھر گُلبرگ گئے اور میرے بیوی کی بھانجی کے گھر چائے پی پھر رات تک میری بیوی اور اُس کی بہن نے ہونے والی دُلہن اور دولہا کے لئے تحائف خریدے ۔ اس کے بعد ہمیں گُلبرگ میں میری بڑی بہن کے گھر اُتار کر وہ ڈیفنس میں اپنے گھر چلے گئے ۔

14 فروری کی صبح میرے ایک انجنیئرنگ کالج کے ہم جماعت اور دوست کا بیٹا آ کر اپنے گھر رحمٰن پورہ اِچھرہ لے گیا ۔ دوپہر کا کھانا اپنے دوست کے ساتھ کھا کر واپس ہوا ۔ رات کو میرے ایک دوست جو مغل پورہ کے قریب رہتے ہیں نے مدعو کیا ہوا تھا مگر شہر میں توڑپھوڑ اور آگ کا کھیل شروع ہو جانے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا ۔ چنانچہ بہن کے گھر اے آر وائی ٹی وی سے صورتِ حال دیکھتے رہے ۔

15 فروری کی صبح میرے دوست آ کر مغلپورہ لے گئے ۔ دوپہر کا کھانا ہوٹل میں کھلا کے واپس چھوڑ گئے ۔
16 فروری کی صبح ہم پھر ڈیفنس میں میری بیوی کی بہن کے گھر چلے گئے ۔ ہونے والے دولہا کے گھر والے گُلبرگ میں دولہا کی دادی کے بھائی کے گھر ٹھیرے ہوئے تھے جو کہ میرے پھوپھی زاد اور میری بیوی کے چچازاد ہیں ۔ بعد دوپہر دولہا کو ملنے گئے ۔ رات کو دُلہن کے والدین نے کینال ویو میں مدعو کیا ہوا تھا سو وہاں مغرب سے پہلے پہنچ گئے ۔

17 فروری کی رات کو مہندی کے نام سے دُلہن کے والدین کی طرف سے اُن کے اپنے اور دولہا کے مہمانوں کو گُلبرگ کے شادمانی ویڈنگ ہال میں مدعو کیا گیا تھا ۔ وہاں دو ڈھول والے آئے ہوئے تھے جو ہال میں داخل ہو کر پورے شدّومد کے ساتھ ڈھول بجانے لگے ۔ مجھے یوں لگا کہ کانوں کے پردے پھَٹ جائیں گے ۔ میں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس دیں تو محسوس ہوا کہ میری پسلیاں تھرک رہی ہیں اور دل پھٹنے کو ہے ۔ میں فوراً ہال سے باہر نکل کر دور جا کھڑا ہوا اور ڈھول بجنا بند ہونے پر 40 منٹ بعد واپس آیا ۔

18 فروری کو شادی گُلبرگ کے قصرِ نُور ویڈنگ ہال میں ہوئی ۔ بارات کا وقت 9 بجے رات کا تھا ۔ لڑکی والے 8 بجے پہنچ گئے ۔ بارات 10 بجے آئی ۔ وہاں بھی ڈھول والے موجود تھے لیکن اُن کو ہال میں گھُسنے نہ دیا گیا ۔

19 فروری کو ولیمہ پھر شادمانی ویڈنگ ہال میں تھا ۔ 16 سے 19 فروری تک ہم لوگ رات کو سونے کی بجائے اگلے دن کی فجر کی نماز پڑھ کر سوتے رہے ۔ 20 فروری کو ساڑھے دس بجے صبح ڈیفنس لاہور سے روانہ ہو کر 4 بجے بعد دوپہر ایف ۔ 8 اسلام آباد اپنے گھر پہنچے ۔

تازہ ترین ثبوت

ملاحظہ ہو تازہ ترین ثبوت اِس بات کا کہ آزادء اِظہارِ خیال صرف اِسلام دُشمنی کیلئے جائز ہے ۔
“ڈنمارک کے اخبارا یالند پوستن کے کلچرایڈیٹر فلیمنگ روز کو ان کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایران کی طرف سے یورپ میں یہودیوں کی نسل کُشی کے کارٹون بھی چھاپ دیں گے اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے چھٹیوں پر جانے کا حکم ملا”۔ بی بی سی

