Daily Archives: February 13, 2010

صدر زرداری کا حُکم معطل

صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سمری مسترد کرتے ہو ئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کاقائم مقام چیف جسٹس مقرر کردیا

صدارتی تر جمان نے خبر کی تصدیق یا تر دید کرنے سے انکار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ نوٹیفکیشن وزارت قانون جاری کرتی ہے اس حوالے سے وہ ہی بہتر بتاسکتے ہیں

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس خواجہ محمد شریف اور جسٹس ثاقب نثار نے حکومتی فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ جسٹس خواجہ شریف اور جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔ جیو نیوز کے سینئر رپورٹر عبدالقیوم صدیقی سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے احکامات کے پابند ہیں اور ان کے خلاف کوئی کام نہیں کرینگے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے انہیں کل صبح حلف برداری کیلئے بلایا تھا، تاہم انہوں نے حلف اٹھانے سے انکار کردیا ہے
صدرِ پاکستان کی جانب سے ججوں کی تقرری کے معاملے کی سماعت کرنے والے تین رکنی سپیشل بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج اور جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائیکورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کا صدارتی حکم معطل کر دیا ہے

جسٹس شاکر اللہ جان کو اس سپیشل بینچ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس جواد ایس خواجہ اس بینچ کے رکن تھے۔ اس بینچ نے معاملے کی سماعت سنیچر کی شام ہی شروع کر دی اور مختصر سماعت کے بعد اپنے عبوری حکم میں تقرری کے حکم ناموں کو معطل کر دیا

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں آئین کے آرٹیکل ایک سو ستّتر کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور جسٹس خواجہ شریف اور جسٹس ثاقب نثار تا حکمِ ثانی اپنے پرانے عہدوں پر ہی کام کرتے رہیں گے

میرے وطن کی سیاست

” میں ایوب خان کے دور میں تعلیم مکمل کر کے کالج سے نکلا تو دل میں ایک شدید آرزو تھی کہ اس نظام کو بدلا جائے، آمریت سے نجات حاصل کی جائے اور جمہوریت کے ذریعے ایسا نظام لایا جائے جو غریب عوام کے مسائل حل کرے، قومی دولت کو معاشرے کے تمام طبقوں میں منصفانہ انداز سے تقسیم کرے اور پسے ہوئے عوام میں زندگی کی لہر پیدا کرے۔ میں اور میرے دوست رات دن اسی موضوع پر بحث کرتے اور نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ اچانک بھٹو نے ایوبی آمریت کو للکارا اور غریبوں کا مسیحا بن کر ملکی اُفق پر ابھرا۔ ہمیں بھٹو کی شخصیت میں اپنی امیدوں اور توقعات کا سورج طلوع ہوتا ہوا نظر آیا چنانچہ ہم من تن دھن کی بازی لگا کر دل و جان سے بھٹو صاحب کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور ان کے کارکن بن گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے دن رات بھٹو صاحب کے لئے دیوانوں کی مانند کام کیا۔ بھٹو صاحب انتخابی میدان میں اترے تو پی پی پی نے الیکشن جیتا اور بھٹو صاحب کے ساتھ نظریاتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچ گئی

ہمارے اس جذبے کو پہلی ٹھیس اس وقت لگی جب ہمارے مشوروں کے خلاف بھٹو صاحب نے 1977ء میں نظریاتی کارکنوں کو اِگنور کر کے وڈیروں، گدی نشینوں اور روایتی سیاستدانوں کو ٹکٹ دے دیئے۔ اس کے باوجود جب بھٹو صاحب جیل گئے تو ہم نے ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمتی تحریک چلائی، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، جیلیں اور قلعے دیکھے اور کوڑے کھائے

پھر ہم نے نہایت خلوص اور لگن کے ساتھ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ساتھ دیا اور پی پی پی کا چراغ روشن رکھا۔ ضیاء الحق کے انتقال کے بعد پی پی پی 1988ء کے انتخابات کے لئے میدان میں اتری تو ہمیں توقع تھی کہ بی بی پرانے نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دیں گی لیکن ۔ ۔ ۔ بی بی نے نظریاتی کارکنوں پر دولت مندوں اور پارٹی کو اور پارٹی قیادت کو بڑی رقمیں دینے والوں کو ترجیح دی۔ نتیجے کے طور پر دولت کے ذریعے ٹکٹ خریدنے والے ابن الوقت پارٹی پر حاوی ہو گئے اور نظریاتی کارکن بددل ہو کر سیاسی منظر سے غائب ہو گئے

آج یہ عالم ہے کہ صدر صاحب سے لے کر ان کے وزراء اور حواریوں تک ہر کوئی کرپشن کے الزامات میں ڈوبا ہوا ہے اور ایسے نئے چہرے پارٹی پر قابض ہو گئے ہیں جن کا ہم نے کبھی نام سنا تھا نہ چہرہ دیکھا تھا۔ ۔ ۔ یہ جھوٹ اور دکانداری کی سیاست ہے۔ آپ نے وہ شعر تو یقینا سن رکھا ہو گا
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں”

پورا انٹرویو پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے