آج کے زمانہ میں لوگ ترقی تو بہت کر گئے ہیں اور دولتمند بھی ہو گئے ہیں مگر چہروں سے بشاشت غائب ہو گـئی ہے۔ اس دور میں مسخرے اور بھانڈ کی شائد زیادہ ضرورت ہے مگر اب کم از کم شہروں میں تو نظر نہیں آتے۔ ہماری نوجوان نسل نے تو شايد انہیں دیکھا بھی نہیں ہو گا۔
کیا مہارت ہوتی تھی ان میں ۔ محفل میں کتنا ہی افسردہ شخص کیوں نہ ہو ہنسے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ مسخرے اور بھانڈ کی شخصیت بھی عجیب ہوتی ہے ۔ بظاہر خوش اور لاپرواہ مگر اندر سے بعض اوقات غم کے مارے ہوئے ۔ مسخرے اور بھانڈ منافق نہیں ہوتے وہ تو اپنے بول اپنی حرکات اور چہرہ بھی صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لئے بدلتے ہیں ۔
پرانی بات ہے ایک مسخرے سے پوچھا کہ اس نے یہ پیشہ کیوں اختیار کیا ؟ بولا ” اپنے غم تو دوسروں کو دے نہیں سکتا ۔ لوگوں کو ہنسا کر مجھے اپنے غم بھول جاتے ہیں”۔ مسخرے اور بھانڈ اپنی اصلیت چھپا کر دوسروں کی مسرت کا سامان کرتے ہیں اور اس لئے وہ منافق نہیں ہوتے