ہاتھی کے دانت ؟؟؟

مِثل مشہور ہے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ۔ دِکھانے کے اور ۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ دوسروں کے لئے ایک اصول یا قانون اور اپنے لئے دوسرا اصول یا قانون ۔ آج کی نام نہاد جمہوریت پسند فرنگی دنیا کا بنیادی اُصول یہی ہے ۔ رسُولِ اکرَم صَلّی اللہُ علَیہِ وَ آلِہِ وَ سَلَّم کے حضور میں گُستاخی کے بعد اِسے اِظہارِ رائے کی آزادی کہا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آزادی صرف مُسلمانوں کی دل آزاری کے سلسلہ میں ہوتی ہے کِسی اور سلسلہ میں نہیں ۔ اِس کی کچھ تازہ مثالیں یہ ہیں ۔1 ۔ میں ڈیوڈ اِردِنگ کا واقعہ 7 فروری کو لکھ چکا ہوں ۔ اب صرف اتنا کہوں گا کہ اگر کوئی ہالو کاسٹ سے اِختلاف کرے تو مغربی ملکوں کے مطابق یہ ناقابلِ معافی جُرم ہے اور ایسے شخص کا داخلہ آسٹریلیا ۔ کینیڈا ۔ آسٹریا ۔ جرمنی اور کچھ دیگر یورپی ممالک میں ممنوع ہے ۔

2 ۔ مسٹر ٹونی بلیئر کے پچھلے الیکشن کے دوران لیبر پارٹی نے ایک اشتہار چھاپا جس میں مخالف پارٹی کے سربراہ کو جو یہودی ہے اُڑتا ہوا سوّر دِکھایا گیا تھا ۔ اِس پر یہودیوں نے بہت غصہ دِکھایا اور معافی کا مطالبہ کیا ۔ مسٹر ٹونی بلیئر نے فوراً مطالبہ مان لیا ۔

3 ۔ ایک اور واقعہ سال پہلے کا ہے ۔ ایک برطانوی اخبار کا یہودی رپورٹر لندن کے میئر کے لتے لیتا تھا ۔ میئر نے ایک دفعہ اُسے کنسنٹریشن کیمپ گارڈ [concentration camp guard] کہہ دیا ۔ پھر کیا تھا یہودی برادری نے طوفان کھڑا کر دیا اور میئر کو اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا ۔ برطانیہ کے وزیراعظم بھی یہودیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور میئر کو معافی مانگنے کا کہا ۔

4 ۔ چند سال قبل ملیشیا کے وزیراعظم [مہاتیر محمد] نے یہودیوں پر کچھ تنقید کی حالانکہ اُنہوں نے کوئی غَلَط بات نہیں کہی تھی اور یہودیوں کی خوبیاں بھی بیان کی تھیں مگر امریکہ اور یورپ میں اِس کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا گیا تھا ۔

5 ۔ حال ہی میں جب ایران کے صدر نے کہا کہ صحیح معنوں میں ہالوکاسٹ نہیں ہوا تھا اور یہ کہ یہودیوں کو یورپ منتقل کر دینا چاہیئے تو بھی امریکہ اور یورپ میں ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا ۔

6 ۔ الجزیرہ ٹی وی افغانستان اور عراق کی جنگ کے دوران امریکیوں کی طرف کی خبروں کے علاوہ دوسری طرف کی خبریں بھی نشر کرتا تھا ۔ اِس پاداش میں امریکیوں نے افغانستان میں الجزیرہ کے دفتر پر بم پھینکا جس سے الجزیرہ کا ایک آدمی زخمی بھی ہوا ۔ اِسی طرح عراق میں الجزیرہ کے دفتر پر بم پھینکا جس سے الجزیرہ کا فوٹوگرافر ہلاک ہو گیا ۔

بڑائی کِس میں ہے ؟

بڑائی اِس میں ہے کہ
* آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا نہ کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے
* آپ نے کتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی نہ کہ آپ کے پاس کتنی بڑی کار ہے
* آپ کتنی دولت دوسروں پر خرچ کرتے ہیں نہ کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے
* آپ کو کتنے لوگ دوست جانتے ہیں نہ کہ کتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں
* آپ محلہ داروں سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں نہ کہ کتنے عالیشان محلہ میں رہتے ہیں

