Daily Archives: August 8, 2009

گاہے گاہے باز خواں

میری تحریر “امریکا نے میری سالگرہ کیسے منائی” پر کچھ تبصرے آئے ہیں جو عصر حاضر کےجوانوں کے لئے غور طلب ہیں

پاکستان سے محمد سعد صاحب نے لکھا
بہرحال، پاکستان کے موجودہ حالات میں میں لوگوں سے اس بات پر زیادہ توجہ دینے کی گزارش کروں گا کہ جاپانیوں نے جس ہمت کے ساتھ اس تباہی کا ازالہ کیا، اس سے ہمیں بھی کچھ سیکھنا چاہيئے۔

ہسپانیہ سے جاوید گوندل صاحب نے لکھا
ویسے عجب اتفاق ہے جنگل کے اس قانون میں امریکہ کا نام ہمیشہ ہی سب سے اوپر رہا ہے ۔ اور امریکہ اپنے آپ کو اشرف اقوام اور انتہائی تہذیب یافتہ کہلوانے پہ بھی سب سے زیادہ زور دیتا ہے ۔ طرف تماشہ یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جاپان ہتھیار پھینکنا چاہ رہا ہے اور اس بات کا ٹرومین کو علم تھا]کیونکہ جاپانیوں نے باقاعدہ طور پر ہتھیار پھینکے کا پیغام ٹرومین کو بھیجا تھا ۔ ٹرومین کو جوہری بم کی انسانیت سوز ہلاکت کا بھی علم تھا ۔ اس بم سے ہیروشیما پر پہلے حملے کے بعد پتہ چل گیا تھا کہ ایٹمی بم نے کس قدر تباہی مچائی ہے مگر اس کے باوجود ٹرومین نے تیسرے دن ناگا ساکی پہ اٹیمی بم حملے کا حکم دیا ۔ ایٹمی حملے میں جو مر جاتے ہیں وہ خوش قسمت ہوتے ہیں جو اس حملے میں زندہ رہ جاتے ہیں وہ مردوں سے برتر ہوتے ہیں اور مرنے کی التجائیں کرتے ہیں

امریکا سے ڈاکٹر وھاج الدین احمد صاحب نے لکھا
اگرچہ ٹرومن کا حکم تھا لیکن اتحادی فوجوں کے سب کمانڈر اس میں ملوث ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس اقدام کو تمام قومیں اچھا قرار دیتی ہیں اس لئے کہ اس کی وجہ سے جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا ۔ مغربی اقوام کی دور اندیشی بھی ملاحظہ ہو کہ یورپ اور امریکہ سے اتنی دور یہ بم پھینکے گئے ۔ ابھی آپ نے عراق میں جو بم استعمال ہوئے ہیں کے متعلق ساری کہانیاں اور تصویریں نہیں دیکھیں اور یہ مہذب قومیں ہیں شاید کبھی ایسی تصویریں شائع کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ عراق میں ایسی بیماریاں کہاں سے آئیں؟

مُشکل شرط

میری تحریر ” Software Piracy اور دین اسلام ” پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے کو ڈفر کہنے والے صاحب نے شرط عائد کی ہے جو عصر حاضر کےجوانوں کے لئے غور طلب ہے

“اگر یہاں‌ یہ شرط رکھ دی جائے کہ صرف وہ لوگ پائریسی کے خلاف بول سکتے ہیں جنہوں ‌نے کمپیوٹر اور دوسرے علوم پائریٹڈ سافٹ وئیر اور نقل شدہ کتابوں سے نہیں سیکھا تو شاید یہاں مکمل سکوت چھا جائے”

میں اس شرط کی کچھ اس طرح وضاہت کروں گا کہ جس نے خود نہ نام نہاد پائریٹڈ سافٹ ویئر استعمال کی ہو اور نہ اصل کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو اور نہ براہ راست اصل کتاب سے پڑھنے کی بجائے کسی اور کے تیار کردہ نوٹس [notes] سے پڑھائی کی ہو