آزادیءِ اِظہارِ خیال ۔ ہے کس ملک میں ؟

ایک ماہ سے اخبارات ۔ ویب سائٹس اور بلاگز پر یورپ میں اُٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی کی خبریں اور مضامین بغور پڑھتا رہا ۔ جمہوریّت اور انسانیّت کا ڈھنڈورا پیٹنے والی فرنگی دنیا میں کتنی ڈِھٹائی سے اپنے غلیظ کردار کو اِظہارِ خیال کی آزادی سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔چند ماہ قبل ایک برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ اِرونگ کو آسٹریا میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اس کا جُرم یہ ہے کہ اس نے لیکچر دیا تھا جس میں اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کی نازیوں کے ہاتھوں گیس چیمبرز کے ذریعہ موت کے واقعہ کے متعلق کہا تھا کہ مرنے والے یہودیوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے ۔ ملاحظہ ہو میرے دوسرے بلاگ پر میری26 نومبر 2005 کی تحریر

یورپ کے حکمران ایک اخبار کے کارٹونسٹ کو ایک بِلّین اور بیس مِلّین سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی آزادی تو دیتے ہیں مگر ایک تاریخ دان کو کسی بات کو غلط سمجھنے کی بھی اجازت نہیں دیتے ۔ کیا یہی ہے مغربی جمہوریت ؟ کیا اسی کا نام آزادیءِ اِظہارِ خیال ہے ؟

اصل بات یہ ہے کہ فرنگیوں کے لئے ہر وہ عمل جو اسلام دشمن ہو اور ہر وہ بات جس سے اسلام ۔ پیغمبرِ اسلام یا مسلمانوں کی تضحیک ہوتی ہو یا اُنہیں تکلیف پہنچتی ہو وہ تو عین جمہوریّت ۔ آزادیءِ اظہار رائے اور روشن خیالی ہے جبکہ ان اسلام دشمنوں کے ظُلم و سِتم کے خلاف قدم اُٹھانا یا احتجاج کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے ۔

جو لوگ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” میں یقین رکھتے ہیں اُن کا علاج صرف لاٹھی ہی سے ہو سکتا ہے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے پیدا کرنے والے سے غافل اور دشمنوں کے غلام بن کر اپنی لاٹھی کھو چکے ہیں ۔

مشہور صحافی رابرٹ فِسک Robert Fisk لکھتے ہیں

I happen to remember how more than a decade ago, a film called the Last Temptation of Christ showed Jesus making love to a woman. In Paris, someone set fire to the cinema showing the movie, killing a young Frenchman. I also happen to remember a major US university which invited me to give a lecture three years ago. I did. It was entitled. “September 11, 2001: ask who did it but, for God’s sake, don’t ask why.” When I arrived, I found that the university authorities had deleted the phrase “for God’s sake” because “we didn’t want to offend certain sensibilities. Ah-ha, so we have ‘sensibilities’ too.

I also enjoyed the pompous claims of European statesmen that they cannot control free speech or newspapers. This is also nonsense. Had that cartoon of the Prophet shown instead a chief rabbi with a bomb-shaped hat, we would have had “anti-Semitism” screamed into our ears
Furthermore, in some European nations — France is one, Germany and Austria are among the others — it is forbidden by law to deny acts of genocide. In France, for example, it is illegal to say that the Jewish Holocaust or the Armenian Holocaust did not happen

یومِ یکجہتیءِ کشمیر کیوں اور کیسے

آج یومِ یکجہتیءِ کشمیر ہے ۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا ۔ میں نے پچھلے سال ستمبرمیں دوسرے بلاگ [حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے] میں لکھا تھا کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989 میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی – بےنظیر بھٹو نے 1988 میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990 کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا ۔

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947 میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے ۔

قانون کا غلط استعمال ۔ ایک اہم فیصلہ

میں نے حدود آرڈیننس پر اِظہارِ خیال کرتے ہوئے 23 مئی اور 26 جون 2005 کو لکھا تھا کہ اسلامی قوانین کا صحیح اِطلاق اُس وقت تک مشکل ہے جب تک ملک میں ایک رفاہی یا اِنصاف پسند حکومت قائم نہیں ہو جاتی ۔ میں نے مزید لکھا تھا کہ حدود آرڈیننس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اِس کے صحیح اِطلاق میں نہ صِرف دُوسرے قوانین حائل ہیں بلکہ قانون کے نفاذ کا سارا نظام ہی چوپٹ ہے ۔ تفتیش کے دوران عورت کی جسمانی اور جذباتی کمزوری کا پورا فائدہ با رسُوخ ۔ جابَر یا ظالم کو دیا جاتا ہے اور زنا بالجبر [Rape] کے کیس میں بھی عام طور پر عورت کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے اور یہ پولیس اور قانون دانوں کے شیطانی تعاون سے ہوتا ہے ۔اللہ کی کرم نوازی دیکھئیے کہ وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس چوہدری اعجاز یوسف نے ایک عدالتی فیصلہ میں میرا نظریہ صحیح ثابت کر دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو منگل۔ 31 مئی 2006 کو جاری ہونے والے اور یکم فروری 2006 کے اخباروں میں شائع ہونے والے فیصلہ کا خلاصہ ۔

فیصلہ

“وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے زنا سے متعلق مقدمہ میں ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے ازسرنو سماعت اور فیصلہ کیلئے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا۔ قبل ازیں ایڈیشنل سیشن کورٹ کی طرف سے عورت اور مرد دونوں کو زنا کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانہ کی سزائیں دی گئی تھیں۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ جب کسی مرد ملزم پر کسی عورت کی طرف سے زنا بالجبر کا الزام عائد کیا جائے تو تاخیر ۔ حمل قرار پانے یا کسی دیگر وجہ سے قطع نظر اولین مرحلے میں کسی عورت کو زنا بالرضا کے الزام میں زیر دفعہ 10 (2) چارج نہ کیا جائے جب تک زنا بالرضا کی ضروری شہادت نہ مل جائے اور مقدمہ کی الزام کے مطابق سماعت کی جائے ۔ مرد ملزم کو اس کے مطابق چارج کیا جائے اور مستغیثہ کو اپنے الزام ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اس طریقہ کار کو اپنانے سے عورت کے خلاف غلط استغاثہ کا سدباب ہو جائے گا اور سائلہ بطور گواہ پیش ہو کر شہادت دینے کے قابل ہو گی جو مناسب طور پر استعمال ہو سکے گی ۔

واقعات کے مطابق تھانہ خان پور ضلع ہری پور میں 4 جون 1997ء کو ایک عورت نے رپورٹ درج کرائی کہ وہ گھر میں اکیلی تھی اس کے پڑوسی جمروز نے دیوار پھلانگ کر اور دروازہ بند کرکے پستول کی نوک پر اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا اور جاتے وقت اس کو دھمکی دی کہ اگر اس نے یہ واقعہ کسی کو بتلایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس نے خوف کے مارے یہ واقعہ کسی کو نہ بتلایا۔ چند ماہ بعد معلوم ہوا کہ وہ حمل سے ہے۔ چنانچہ ملزم کے خلاف جرم زنا …نفاذ حدود… آرڈیننس 1979ء کی دفعات 5 اور 10 کے تحت درج بالا تاریخ پر پرچہ درج کر لیا گیا تاہم جب چالان عدالت بھجوایا گیا تو اس میں پولیس نے اس عورت کا بھی ملزمہ کے طور پر اندراج کیا ۔”

یہ کِس طرح ہوتا ہے ؟

دراصل عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ پولیس چالان میں زنا بالجبر [Rape] کو زنا بالرضا [with mutual consent] لکھ دیتی ہے یا زنا بالجبر کی قانونی دفعہ کی بجائے زنا بالرضا کی قانونی دفعہ کا اندراج کر دیتی ہے جس سے کیس کی نوعیّت ہی بدل جاتی ہے ۔ اِس صورت میں چار گواہوں کی شرط بھی لاگوُ ہو جاتی ہے جو ایسے کیس میں مہیّا کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ اِس کے نتیجہ میں زنا بالجبر کرنے والا مرد بچ جاتا ہے اور مظلوم عورت کو بدکار قرار دے کر سزا دے دی جاتی ہے ۔ خیال رہے کہ اگر اِنصاف بانٹنے والے [جج] اِس شیطانی عمل میں شریک نہ ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ مظلوم عورت کو اِنصاف نہ ملے ۔ یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ میں نے پچھلے ایک سال میں بہت مطالع کیا مگر مجھے قرآن شریف ۔ حدیث حتٰی کہ کتابُ الفِقَہ میں بھی نہیں ملا کہ زنا بالجبر کے لئے چار گواہوں کی شرط ہے ۔ جو بات میری سمجھ میں آئی ہے اُس کے مطابق یہ شرط زنا بالرضا کے لئے ہے ۔ زیادہ علم رکھنے والے اِس سِلسلہ میں میری راہنمائی کر سکتے ہیں ۔